رہبرؔ گیاوی بک امپوریم سبزی باغ، پٹنہ بہار انڈیا موبائل نمبر0091-8507854206: (تقریب:اور بھی لوگ ہیں محفل میں چلو،آؤ، ملو اس قدر بھیڑ ہے خود کو
زمرہ: شاعری
آپ مجھ پر نہ تبصرہ کیجے
یہ ایک مشترکہ غزل ہـے. اس کی خاصیت یہ ہـے کہ آن لاٸن فی البدیہ کہی گئی ہـے. ایک مصرع امیر کشن گنجوی کا ہـے
سونا دل کا دیار ہے اپنا
ڈاکٹر مقصود عالم رفعت سونا دل کا دیار ہے اپناگلستاں ریگزار ہے اپناکوئی تو پوچھتا ہے حال دلکوئی تو غم گسار ہے اپناجرم اتنا ہے
تیرے دربار میں جانے کی تمنا کی ہے
محسن دیناج پوری تیرے دربار میں جانے کی تمنا کی ہے سوٸی تقدیر جگانے کی تمنا کی ہے سبز گنبد ہو نگاہوں میں مرے آقا اور
بیکراں کائنات مٹھی بھر
مقصود عالم رفعت (متفق سب تھے میری باتوں سےاور ہوئے میرے ساتھ مٹھی بھرہر بات میں ہاں میں ہاں ملانے والے لوگ یا چاپلوس ہوتے
تیرگی بھی سکوں نہیں دیتی
مرغوب اثر فاطمیتیرگی بھی سکوں نہیں دیتیچاندنی بھی سکوں نہیں دیتیبات آگے بڑھی تخیل سےشاعری بھی سکوں نہیں دیتیغم میں ڈوبا ہے قبلہء اولبندگی بھی
ماں کی عظمت
(یومِ مادر کے موقع پر)مسعود بیگ تشنہ ماں نے ہی دودھ پلایا ہے، کھلایا ماں نےتھپتھپی دے کے محبت سے سلایا ماں نےماں نے ہی
آہ! شمیم حنفی
(صنعتِ توشیح میں تعزیت)مسعود بیگ تشنہ ش: شعورِ نقد و نگاہِ جمال زندہ بادتفہیمِ نقدِ ادب بے مثال زندہ بادم : مُدامِ رقصِ قلم اور
علامہ اقبال کی نذرایک غزل
مسعود بیگ تشنہ ،اندور ،انڈیا جو عقل دل سے کام نہ لے وہ محض فضول جو عقل کا غلام ہو وہ دل نہ کر قبول