شعیب سراج غزل جب سے وہ گنگنانے لگے ہیں شجر کوئلوں کو اڑانے لگے ہیں مجھے اس طرح وہ منانے لگے ہیں مرے خواب میں
زمرہ: غزل
fffff
چوٹ پر چوٹ کھائے جاتے ہیں
طفیل احمد مصباحی چوٹ پر چوٹ کھائے جاتے ہیں پھر بھی ہم مسکرائے جاتے ہیں زخم دینے کے بعد ہنس ہنس کےاس پہ مرہم لگائے
لازم ہے تامّل تجھے تقریر سے پہلے
طفیل احمد مصباحی لازم ہے تامّل تجھے تقریر سے پہلے تحقیق سے ، تنقید سے ، تحریر سے پہلے انصاف ملا بعد میں ، لیکن وہ
پھولوں میں اب وہ پہلی سی رنگت نہیں رہی
*شعیب سراج* پھولوں میں اب وہ پہلی سی رنگت نہیں رہی پیارے سے اس چمن میں بھی زینت نہیں رہی کیلیں بچھا کے راہ میں
گُلوں پر سخت پہرے ہو گئے ہیں
مسعود بیگ تشنہ گُلوں پر سخت پہرے ہو گئے ہیںہمارے زخم گہرے ہو گئے ہیںلبوں پر پیاس آ کر جم گئی ہےسبھی منظر اکہرے ہو
بہت زمانے سے دنیا تمہاری چاہت میں
شاہدؔ نظامیاسعد بک ڈپوباری روڈ گیا بہار غزل_١بہت زمانے سے دنیا تمہاری چاہت میں کھڑا ہوں اب بھی تمناؤں کی عدالت میں کبھی جو آئینہ
رات اتری تھی درمیانی شب
مسعود بیگ تشنہ رات اتری تھی درمیانی شب مجھ پہ گزری تھی درمیانی شب خوب اترا تھا نور بستر پر خوب نکھری تھی درمیانی شب
ہمارے خواب سب ٹھہرے ہوئے ہیں
مسعود بیگ تشنہ ہمارے خواب سب ٹھہرے ہوئے ہیں ہمارے زخم کیوں گہرے ہوئے ہیں؟ نہیں ٹھہرا ہوا زیرِ فلک کچھ زمیں گردش میں، ہم
ہے نہیں اچھی طبیعت آپ کے بیمار کی
رضوان ندوی ہے نہیں اچھی طبیعت آپ کے بیمار کی آخری خواہش ہے دل میں صرف اک دیدار کی دشمنوں کے دل پہ ہم کو
بغیر سوچے غم وہ مجھ کو بے حساب دے گیا (غزل)
🖋️ شعیب سراج بغیر سوچے غم وہ مجھ کو بے حساب دے گیاتمام عمر انتظار کا عذاب دے گیا نہ جانے کتنے قتل ہوں گے