نوید انجم کوئی پانی پہ تنکے کی طرح پھرتا ہے آوارہ کوئی دریا کی تہہ میں مثل گوہر بیٹھ جاتا ہے کسی کا نام بھولے
مصنف: طیب فرقانی
چھت پر ٹھہری دھوپ
مشتاق احمد نوری کیا تمہیں ایسا نہیں لگتا کہ ہم دونوں خود اپنے ساتھ فریب کر رہے ہیں؟ آخر اس خود فریبی میں مبتلا ہو
حسد کی آگ ہے ہر سو، جلن زیادہ ہے (غزل)
شوق پورنوی حسد کی آگ ہے ہر سو ،جلن زیادہ ہےاسی لیے تو یہاں پر گھٹن زیادہ ہے میں دشمنوں سے نہیں دوستوں سے ہارا
(غزل) ہجر کی شب خواب میں وہ مجھ کو تڑپانے لگے
رضوان ندوی ہجر کی شب خواب میں وہ مجھ کو تڑپانے لگے کرکے وعدہ وصل کا وہ دل کو بہلانے لگےگردشِ دوراں نے مجھ کو
مری آنکھوں کے دریا سے سمندر ٹوٹ جاتا ہے(غزل)
وارث جمال ممبئی مری آنکھوں کے دریا سے سمندر ٹوٹ جاتا ہے مقدر کو جو دیکھوں تو مقدر ٹوٹ جاتا ہے بہت ڈرتا ہوں اپنے
نہ جانے میں کیا کیا کہاں چھوڑ آیا(غزل)
معشوق یوسف نہ جانے میں کیا کیا کہاں چھوڑ آیاجہاں بھی گیا کچھ نشاں چھوڑ آیا فقط یار منزل کو پانے کی خاطرمیں اک
سیاست سے حمایت تک
جاوید اختر بھارتیjavedbharti508@gmail.com 1947 میں ہمارا ملک آزاد ہوا. جمہوریت ہمارے ملک کی شان ہے. ملک کا آئین باوقار ہے. ملک کی عوام کو حق
یہ دل تمہارے دل کا پتہ پوچھ رہا ہے (غزل)
وارث جــمــــال (مــمـــبئی) یہ دل تمہارے دل کا پتہ پوچھ رہا ہے منزل ہے کہ منزل کا پتہ پوچھ رہا ہے رستے سے میں منزل