توشیحی تعزیت مسود بیگ تشنہ (مشرف عالم ذوقی : آمد :24 نومبر 1963 آرہ، بِہار، انڈیا رخصت : 19 اپریل 2021 دہلی، انڈیا) م– مشرّف
زمرہ: شاعری
غزل جب سے وہ گنگنانے لگے ہیں
شعیب سراج غزل جب سے وہ گنگنانے لگے ہیں شجر کوئلوں کو اڑانے لگے ہیں مجھے اس طرح وہ منانے لگے ہیں مرے خواب میں
شام کی پوٹلی میں زندگی کا اشارہ
جاوید اختر ذکی خان جس دن مجھے موت آئے گی میرے سرہانے ایک کتاب رکھی ہوگیاس کتاب کا ایک صفحہ تمہیں مڑا ہوا ملے گایہ
چوٹ پر چوٹ کھائے جاتے ہیں
طفیل احمد مصباحی چوٹ پر چوٹ کھائے جاتے ہیں پھر بھی ہم مسکرائے جاتے ہیں زخم دینے کے بعد ہنس ہنس کےاس پہ مرہم لگائے
قطعاتِ تشنہ
مسعود بیگ تشنہ گندی سوچ سوچ ہے گندی جیبھ کٹیلیدِل زہریلا آنکھیں پیلیسب سے اُلفت ہم سے نفرتدیکھ رہی ہے چھتری نیلی حق کی دیوار
چشم کو سونپی گئی خدمتِ خواب
خالد مبشر چشم کو سونپی گئی خدمتِ خوابدل پہ طاری ہے عجب حالتِ خواب خواب اب کے نہ حقیقت ہو جائےاب کے ایسی ہے مری
زندگی شہر طلسمات میں رکھی گئی ہے
افضل الہ آبادی زندگی شہر طلسمات میں رکھی گئی ہے اک عبارت کئی صفحات میں رکھی گئی ہے ایک تصویر بظاہر نہیں دیکھا جس
سید امجد ربانی کے نعتیہ کلام کا جمالیاتی کینوس
طفیل احمد مصباحی جمالیات ( جس کو انگریزی میں ” Aesthetics ” کہتے ہیں ) یونانی لفظ ” Aistheta ” سے ماخوذ ہے ۔ اس
لازم ہے تامّل تجھے تقریر سے پہلے
طفیل احمد مصباحی لازم ہے تامّل تجھے تقریر سے پہلے تحقیق سے ، تنقید سے ، تحریر سے پہلے انصاف ملا بعد میں ، لیکن وہ
پھولوں میں اب وہ پہلی سی رنگت نہیں رہی
*شعیب سراج* پھولوں میں اب وہ پہلی سی رنگت نہیں رہی پیارے سے اس چمن میں بھی زینت نہیں رہی کیلیں بچھا کے راہ میں