آئی پی ایس بشریٰ بانو: ’السلام علیکم‘ اور’ انشاء اللہ ‘ کی ہندوستانیت

آئی پی ایس بشریٰ بانو: ’السلام علیکم‘ اور’ انشاء اللہ ‘ کی ہندوستانیت

پروفیسر رضوان احمد (قطر یونی ورسٹی)
انگریزی سے ترجمہ : وسیم احمد علیمی

مغربی بنگال کی ایک پولیس افسر، بشریٰ بانو کو ’ہندو لیگل فنڈ‘ (HLF) نامی ایک دائیں محاذ ہندوتوا تنظیم کی جانب سے ہوم سکریٹری کو بھیجی گئی باضابطہ شکایت کے بعد تبادلے کا حکم نامہ تھما دیا گیا۔ یہ تنظیم ان لوگوں کی مالی معاونت کا دعویٰ کرتی ہے جو ان کے بقول ”سناتن دھرم“ کی خدمت کرتے ہیں۔ اپنی شکایت میں ایچ ایل ایف نے بشریٰ بانو پر الزام عائد کیا کہ انھوں نے یونیفارم میں جاری کردہ اپنے ایک مختصر ویڈیو میں ”جے ہند“ اور ”وندے ماترم“ جیسے ”قومی کلمات“ کا استعمال کرنے کے بجائے ”السلام علیکم“، ”انشاء اللہ“ اور ”جزاک اللہ“ جیسے اردو الفاظ استعمال کیے۔ عربی الاصل کے یہ الفاظ ہندوستان اور اس سے باہر مسلمانوں کی عام بول چال اور تہذیبی زندگی کا جزوِ لاینفک ہیں۔ اگرچہ حکومتِ مغربی بنگال نے اس تبادلے کو ایک ”معمول کا انتظامی عمل“ قرار دیا، لیکن اس کے پسِ پردہ پیغام روزِ روشن کی طرح عیاں تھا۔ دائیں محاذ کے ہندوتوا تصوّرِ ہندوستان میں مسلم تہذیب اور اس کے ورثے کی علامتوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے خواہ وہ منفرد اسلامی طرزِ تعمیر کی حامل مساجد و مزارات ہوں، یا اظہارِ خیال کی صورتیں جیسے اردو، اس کا رسم الخط اور اس کے الفاظ۔
ہندوتوا کے فکری نظام میں اردو کے سماجی اور تہذیبی معانی:
اگرچہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ مساجد کا تعلق اسلام اور مسلمانوں سے ہے، لیکن تاریخی طور پر اردو زبان اور اس کے عناصر کو کبھی مجرد طور پر صرف مسلمانوں سے منسوب نہیں کیا گیا۔ متعدد ہندو اور سکھ بھی اردو شاعری، تہذیب اور اس کے وسیع تر فکری و کائناتی منظر نامے میں پیش پیش اور برابر کے شریک رہے۔ چنانچہ ہندوتوا کے نظریہ سازوں کو سب سے پہلے ایک ایسا بیانیہ وضع کرنا پڑا جس میں اردو کو مسلمانوں اور غیر ملکی حملہ آوروں کی زبان کے طور پر نام زد کیا جا سکے۔ اس سلسلے کا آغاز انیسویں صدی کی آخری دہائیوں میں ہوا اور یہی اس تحریک کا طرہٴ امتیاز تھا جسے ”ہندی زبان کی تحریک“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
اردو کو قومی زبان بنا کر قیامِ پاکستان کے عمل نے اردو اور مسلمانوں کے باہمی تعلق کے اس تصوّر کو مزید تقویت پہنچائی۔ جب یہ رشتہ قائم کر دیا گیا تو اردو ہندوستان میں مسلمانوں کی ایک قائم مقام (Proxy) علامت بن گئی، اور ایک تہذیبی نشان ہونے کے ناتے ہندوتوا کے علم برداروں کے حملوں کا ہدف بننے لگی۔ موجودہ سیاسی تناظر میں، اردو کو بار بار ایک حربے کے طور پر استعمال کیا گیا ہے تاکہ مسلمانوں کی تحقیر کی جا سکے اور انھیں ”قومی مفاد کا مخالف“ قرار دیا جا سکے۔ بشریٰ بانو کے طرزِ تکلم سے متعلق حالیہ تنازع اسی منظم سیاسی منصوبے کا ایک حصہ ہے جس کا مقصد مسلم تہذیبی عناصر اور مشترکہ ورثے کو یکسر مٹا دینا اور ہندوستانی شناخت کو ایک تنگ اور بیدخل کنندہ پیرائے میں ازسرِ نو ترتیب دینا ہے۔
مسلم کشی اور عناد کے لیے اردو کا استعمال:
اکتوبر 2021ء میں، اشتہارات میں اردو کے استعمال پر اس وقت ایک تنازع کھڑا ہو گیا جب کپڑوں کے مشہور برانڈ ’فیب انڈیا‘ (FabIndia) کو دائیں محاذ کے گروہوں کے دباؤ میں آ کر اپنے اس اشتہار کو واپس لینے پر مجبور کیا گیا جس میں دیوالی سے کچھ قبل متعارف کرائے گئے ایک مجموعے کے لیے اردو ترکیب ”جشنِ رواج“ استعمال کی گئی تھی۔ فیب انڈیا پر دیوالی کو ”بدنام“ کرنے اور اس کی ”ہندو اساس کو مجروح کرنے“ کا الزام لگایا گیا۔ ان کے نزدیک لفظ ”جشن“ اور ”رواج“ کا استعمال ہندو دھرم کی توہین اور ہندو تہواروں کو ابراہیمی سانچے میں ڈھالنے کی کوشش تھی۔ اس تنازع کا سبب اشتہار کا مضمون یا پیغام نہیں تھا، بلکہ اس میں مستعمل اردو الفاظ تھے۔
2022ء کے اس واقعے کو بھی یاد کیجیے جب ’سدرشن نیوز‘ کے ایک نامہ نگار نے ’ہلدی رام‘ کے ایک آؤٹ لیٹ کے مینیجر کو محض اس بات پر ہراساں کیا کہ ان کی ایک پروڈکٹ پر بظاہر اردو لکھی ہوئی تھی، جسے اس نامہ نگار کے بقول ان ہندوؤں کے ساتھ خیانت قرار دیا گیا جو نوراتری کے روزے رکھتے ہیں۔ اردو زبان کے متنازع بننے کی ایک اور مثال 2017ء میں سامنے آئی جب علی گڑھ کے نو منتخب بی ایس پی میئر مشرف حسین کو بی جے پی کے کارکنوں نے محض اس لیے تشدد کا نشانہ بنایا کہ انھوں نے اپنے عہدے کا حلف اردو میں اٹھایا تھا۔ ان تمام معاملات میں، تصادم کی وجہ زبان کا مواد نہیں تھا؛ بلکہ خود زبان کا وجود تھا۔
دائیں محاذ کا ایک اور تشویش ناک حربہ اردو کے تعظیمی کلمات کو سیاسی تیر و نشتر میں تبدیل کرنا ہے۔ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اپنے سیاسی حریف راہل گاندھی کو اکثر ”شہزادہ“ کہہ کر مخاطب کیا ہے۔ ہندی لفظ ”راج کمار“ کے بجائے اس فارسی الاصل اردو لفظ کا انتخاب کوئی اتفاقی بات نہیں ہے۔ اس کا مقصد قصداً مغل عہد سے ایک ذہنی ربط پیدا کرنا ہے، ایک ایسا عہد جسے ہندو قوم پرست بیانیہ بلا جھجھک غیر ملکی اور جابرانہ مسلم حکمرانی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ یہ طنز راہل گاندھی کو نہ صرف ایک خاندانی جانشین کے طور پر بلکہ ایک نازیبا قرار دیے گئے مسلم ماضی کے وارث کے طور پر پیش کرتا ہے۔
خود مغربی بنگال میں بی جے پی لیڈر شوبھیندو ادھیکاری نے اس وقت کی وزیرِ اعلیٰ ممتا بنرجی پر بار بار حملہ کرتے ہوئے انہیں ”بیگم“ کہا، جو کہ کسی معزز خاتون کے لیے استعمال ہونے والی ایک اردو اصطلاح ہے۔ انھوں نے اس تعظیمی کلمے کو مروڑ کر اس دعوے سے جوڑ دیا کہ ان کی فتح ریاست کو ”مِنی پاکستان“ میں تبدیل کر دے گی۔ اس طرح اردو کے ایک تعظیمی لفظ کو مسخ کر کے ایک ہندو وزیرِ اعلیٰ پر مسلم نواز پالیسی (Appeasement) کا الزام عائد کیا گیا تاکہ ووٹروں کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کیا جا سکے- ان طنز و تعریض کو کارگر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے اس تہذیب کو بدنام کیا جائے جس سے یہ الفاظ مستعار لیے گئے ہیں۔
السلام علیکم‘ اور ’انشاء اللہ‘ کے تہذیبی و لسانی تناظرات:
اگرچہ وہ اردو الفاظ جن پر ایچ ایل ایف نے اعتراض جتایا ہے، اپنی اصل میں عربی ہیں اور تاریخی طور پر اسلام سے جڑے ہوئے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ وہ ہندوستانی روایت کا جزوِ لاینفک بن چکے ہیں اور کسی خاص مذہبی عقیدے کے پابند نہیں رہے۔ خود عربی بولنے والی دنیا میں بھی عیسائی عرب ان الفاظ کو، بالخصوص پہلے دو الفاظ کو، اپنے مذہب سے کسی سمجھوتے کے احساس کے بغیر بکثرت استعمال کرتے ہیں۔ ہندوستان میں ان کا استعمال صرف مسلمانوں تک محدود نہیں ہے؛ بلکہ یہ اس وسیع تر عوامی زبان کا حصہ رہے ہیں جس میں غیر مسلم بھی برابر کے شریک ہیں۔
مثال کے طور پر لفظ ”سلام“، جس کے معنی ”سلامتی“ کے ہیں، ہندی اور دیگر شمالی ہندوستانی زبانوں میں ”دعا سلام“ جیسی ترکیبات میں مستعمل ہے، جو مسلمانوں اور ہندوؤں دونوں میں یکساں طور پر ملاقات کے وقت بولا جاتا ہے۔ چھتیس گڑھ کے ایک ہندو شاعر وجے سنگھ کی نظم کا ایک شعر اس کی روشن مثال ہے:
دعا سلام میں بھی کھنچ گئی ہے ایک لکیر
فی الحقیقت یہ مصرع دائیں محاذ کی طرف سے پیدا کردہ تفرقات کی خوبصورت اور درد مندانہ عکاسی کرتا ہے۔ اس مرکب کا پہلا لفظ ”دعا“، جس کے لغوی معنی ”التجا“ کے ہیں، وہ بھی عربی الاصل ہے، لیکن اردو اور ہندی میں ”درخواست“ اور ”برکت/دعائے خیر“ کے معنوں میں عام مستعمل ہے۔ ہندی ادب کی قد آور شخصیت پھنیشور ناتھ رینو نے اپنی ہندی نظم ’یہ فاگونی ہوا‘ میں لفظ ”دعا“ کو برکت اور نیک تمنا کے معنوں میں استعمال کیا ہے۔
اسی طرح لفظ ”سلامی“، جو سلام (یعنی تعظیم) سے مشتق ہے، ہندوستانی افواج میں کسی معزز مہمان کو احترام پیش کرنے یا مسرت کا اظہار کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ 21 توپوں کی سلامی، جو ہندی، اردو اور دیگر زبانوں میں اسی نام سے جانی جاتی ہے، وہ اعلیٰ ترین اعزاز ہے جو سب سے اہم شخصیات کے لیے مخصوص ہے۔ سلام کے تعظیمی معنی بے شمار قومی ترانوں اور نغموں میں ملتے ہیں، جن میں اے آر رحمن کا مشہور نغمہ ”ماں تجھے سلام“ (البم وندے ماترم) بھی شامل ہے۔
اسی طرح ”انشاء اللہ“ (اگر خدا نے چاہا)، اردو کے علاوہ عام بول چال اور بالی ووڈ کے نغموں میں بھی عام ہے۔ حال ہی میں امریکی اداکارہ این ہیلوے (Anne Hathaway) نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں اس کا استعمال کیا۔ بالی ووڈ کی 2007ء کی فلم ’ویلکم‘ میں گلوکار شان کا گایا ہوا ایک نغمہ شامل ہے جس میں لفظ ”انشاء اللہ“ آتا ہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ شان، جن کا اصل نام شانتنو مکھرجی ہے، کا تعلق خود مغربی بنگال سے ہے، وہی ریاست جہاں ان الفاظ کو مسلمانوں کے خلاف حربہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے اس لفظ کو گانے پر کبھی کوئی اعتراض نہیں ہوا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان الفاظ کا محاکمہ صرف اس وقت کیا جاتا ہے جب یہ کسی مسلم کے دہن سے ادا ہوں۔
ڈاکٹر بشریٰ بانو: جذبہٴ خدمتِ وطن کا خواب:
آئی پی ایس افسر بشریٰ بانو (جو کہ پی ایچ ڈی کی ڈگری رکھنے کی وجہ سے ڈاکٹر بشریٰ بانو ہیں) نے سعودی عرب کی ایک یونی ورسٹی میں اعلیٰ معاوضے والی تدریسی ملازمت ترک کر کے 2021ء میں ملک کی خدمت کے جذبے سے باوقار انڈین پولیس سروس (IPS) میں شمولیت اختیار کی۔ 90 سیکنڈ کے ایک ترغیبی ویڈیو میں وہ اس بات کا ذکر کرتی ہیں کہ علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کی ’ریزیڈنشل کوچنگ اکیڈمی‘ (RCA) نے ایک ڈگری ہولڈر سے پولیس افسر بننے کے ان کے اس سفر میں کتنا معاون کردار ادا کیا۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ ایچ آر ڈی/ یو جی سی کی اسکیم کے تحت اے ایم یو میں آر سی اے کا قیام 2010ء میں اقلیتوں، درج فہرست ذاتوں و قبائل اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے عمل میں آیا تھا۔ بشریٰ بانو کے آئی پی ایس میں شامل ہونے کے فیصلے کی اصل محرک ان کی حبِ وطنی تھی اور یہی وہ جذبہ ہے جس پر ایچ ایل ایف سوال اٹھاتی نظر آتی ہے۔
حبِ وطنی کی زبان اور زبان میں حبِ وطنی:
ایچ ایل ایف بشریٰ بانو کے استعمال کردہ الفاظ کو ”قومی اظہار“ تسلیم نہیں کرتی۔ دائیں محاذ کے بہت سے گروہوں کے لیے خود اردو ایک غیر ملکی زبان ہے جو ان کے نزدیک حبِ وطنی کی نفی کرتی ہے۔ 2025ء میں مہاراشٹر کے ایک سرکاری دفتر سے اردو کا سائن بورڈ ہٹانے سے متعلق ایک عرضداشت کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ آف انڈیا نے اس درخواست کو خارج کر دیا اور واضح کیا کہ اردو بھی مرہٹی کی طرح ایک ہندوستانی زبان ہے۔
اردو نہ صرف ہندوستانی ہے بلکہ یہ ملک کی آزادی کی جدوجہد کے ہراول دستے میں شامل رہی ہے اور اسے ان نعروں کا فخر حاصل ہے جنھوں نے آزادی کی تحریک میں روح پھونک دی۔ اردو کو اس بات پر ناز ہے کہ اس نے ”انقلاب زندہ باد“ کا تاریخی نعرہ دیا، جسے اردو کے عظیم شاعر اور مجاہدِ آزادی مولانا حسرت موہانی نے وضع کیا تھا۔ اس نعرے کو بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں نے سنٹرل اسمبلی میں بلند کر ہمیشہ کے لیے ثبت کر دیا۔
اردو کی تذلیل و تحقیر کی سماجی قیمت:
اگرچہ یہ ہائی پروفائل تنازعات سرخیوں میں جگہ بناتے ہیں، لیکن اس لسانی تذلیل کا حقیقی خمیازہ عام مسلمانوں کو اپنی روزمرہ کی زندگی میں بھگتنا پڑتا ہے۔ اردو کا پاکستان اور دہشت گردی کے ساتھ مسلسل ذہنی ربط ایک ایسا ماحول پیدا کرتا ہے جو خوف اور تفریق پر مبنی ہے۔ ذاتی مشاہدات اور مطالعے ظاہر کرتے ہیں کہ مسلم نام رکھنے والے افراد کو ملازمت کے انٹرویو کے لیے بلاوا ملنے کے امکانات کم ہوتے ہیں اور انھیں اکثر کرائے کے مکانات سے محروم رکھا جاتا ہے۔
شک و شبہے کی یہ ہمہ گیر فضا ایک پوری برادری کو مسلسل خود احتسابی اور ذاتی سنسرشپ پر مجبور کرتی ہے۔ ایسی اطلاعات سامنے آتی ہیں کہ مسلمان عوامی مقامات پر ”سلام“ جیسے سلامی کلمات یا ”ابّا“ جیسے رشتوں کے نام بولنے سے گریز کرتے ہیں تاکہ وہ ہندوتوا بلوائیوں کا نشانہ نہ بن جائیں۔ کسی زبان کو ہتھیار بنانے کی یہ انسانی قیمت ہے: یہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیتی ہے جہاں شہریوں کا ایک بڑا طبقہ خود کو بیگانہ محسوس کرتا ہے اور اپنے ہی ملک میں محفوظ رہنے کے لیے اپنی شناخت چھپانے پر مجبور ہوجاتا ہے۔
ہندوستان کی معنوی روح کی بازیافت:
چنانچہ اردو کے معاملے پر یہ کشمکش محض ایک زبان اور اس کے الفاظ تک محدود نہیں ہے۔ یہ ہندوستان کی روح کی بقا کا معاملہ ہے۔ یہ قوم کے دو متصادم تصورات کے درمیان ایک معرکہ ہے۔ کیا ہندوستان اس راستے پر چلتا رہے گا جہاں ایک پولیس افسر کو اس کی مادری زبان کے آداب پر سزا دی جائے اور انقلاب کی زبان کو غداری کا نام دیا جائے؟ یا وہ ”انقلاب زندہ باد“ کی اصل روح کو دوبارہ حاصل کرے گا اور یہ یاد رکھے گا کہ اس کی حقیقی طاقت اور حسن اس کی روایات، زبانوں اور عوام کے متنوع دھارے میں پوشیدہ ہے؟
انشاء اللہ، ہندوستان دوسرے راستے کا انتخاب کرے گا، اور اگر آپ مجھ سے ”السلام علیکم“ کہنا چاہتے ہیں تو میں سوشل میڈیا کے ذرائع پر دستیاب ہوں۔
رضوان احمد ٹویٹر (ایکس پر) @RizwanAhmad1 کے ذریعے اپنے خیالات پیش کرتے ہیں۔
انگریزی متن کا لنک: https://maktoobmedia.com/post?id=116481&slug=bushra-banos-language-is-indias-strength-her-attackers-that-of-weakness
*** 

ترجمہ نگار کی گذشتہ نگارش : شناخت نامہ

شیئر کیجیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے