شمس جلیلی کی غزلیہ شاعری: ایک مطالعہ

شمس جلیلی کی غزلیہ شاعری: ایک مطالعہ

رضوان ندوی
اردو ٹیچر ایس۔ ایس ہائی اسکول تیلتا، کٹیہار ، بہار
موبایل:7004999654

شمس جلیلی کا شمار سرزمینِ سیمانچل کے معروف شاعر اور نثر نگاروں میں ہوتا ہے۔ ان کی پیدائش ۴؍ جولائی ۱۹۳۵ء کو ضلع پورنیہ کے بیسا بلاک میں واقع معروف گاؤں شیشہ باری کے ایک علمی اور زمین دار گھر انے میں ہوئی اور وفاتت۱۴؍ نومبر ۲۰۱۷ء کو پورنیہ میں ہوئی۔ انھوں نے اردو فارسی کی تعلیم اپنے گاؤں کے مکتب میں اس وقت کے جید فارسی داں، اردو و فارسی کے شاعر و نثر نگار جناب قاضی نجم ہری پوری اور شیشہ باری ہی کے ایک جید فارسی داں اور شاعر قیصر پورنیوی سے حاصل کی تھی۔ وہ اردو کے علاوہ فارسی کے بھی منتہی تھے۔ ان کی نظر کلاسیکی فارسی شعر و ادب پر بہت گہری تھی۔ ان کا حافظہ بھی بلا کا تھا، انھیں فارسی اور اردو کے ہزاروں اشعار یاد تھے جنھیں وہ حسبِ موقع سنایا کرتے تھے۔
وہ اس لحاظ سے بڑے خوش نصیب تھے کہ ان کو شروع ہی سے اچھے، باکمال اور مشفق اساتذہ ملے. ان کے والد گرامی جناب حاجی عبدالجلیل صاحب نہایت تعلیم دوست انسان تھے۔ انھوں نے اپنے تمام بچوں کی تعلیم و تربیت کا خاص اہتما م کیا. چنانچہ انھوں نے اپنے بچوں کی فارسی و اردو کی تعلیم کے لیے قاضی نجم ہری پوری جیسے جید و باکمال استاذ اور اردو و فارسی کے شاعر و ادیب کا انتخاب کیا اور انھیں اپنے بچوں کا اتالیق مقرر کیا۔ چنانچہ شمس جلیلی نے اپنے استاذِ گرامی کی با فیض ذات سےخوب اکتسابِ فیض کیا۔
عصری تعلیم کے لیےانھوں نے سب سے پہلے پورنیہ کا رخ کیا اور ضلع اسکول پورنیہ سے ۱۹۵۰ میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کے لیے شمس جلیلی نے پٹنہ کا رخ کیا اور آئی۔ اے کی تعلیم پٹنہ کالج، پٹنہ سے حاصل کی۔ پھر انھوں نے کلکتے کا رخ کیا اور سنٹرل گورنمنٹ کالج کلکتہ سے بی۔اے آنرز ( اردو) کی سند حاصل کی. پھر دوبارہ انھوں نے پٹنہ کا رخ کیا اور ایم۔ اے اردو اور ایم۔ اے عمرانیات کی سند پٹنہ یونی ورسٹی سے حاصل کی۔ ایم۔ اے کی تعلیم کی تکمیل کے بعد انھوں نے پیشہ ورانہ تعلیم بھی حاصل کی. چنانچہ انھوں نے وکالت کی ڈگری (بی۔ایل) پٹنہ و بھاگل پور یونی ورسٹی سےحاصل کی۔ پٹنہ میں دوران تعلیم انھیں پٹنہ یونی ورسٹی کے شعبۂ اردو سے وابستہ جناب علامہ جمیل مظہری صاحب، جناب پروفیسر اختر اورینوی صاحب، جناب پروفیسر شمس منیری صاحب، جناب پروفیسر صدر الدین فضا صاحب اور جناب پروفیسر مطیع الرحمان صاحب جیسے باکمال اور نامور اساتذۂ کرام سے اکتسابِ فیض کا موقع ملا۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد انھوں نے کچھ عرصے تک نہرو کالج بہادر گنج، بہادر گنج ہائیر سیکنڈری اسکول میں تدریسی خدمات انجام دیں۔
بعد ازاں شمس صاحب نے ماہ اپریل ۱۹۶۷ء سے پورنیہ کے ڈسٹرکٹ کورٹ میں وکالت شروع کی اور آخری عمر تک وکالت کے پیشے سے وابستہ رہے۔ ان کا خاندانی پسِ منظرعلمی و ادبی تھا۔ ان کے چچا جناب حاجی عبد الغفار صاحب قدیم پورنیہ موجودہ کشن گنج ضلع سے نکلنے والا پہلا اردوہفتہ وار اخبار ’ آئینہ‘ کے پہلے ایڈیٹر تھے۔ ان کے ناناجان جناب محمد علی حسنؔ بڑیجانی بھی اپنے وقت کے عمدہ شاعر تھے اور صوفیانہ کلام کہتے تھے۔الغرض شعر و ادب کا ذوق انھیں ورثے میں ملا تھا. اہلِ سخن اور اساتذہ کی صحبت نے ان کی شعر گوئی کی فطری صلاحیت کو جلا بخشی۔ انھیں بچپن میں قاضی نجم ہری پوری جیسے شاعر سے اکتسابِ فیض کا موقع ملا۔ شمس جلیلی اپنے استاذ کی شاعرانہ صلاحیت سے کافی متاثر تھے. انھیں اپنے استاذ سے کافی محبت تھی، جس کا اعتراف انھوں نے اپنی نظم ’ قاضی نجم ہری پوری اور ہری پور ‘ میں کھلے طور پر کیا ہے. یہ طویل نظم ہے، اس کے صرف چند اشعار یہاں پیش کیے جارہے ہیں، ملاحظہ فرمائیں:
قاضی نجم ہری پوری، اور ہری پور
شاعرِ نامی گرامی ذاتِ نجم الدین تھی
شاعرانِ دہر بھی بے شک ہیں ان کے مدح خواں
نجم کا شاگرد ہوں میں، ہوں مگر شمس الزماں
ہے کمالِ نجم یہ روشن کیا شمس الزماں
شمس کی ہر دم دعا ہے اے خدائے ذو الجلال!
رہتی دنیا تک رہے آباد اور یہ شادماں
اس کے علاوہ نجم ہری پوری اور پروفیسر طارق جمیلی کی صحبت کا اعتراف انھوں نے اپنے اس شعر میں بھی کیا ہے:
پرتوِ نجمِ ہری پُر صحبتِ طارق جمیل
اک نہ اک دن شمس کو شمس الزماں ہونا ہی تھا
قاضی نجم ہری پوری کو بھی اپنے لائق و فائق شاگرد پر ناز تھا اور ان کے خانوادے کے جملہ افراد سے کافی محبت تھی۔ چنانچہ انھوں نے شیشہ باری میں قیام کے دوران شیشہ باری کے حوالے سے کئی نظمیں لکھی ہیں جو ان کے شعری مجموعے میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے اپنی کتاب ’ یادِ رفتگاں‘ میں ‘شیشہ باری کے مہرو ماہ‘ کے عنوان سے ایک تفصیلی مضمون تحریر فرمایا ہے۔ میں یہاں ان کی صرف ایک نظم بہ عنوان ’ شیشہ باری‘ پیش کر رہا ہوں، ملاحظہ فرمائیں:
شیشہ باری
لبِ دریا جو نندنیہ سے پچھم شیشہ باری ہے
جہاں اب ہونہاروں کی مبارک پیداواری ہے
یہ دریا نیل، یہ موضع مقامِ مصر تھا اک دن
یہاں تھے اک عزیزِ نامور فرماں روا اک دن
ہوئے انہی کے گھر میں یہ جلیلِ نامور پیدا
کہ جن کے نام نامی پر جلال، اقبال ہیں شیدا
کسی کے گھر میں اب تک چاند سورج کس نے دیکھا ہے
کسی نے آج تک کب اس طرح کا بخت پایا ہے
انہی کے گھر میں بن کر چاند یہ قمر الزماں آیا
انہی نے تو یہ سورج کی طرح شمس الزماں پایا
زمانے کا وجیہ آیا وجاہت لے کے ان کے گھر
مسیحِ دہر بھی نازل ہوئے ہی کس قدر بہتر
یہ چاروں چار قندیلیں ہوں قصرِ آدمیّت کی
رہیں آنکھوں کے پتلے بن کے یہ نجمِ شرافت کی
[نوٹ: قمرالزماں ، شمس الزماں (شمس جلیلی)، وجیہ الزماں اور مسیح الزماں چاروں برادران جناب حاجی عبد الجلیل مرحوم کے صاحبزادے تھے۔ رضوان ندوی]
کلکتے میں قیام کے دوران انھوں نے جناب عباس علی خاں بیخود کلکتوی کی شاگردی اختیار کی تھی، اس کے علاوہ جناب پرویز شاہدی، جناب ابراہیم ہوش، جناب سعید ملیح آبادی، جناب طلحہ رضوی برق اور پروفیسر وہاب اشرفی کی صحبتوں سے بھی استفادہ کیا۔ پٹنہ میں قیام کے دروان انھوں نے معروف شاعر جناب پروفیسر کلیم عاجز صاحب اور وفا ملک پوری صاحب مدیرِ ’صبحِ نو‘ سے مشورۂ سخن کیا۔ کئی غزلیں انھوں نے کلیم عاجز کی زمین اور طرز میں کہی ہے۔ انھوں نے متعدد اشعار میں اپنے استاذ کلیم عاجز کی شاعرانہ عظمت اور ان کے رنگ و آہنگ کو اپنانے کا اعتراف کیا ہے. یہ اشعار ملاحظہ کیجیے:
یہ ضربِ کلیمیؔ کی تاثیر ہے
غزل کا جو چشمہ بہا جائے ہے
دِوانہ ترا شمسؔ بھی ہے کلیم !
جو انداز تیرا ہی اپنائے ہے
پورنیہ میں قیام کے دوران شمس جلیلی کو پروفیسر طارق جملی کی طویل عرصے تک صحبت حاصل رہی. دونوں ایک دوسرے سے علمی و ادبی موضوعات پر ہمیشہ تبادلۂ خیالات کرتے رہتے تھے۔ اس کے علاوہ اردو سوسائٹی پورنیہ کے زیرِا ہتمام اکثر طرحی و غیر طرحی شعری نشستیں منعقد ہوتی رہتی تھیں، جن میں جناب وفا ملک پوری، جناب صبا اکرام، جناب کلام حیدری، جناب شاہ اکرام الحق اکرم، جناب پروفیسر احمد حسن دانش، جناب قیصر پورنیوی، جناب حکیم بشیر احمد بشیر، جناب مولوی اسماعیل ندیم (ہیڈ مولوی گرلس ہائی اسکول، پورنیہ) جناب مولوی محمد الیاس (ہیڈ مولوی ضلع اسکول پورنیہ)، جناب پروفیسر اصغر راز فاطمی اور جناب احسان قاسمی جیسے شعرا و ادبا پابندی سے شریک ہوتے تھے۔ اس طرح سے ان دنوں پورنیہ کی ادبی فضا کافی سازگار تھی اور نئے پرانے تخلیق کاروں، شاعروں اور ادیبوں کی ایک کہکشاں آباد تھی۔
الغرض پورنیہ میں شمس جلیلی نے وکالت اور شاعری دونوں سے رشتہ قائم رکھا. شمس جلیلی نے نظم، غزل، مثنوی اور قطعات میں طبع آزمائی کی ہے. ’مکاں سے لامکاں تک‘ ان کا شعری مجموعہ ہے، جس میں غزلیں نظمیں اور قطعات شامل ہیں. یہ کتاب ۲۰۱۰ء میں الھدیٰ پبلیکشنز نئی دہلی سے شائع ہوئی ہے۔ اس میں ان کی غزلیں ’سفینۂ غزل‘ کے عنوان کے تحت شامل ہیں۔ مجھے آج شمس جلیلی کی غزلیہ شاعری کے حوالے سے ہی کچھ لکھنا ہے.
واضح رہے کہ اردو غزل کی روایت میں وہ وسعت اور لچک موجود ہے جس کے باعث ہر عہد کا شاعر اسے اپنے احساسات، فکری تجربات اور سماجی شعور کے اظہار کے لیے ایک مؤثر وسیلہ بناتا رہا ہے۔ شمس جلیلی کی غزلیہ شاعری اسی روایت کا حصہ ہے لیکن ان کی انفرادیت یہ ہے کہ وہ غزل کو محض عشقیہ یا جمالیاتی اظہار تک محدود نہیں رکھتے، بلکہ اسے اپنے عہد کے سیاسی و سماجی شعور اور ذاتی کرب کے اظہار کا ذریعہ بھی بناتے ہیں۔ شمس جلیلی کی غزلیہ شاعری اس شعری روایت کا تسلسل ہے جس میں کلاسیکی اقدار کا احترام بھی ہے اور جدید دور کے مسائل کا گہرا شعور بھی۔ ان کے اشعار درد و کرب، احتجاج و طنز، فلسفہ و تصوف اور محبت و زندگی کے مختلف رنگوں سے مزین ہیں۔ شمس جلیلی کے مختلف رنگ و آہنگ کے حامل اشعار ملاحظہ فرمائیں:
مری فریاد آوازِ جرس سے کم نہ تھی لیکن
نہ اہلِ کارواں سمجھے نہ میرِ کارواں سمجھا
یہ شعر شاعر کے اندرونی کرب اور سماجی بے حسی کو ظاہر کرتا ہے، شاعر کو یہ شکوہ ہے کہ ان کی فریاد کو کارواں اور میر ِکارواں دونوں سمجھنے سے قاصر ہیں جو کارواں کی بے حسی اور سماج کی عدم توجہی کی عکاسی کرتا ہے۔
ایک چارہ گر کو ہی فرصت نہ تھی
ورنہ آئے لوگ سمجھانے بہت
شاعر نے اس شعر میں سماج کے چارہ گر اور رہنماوں کی بے توجہی اور عام لوگوں کی سطحی ہمدردی کا اظہار کس قدر عمدہ انداز میں کیا ہے۔
بجلیاں گرتی رہی ہیں دمبدم
پھر بھی ہیں گلشن میں کاشانے بہت
اس شعر میں معاشرتی و ذاتی مصائب و مشکلات کے باوجود زندگی گزارنے کے حوصلہ مندانہ رویے کا پیغام دیا گیا ہے۔ یہ شعر شاعر کے امید پرستانہ رجحان و رویے کا آئینہ دارہے۔
موت اور زندگی کا رشتہ بھی
بس ہوا اور حباب ہو جیسے
زندگی اور موت کے رشتےکو ہوا اور حباب سے تشبیہ دی ہے۔ ہوا اور حباب زندگی کی ناپائداری کی عمدہ تشبیہ ہے۔اس شعر میں تصوف کی چاشنی بھی موجود ہے۔
آپڑا ہے وقت جب بھی شمس پر
دوست کم تھے اور انجانے بہت
شاعر اپنی تنہائی اور بے وفائی کی شکایت کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جب انسان پر مشکل وقت آتا ہے تو ایسے حالات میں دوست اور مونس و غم خوار کی تعداد کم ہوتی ہے اور اس کے برعکس انجانے اور ناشناسا چہرےزیادہ ہوتے ہیں۔
کھولیے اخبار جب بھی دیکھئے ہر دن وہی
مرنے والوں میں بہت سے جانے پہچانے بہت
کثرتِ اموت کی صورتِ حال کو بیان کرتے ہوئے شاعر نے اس جانب اشارہ کیا ہے کہ آئے دن اخبارات میں اپنے دوست و احباب اور شناسا کی اموات کی خبریں نظر سے گزرتی ہیں، جس کے نتیجے میں شاعر تنہائی اور غم و الم کی شدت کا احساس کرتے ہوئے مایوسی کا شکار ہوجاتا ہے۔
دوانہ بڑا کام کر جائے ہے
خرد مند سوچے ہے ڈر جائے ہے
کریں گے کام کچھ اہلِ جنوں ہی
اسیرِ عقل فرزانے رہیں گے
مذکورہ بالا دونوں اشعار میں شاعر نے دیوانے کو عقل مند پر فوقیت دی ہے، اپنے ذاتی مشاہدات کی روشنی میں کہا کہ دیوانہ بے خوف و خطر ہوکر مشکل سے مشکل کام کو انجام دے دیتا ہے، جب کہ عقل مند کسی بھی کام کو انجام دینے سے پہلے اس کے عواقب و نتائج کے بارے میں ہزار بار سوچتا ہے بالآخر گھبرا کر وہ کام چھوڑدیتا ہے۔
اس موقع پر علامہ اقبال کا یہ مشہور شعر بھی ملاحظہ کیجیے:
بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی
شمس جلیلی کا مندرجہ ذیل شعر بھی اسی قبیل کا ہے:
یہ دیوانگی بھی بڑی چیز ہے
بہت کھوکے کوئی اسے پائے ہے
اس شعر میں بھی پہلے شعر ہی طرح شاعر نے کہا کہ دیوانگی بڑی قیمتی شے ہے، بڑی قربانیوں کے بعد یہ حاصل ہوتی ہے، اس لیے انھوں نے دیوانگی کو متاعِ گراں مایہ قرار دیا ہے۔
اچانک سبھی دوست دشمن ہوئے
گلے کاٹ کر ہی مداوات کی
یہ شعر رشتوں کی بے وفائی اور دھوکے و فریب کو ظاہر کرتاہے، اگر اس شعر کو ملک کے مختلف گوشوں میں آئے دن رونما والے فرقہ وارانہ فسادات کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس کی معنویت او تہہ داری اور بڑھ جاتی ہے۔
دورِ حاضر میں کسی کا کچھ پتہ چلتا نہیں
کون کس کا آشنا ہے کون نا آشنا
دور حاضر میں منافقت اور مصلحت اندیشی کا یہ عالم ہے کہ کسی بھی انسان کے بارے میں یہ پتہ لگانا بہت مشکل ہے کہ یہ میرا دوست ہے یا دشمن، آشنا ہے یا بیگانہ۔
ہو جنابِ شمس اس دور میں کیوں کر گزر
سیدھے سادے آدمی ہیں مصلحت نا آشنا
شاعر نے اپنی سادگی اور مصلحت سے ناواقفیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس مکر و فریب اور مکاری و عیاری کے دور میں گزر بسر کرنا نہایت مشکل ہے.
پسِ مُردن رہوں زندہ یہی ہے آخری خواہش
چھپے دیوان میرا بھی مرا بھی نام ہو جائے
ہر شاعر و ادیب اور تخلیق کار کی یہ دلی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی تخلیقات ان کی زندگی میں ہی محفوظ ہوجائیں، جو ان کی موت کے بعد بھی ان کی جاودانی اور بقا کا سامان بنیں۔
نہ کی قدر و منزل مری زندگی میں
پسِ مرگ چادر چڑھاتے رہے
شاعر زندگی میں اپنی ناقدری کا نوحہ کرتا ہے اور یہ شکایت کرتا ہے کہ جن لوگوں نے زندگی میں ہماری نا قدری کی وہی پسِ مرگ ہماری قبر پر چادر پوشی اور گل پوشی کرکے ہماری قدر و منزلت کریں گے۔ انھوں نے اس شعر کے ذریعہ سے یہ پیغام بھی دیا ہے کہ ہمارا سماج مردہ پرست ہے۔ جیتے جی ایذا رسانی کرتا ہے اور پسِ مرگ عزت و توقیر۔
چلو شمس مرقد میں سوئیں ذرا
ہمیشہ تو آنسو بہاتے چلے
کلاسیکی شعرا اپنی شاعری میں اپنی موت، قبر وغیرہ کا اظہار کرتے رہے ہیں، چنانچہ شمس جلیلی نے کلاسیکی لب و لہجے میں یہ شعر کہا ہے۔ شاعر زندگی کی پریشانیوں اور تکالیف سے تنگ آکر موت کی تمنا کرتا ہے اور قبر کو سکون کی جگہ قراد دیتا ہے۔ یہاں مرقد اور موت سکون کا استعارہ ہے۔
دردِ دل کا کس سے شکوہ کررہے ہیں آپ بھی
اب یہاں پر کوئی چارہ گر سلامت ہے کہاں
شاعر اس شعر میں چارہ گر، مونس و غم خوار کی عدم موجودگی کا اظہار کرتا ہے کہ اب یہاں پر کوئی چارہ گر اور دردِ دل کی دوا کرنے والے کہاں ہیں کہ آپ دردِ دل کی شکایت کر رہے ہیں۔
خدا مجھ کو ایسی بڑائی نہ دے
جو چھوٹا ہو مجھ کو دکھائی نہ دے
شاعر خدا سے عاجزی اور انکساری کی دعا کرتا ہے کہ یا الٰہی! ایسی عظمت و بڑائی اور بلندی مجھے نہ دے کہ میں مغرور و متکبر ہوجاؤں اور فقیروں، کم زوروں اور دبے کچلے اور پس ماندہ لوگوں کو نہ دیکھ سکوں، ان کےدکھ سکھ میں شریک نہ ہو سکوں اور ان کا تعاون نہ کر سکوں۔
چلو شمس ! مرقد میں منہ کو چھپالیں
کہ جانا ہے آخر اسی کی طرف
اس شعر میں شاعر موت کو نا گزیر قرار دیتا ہے اور اسے سکون کی وجہ قرار دیتا ہے۔
دل ہمارا اس طرح برباد ہے
شہرِ دل جیسے کوئی بغداد ہے
شاعر اپنے دل کی تباہی کو بغداد کی تباہی اور بربادی سے تشبیہ دیتا ہے۔ شہرِدل، دل کی حالت کا استعارہ ہے اور بغداد کو شاعر نے بہ طورِ تلمیح استعمال کیا ہے۔ اس شعرکو عراق اور امریکہ کے مابین جنگ کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس کی معنویت اور بڑھ جاتی ہے۔ اس جنگ میں عراق کی راجدھانی بغداد کھنڈر میں تبدیل ہوچکا تھا جہاں لاکھوں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا وہیں یہ تاریخی، علمی اور بزرگانِ دین کی سرزمین بالکل تباہ و برباد ہوچکی تھی۔
جاودانی، کارِ مشکل ہی میں ہے
کاٹ کر پتھر کوئی فرہاد ہے
شاعر نے جاوادنی اور دوام کو مشکل اور جوکھم بھرے کاموں سے جوڑا ہے۔ انھوں نے اس شعر میں فریاد کو بہ طورِ تلمیح استعمال کیا ہے جس نے شیریں کی محبت میں کوہ کنی کرتے ہوئے خسرو پرویز کے شاہی محل تک رسائی حاصل کر لی تھی۔ یہ ان کی سچی محبت اور طلب کی نشانی ہے۔ آجِ انھیں جو شہرتِ دوام اور حیاتِ جاودانی ملی ہے اسی کوہ کنی کی بدولت ملی ہے۔
قاضی جلال ہری پوری نے اسی نوعیت کا ایک خوب صورت شعر کہا ہے کہ:
حیاتِ جاوداں کا ذائقہ ملتا کہاں ان کو
اگر منصورؔ خوانِ دار کا مہماں نہیں ہوتا
اس شعر میں بھی منصور بہ طور تلمیح استعمال کیا گیا ہے۔ اس کے توسط سے اس واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اگر ابو المنصور حلاج کو تختِ دار پر نہ چڑھایا گیا ہوتا تو انھیں حیاتِ جاوداں اور دائمی زندگی نہ ملی ہوتی۔
شمس صاحب گھر کو چلیے نا مراد
پاس اپنے کچھ سفارش اور نہ پچھڑی ذات ہے
اس شعر میں شاعر نے اپنی نامرادی اور ناکامی کا نوحہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ عہدِ حاضر میں ملازمت کے حصول کے لیے تعلقات، شفارسات کے علاوہ پس ماندہ ذات اور اونچے ذات کی ایسی خلیج اور سماجی اور معاشرتی نا ہمواری ہے کہ ایسے میں کسی ایسے شخص کا حصولِ ملازمت امرِ دشوار ہے، جن کے پاس نہ شفارسات ہوں اور نہ ہی پس ماندہ ذات سے تعلق۔
تم کو تم سا بھی اک ملا ہوتا
تم بھی آنسو بہا دیئے ہوتے
اس شعر میں شاعر نے محبوب سے یہ شکایت کی ہے کہ کاش! تم کو بھی تم ہی جیسے کسی حسین اور شوخ سے محبت ہوجاتی اور وہ تمہاری ہی طرح بے وفا اور ستم شعار ہوتا تو تم بھی ان کے فراق اور جدائی میں آنسو بہائے ہوتے اور تمھاری حالتِ زار بھی میری ہی طرح ہوتی۔
فریبِ مسلسل کا مت حال پوچھو
جسے پھول سمجھا وہی خار نکلا
شاعر کو اس مکر و فریب کی دنیا میں عیار اور مکار لوگوں نے اس طرح مسلسل دھوکا دیا کہ انھیں بالآخر یہ کہنا پڑا کہ جسے ہم نے پھول سمجھا وہ خار نکلے۔ یہاں بھی شاعر نے ظاہر و باطن کے فرق کو واضح کیا ہے کہ اس پُر فریب عہد میں انساں کا ظاہر و باطن میں یکسانیت کا فقدان ہے۔
گھر کے اندر زندگانی اور ہے
گھر سے باہر کچھ کہانی اور ہے
اس شعر میں بھی شاعر نے انسان کے نفاق کو بتاتے ہوئے اس کی ذاتی زندگی اور معاشرتی زندگی کے تضاد و نفاق کی نشان دہی کی ہے۔ کیوں کہ سماج میں ایک بڑی تعداد ایسی ہے کہ ان کی ذاتی زندگی کی صورتِ حال نا گفتہ بہ ہیں، لیکن سماجی زندگی میں اس قدر تقویٰ، طہارت کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ انسان انھیں ولیِ کامل اور قطبِ زماں سمجھ بیٹھتا ہے، لیکن جب ان سے سابقہ پڑتا ہے تب ان کی حقیقت و اصلیت عیاں ہوجاتی ہے۔ یہ شعر شاعر کے وسیع تجربے اور گہرے مشاہدے کاعکاس ہے۔
اہلِ رتبہ یا ہو دولت مند
آدمی تو ہوا کرے کوئی
اس شعر میں بھی شاعر نےآدمیت کا پیغام دیا ہے کہ انسان کو سب سے پہلے ایک اچھا انسان بننا چاہئے۔ انسان چاہے جتنے بڑے سے بڑے عہدے و منصب پر فائز ہو، خواہ جتنا بڑا دولت مند ہو، لیکن اگر ان کے اندر انسایت نہیں ہے تو یہ سب چیزیں بے سود وبے کار ہیں۔
راہ بر اب تو ہو گئے رہ زن
کس کو رہنما کرے کوئی
عہدِ حاضر کے رہنماؤں اور رہبروں سے ان کو شکایت ہے کہ وہ آج کل رہبری کا فریضہ انجام نہیں دیتے ہیں، بلکہ خود رہزن بنے ہوئے ہیں۔ ایسے ماحول میں آخر انسان کس کو اپنا رہبر و رہ نما منتخب کرے اور کسے اپنا میرِ کارواں بنائے۔
قریہ قریہ بستی بستی بھوک سے مرتے ہیں لوگ
جارہے ہیں وہ حرم کو آج بھی بہرِ طواف
اس شعر میں شاعر نے بھوک، فاقہ، غربت، افلاس اور موت کا ذکر کرتے ہوئے مذہبی طبقے اور سماجی منافقت اور سماجی نا ہمواری پر بھی ضربِ کاری لگائی ہے۔ انھوں نے اس تناظر میں بڑی سچی اور اچھی بات کہی ہے کہ ایک طرف ہمارے سماج میں بھوک، غربت و افلاس سے لوگ مر رہے ہیں دوسری جانب ہمارے مالدار مذہبی طبقہ ہر سال نفلی حج اور عمرہ کے لیے مکہ مکرمہ کا سفر کرتے ہیں جب کہ صاحبِ استطاعت اگر زندگی میں ایک مرتبہ فریضۂ حج ادا کرلے تو یہ فرضیت ہمیشہ کے لیے ان کے ذمہ سے ساقط ہوجاتی ہے۔ بار بار نفلی حج، عمرہ کرنے کی بجائے اگر اس خطیر رقم کو ضرروت مندوں، محتاجوں، اور یتیموں کی کفالت اور ان کی تعلیم و تربیت اور دیگر رفاہی اور فلاحی کاموں کی مد میں خرچ کرے توانسان زیادہ اجر و ثواب کا مستحق ہوگا۔
سبھوں کی نظر سے نہاں کیسے کیسے
وہ ہر شے میں ہردم عیاں کیسے کیسے
اس شعر میں ان کا تصوفانہ انداز ملاحظہ کیجیے، اللہ کی ذات کے سلسلے میں صوفیائے کرام کا نظریہ ہے کہ اللہ کا جلوہ ہر شے میں موجود ہے، جسے تصوف کی اصطلاح میں وحدت الوجود کہا جاتا ہے۔ شمس جلیلی نے بھی اس نظریے کے حوالے سے یہ شعر کہا ہے جس میں تصوف کی چاشنی محسوس کی جاسکتی ہے۔
ہمارے سروں پر نہیں سائباں تک
مگر ہر طرف ہیں مکاں کیسے کیسے
شمس جلیلی کا یہ شعر بھی عہدِ حاضر کا آئینہ دار ہے کہ طبقاتی نا ہمواری کی یہ صورتِ حال ہے جہاں ایک طرف لوگ چھت کے محتاج ہیں، وہیں دوسری  طرف محلات کی بھر مار ہے. انھوں نے اس ذاتی المیے کو سماج و معاشرے کا المیہ بنادیا ہے۔
ہیں گلیوں میں پھرتے یہ آوارہ بچے
چھپے ان میں ہوں گہر کیسے کیسے
نہ جانے کتنے دانشور بھی ہوتے
ہیں گلیوں میں جو بچے آج کل کے
شاعر نے مذکوہ بالا دونوں اشعار میں ان آوارہ بچوں کی منظر کشی کی ہے جو غربت، افلاس اور والدین کی عدم توجہی کی وجہ سے پڑھائی لکھائی چھوڑ کر گلی کوچوں میں بلا مقصد گھومتے پھرتے ہیں. کاش! یہ بچے اسکول کالج جاتے تو یہی بچے ڈاکٹرم انجیئر، سائنس داں اور لیڈر و رہنما بنتے کیوں کہ فطری طور پر ان آوارہ بچوں میں بھی وہ ساری صلاحیتیں پوشیدہ اورخوابیدہ ہیں بس ضرورت اس بات کی ہے کہ اسے صحیح رخ پر لگایا جائے۔ اس شعر سے شاعر کا درد چھلکتا ہے اور سماج کے تئیں ان کی فکر مندی واضح ہوتی ہے۔
بہت رنگین ہیں اشعار میرے
بہت خونِ جگر لایا ہوں مَل کے
اس شعر میں شمس جلیلی نے شاعرانہ تعلی کا اظہار کیا ہے، یہ بھی ہماری اردو شاعری کی روایت رہی ہے کہ ہردور کے شعرا نے اپنی شاعری میں شاعرانہ تعلی کا اظہار اپنے اپنے انداز میں کیا ہے۔ شمس جلیلی نےاپنے اشعار کی تعریف کے ساتھ ساتھ اس بات کی نشان دہی بھی کی ہے کہ یہ اشعار ہمارے اس لیے رنگین، عمدہ اور دل کش ہیں کہ ہم نےاسے خونِ جگر سے تخلیق کیا ہے اور خونِ جگر کی شمولیت کے بغیر کوئی تخلیق وجود میں نہیں آتی ہے۔
کتنے معنے شمس صاحب آپ کے اشعار میں
کیوں نہ قائل زمانہ آپ کی تحریر کا
کلامِ شمس کا جادو یہی ہے
مخالف رہ گئے سب ہاتھ مَل کے
مذکوہ با لا ودنوں اشعار بھی شاعرانہ تعلی کے ہی ضمن میں آتے ہیں۔ان اشعار میں شاعر نے اپنے کلام کی معنوی تہہ داری اور ساحرانہ اسلوب و انداز کی طرف اشارہ کیا ہے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ ہماری شاعری کی انہی خوبیوں کی وجہ سے زمانہ معترف ہے۔ حتیٰ کہ ہماری شاعری کی عظمت کے سامنے ہمارے حریف بھی کفِ افسوس ملتے رہ جاتے ہیں اور اس طرح کے اشعار کہنے سے وہ بھی قاصر ہیں۔
چلو شمس! مرقد میں جاکر چھپیں ہم
یہاں زندگی ہو بسر کیسے کیسے
اس شعر میں بھی شاعر اس اذیت بھری زندگی سے مایوس ہوکر موت کے آغوش میں جانے کو عافیت تصور کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں چلو اب قبر میں آرام سے رہیں گے۔ جیتے جی سکون میسر نہیں ہوسکا کیوں کہ اس دنیا میں ہم غریبوں، مفلسوں اور غم کے ماروں کا گزر بسر کرنا بہت مشکل ہے، اس لیے آخری آرام گاہ ہی میں جا بسیں اور آرام کی نیند سوئیں. 
اسی کو تو قسمت کہتے ہیں شاید
بھٹکتے ہیں اہلِ ہنر کیسے کیسے
اس شعر میں شاعر نے اپنے تجربات و مشاہدات کی روشنی میں یہ کہا ہے کہ دنیا میں بہت سے اہلِ کمال اور اہلِ ہنر تلاشِ معاش میں بھٹکتے رہتے ہیں اورمارے مارے پھرتے ہیں. اس کے بر عکس بہت سے ایسے لوگ ہیں اس دنیا میں جن کے اندر اتنی خوبیاں اور صلاحیتیں نہیں ہوتی ہیں مگر وہ بہ آسانی اچھے عہدے، اعلیٰ منصب پر فائز ہوجاتے ہیں اور اہلِ دنیا کی نظر میں وہ کامیاب سمجھے جاتے ہیں۔ یہ سب قسمت کا کھیل ہے۔ احمد فراز کا شعر ہے :
کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل
کوئی میری طرح عمر بھر سفر میں رہا
شمس جلیلی کا یہ شعر بھی دیکھیں :
دال، روٹی اور نمک مشکل سے ملتے ہیں یہاں
صاف پانی کا بھی ملنا، لانا ہے جوئے شیر کا
اس شعر میں شاعر نے ہوش ربا مہنگائی اور بے روزگاری کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دال، روٹی کا حصول بھی عوام الناس اور غریب طبقے کے لیے مشکل ہوگیا ہے۔ حتی کہ صاف، ستھرا پانی تک ان کی رسائی مشکل ہوگئی ہے۔
مرا ہے گرچہ غربت میں بیچارہ
کسی کا اس پہ کچھ احساں نہیں ہے
شاعر نے غریب و مفلس کی خود داری کو شاعرانہ انداز میں کس خوب صورتی سے بیان کیا ہے۔ شاعر نے کہا کہ خود دار اور غیرت مند غریب اپنی غربت و تنگ دستی اور فقر و فاقے کی وجہ سے موت کی آغوش میں چلے جانا پسند کرتا ہے، لیکن ان کی خود داری اور غیرتِ نفس انھیں اس بات کی اجازت نہیں دیتی ہے کہ ان کے دوشِ ناتواں پر کسی دولت مند کے احسانات کا بار ہو۔
اکیلا ہی پڑا رہتا ہوں گھر میں
سوا میرے کوئی حیواں نہیں ہے
واضح رہےکہ شمس جلیلی صاحب کی چار اولاد ہیں، دو لڑکے اور دو لڑکیاں۔ بڑے صاحب زادے جناب آفتاب الزماں صاحب ہیں جو ایل آئی سی کے ایک سینئر ایجنٹ ہیں اور ان کا ذاتی کار و بار بھی ہے اور پورنیہ ہی میں رہتے ہیں۔ انھوں نے پہلی بار جب فور وہیلر گاڑی خریدی تو اُن دنوں ان کے ذاتی مکان کے سامنے پارکنگ کی سہولت نہیں تھی، اس لیے وہ ایک کرایے کے مکان میں رہتے تھے، جہاں پارکنگ کی سہولت تھی۔ دوسرے جناب مہتاب الزماں صاحب ہیں جو ایل آئی سی کمپنی میں Executive Director کے عہدے پر فائز ہیں اور ملازمت کے سلسلے میں مستقل حیدر آباد میں مقیم ہیں۔ بڑی صاحب زادی ہما غزالہ ہیں جو شادی شدہ ہیں. پیشے کے لحاظ سے وہ ضلع اسکول پورنیہ میں انگلش ٹیچر ہیں، وہ اپنی ازدواجی زندگی کی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ اپنی ملازمت کی ذمہ داری بھی نبھا رہی ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسے حالات میں والدین کوزیادہ وقت دینا ان کے لیے مشکل ہے۔ چھوٹی صاحب زادی گلستاں شمسی ہیں جو اسٹیٹ بنک آف انڈیا میں میں منیجر کے عہدے پر فائز ہیں. اُن دنوں وہ ملازمت کے سلسلے میں جمشیدپور میں رہ رہی تھی، چوں کہ اس وقت وہ غیر شادی  شدہ تھیں اس لیے ان کے ہمراہ ان کی والدہ محترمہ بھی رہتی تھیں۔ مذکورہ بالا حالات کے پیشِ نظر شمس جلیلی کے گھر میں اُن دنوں ان کے علاوہ اور کوئی نہیں رہتا تھا۔ وہ پورے گھر میں تنے تنہا رہتے تھے۔ اس تناظر میں اس شعر کو دیکھیں کہ شاعر نے کس قدر سچی عکاسی کی ہے. انھوں نے اس شعر میں لفظ حیوان کو ان کے عمومی معنی میں استعمال کیا ہے، کیوں کہ ہر جان دار شے کو حیوان کہا جاتا ہے اور انسان کو حیوانِ ناطق کہا جاتا ہے۔ اس شعر میں جہاں شاعر کی تنہا ئی اور اکیلاپن کے کرب کا شاعرانہ اظہار ہے، وہیں موجودہ معاشرے میں ٹوٹتے بکھرتے اور زوال پذیر قدروں کا نوحہ بھی ہے۔
اے وطن کے رہنے والے کچھ تو بتا
ندیوں میں گھر مرا بہتا ہے کیا
شمس جلیلی کا آبائی گاؤں شیشہ باڑی کنکئی ندی کی زد میں ہے۔انھوں نے اسی تناظر میں یہ شعر کہا ہے اور اپنے ہم وطنوں سے دریافت کیا ہے کہ ہمارے گھر کا کیا حال ہے؟
نمازی میں کیوں تفرقے ہیں بہت
بہت متحد میکشاں میکشاں
شمس جلیلی نے مسلمانوں میں مسلکی تفرقہ بازی اور گروہ بندی پر ضرب کاری لگائی ہے۔ انھوں نے مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو طنزیہ انداز میں تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور انھیں مےخواروں کے درمیان بے مثال اتحاد واتفاق کے ذریعہ سے آئینہ دکھا یا ہے۔
ابھی ہم ہیں ہماری قدر کر لو
ہمارے بعد افسانے رہیں گے
شاعر نے اس شعر میں جیتے جی قدر دانی کی تلقین کی ہے۔ انھوں نے اپنے ہم وطنوں، عزیزوں اور احباب و رفقا سے اپیل کی ہے کہ ابھی ہم زندہ ہیں ہماری قدر لو، پسِ مرگ صرف ہماری یادیں اور ہمار ی باتیں رہیں گی۔
چمن بندی مری فطرت ہے لیکن
مرا گلشن پہ کچھ بھی حق کہاں ہے
شمس جلیلی نے اس شعر میں ملک کی آبیاری میں مسلمانوں کی کوششوں اور جد و جہد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ شکوہ کیا ہے کہ چمن کی آبیاری تو ہماری شرست اور فطرت میں شامل ہے۔ ہم نے اپنے خونِ جگر سے اس ملک کی آبیاری کی ہے، لیکن مقام افسوس ہے کچھ لوگ ہماری قربانیوں کو فراموش کرتے ہوئے ہمیں مشکوک نگاہوں سے دیکھتے ہیں اور ہمیں بنیادی حقوق سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔
تصور میں ہمیشہ تم ہی تم ہو
شبِ ہجراں شبِ ہجراں کہاں ہے
محبوب کے لیے شبِ ہجر ہمیشہ اذیت کی علامت رہی ہے، لیکن یہاں شاعر محبوب کے تصور اور یاد کی بدولت ہجر میں بھی وصال کی لذت محسوس کر رہا ہے، یعنی شاعر کا ہجر بھی وصال میں تبدیل ہو گیا ہے۔ یہ شعر بہت عمدہ اور رنگِ تغزل سے مملو ہے۔
عدو بھی ہوگیا شیریں سخن شمس !
بہت شیریں زباں اردو زباں ہے
اس شعر میں شاعر نے اردو زبان کی شیرینی اور حلاوت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی اردو زبان بولتا ہے اس کی تاثیر سے ان کی زبان بھی شیریں ہوجاتی ہے۔
منور کس قدر رہ بر کا گھر ہے
بہت تاریک ہر اک رہ گزر ہے
اس شعر میں شمس جلیلی نے موجودہ زمانے کے لیڈران اور مذہبی و ملی سربراہان کی کس قدر سچی عکاسی کی ہے کہ ہمارے قائدین عالی شان محلات اور بڑی بڑی عمارتوں میں رہتے ہیں۔ ان گھروں میں آرام و آسائش کے سارے سامان مسیر ہوتے ہیں۔ ان کے گھروں میں چاروں طرف قمقمے روشن ہوتے ہیں. اس کے برعکس عوام الناس کی یہ صورتِ حال ہے کہ ان کا گھر تو چھوڑیے، ان کے راستے بھی تنگ و تاریک ہوتے ہیں. یعنی انھیں صحیح راستے تک نصیب نہیں ہوتے۔
 خلاصۂ کلام یہ ہے کہ شمس جلیلی کی غزلیہ شاعری میں زبان و بیان کی سادگی اور تاثیر بھی قابلِ ذکر ہے۔ وہ تصنع اور مشکل تراکیب سے گریز کرتے ہیں. وہ براہِ راست قاری سے مکالمہ کرتے ہیں. یہی ان کی سب سے بڑی خصوصیت ہے کہ ان کے اشعار فوری دل پر اثر کرتے ہیں اور سماج کے دکھ کو قاری کے ذاتی تجربے کا حصہ بنادیتے ہیں۔ ان تمام پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ شمس جلیلی کی غزلیہ شاعری اس روایت کو آگے بڑھاتی ہے جس میں حسن و عشق کے ساتھ ساتھ احتجاج، طنز، فلسفہ اور انسانی ہمدردی بھی شامل ہیں۔ ان کی غزلیہ شاعری ایک عہد کی تاریخ اور ایک المیے کی گواہی دیتی ہے۔ ان کی غزلیں محض ادبی سرمایہ نہیں، بلکہ سماجی شعور کی دستاویز بھی ہیں. انہی خصوصیات کی بدولت انھیں اردو غزل کے معتبر شعرا کی صف میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ یہ اور بات ہے کہ سیمانچل جیسے حاشیائی علاقے سے تعلق رہنے کی وجہ سے ان کو وہ شہرت ابھی تک نہیں ملی ہے جن کے وہ مستحق ہیں۔
***
رضوان ندوی کی گذشتہ نگارش :عبدالجلیل مستان مرحوم: شخصیت، سیاسی اور سماجی خدمات

شیئر کیجیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے