محمد قسیم احمد رہبر گیاویپٹنہ (بہار) انڈیا وجہِ لولاک محمدؐ ہیں صدا ملتی ہےنورِ احمدؐ سے دوعالم کو ضیا ملتی ہے چوم کر روضۂ اقدس
زمرہ: شاعری
اب اس کے بارے میں کیا بتاؤں جو یاد ہے وہ بتا رہا ہوں
افضل الہ آبادی اب اس کے بارے میں کیا بتاؤں جو یاد ہے وہ بتا رہا ہوںیہ مجھ سے کہہ کر ہوا وہ رخصت ذرا
ہے آلودگی نوع انساں کی دشمن
احمد علی برقی اعظمی سلو پوائزن ہے فضا میں پلوشنہر اک شخص پر یہ حقیقت ہے روشنیوں ہی لوگ بے موت مرتے رہیں گےنہ ہو
ربا تجھ سے بڑا پرانا ناتا ہے
عامرعبداللہ ربا میری بھیڑوں کی رکھوالی کر مینہ برسا ، گھاس اگا ان کے تھنوں سے دودھ بہاباگھوں کو رستہ بھٹکا ربا………..!روز پہاڑی چڑھتا ہوں
سب سے پہلے حق تعالیٰ نے کیا اظہار میم
غلام آسی مونس پورنویپرنسپل دارالعلوم انوارمصطفے رمضان نگر تیلی باغ سب سے پہلے حق تعالیٰ نے کیا اظہار میمجس طرف بھی دیکھیے ہیں اس طرف
آہ_دلیپ کمار!
مسعود بیگ تشنہ توشیح : د،ل،ی،پ، ک،م،ا،ر(آمد : 11دسمبر 1922 پیشاور،پاکستان رخصت : 7 جولائی 2021، ممبئی، انڈیا) د…. : دل و جاں سے سادہ
جو لکھنا چاہوں تو کیسے لکھوں محبتوں کا نصاب اپنا
افضل الہ آبادی جو لکھنا چاہوں تو کیسے لکھوں محبتوں کا نصاب اپنا نہ آنکھیں اپنی نہ عکس اپنا نہ نیند اپنی نہ خواب اپنا
حسن پر اعتبار کون کرے
محسن نواز محسن دیناج پوری حسن پر اعتبار کون کرےبے وفاؤں سے پیار کون کرے زندگی کا یہاں بھروسہ نہیں اب ترا انتظار کون کرے
نظم "برق کلیسا" کی تشریح
ڈاکٹر احمد علی جوہر یہ نظم اردو کے مشہور طنزیہ و مزاحیہ شاعر اکبر الہ آبادی کی ہے۔ اکبر الہ آبادی کا اصل نام سید
جسے جانا ہے جائے خوش دلی سے
رہبر / چونچ گیاوی جسے جانا ہے جائے خوش دلی سے مجھے کہنانہیں ہے کچھ کسی سے کبھی گردن کو مثبت میں ہلاؤ ہمیشہ کام