رضوان ندوی فرضِ وفا کو دل سے نبھاتا رہا ہوں میں زخمِ جگر کو سب سے چھپاتا رہا ہوں میں گلشن کو جان و دل
زمرہ: غزل
fffff
دکھانے دو مجھے اپنا ہنر آہستہ آہستہ (غزل)
رضوان ندوی دکھانے دو مجھے اپنا ہنر آہستہ آہستہ بنالوں گا میں اس کے دل میں گھر آہستہ آہستہبہت سے مرحلے درپیش ہوں گے راہِ الفت
تیرے خلاف نالہ مرا کار گر کہاں(غزل)
شعیب سراج تیرے خلاف نالہ مرا کار گر کہاںدل چاہتا نہ ہو تو زباں میں اثر کہاں اک ایک لمحہ ساتھ بتاتا تھا جو مرےہوتی
کچھ لوگوں نے رشتہ نا طہ چھوڑ دیا (غزل)
وارث جمال، ممبئی کچھ لوگوں نے رشتہ نا طہ چھوڑ دیا کچھ لوگوں نے ہم کو تنہا چھوڑ دیا قرض کا پیسہ میں نے واپس
مری آنکھوں کے دریا سے سمندر ٹوٹ جاتا ہے(غزل)
وارث جمال ممبئی مری آنکھوں کے دریا سے سمندر ٹوٹ جاتا ہے مقدر کو جو دیکھوں تو مقدر ٹوٹ جاتا ہے بہت ڈرتا ہوں اپنے
نہ جانے میں کیا کیا کہاں چھوڑ آیا(غزل)
معشوق یوسف نہ جانے میں کیا کیا کہاں چھوڑ آیاجہاں بھی گیا کچھ نشاں چھوڑ آیا فقط یار منزل کو پانے کی خاطرمیں اک
راستہ زیست کا دشوار ہوا کرتا ہے (غزل)
محسن دیناج پوری راستہ زیست کا دشوار ہوا کرتا ہے راہ منزل پہ بہت خار ہوا کرتا ہے درد و غم سے وہی دوچار ہوا
یہ مت کہو کہ بدن میں تکان باقی ہے
شعیب سراج یہ مت کہو کہ بدن میں تکان باقی ہے ابھی تو فتح کو سارا جہان باقی ہے جدا ہوئے ہمیں عرصہ گزر گیا
غزل(تم مرے واسطے کوٸی تو نشانی رکھو)
*محسن دیناج پوری Mohsin dinajpuri* اتر دیناج مغربی بنگال انڈیا تم مرے واسطے کوئی تو نشانی رکھو جارہے ہو کوٸی تصویر پرانی رکھو دیکھ کر