ابنِ صفی: ایک محبت، ایک عہد اور طیب فرقانی کی عقیدت

ابنِ صفی: ایک محبت، ایک عہد اور طیب فرقانی کی عقیدت

انور آفاقی، دربھنگہ

مجھے بچپن ہی سے اردو پڑھنے لکھنے کا شوق تھا۔ ابھی چوتھی جماعت کا طالب علم ہی تھا کہ والدِ محترم نے میرے لیے شمع کے ادارے سے شائع ہونے والے بچوں کے ماہنامے "کھلونا" کا اجرا کروا دیا، جو آٹھویں جماعت تک باقاعدگی سے میرے مطالعے کا حصہ رہا۔ اس وقت تک اردو کی کہانیاں سمجھنے لگا تھا۔ پھر شوق بڑھا تو افسانے بھی پڑھنے لگا۔ ابھی ہائی اسکول سے فراغت بھی نہیں ہوئی تھی کہ والد صاحب کی جمع کی ہوئی کتابوں کی طرف متوجہ ہوا۔ ان میں رومانی، تاریخی اور جاسوسی ناول شامل تھے، لیکن ان تمام مصنفین میں جو نام میرے دل میں سب سے زیادہ جگہ بنا گیا، وہ ابنِ صفی کا تھا۔
ابنِ صفی کے جاسوسی ناولوں کا معاملہ ہی کچھ اور تھا۔ ایک بار پڑھنا شروع کرتا تو ناول ختم کیے بغیر چین نہیں آتا تھا۔ والد صاحب کی جمع کی ہوئی تمام کتابیں پڑھ چکا تو بلا ناغہ ہر ماہ بک اسٹال سے ابنِ صفی کا نیا جاسوسی ناول خریدنے لگا اور پھر پہلی فرصت میں اس کا مطالعہ کرنا میرا معمول بن گیا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ہر نیا ناول میرے لیے کسی نئی دنیا کا دروازہ کھول رہا ہو۔
عباس حسینی مرحوم الہ آباد سے ابنِ صفی کے تخلیق کردہ دونوں لازوال کرداروں، کرنل فریدی اور عمران، پر مبنی ناول شائع کیا کرتے تھے۔ میں ہر صورت انھیں حاصل کرتا اور پڑھتا تھا۔ یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہا جب تک روزگار کے سلسلے میں خلیجی ممالک نہیں چلا گیا۔
پھر اچانک 26 جون 1980ء کی وہ روح فرسا خبر آئی جس نے نہ صرف مجھے بلکہ ابنِ صفی کے کروڑوں مداحوں کو بے چین کر دیا۔ یقین ہی نہیں آتا تھا کہ ابنِ صفی ہمیں چھوڑ کر اپنے خالقِ حقیقی کے پاس چلے گئے ہیں۔ ایک ایسا شخص جس کے قلم نے لاکھوں دلوں کو مسرت دی، جس کے کرداروں نے کئی نسلوں کے تخیل کو اپنی گرفت میں رکھا، وہ اچانک ہم سے جدا ہو گیا تھا۔
اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔ آمین۔
ان کی وفات کے بعد جب کبھی کہیں ابنِ صفی کا ذکرِ خیر ہوتا تو میں بھی بڑی دل چسپی سے سنتا۔ ان کے ناولوں اور کرداروں پر گفتگو ہوتی تو اپنے مطالعے کی روشنی میں باتوں میں شریک ہو جاتا۔ ابنِ صفی کے مداحوں کے درمیان جس قدر ذہنی ہم آہنگی میں نے دیکھی، شاید ہی کسی دوسرے تخلیق کار کے مداحوں میں دیکھی ہو۔ چنانچہ جب کبھی معلوم ہوتا کہ کوئی صاحب ابنِ صفی کے بیشتر ناول پڑھ چکے ہیں تو ان سے مل کر ایک عجیب سی قربت اور اپنائیت کا احساس ہوتا۔ ایسا لگتا جیسے برسوں سے جانتے ہوں۔
خلیجی ممالک سے ریٹائرمنٹ کے بعد جب وطن واپس لوٹا تو ابنِ صفی کے پرانے ناول یہاں کے مشہور ناولٹی بک اسٹور سے خریدنے شروع کیے اور اپنی چھوٹی بیٹی کو پڑھنے کے لیے دینے لگا۔ اس کے پیچھے صرف یہ خواہش نہیں تھی کہ وہ ایک اچھے ناول نگار کو پڑھے، بلکہ اس کے پیچھے میری اپنی زندگی کی ایک یاد بھی تھی۔ ابنِ صفی ہی کی بدولت میرے اندر اردو زبان و ادب سے بے پناہ محبت پیدا ہوئی تھی۔ ان کے ناولوں نے مجھے اردو ادب کی طرف راغب کیا اور اسی شوق نے آگے چل کر مجھے اردو نثر و نظم لکھنے کی طرف مائل کیا۔
میں اپنی بیٹی کو ابنِ صفی کے ناول یہ کہہ کر دیتا کہ فرصت کے اوقات میں انھیں ضرور پڑھنا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ بھی میری طرح ابنِ صفی کی مداح بن گئی۔ شاید ابنِ صفی کی یہی سب سے بڑی خوبی تھی کہ جو شخص ایک بار انھیں پڑھ لیتا، وہ خود بخود دوسرے ناول کی تلاش میں نکل پڑتا۔ یہی وجہ ہے کہ ابنِ صفی آج بھی نہ صرف میرے بلکہ بے شمار اردو پڑھنے والوں کے محبوب ناول نگار ہیں۔
انھی بے شمار مداحوں میں ایک نام طیب فرقانی کا بھی ہے۔ انھوں نے ابنِ صفی سے محبت و عقیدت کا رشتہ محض زبانی طور پر نہیں نبھایا بلکہ اسے قلم اور تحقیق کے ذریعے زندہ کر دیا۔ چنانچہ انھوں نے 496 صفحات پر مشتمل ایک نہایت اہم تصنیف "ابنِ صفی: کردار نگاری اور نمائندہ کردار" لکھ کر ابنِ صفی کے مداحوں اور اردو ادب کے قارئین کے ہاتھ میں پہنچا دی۔
اپنے قلمی نام طیب فرقانی سے معروف ابنِ صفی کے اس شیدائی کا اصل نام محمد طیب علی ہے۔ اپنے والدین محترم محمد سجود مرحوم اور محترمہ خیرالنساء مرحومہ کے اس ہونہار فرزند نے یکم جنوری 1985ء کو مظفرپور کے ایک گاؤں، جین خرد، ایما بشن پور میں آنکھیں کھولیں۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور ایم۔اے اور ایم۔فل کی اسناد حاصل کیں۔ وہ فی الحال کانکی، اتر دیناج پور، مغربی بنگال میں ایک اسکول میں درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ ہیں۔ طبیعتاً نیک، مخلص اور محبت کرنے والے انسان ہیں۔
بہت سے دوسرے قارئین کی طرح طیب فرقانی بھی ابنِ صفی کے شیدائی رہے ہیں۔ انھوں نے اپنی اس محبت کو ایک عملی صورت دی اور ابنِ صفی کی کردار نگاری اور ان کے تخلیق کردہ کرداروں کو بنیاد بنا کر ایک نہایت عمدہ اور تحقیقی کام انجام دیا۔ ان کی مذکورہ تصنیف 2022ء میں شائع ہوئی اور قارئین میں مقبول ہوئی۔ مجھے یقین ہے کہ یہ کتاب نہ صرف ابنِ صفی کے مداحوں بلکہ اردو ادب کے سنجیدہ قارئین کے لیے بھی دل چسپی کا باعث ہوگی۔
اس کتاب میں ابنِ صفی کی شخصیت اور فن کے ساتھ جاسوسی دنیا کے تقریباً تمام اہم موضوعات کو بڑے سلیقے سے صفحات کی زینت بنایا گیا ہے۔ مصنف نے محض کرداروں کا تعارف نہیں کرایا بلکہ ان کے مزاج، شخصیت، کردار اور ابنِ صفی کی تخلیقی بصیرت کو بھی سمجھنے کی کوشش کی ہے۔
اس خوب صورت کتاب کی فہرست پر جب نظر ڈالتے ہیں تو سب سے پہلے مقدمے پر نگاہ پڑتی ہے، پھر مختلف ابواب سامنے آتے ہیں۔ باب اول میں ابنِ صفی کی شخصیت اور سوانح کو تفصیل سے پیش کیا گیا ہے۔ باب دوم میں کردار اور کردار نگاری کے حوالے سے گفتگو کی گئی ہے، جب کہ باب سوم میں ابنِ صفی کی کردار نگاری اور نمائندہ کرداروں کو بڑے سلیقے، تفصیل اور خوب صورتی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اس کے بعد مختلف کرداروں کا تعارف سامنے آتا ہے۔ صفحہ 132 پر احمد کمال فریدی کا تفصیلی ذکر ہے، جس میں فریدی کی شخصیت، اس کے کردار، بہادری، ذمہ داری اور زندگی کے مختلف پہلوؤں کو موضوعِ بحث بنایا گیا ہے۔
فریدی کی ہمت اور بہادری کی بنا پر قاری اس سے اس طرح جڑ جاتا ہے جیسے وہ محض ناول کا ایک کردار نہ ہو بلکہ حقیقی دنیا میں مظلوموں اور کمزوروں کا محافظ اور نگہبان ہو۔ وہ مجرموں سے نہ صرف سختی سے پیش آتا ہے بلکہ انھیں کیفرِ کردار تک پہنچا کر ہی دم لیتا ہے۔ وہ اپنا وقت کبھی ضائع نہیں کرتا بلکہ ہمیشہ کسی نہ کسی اہم کام میں سرگرداں نظر آتا ہے۔
طیب فرقانی نے کرنل فریدی کی شخصیت کے حوالے سے جو مثبت رائے قائم کی ہے، وہ بالکل بجا معلوم ہوتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
"فریدی ایک پختہ ذہن، باشعور اور معاشرے کا ذمہ دار فرد ہے جس کا ہر لمحہ قیمتی ہے، جس کا کوئی لمحہ تضیعِ اوقات میں نہیں گزرتا۔ فریدی اور بیکاری ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ اسے ہر وقت کام کرتے رہنا اور قوم و ملک کے لیے جاگتے رہنا پسند ہے۔"
صفحہ 139 پر فریدی کے معاون کیپٹن حمید کا ذکر ہے۔ کیپٹن حمید کے کردار کی تصویر کشی کرتے ہوئے طیب فرقانی لکھتے ہیں:
"حمید بظاہر کام چور نظر آتا ہے، لیکن کیا حقیقتاً ایسا ہی ہے؟ ہرگز نہیں۔ اس نے کون سا ایسا کام ہے جو نہیں کیا۔ وہ خود کہتا ہے کہ اگر کرنل کوئی کام اس سے لینا ہی چاہتا ہو تو اس کے فرشتے بھی اس سے پہلو تہی نہیں کر سکتے۔ وہ ایک ذمہ دار آفیسر ہے لیکن یکسانیت سے اکتا جاتا ہے۔ وہی مجرموں کے پیچھے دوڑ بھاگ، ان کی نگرانی اور آخرکار انہیں انجام تک پہنچاتا ہے۔ لیکن جب بھی وہ اپنی والی پر آ جاتا ہے تو مقابل کے چھکے چھڑا دیتا ہے۔ جب وہ پھرتی دکھاتا ہے تو اچھے اچھے دنگ رہ جاتے ہیں۔”
پھر باری آتی ہے علی عمران کی، جو ابنِ صفی کا دوسرا لازوال کردار ہے۔ عمران کے تعارف میں خالد جاوید نے نہایت سچی اور عمدہ بات لکھی ہے۔ وہ فرماتے ہیں:
"ساری دنیا کے جاسوسی ادب میں عمران جیسا کوئی کردار تخلیق نہیں کیا گیا، نہ عمران کے کسی رول ماڈل کا سراغ حاصل ہوتا ہے۔ شروع شروع میں کچھ لوگوں نے ایان فلیمنگ کے جیمز بانڈ سے عمران کی مماثلت کے کچھ پہلو پیدا کرنے کی کوشش کی تھی، جو ایک مضحکہ خیز بات ہے، کیونکہ عمران کی مشرقی اخلاقیات اور وجودیاتی سطح اسے جیمز بانڈ سے بالکل مختلف بلکہ متضاد کردار کا حامل بناتی ہے۔ مجنوں گورکھپوری کی ایسی رائے پڑھ کر مجھے حیرت اور افسوس دونوں ہوئے کہ ان کے مطابق عمران کے ناولوں میں سوائے مار دھاڑ اور دنگل کے کچھ نہیں ہوتا۔ پھر تو مجنوں صاحب کو رزمیہ (Epic) اور مرثیے وغیرہ سے بھی یہی شکایت ہونی چاہیے کہ وہاں بھی جنگ و جدل اور مار دھاڑ کے علاوہ کچھ نہیں۔ حالاں کہ یہ اصناف، بشمول داستان، انسانی بصیرت، تجربے، عرفان اور آگہی کے اہم سرچشمے ہیں۔ میرے خیال میں مجنوں صاحب کو یہ غلط فہمی اس لیے ہوئی کہ وہ ابنِ صفی کو ایک روایتی نوعیت کا معمولی جاسوسی ناول نگار سمجھتے تھے۔ ان کی نظر میں آرتھر کونن ڈائل اور اگاتھا کرسٹی کے روایتی جاسوسی ناول شاید ایک معیار تھے، جن میں ذہنی تجسس اور مسئلے کے حل کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ابنِ صفی کے یہاں معاملہ اس سے کہیں وسیع ہے۔ ان کے ناولوں میں واقعہ نگاری، کردار، طنز، مزاح، معاشرتی مشاہدہ، انسانی نفسیات اور ایکشن سب ایک دوسرے سے اس طرح جڑے ہوئے ہیں کہ کہانی محض جاسوسی داستان نہیں رہتی بلکہ ایک مکمل ادبی تجربہ بن جاتی ہے۔"
راقم الحروف کی ذاتی رائے بھی یہی ہے کہ ابنِ صفی کا تخلیق کردہ عمران اردو کے جاسوسی ادب کے اعلیٰ ترین اور منفرد کرداروں میں سے ایک ہے۔ یہ کردار ابنِ صفی کی تخلیقی قوت، بصیرت، فہم و فراست اور انسانی نفسیات پر ان کی گہری نظر کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ میری ذاتی سوچ یہ بھی ہے کہ اردو کا شاید ہی کوئی سنجیدہ ادیب ہو جس نے ابنِ صفی کو کبھی نہ پڑھا ہو۔ میں نے جتنے بھی بڑے چھوٹے ادیبوں سے گفتگو کی ہے، ان میں سے جب بھی کسی سے دریافت کیا کہ آپ نے ابنِ صفی کو پڑھا ہے؟ تو اکثر کا جواب اثبات میں تھا۔ بعض نے تو یہ بھی کہا کہ ابنِ صفی کو پڑھ کر ہی اردو کی طرف رغبت پیدا ہوئی اور کہانی، افسانہ اور ناول لکھنے کا شوق پیدا ہوا۔
رہی مجنوں گورکھپوری کی بات تو بہرحال انھوں نے ابنِ صفی کو پڑھا، تب ہی ان کے بارے میں اپنی رائے قائم کی۔ اختلافِ رائے اپنی جگہ، مگر کسی تخلیق کار کے فن کو سمجھنے کے لیے اس کے پورے تخلیقی منظرنامے کو سامنے رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
طیب فرقانی نے عمران کے ساتھ کام کرنے والے بہت سے کرداروں کا بھی اپنی تصنیف میں ذکر کیا ہے۔ ان میں سارجنٹ ناشاد، تنویر اشرف، صفدرسعید، بلیک زیرو، جوزف مگونڈا، انور سعید، قاسم رضا، کیپٹن فیاض، سلیمان، سنگ ہی، نادر، ظفر الملک، جمن عرف جیمسن، محبوب نرالے عالم اور ہدہد وغیرہ شامل ہیں۔
باب چہارم میں ابنِ صفی کے تخلیق کردہ نسوانی کرداروں کا ذکر اور تعارف ہے۔ یہ وہ کردار ہیں جن کے بغیر عمران کی دنیا یقیناً ادھوری اور پھیکی محسوس ہوتی۔ مصنف نے تقریباً 47 نسوانی کرداروں کا تعارف بڑے خوب صورت انداز میں کرایا ہے۔ ان کرداروں کی شخصیت، عادات و اطوار اور کردار کی ایسی تصویر پیش کی گئی ہے کہ قاری کے ذہن میں ان کا عملی خاکہ ابھرنے لگتا ہے۔
طیب فرقانی کی زبان نہایت سہل، سلیس اور عام فہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کتاب پڑھتے ہوئے قاری کو کہیں بھی ترسیلِ معنی میں دشواری محسوس نہیں ہوتی۔ ہر کردار ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ناول کے صفحات سے نکل کر قاری کے سامنے آ کھڑا ہوا ہو۔ ان کرداروں کے تعارف کے ساتھ ابنِ صفی کے ناولوں سے وابستہ پرانی یادیں بھی تازہ ہوتی ہیں اور ان کے تخلیقی کمال کا احساس بھی گہرا ہوتا ہے۔
طیب فرقانی نے اپنی یہ کتاب لکھ کر نہ صرف ابنِ صفی کے مداحوں کو ایک قیمتی تحفہ دیا ہے بلکہ اردو جاسوسی ادب کے ایک اہم گوشے کو بھی محفوظ کر دیا ہے۔ ابنِ صفی کے تخلیق کردہ کردار محض ناولوں کے کردار نہیں بلکہ کئی نسلوں کے قارئین کی یادوں، جذبات اور تخیل کا حصہ ہیں۔ طیب فرقانی نے ان کرداروں کا مطالعہ، تجزیہ اور تعارف جس محبت، محنت اور خلوص سے پیش کیا ہے، وہ یقیناً قابلِ تحسین ہے۔
میرے نزدیک اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ مصنف نے ابنِ صفی سے اپنی محبت کو محض عقیدت کے اظہار تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے مطالعے، تحقیق اور تنقیدی شعور کی شکل دی ہے۔ یہی کسی تخلیق کار سے حقیقی محبت کا بہترین ثبوت ہے۔
"ابنِ صفی: کردار نگاری اور نمائندہ کردار" ایک ایسی کتاب ہے جو ابنِ صفی کے مداحوں کے لیے یقیناً دلچسپی کا باعث ہوگی، لیکن اس کی اہمیت صرف ابنِ صفی کے مداحوں تک محدود نہیں۔ کردار نگاری، جاسوسی ادب اور اردو ناول کے طالب علم بھی اس کتاب سے استفادہ کر سکتے ہیں۔
طیب فرقانی نے ابنِ صفی سے اپنی محبت کو قلم کی زبان دے کر ایک ایسا کام کیا ہے جس کے لیے وہ یقیناً مبارک باد کے مستحق ہیں۔ میری نظر میں یہ کتاب ایک مداح کی طرف سے اپنے محبوب مصنف کو پیش کیا جانے والا محض خراجِ عقیدت نہیں بلکہ ایک ایسے ادبی عہد کی یادداشت بھی ہے جس میں ابنِ صفی کے کرداروں نے لاکھوں قارئین کے تخیل پر حکمرانی کی۔
میں طیب فرقانی کو اس خوب صورت، محنت طلب اور قابلِ قدر تصنیف پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ وہ اسی جذبۂ محبت، تحقیق اور ادبی وابستگی کے ساتھ اردو ادب کی خدمت کا یہ سفر جاری رکھیں گے.
***
انور آفاقی سے وابستہ یہ تحریر بھی پڑھیں:آفاقیت کا نور : انور آفاقی

شیئر کیجیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے