مصنف: طیب فرقانی
جان ہے تو جہان ہے، پھر دعوت میں لفافہ تو عیادت میں کیوں نہیں!
تحریر: جاوید اختر بھارتیjavedbharti508@gmail.com یہ ایک بہت ہی مشہور کہاوت ہے کہ جان ہے تو جہان ہے یعنی جان سلامت ہے تو سب کچھ ہے
فن افسانہ نگاری کا علی بابا : مشتاق احمد نوری
رفیع حیدر انجم مشتاق احمد نوری کو میں لڑکپن سے پہچانتا ہوں ۔ جوان ہوا تو انہیں کچھ کچھ جاننے لگا اور اب جب
کچھ لوگوں نے رشتہ نا طہ چھوڑ دیا (غزل)
وارث جمال، ممبئی کچھ لوگوں نے رشتہ نا طہ چھوڑ دیا کچھ لوگوں نے ہم کو تنہا چھوڑ دیا قرض کا پیسہ میں نے واپس
٢٠٢٠:دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو!
محمد قاسم ٹانڈؔوی موبائل :09319019005) جس وقت آج کی ہماری یہ تحریر باذوق قارئین تک پہنچےگی، تب تک دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی عیسوی
مسعود بیگ تشنہ: ایک صاحب طرز منفرد شاعر
تہذیب و پیش کش : طیب فرقانی ظالموں کا ساتھ دیتا یہ نظاماحتجاجی اور نم دیدہ غزل مسعود بیگ تشنہ نے اپنی شاعری کو احتجاج
جہاں کو آپ کے صدقے سنوارا یا رسول اللہ (نعت)
تلک راج پارس جہاں کو آپ کے صدقے سنوارا یا رسول اللہ خدا نے دے دیا ہم کو اتارا یا رسول اللہ وہ آئے نور
نقوش طنزومزاح: ایک مطالعہ
محمدقمر انجم فیضی مشہورِ زمانہ مزاح نگار اسٹیفن لی کاک، اپنی کتاب”ہیومینٹی اینڈ ہیومر”میں مزاح کی تخلیق کے بارے میں لکھتاہے کہ مزاح زندگی کی
گھیرے رکھتا ہے عبث نور کا ہالہ مجھ کو (غزل)
جہانگیر نایاب گھیرے رکھتا ہے عبث نور کا ہالہ مجھ کوراس آتا نہیں مانگے کا اجالا مجھ کو میں، گیا وقت تو واپس نہیں لا