کتاب: نیند کیوں رات بھر نہیں آتی؟

کتاب: نیند کیوں رات بھر نہیں آتی؟

پروفیسر صفدر امام قادری کے کالموں کا انتخاب ”نیند کیوں رات بھر نہیں آتی“ : ایک تاثر

محمد عارف اقبال
ریسر چ اسکالر، شعبۂ اردو، للت نارائن متھلا یونی ورسٹی، دربھنگہ

استاذی پروفیسر صفدر امام قادری کے کالموں کا انتخاب ”نیند کیوں رات بھر نہیں آتی؟“ ایک لامتناہی یادوں کے حسین گلدستے کی سسک اور کسک کے ساتھ جستہ جستہ کئی راتیں گزار کر پڑھی ہے۔ جس زمانے میں پروفیسر قادری ان مضامین کو لکھ رہے تھے یقیناً وہ کسی قیامت صغریٰ سے کم نہ تھے۔ صوبہ در صوبہ، شہر در شہرلوگ کانپ رہے تھے، ہانپ رہے تھے، ایک دوسرے سے خود کو ڈھانپ رہے تھے۔ گاڑیوں کی تیز رفتاری اور بھیڑبھاڑ والی سڑکوں پر سناٹا پسرا ہوا تھا، شور و غل مچاتی گلیاں ویران تھیں، ہنستا کھیلتا کودتا میدان سنسان پڑا تھا، مصلیان اور سجدہ کیشوں سے بھری رہنے والی مسجدوں کے دروازوں پرتالے پڑے تھے۔ ہر چہار جانب اداسی، مایوسی کی ایک بسیط چادر اوڑھے لوگ اللہ کی رحمت کے سہارے دن گزار رہے تھے۔ ارریہ میں صحافتی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے راقم الحروف بھی اس ہولناک وبا کا شکار ہوا تھا۔ فاربس گنج کے ایک کال کوٹھری نما سینٹر میں ہفتوں قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کر رہا تھا۔ یہاں آنسو، بے بسی، بے چارگی کے مشکل ترین دن گزررے تھے۔ ڈاکٹر خوف کے مارے مریضوں کے سامنے چار ہاتھ دور سے ہی سہمے دکھائی دیتے تھے، مَیں پتھرائی آنکھوں سے لوگوں کو موت کا نوالہ بنتا دیکھ رہا تھا، اسی جگہ سے لوگوں کی لاشیں نکلتا دیکھ اور اہل خانہ کے آہ و فغاں سن کر دل میں ہوک سی اٹھتی تھی۔ دوست و احباب ملاقات کے لیے آتے اور ہمت و حوصلہ باندھ کر خدا حافظ کہہ کر واپس ہو جاتے۔ مَیں انھیں دور تک جاتا ہوا دیکھتا جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہ ہوتے۔ دل و دماغ سے نہ جانے والا وہ لمحہ آج بھی اس طرح نقش ہے جیسے کل کی بات ہو۔ پھر اللہ کا فضل ہوا کہ یہاں سے صحت و سلامتی کے ساتھ اپنے گھر واپس پہنچ سکا۔
مذکورہ کتاب اور کتاب کا نام (نیند کیوں رات بھر نہیں آتی) سامنے آتے ہی مجھے آگے بڑھنے کا موقع ہی نہ دیا، بلکہ ماضی کی جانب ڈھکیلتی رہی اور بے اختیاری طور پر یہ چند سطور ماضی کے دریچوں سے صفحہ قرطاس کے نذر ہو گئیں۔
وہ رات جس کی صبح کے انتظار میں آنکھیں تڑپ تڑپ کر سحرہوئی تھی
کٹی ہیں رو رو کے غم کی راتیں تڑپ تڑپ کے سحر ہوئی ہے
نہ پوچھیے حال مجھ حزیں کا یہ عمر یوں ہی بسر ہوئی ہے
وہ رات جس کی شب اشکوں سے بھری ہوئی تھی:
کچھ آنکھ نرگس کی بھی ہے پُر نم ٹپک رہے ہیں کچھ اشک شبنم
چمن میں اس کا ہے آج ماتم گلوں میں جس کی بسر ہوئی ہے
وہ رات جس میں ایک پکار تھی، جس سے دنیا بے خبر تھی:
یہ پکار سارے چمن میں تھی، وہ سحر ہوئی وہ سحر ہوئی
میرے آشیاں سے دھواں اٹھا تو مجھے بھی اس کی خبر ہوئی
وہ رات جس کا ہر لمحہ بھاری تھا،پَر غالب کا شعر زبان پر جاری تھا:
کوئی امید بر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی
موت کا ایک دن معین ہے
نیندکیوں رات بھر نہیں آتی
اسی وبا میں مشاہیر علما و ادبا اور حلقہ احباب کی اموات سے جہاں ادبی دنیا کو سخت امتحانات سے گزرنا پڑ رہا تھا، وہیں پروفیسر صفدر امام قادری اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے عزیز دوستوں اور بزرگوں کو پے بہ پے لقمہ اجل بنتا دیکھ خون کے آنسو بہا رہے تھے اور قتیل شفائی کا یہ شعر دہرارہے تھے:
روتے پھرتے ہیں ساری ساری رات
اب یہی روزگار ہے اپنا
اس وبائی اموات میں کئی ایسے نابغہ روزگار ادیب، شفیق و رفیق سے محروم ہو رہے پروفیسرصفدر امام قادری ان کی یادوں کا گوشوارہ خون جگر سے لکھ کر انھیں خراج عقیدت پیش کر تے ہوئے کہہ رہے تھے:
جدا کسی سے کسی کا غرض حبیب نہ ہو
یہ داغ وہ ہے کہ دشمن کو بھی نصیب نہ ہو
پیش نظر کتاب”نیند کیوں رات بھر نہیں آتی“ دراصل کورونا وبا کی ایک جیتی جاگتی داستان ہے۔ جس کی کہانی ہر عہد میں سنی سنائی جائے گی۔ اس وبائی آفات میں اردو دنیا کے وہ سرخیل ہم سے جدا ہوئے جس کا بدل شاید ہی ہمیں نصیب ہو:
اک روشنی سی دل میں تھی وہ بھی نہیں رہی
وہ کیا گئے چراغ تمنا بجھا گئے
زیر مطالعہ کتاب میں 13 ذیلی عناوین کے تحت کل 107مضامین شامل ہیں۔ جن میں 17 کالم صرف وفیات سے متعلق ہیں۔ وبائی مضامین کے علاوہ کتاب میں ہندستان کے سیاسی، سماجی، مذہبی اور ملی مسائل پر لکھے قیمتی کالموں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ باب اول میں 19 مضامین، باب دوم کے تحت 13، باب سوم میں 5، باب چہارم میں 4، باب پنجم میں 7، باب ششم میں 4، باب ہفتم میں 17، باب ہشتم میں 3، باب نہم میں 3، باب دہم میں 5، باب یاز دہم میں 4، باب دواز دہم میں 17، اور آخری میں 6 مضامین شامل کیے گئے ہیں۔
کتاب کا نام بڑے غور وفکر کے بعدپروفیسر صفدر امام قادری نے اس وبائی دور میں ہی طے کر دیا تھا۔ اس بابت پروفیسر قادری ”درخواست“ میں رقم طراز ہیں:
”ان میں سے بیش تر کالم 2019کے بعد لکھے گئے ہیں، اس لیے کورونا یعنی قیامت صغریٰ کے کالے سایے بہت دور تک حواس پر چھائے رہتے ہیں۔ کتاب کا نام بھی اسی دوران لکھے گئے کالم کے عنوان اور غالب کے ایک مصرعے سے مستعار لیا گیا ہے۔ 32 کالم صرف کورونا کی وبا کے الگ الگ معاملات سے متعلق ہیں۔ اسی لیے کتاب کا نام ہندستان اور پوری دنیا کے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے متعین ہوا ”نیند کیوں رات بھر نہیں آتی“۔
کتاب کے آغاز میں پہلا کالم بعنوان”نیند کیوں رات بھر نہیں آتی“ میں صفدر امام قادری نے کورونا کی ہولناکی اور ہیبت ناکی کا جو نقشہ کھینچا ہے، اسے پڑھ کر روح کانپ اٹھے گی۔ چند سطریں ملاحظہ کریں:
”کورونا کی دوسری لہر کے آغاز میں بمبئی اور دلی سے لوگوں نے یہ بتایا کہ ہر ایک منٹ پر ایمبولنس کی خوف ناک آوازیں گھروں کو سنائی دیتی تھیں۔ ان گاڑیوں میں یا تو بیمار اسپتال لے جائے جا رہے تھے یا اسپتال اور گھروں میں مر چکے افراد شمشان یا قبرستان پہنچائے جا رہے تھے۔ مگر ان کی تعداد اتنی تھی کہ یہ سلسلہ چوبیس گھنٹے کا ہو گیا تھا۔ ایک خوف اسپتال اور سڑکوں پر تھا مگر وہ خوف ناک آواز لوگوں کے محفوظ کمروں میں پہنچ کر آنے والے وقت کا خوف ڈالتی رہی۔ جن لوگوں کے مکان یا دکانیں ان راستوں میں ہیں جہاں سے ندی کا کوئی گھاٹ یا شمشان کا کوئی راستا گزرتا ہے، ان کے حالات مت پوچھیے“۔
مذکورہ اقتباس سے اندازہ لگائیں کہ اس دل دوز حالات کو دیکھ کر پروفیسر قادری پر کیا گزر رہی ہوگی؟ ایسے وقت میں بھلا پروفیسر قادری جیسا حساس اور اہل دل شخص کیوں کر چین کی نیند سو سکتا؟ اس قدرتی آفات نے پروفیسر قادری کے دل و دماغ پر جو گہرے اثرات ڈالے وہ رقم ہوتے گئے اور ”نیند کیوں رات بھر نہیں آتی“ شکل اختیار کر گئی۔
ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے
جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے
استاذی پروفیسر صفدر امام قادری حساس دل اور فقیری طبیعت کے لیے جانے جاتے ہیں۔ وہ یاروں کے یار، غم خواروں کے غم خوار، راز داروں کے راز دار، نہایت شفیق اور طلبہ کے مخلص اور بہترین گائڈ کی حیثیت سے علمی دنیا میں مشہور ہیں۔ ایک زمانہ ان کے علم و کمالات کا گرویدہ ہے۔ ہندستان کا شاید ہی کوئی ایسا علمی خطہ/ یونی ورسٹی یا کالج ہو جہاں بالواسطہ یا بلاواسطہ ان کے تربیت یافتہ تدریسی خدمات انجام نہ دے رہے ہوں۔ آپ حالات حاضر ہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی کے سیکڑوں پہلوؤں پر تیز اور باریک نگاہ رکھتے ہیں۔ اخبار و رسائل میں سیاسیات، شخصیات، سماجیات، اخلاقیات، درسیات، ادبیات وغیرہ جیسے موضوعات ان کے قلم کی زینت بنتی ہیں۔ سادہ سلیس زبان، حُسن انداز بیان، عام فہم تعبیرات، مدلل گفتگو، حق پسندی، غیر جانبداری اور بے باکی ان کی کالم نگاری کے اہم اختصاص ہیں۔ ان کالموں کے مطالعے سے بصیرت کو تازگی ملتی اور غور و فکر اور اخذ نتائج کے طریقوں سے آگاہی ہوتی ہے اور حالات کے دیکھنے کے مثبت نظریوں سے روشناسی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریروں کے شیدائی ہر جگہ اور ہر عمر کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ اپنی بے پناہ مصرفیات کے درمیان کالم نگاری اور دیگر موضوعات پر مضامین قلم بند کردینا یہ محض اللہ کے خاص فضل و کرم سے ہی ممکن ہے۔ ورنہ آج کی بھاگتی دوڑتی تھکاتی زندگی میں ان امور کو انجام دینا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ کتاب کا گیارہواں باب”ادب و صحافت“ کے تعلق سے ہے۔ اس باب میں ادب و صحافت سے وابستہ چند لوگوں پر خامہ فرسائی کی گئی ہے۔ اسی باب میں راقم الحروف سے متعلق ایک کالم بعنوان ”عارف اقبال کی صحافت کے امتیازی پہلو“ بھی شامل ہے۔ پروفیسر قادری نے راقم الحروف کی صحافتی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے عہد حاضر کی پل رہی صحافت اور صحافی پر ناقدانہ روشنی ڈالی ہے۔ استاذ محترم کی یہ تحریر راقم الحروف کے لیے سند کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایک اقتباس ملاحظہ کریں:
”ایک کامیاب صحافی کے طور پر عارف اقبال صف اول میں جگہ پانے کے حق دار ہیں۔ ابھی ان کی عمر بہت کم ہے مگر اس پیشے نے انھیں صحافت کا ایسا شعور بخشا ہے کہ ان کی نہ زبان پھسلتی ہے اور نہ ہی کسی موضوع کے انتخاب میں وہ مشکل میں پڑتے ہیں۔ ایک بلوغیت ہے جس سے ان کے یہاں ایک خاص قسم کی دانش ورانہ توجہ ابھرتی ہے۔ غیر جانب دارانہ انداز فکر، تحقیق و ترتیب کا شعور، استفسار در استفسار کا انداز، حقیقت کی تلاش میں بے خوفی اور بنیادی امور پر ہر صورت میں نظر رکھنے کی صلاحیت نے انھیں صحافی کی حیثیت سے امتیاز کا حامل بنایا ہے.“
اس سے قبل پروفیسرصفدر امام قادری کے کالموں کے دو انتخاب ”عرضداشت“ (مرتب: صابر رضا مصباحی) اور ”جمہوری اداروں کا زوال“ (مرتب:قمر الزماں چمپارنی) منظر عام پر آکر داد و تحسین حاصل کر چکے ہیں۔ یہ کالم نگاری کی تیسری کتاب ہے جس کے سارے کالم موضوع کے لحاظ سے اہم اور وقیع ہیں، یہ کتاب جسے عرشیہ پبلی کیشنز، دہلی نے شایع کی ہے جاذب نظر اور حُسن کے اعتبار سے معیاری ہے۔ کتاب کو فاضل نوجوان دوست ڈاکٹر عنایت اللہ ندوی نے بڑی عرق ریزی کے ساتھ خوبصورت انداز میں اور دلکش پیرایے میں مرتب کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے محترم دوست عنایت اللہ ندوی کو کئی خوبیوں سے سرفراز کیا ہے۔ آپ دارالعلوم ندوۃ العلماء کے فارغ التحصیل، روشن خیال، صالح فکر، خوش مزاج، صلاحیت اور صالحیت کے مجسمہ ہیں۔ ارریہ میں ایک تعلیمی ادارہ کے سربراہ ہیں۔اللہ تعالیٰ مرتب گرامی قدر کی ان کاوشوں کو شرف قبولیت عطا فرمائے اور یہ علمی کاوش عوام و خواص سبھوں کے لیے مفیدثابت ہو۔ آمین
٭٭٭
آپ یہ بھی پڑھ سکتے ہیں : کتاب: ’جمہوری اداروں کا زوال‘

شیئر کیجیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے