نئی فیکٹری (باب چہارم تا ہفتم)

نئی فیکٹری (باب چہارم تا ہفتم)

ذاکر فیضی 

نئی فیکٹری (پہلا باب)
نئی فیکٹری (باب دوم و سوم)
(4)

معراج اسپتال سے ’اسرار منزل‘ واپس آچکا تھا۔ وہ اپنے بیڈ روم میں تنہا بیٹھا تھا۔ اس کے والد چند منٹ ہوئے ’اپنے‘ گھر جا چکے تھے۔ چلتے وقت انھوں نے اپنے بیٹے کو نہایت شفقت سے ہدایت دی تھی کہ وہ کم سے کم ایک مہینے تک لا ئبریری میں نہ جائے۔ کتابوں سے دور رہے۔ اپنا ذہن دوسری مصروفیات میں لگائے۔ فلمیں دیکھے، دوستی کرے۔ انھوں نے اشاروں میں کہا کہ اس عمر میں کسی ساتھی کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ شادی کے لیے راضی ہو جائے یا کوئی گرل فرینڈ بنائے۔
اب وہ سامنے کی دیوار کو دیکھتے ہوئے خیالوں میں کھویا تھا۔ اس کا ذہن اپنے والد کی باتوں پر غور کر رہا تھا۔ اس کے سر کے اوپر دیوار گھڑی تھی۔ جس کی سوئی ہمیشہ کی طرح گھوم رہی تھی۔ ”ٹک۔ٹک۔ٹک۔“
”سر۔۔۔۔“ رحمن سامنے کھڑا تھا۔ رحمن معراج سے پندرہ سال بڑا تھا۔ معراج کو اس نے گود میں کھلایا تھا۔ بڑے بھائی کی طرح اس کی دیکھ بھال کی تھی۔ جب معراج بارہ سال کا تھا۔ اس کے والد گھر چھوڑ کر اپنی نئی بیوی کے پاس چلے گئے تھے۔ وہ بنا کسی لالچ کے ملازم کے ساتھ اس کا رکھوالا اور سرپرست بن گیا۔
جب سے معراج کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری تضویض ہوئی تھی، تب سے رحمن معراج کو سر یا ڈاکٹر صاحب کہنے لگا تھا۔ معراج نے کئی بار منع بھی کیا مگر رحمن ہنس کر کہتا: ”بچّہ اب ڈاکٹر بن گیا ہے۔“جب معراج چھوٹا تھا تو وہ معراج کو ’بچّے‘ کہہ کر ہی مخاطب کرتا تھا۔
اس وقت معراج اپنی دنیا میں کھویا ہو اتھا۔ اس نے رحمن کی آواز نہیں سنی۔ رحمن نے پھر پکارا: ”سر۔۔۔۔“
معراج نے آنکھیں کھولیں۔ چند لمحے رحمن کو ایسے ہی دیکھتا رہا۔ ایک دم خالی الذہن۔
”سر! ابھے صاحب اور علی صاحب آئے ہیں۔“
”ان لوگوں کو یہیں لے آؤ۔“ رحمن چلا گیا۔
ابھے، علی اور دیپا، کمرے میں داخل ہوئے۔ دیپا کو دیکھ کر معراج بستر سے اُٹھنے لگا۔
”بیٹھے رہو۔ بیٹھے رہو۔“ ابھے نے اشارہ کیا اور خود بستر پر ہی بیٹھ گیا۔ علی اور دیپا دائیں طرف والی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔
”کیسے ہو معراج؟“ علی نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
”میں تو فٹ ہوں ایک دم بھائی۔۔۔۔۔“ اس نے دونوں کندھے اچکائے۔ دیپا کی طرف دیکھا۔ دیپا نے گردن کی جنبش سے معراج کو ہیلو کہا۔ معراج نے دیپا کے ہیلو کا جواب گردن ہلا کر دیتے ہوئے کہا: ”یہ ہمارے والدِ محترم کو نہ معلوم کیا ہوا ہے۔ مجھے ہوسپٹل لے گئے۔ بے وجہ ہی دوائیوں کا عادی بنائے دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر کہتے ہیں میرے بلڈ میں کوئی کمی ہے۔ جس کی وجہ سے مجھے میڈیسن لینی ہوگی۔۔۔۔ چلو ٹھیک ہے۔۔۔ کھاتے ہیں میڈیسن۔۔۔ خیر آپ لوگ سناؤ۔۔ کیا ہو رہا ہے ان دنوں؟“
معراج کے اس رسمی جملے کی طرف دھیان دیے بنا ہی دیپا بولی: ”میڈیسن لینا بہت ضروری ہے سر۔۔۔ آپ جیسی شخصیت کو سماج کی بہت ضرورت ہے۔“
”کیا بات کرتی ہیں آپ۔۔۔۔۔ میں کیا، میری کسی کو ضرورت کیا۔۔۔۔ اور پلیز مجھے سر نہ کہو۔۔۔ آپ علی کی دوست ہیں۔ علی میرا دوست ہے۔ ہم سب دوست ہیں۔۔۔۔کیوں علی، صحیح کہہ رہا ہوں نا۔“
” بالکل۔بالکل۔“ علی نے مختصراََ کہا۔
ابھے بہت ہی غور سے معراج کو دیکھ رہا تھا۔ اس کی طبیعت، اس کے مزاج کا مشاہدہ کر رہا تھا۔ اسپتال میں جو اس کا علاج ہوا، اس کا، اس کے دل و دماغ پر کیا اثرات مرتب ہوئے۔ اس کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔
ڈاکٹر سوشیل نے پروفیسر سراج اور ابھے کو مشورہ دیا تھا کہ جیسے بھی ہو معراج کو تنہا نہ چھوڑیں۔ اور جہاں تک بھی ممکن ہو، کتابوں سے دور رکھیں۔ کسی نہ کسی ضروری کام میں لگائے رکھیں۔ ڈاکٹر سوشیل کا ماننا تھا کہ کم سے کم چند ماہ تک معراج کا دماغ کسی کام میں مصروف رہنا بہت ضروری ہے۔
رحمن ناشتہ لے آیا۔ اس نے چور نگاہوں سے معراج کو دیکھا۔ رحمن خوش تھا۔ آج اس کے سر لائبریری میں نہیں تھے۔ دوستو ں سے ہنس بول رہے تھے۔
ابھے نے ڈاکٹر سوشیل کی بات کا خیال رکھتے ہوئے معراج کو بتایا: ”یار معراج۔۔ ایک بری خبر ہے۔“ معراج جو آدھا لیٹا اور آدھا بیٹھا تھا۔ وہ سیدھا بیٹھ گیا۔ اس نے علی کی طرف دیکھا اور ابھے سے پوچھا: ”کیوں، کیا ہوا۔۔۔؟“
”علی بہت پریشان ہے ان دنوں۔“
”خیر تو ہے؟ کیا بات ہے علی؟“ معراج نے فکر مند لہجے میں پوچھا۔
”معراج، آپ کو تو پتہ ہی ہے میرا دنیا میں دو خالاؤ ں کے علاوہ کوئی نہیں ہے۔“ اس سے پہلے کہ علی بات پوری کرتا۔ معراج نے علی کو اپنے پن کا احساس کرانے کے لیے کہا: ”علی دوستوں کو بھول گئے۔ ہم لوگ کُچھ نہیں ہیں تمھارے لیے۔ ابھے نے مسکراتے ہوئے چٹکی لی:
”جی جی۔۔یہی بات ہے، علی کے لیے ہم۔۔۔۔۔“
علی جھینپتے ہوئے جلدی سے بولا: ”ارے بھائی۔۔۔ آپ لوگ تو میرے لیے سب کُچھ ہیں۔ میں رشتے داروں کی بات کر رہا تھا۔“
اس چھیڑ خانی سے دیپا مسکراتے ہوئے محظوظ ہو رہی تھی۔
”خیر۔۔۔۔“ معراج نے ہنستے ہوئے کہا: ”یہ تو خیر مذاق کی بات تھی۔ آپ اپنی بات پوری کریں۔“
علی بولا: ”میرے سگے رشتے داروں میں صرف دو خالائیں ہیں۔ ان میں چھوٹی خالہ کی کوئی اولاد نہیں ہے۔ بڑی خالہ کے دو بچّے ہیں۔ بیٹی پنکی۔ پنکی سات سال کی ہے۔ اس کو کسی نے اُٹھا لیا ہے۔ پولیس کُچھ پتہ نہیں لگا پا رہی ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کریں۔“
”اُوہ۔۔۔ بہت افسوس کی بات ہے۔“ معراج نے اخلاقی طور پر دی جانے والی تسلی دیتے ہوئے کہا: ”علی آپ پریشان نہ ہوں۔ ہم سب مل کر تلاش کریں گے بچّی کو۔“
”ویسے علی، آپ کے خیال میں آپ کی بہن کو کہاں لے گئے ہوں گے۔ کُچھ اندازہ؟“ دیپا نے چائے کا کپ رکھتے ہوئے پوچھا۔
”مرادی پور ایک چھوٹا سا شہر ہے۔ وہاں سے سب سے قریب مہا نگر یہ دلشاد آباد ہی ہے۔ پولیس کا اندازہ تو یہی ہے کہ پنکی اب مرادی پور میں نہیں ہے۔ دلشاد آباد میں بھیجی جا چکی ہے۔“
ابھے نے اپنی گردن کو کئی بار اوپر نیچے کیا اور زیرِ لب بڑبڑایا: ”ویسے بھی اس ُملک کی بڑی منڈیاں راجدھانی دلشاد آباد میں ہی تو ہیں۔ تو پھر بچّوں کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ ابھے کے لبوں پر زہریلی مسکراہٹ تھی۔ جو ملک کی حکومت کی ناکامی اور اپنی ہی مستی میں رہنے والی عوام کا مذاق اڑا رہی تھی۔
”سُنا ہے کہ مرادی پور انڈسٹریل سٹی ہے۔ وہاں اس طرح کے کرائم۔۔۔۔؟“ معراج علی کی باتوں میں دل چسپی لے رہا تھا۔ جس سے ابھے کو تسلّی محسوس ہوئی۔ دیپا نے بھی معراج اور علی کا چہرہ بغور دیکھا۔ علی بولا:
”اب تو نام ہی کا انڈسٹریل شہر رہ گیا ہے مرادی پور ۔۔۔۔۔۔۔ معاملہ یہ ہے کہ اب سے تقریباََ پچیس تیس سال پہلے ہی کچّا مال مہنگا ہو جانے اور حکومت کی فضول پالیسیوں اور ٹیکس کی وجہ سے مرادی پور کے برتن بنانے کے کارخانوں اور ایکسپورٹ کو بہت نقصان اُٹھانا پڑا۔ چھوٹے موٹے کار خانے بند ہو گئے۔ گلی محلوں میں جو کارخانے تھے، ان کو اپنا وجود قائم رکھنا دشوار ہو گیا۔ بس چند دولت مند کارخانے دار اور ایکسپوٹر ہی اپنا کام جاری رکھ سکے۔ اس سے یہ ہوا کہ ہزاروں چھوٹے موٹے کارخانے دار، لاکھوں کاریگر بے روز گار ہو گئے۔ تھوڑا بہت جو کام ہو رہا تھا، انھوں نے بھی کاریگروں اور مزدوروں کا استحصال کرنا شروع کر دیا۔ مزدوری برائے نام ملتی ہے۔ مہنگائی آسمان کو چھوتی جا رہی ہے۔“
علی خاموش ہوا تو معراج نے لمبی ہنکار بھری اور بولا:
” ایسے ہی حالات کی وجہ سے سماج میں انتشار پیدا ہوتا ہے۔ تعلیم کا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے۔۔ ملک برباد ہوتے ہیں۔ تہذیبیں فناہو تی ہیں۔۔۔مگر فطرت تو جینا سکھا ہی دیتی ہے۔ بے ایمانی، دغا بازی کا کاروبار جنم لیتا ہے۔ جرائم کے کارخانے قائم ہوتے ہیں۔ حیوانیت کا ایکسپورٹ شروع ہوتا ہے اور تباہیاں بربادیاں امپورٹ ہوتی ہیں۔“
ابھے نے معراج کو غور سے دیکھا اور فکرمند ہوکر کہا:
”معراج تمھاری بات کسی حد تک ٹھیک ہو سکتی ہے۔ مگر مرادی پور جیسے شہروں میں بڑھتے کرائم کی ایک وجہ اور میری سمجھ میں آتی ہے۔“
”کیا ابھے بھائی؟“ دیپا نے پوچھا۔
”یہ کہ آج کا انسان بہت ہی زیادہ میٹریالِسٹک ہو گیا ہے۔ ہر کسی کو ہر چیز چاہئے اور فوراََ ہی چاہئے۔ شارٹ کٹ کا راستہ سارے ہی لوگ اختیار کرنے لگے ہیں۔“
دیپا ہلکے سے ہنستے ہوئے بولی: ”جی، سب ہیرو، ہیروئن بن چکے ہیں۔ اسمارٹ ہو گئے ہیں، اسمارٹ فون کی وجہ سے۔“
علی بولا: ”یہ صرف مرادی پور کا معاملہ نہیں ہے۔ سارے ملک میں ایسا ہی چل رہا ہے۔“
معراج نے اپنے پیر سکیڑے اور اپنے ہاتھ گود میں رکھتے ہوئے بولا:
”بہر حال۔۔۔ میرے ایک ملنے والے ہیں جو حکومت میں چائلڈ ویلفیئر کے لیے کام کرتے ہیں۔ میں ان سے بات کروں گا۔ علی کیا نام بتایا تھا آپ نے اپنی بہن کا۔۔۔۔“
”پنکی۔“
پھر وہ لوگ کافی دیر تک پنکی کے اغوا ہونے کے موضوع کے سہارے ملک کے موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے رہے۔
دیپا کو دیر ہو رہی تھی۔ اس نے کسمساتے ہوئے علی کی طرف دیکھا۔ علی نے دیپا کا اشارہ سمجھا۔ اُس نے گھڑی دیکھتے ہوئے معراج سے کہا:
”اچھا معراج، کافی وقت ہو گیا ہے۔ میں چلتا ہوں۔ دیپا کو بھی جاناہے۔“
معراج نے جلدی جلدی کئی بار گردن ہلائی اور اپنا ہاتھ علی کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا: ”ہاں ہاں آپ لوگ جاؤ۔۔۔۔“
ابھے بھی کھڑا ہوتے ہوئے بولا: ”میں بھی چلتا ہوں۔ کُچھ کام ہے۔“
تینوں ’سراج منزل‘ کے صدر دروازے سے باہر نکل آئے۔
ابھے آٹو میں بیٹھ کر اپنے گھر کی طرف چل دیا۔
علی اور دیپا پیدل ہی جا رہے تھے۔ علی نے سڑک پار کرتے ہوئے دیپا کا ہاتھ پکڑا۔ دیپا کے جسم میں عجیب سی حرارت ہوئی۔ اس نے علی کے ہاتھ میں ہاتھ آ جانے سے اپنے آپ کو ایسے حصار میں محسوس کیا جس میں حفاظت اور محبت دونوں کا احساس تھا۔ علی نے اپنے ہونٹ دیپا کے کان کے قریب لے جا کر کہا: ”چلو آج گول گپّے کھاتے ہیں۔“ دیپا نے بچّوں کی طرح مچل کر علی کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا۔ علی کے اور زیادہ قریب آکر مسکرانے لگی۔
علی کی طرح دیپا بھی دنیا میں اکیلی تھی۔ اس کے والدین اور چھوٹا بھائی کار ایکسڈنٹ میں، اس دنیا سے رخصت ہو چکے تھے۔
اب وہ اپنی دادی کے ساتھ رہتی تھی۔ دادی بھی اس کی سگی نہ تھیں۔ وہ دیپا کے دادا کی سب سے چھوٹی بہن تھیں جنھوں نے شادی نہیں کی تھی۔ اب دونوں ایک دوسرے کا سہارا تھیں۔

(5)
مِسٹر نٹھاری گلابی کلب کے شان دار میٹنگ روم میں موجود تھے۔ اُن کے کئی بزنس تھے۔ ان دنوں انھوں نے ’نئی فیکٹری‘ کی شروعات کی تھی۔ اسی تعلق سے گلابی کلب میں میٹنگ چل رہی تھی۔ جس کو مسٹر نٹھاری چیئر کر رہے تھے۔ میٹنگ کے ساتوں حصے دار موجود تھے۔ ان سات حصّے داروں میں ایک گلابی کلب کے مالک مسٹر مال پانی بھی تھے۔ کئی سال سے مسٹر نٹھاری کی خواہش تھی کہ وہ ’نئی فیکٹری‘ کا قیام عمل میں لائیں۔ مگر حالات اس کے موافق نہیں ہو پارہے تھے۔ اب گزرے تین سال میں اُن کی جو کوششیں تھیں، وہ رنگ لارہی تھیں۔ ان کو ملک کے سپریمو کی طرف سے ’نئی فیکٹری‘ قائم کرنے کا اشارہ مل گیا تھا۔ مگر ساتھ ہی سپریمو کی طرف سے یہ بھی کہاگیا تھا کہ ابھی اس ’نئی فیکٹری‘ کو سرکاری مانیتا نہیں دی جا سکتی۔ آپ غیر سرکاری سطح پر یا دوسرے لفظوں میں کہیں تو غیر قانونی طریقے سے شروع کر سکتے ہیں۔ ‘نئی فیکٹری‘ توشروع ہو چکی تھی۔ لیکن پروڈکشن بہت سست چل رہا تھا۔ اسی سستی کو دور کرنے کے لیے مسٹر نٹھاری نے میٹنگ بلائی تھی۔ بورڈ آف ڈائرکٹر کی حیثیت [سے] مسٹر نٹھاری سامنے کی کرسی پر براجمان تھے اور دائیں بائیں کی کرسیوں پر تین تین لوگ بیٹھے تھے۔
”مشکل یہ درپیش ہے صاحبان کہ ’نئی فیکٹری‘ کو ہمیں دور دریا کے بیچ گمنام جزیرے پر بنانا پڑا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ جگہ ایک دم خفیہ ہے مگر ایسی جگہ کچّا مال پہنچانے کے معاملے میں کئی الجھنوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ باقی تو پیداوار تیزی سے بڑھ جائے گی اور ہمارا مال سارے ملک میں آسانی سے کھپ جائے گا۔ مانگ تیزی سے بڑھ بھی رہی ہے۔“
”مسٹر نٹھاری۔۔۔ کل مجھے ’نئی فیکٹری‘ کے ایم ڈی کا میسج آیا تھا۔ وہ بتا رہا تھا کہ پڑوسی ملکوں سے آرڈر آنے لگے ہیں۔“ مسٹر ناگ نے بتایا۔
”ہاں مجھے معلوم ہے۔“ مسٹرنٹھاری نے فائل کے اوپر رکھا پین اٹھا کر یوں ہی ہونٹوں کے پاس لے جاکر، آنکھیں سکیڑ یں اور کہا: ”مگر ابھی ’نئی فیکٹری‘ کا پروڈکشن اتنا نہیں ہے کہ ہم ایکسپورٹ کے بارے میں سوچ سکیں اور جب تک سپریمو کی طرف سے ہری جھنڈی نہیں مل جاتی ہے ہم ایسا کر بھی نہیں پائیں گے۔ فی الوقت ہمارا ٹارگیٹ یہ ہونا چاہئے کہ پیداوار کیسے بڑھے۔ کوئی سجھاؤ دیجئے آپ لوگ۔“
”میرا خیال ہے کہ۔۔۔“ مسٹر کوبرا نہایت سنجیدگی سے بولے: ”اس سلسلے میں ’گلابی کلب‘ سے جو ہمیں کچّا مال مل رہا ہے، ہمیں اس میں تیزی لانی ہوگی۔ زیادہ سے زیادہ نوجوان لڑکوں، لڑکیوں کو تیار کرنا ہوگا۔۔۔۔۔“
’گلابی کلب‘ کے ڈائرکٹر مال پانی اعتراضاََ بولے: ”کیسی بات کرتے ہیں آپ مسٹر کوبرا۔آل ریڈی ’گلابی کلب‘ سے سال میں چھے لڑکے اور دس لڑکیاں دی جا رہی ہیں۔ اس سے زیادہ پر کلب پبلک کی نگاہ میں آجائے گا۔ کلب کسی بڑی پریشانی میں پھنس سکتا ہے۔“
”تو اس میں پریشانی کی کیا بات ہے؟“ مسٹر گول مال بولے۔ ”آخر سپریمو کا ہاتھ ہمارے اوپر ہے۔“
”ہاں وہ تو صحیح ہے لیکن ہم کو یہ نہیں بھولنا ہے کہ سپریمو کی طرف سے ہدایت یہ بھی ہے کہ ہم کو کوئی بھی ایسا قدم نہیں اٹھانا ہے کہ عوام کی نگاہوں میں آئیں۔“
مسٹر ناگ بولے: ”میری سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی ہے کہ جب سارا میڈیا سپریمو کے ساتھ ہے تو پھر پبلک کا خوف کیوں؟ کسی بھی چیز کو جیسے جی چاہے موڑ سکتے ہیں۔ من مرضی ڈھنگ سے دکھا سکتے ہیں۔“
مسٹر نٹھاری بولے: ”ناگ صاحب، آپ جتنا آسان سمجھ رہے ہیں اتنا آسان بھی نہیں ہے۔ سپریمو کی بھی اپنی مجبوریاں ہیں۔ دیش واسیوں کو ہی نہیں ودیشی طاقتوں کو بھی سمجھانا ہوتا ہے۔“
”آپ صحیح فرماتے ہیں مسٹر نٹھاری۔۔۔۔آخر سپریمو کے سامنے اپوزیشن بھی تو ہے۔۔۔بھلے ہی کتنی لاچار کیوں نہ ہو۔۔۔۔“
مسٹر مال پانی نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ وقفہ لیا اور بات آگے بڑھائی:
”مسٹر نٹھاری، پھر آ پ خود اس مسئلے کا حل نکالیں۔۔۔“
مسٹر نٹھاری یہ سن کر مسکرائے اور بولے: ”یہ بھی خوب رہی۔۔ میں نے آپ لوگوں کو بلایا تھا کہ کوئی حل نکلے۔۔۔۔۔۔مگر آپ نے ہل میرے ہی کاندھے پر رکھ دیا۔۔۔۔ جاؤ نٹھاری کھیت جوتو۔۔۔۔۔“ مسٹر نٹھاری کی اس بات پر سب لوگ ہنسے۔
مسٹر نٹھاری چند منٹ ایسے ہی بیٹھے رہے۔پھر بولے: ”رسپیکٹیڈ ممبران۔۔۔ابھی ’نئی فیکٹری‘ کو مشکلیں آرہی ہیں، مگر یہ ہم سب جانتے ہیں کہ جس دن اس بزنس نے تیزی پکڑی۔ ہم سارے ممبران دنیا کے سب سے امیر ترین لوگوں میں گنے جائیں گے۔۔۔“ پھر وہ چند لمحے خاموش رہ کر آگے بولے: ”ساتھیو! شاید ہم میں سے کوئی نہیں چاہتا کہ ہمارا یہ ڈریم پروجکٹ فلاپ ہو۔۔۔۔مگر چونکہ ابھی ’نئی فیکٹری‘ میں بہت کام باقی ہے۔ ہمیں صبر سے کام لینا ہوگا۔ اس لیے میری خواہش ہے کہ جب تک کچّے مال کا انتظام کہیں اور سے نہیں ہو پاتا ہے، ہم مسٹر مال پانی سے یہ درخواست کرتے ہیں کہ وہ گلابی کلب سے جتنی بھی مُمکن ہو زیادہ سے زیادہ سپلائی بھیجیں۔ اس سپلائی کی ’نئی فیکٹری‘ آپ کو الگ سے شئیر دے گی۔ کیا کہتے ہیں مسٹر مال پانی۔“
”مسٹر نٹھاری، جب آپ نے فیصلہ سنا ہی دیا ہے تو میں کیا کہہ سکتا ہوں۔ آخر آپ اس کمپنی کے چیف ہیں، چیئر مین ہیں۔ رہا سوال کچّے مال کا۔۔۔میں اپنی طرف سے پوری کوشش کروں گا کہ زیادہ سے زیادہ مال دوں۔۔۔ باقی آپ یہ تو جانتے ہی ہیں کہ ہر زمانے میں کُچھ جاہل سر پھرے ہوتے ہیں۔ جو نہ خود چین سے کھاتے پیتے ہیں اور نہ کھانے دیتے ہیں۔ بس کوئی ایسا موقع آتا ہے تو آپ کو سنبھالنا ہوگا۔“
”اس کی فکر نہ کریں آپ مسٹر مال پانی۔“ مسٹر نٹھاری نے کہا: ”آخر سپریمو کی چھتر چھایاہے ہم پر۔“
میٹنگ خوش اسلوبی سے اختتام پذیر ہوئی۔ صرف اتنا ہوا کہ مسٹرمال پانی کی چنتا بڑھ گئی۔ ان کا دماغ تیزی سے کام کرنے لگا کہ ’کچّے مال‘ کے لیے اگلا قدم کیا اٹھانا ہے۔

(6)

اتوار کا دن تھا۔
دیپا اپنے گھر میں تھی۔ دادی کے لیے چائے بنا رہی تھی۔ موبائل میں، ہلکی آواز میں نغمہ بج رہا تھا۔ جس کے بول اور سنگیت رومانی تھے۔ گانے میں محبوبہ اقرار کر رہی تھی کہ میں نے بہت چاہا کہ محبوب کو نہیں چاہوں۔ مگر دلِ بے قرار اس کی طرف کھنچتا ہی چلا گیا۔ وہ دل کے ہاتھوں مجبور، محبوب کی محبت میں گرفتار ہو ہی گئی۔
گیت کے بول دیپا کے کانوں میں گونج رہے تھے۔ چائے اُبل رہی تھی۔ دیپا علی کے خیالوں میں کھوئی تھی۔ علی کی بڑی بڑی کالی آنکھیں اُسے یاد آ ری تھیں۔ ان آنکھوں میں وہ اپنے لیے اظہارِ محبت تلاش کر رہی تھی۔ اسے محبت تو نظر آرہی تھی، مگر اس کا اظہار نہیں۔ دیپا کو اب تک یہ شبہ تھا کہ وہ علی سے پیار کرتی ہے یا شاید نہیں کرتی ہے۔ مگر آج اسے یقین ہو چلا تھا کہ وہ علی کو چاہتی ہے۔ دل سے چاہتی ہے، اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہے۔ اسے لگنے لگا کہ علی کے بغیر اس کی زندگی ادھوری ہے۔
دیپا بھول چکی تھی ہلکی آنچ پر چائے ابل رہی ہے اور ابل ابل کر آدھی رہ گئی ہے۔
موبائل میں کسی کا پیغام آنے کی وجہ سے چند سیکنڈ کو گانے کے بول میں خلل پڑا تو دیپا کا دھیان چائے کی طرف گیا۔ اس کی زبان سے نکلا: ”اُوہ شِٹ۔۔۔“ اس نے برق رفتاری سے انڈکشن کا سوئچ آف کیا۔
گانا پھر شروع ہو گیا۔
دیپا کے دل نے اس سے کہا۔ شاید علی کامیسج ہو۔ وہ موبائل کی طرف ہاتھ بڑھاتے بڑھاتے رُک گئی۔ مگر فوراََ ہی اس نے یہ خیال دل سے نکال دیا۔ وہ میسج بہت کم کرتا تھا۔ اتوار کو تو کبھی نہیں۔ یہ سوچتے ہوئے اس نے چائے میں تھوڑا دودھ اور چینی ڈالی۔ چائے دوبارہ بنانے لگی۔ وہ چائے لے کر دادی کے پاس پہنچی۔ ”دادی چائے۔“
”آں ں ں۔۔۔ ہاں ں ں۔“ دادی لیٹی ہوئی تھیں۔ وہ اُٹھ بیٹھیں۔ دیپا نے دادی کو چائے دی اور کمرے سے باہر نکل آئی۔
موبائل میں میسج دیکھا۔ اسے خوش گوار حیرت ہوئی۔ علی کا میسج تھا:
”کیا کر رہی ہو؟“
”دادی کے لیے چائے بنا رہی تھی۔“ دونوں چیٹنگ کرنے لگے۔
”اچھّا۔“ علی کا جواب آیا۔
”کیوں کیا ہوا۔“ دیپا کو تعجب تھا۔ اس نے کبھی اس طرح کا مسیج نہیں کیا۔
”کُچھ نہیں، بس ایسے ہی۔“ علی کے اندازِ پیغام میں جھجھک تھی۔
”علی پلیز بتاؤ نا۔۔۔۔۔کیا بات ہے۔۔۔“ دیپا کے اندازِ کلام میں چاہتوں کے سُربج رہے تھے۔
”تھوڑا پریشان ہوں دیپا۔“ علی اپنے احساس کو دیپا تک پہنچانے کے لیے بے قرار تھا۔ اسے لگ رہا تھا۔ دیپا ہی دنیا میں وہ واحد فرد ہے جس سے وہ اپنی ہر خوشی، ہر غم کا ذکر کر سکتا ہے۔
دیپا بے چین ہوگئی۔ اس کا دل چاہا کہ وہ فوراََ علی کو فون کرے، مگر دادی کی موجودگی کا احساس کرتے ہوئے اس نے میسج ہی کیا۔
”علی بتاؤ نا۔۔۔۔ کیا بات ہے۔۔۔۔۔ میں تُم کو کیسے کہوں کہ میں تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ اس نے بات ادھوری چھوڑ دی۔
علی میسج پڑھ کر سمجھ گیا کہ دیپا نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا ہے۔ وہ کہنا چاہتی ہے کہ مجھے اپنی پریشانی بتاؤ۔۔۔۔میں تم سے پیار کرتی ہوں۔
”مُجھ سے ملنے آسکتی ہو؟‘۔۔۔دِل پریشان ہے۔ کہیں لنچ کرتے ہیں۔“
دیپا کے دل و دماغ میں خوشی کے سُر بجنے لگے اور تمام جسم میں گدگدی محسوس ہوئی۔ اس کا دل چاہا کہ اس کے پر لگ جائیں اور وہ اُڑ کر ابھی، اسی وقت علی کے پاس پہنچ جائے۔ اچانک ہی دیپا کو خیال آیا۔ موبائل کمپنی والوں نے ابھی تک ایسی ایپ کیوں نہیں بنائی کہ ہم اپنے چاہنے والوں کے سامنے لمحہ بھر میں پہنچ جائیں۔
”ہاں ہاں علی میں آجا ؤں گی۔۔۔۔۔ کہاں آنا ہے؟۔۔۔ کس وقت تک پہنچوں؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر پلیز اپنی پریشانی تو بتاؤ۔۔۔مجھے بہت گھبراہٹ ہورہی ہے، تمھارے لیے۔“
دیپا کا میسج پڑھ کر علی سوچنے لگا۔ یہ معصوم، دل کش، صاف دل کی لڑکی اس سے پیار کرنے لگی ہے۔ اس خیال کے آتے ہی علی کا دل چاہا کہ دیپا اس کے سامنے ہو اور وہ اسے آپنی آغوش میں بھر لے:
’میں تم سے پیار کرتا ہوں دیپا۔۔۔۔۔۔۔بے حد پیار۔۔۔زندگی کی تلخ سچائیوں میں تم ہی تو ہوجو میرے لیے شہد کی طرح میٹھی ہو۔۔۔۔‘
مگر وہ یہ سب سوچ کر ہی رہ گیا اور اس نے لکھا:
”گرین پارک آجاؤ۔۔۔۔۔۔ابھی نو بجے ہیں۔۔۔۔تم گیارہ، بارہ بجے تک آجانا۔۔۔۔۔سوری دیپا، میں تم کو چھُٹی والے دن پریشان کر رہا ہوں۔“
”دیپا نے علی کو پیار سے ڈانٹتے ہوئے لکھا: ”چُپ رہو۔ آرہی ہوں بس۔۔۔۔دوستو ں میں سوری ووری نہیں ہوتا۔۔۔۔اوکے بائے۔۔۔“
دیپا فون رکھ کر سیدھے آئینے کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ خود سے بولی: ”دو سال کی دوستی میں علی نے پہلی بار۔۔۔پہلی بار علی نے بلایا ہے دیپا۔ تو اس کو پیار کرتی ہے نا، آج اس سے اپنے دل کی بات کہہ ہی دینا۔ ویسے وہ بھی تُجھے بہت چاہتا ہے۔۔ بس کہنے سے ڈرتا ہے۔۔۔۔“ دیپا مسکرائی۔ بچّوں کی طرح کِھلکھلائی۔ وہ مصنوعی انداز میں منھ بسور کر خود سے سوال کرنے لگی۔”کپڑے۔۔۔۔۔۔اٗوں ں ں ں۔ کپڑے کون سے پہنوں۔۔۔۔۔؟“
وہ آئینے کے سامنے سے ہٹ کر وارڈ روب کی طرف چل دی۔ اس نے کپڑوں کے انتخاب میں ہی بیس منٹ لگا دیے۔ جب کہ اسکول جانے کے لیے اس کی ساری تیاری میں صرف بیس منٹ لگتے۔ مگر ’گرین پارک‘ جانے کے لیے اسے ایک گھنٹہ بیس منٹ لگے۔
***
علی ’گرین پارک‘ میں دیپا کا منتظر تھا۔ دھوپ اس کے جسم کو حرارت بخش رہی تھی۔ دیپا سے ملنے کی عجیب سی خوشی تھی۔ حالانکہ وہ دیپا سے روز ملتا تھا۔ روز صبح اسکول ساتھ ہی جاتے۔ ہنستے، بولتے، اسکول اور گھر کے مسائل پر بات کرتے۔ ساتھ ساتھ لنچ کرتے۔ پر نہ جانے کیوں اس وقت اسے دیپا کا شدّت سے انتظار تھا۔ اُسے لگ رہا تھا جیسے وہ آج دیپا سے پہلی بار مل رہا ہو۔
وہ سوچ رہا تھا کہ آج وہ اپنے دل کی بات دیپا سے ضرور کہے گا۔ اس سے پوچھے گا: ”دیپا کیا تمھارے دل میں میرے لیے کوئی نرم، پیار کا پیارا پیارا احساس ہے۔‘ مگر اسی وقت وہ پھر اسی الجھن کا شکار ہو گیا، جس کا وہ ایسے موقع پر ہو جایا کرتا تھا۔ اس نے خود سے کہا: ”علی دیوانے نہ بنو۔۔۔۔اس کے اور تمہارے درمیان مذہب کی دیوار ہے۔ یہ الگ بات کہ تمھاری طرح دیپا بھی اپنے مذہب کی پابند نہیں ہے۔۔۔۔ مگر ملک کے حالات الگ ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سماج کی اپنی منطق ہے۔“ وہ انھی خیالوں میں گم تھا۔
فون کی گھنٹی بجی۔ اس نے فون اُٹھایا۔ دیپا نے پوچھا: ”ہاں۔کہاں ہو؟“
”گرین پارک میں۔ تم سے وہیں کہا تھا نا۔“
”ارے گرین پارک میں تو میں بھی پہنچ چکی ہوں۔ میرا مطلب ہے کس طرف ہو۔۔۔۔۔ کافی بڑا پارک ہے نا یہ۔“ علی نے پتہ سمجھایا۔
تین چار منٹ کے بعد دیپا سامنے سے آتی نظر آئی۔ وہ اس سے پندرہ بیس میٹر کے فاصلے پر تھی۔ علی کو یہ سمجھتے دیر نہ لگی کہ اس نے آج اپنے سنگھار میں خاصا وقت صرف کیا ہے۔ اس نے گلابی رنگ کا سوٹ پہنا تھا۔ دوپٹہ سفید تھا۔ بال کھلے ہوئے تھے اور ہوا میں لہرا رہے تھے۔ بال گالوں سے اٹکھیلیاں کر رہے تھے۔ وہ بار بار اپنے گال سے چمٹ رہے بالوں کو دائیں ہاتھ کی انگلیوں سے سمیٹ کر پیچھے کر تی۔
علی کا جی چاہا کہ وہ اُٹھے اور دیپا کے قریب جا کر ہوا میں اڑتی زلفوں کو اپنے ہاتھوں سے درست کرے۔
وہ بہت خوب صورت لگ رہی تھی۔ سورج کی تیز روشنی میں اس کے کپڑوں کی چمک آنکھوں کو بھلی محسوس ہو رہی تھی۔ دیپا قریب آچکی تھی۔ وہ مسکرائی۔ زبان سے نکلا: ”ہائے۔“
علی ”ہیلو“ کہنے کے بجائے اس کی بالیوں کو دیکھنے لگا۔ جو اس کے کپڑوں کے رنگ سے میچ کر رہی تھیں۔ بالیاں لمبی تھیں۔ اس کے گال ہی نہیں اس کی گردن سے بھی شرارت کر رہی تھیں۔ بالیوں میں سورج کی شعاعوں سے شرارے پھوٹ رہے تھے۔ علی کے دل و دماغ میں ترنگیں پیدا ہو رہی تھیں۔ گلابی رخسار، سرخ ہونٹ، بڑی بڑی آنکھیں اسے مجبور کر رہی تھیں۔ علی ابھی، بالکل ابھی۔اسی وقت، ہاں اسی وقت۔ دیپا سے اقرارِ محبت کر لے۔ کہیں وقت ناراض نہ ہو جائے۔ علی کے اس طرح یک ٹُک دیکھتے رہنے سے دیپا اپنی کیفیت کو چھپاتے ہوئے اور علی کے جذبات کو سمجھتے ہوئے بولی: ”کیاہوا؟۔۔۔ہاں کچھ تو بولو۔۔۔ مسٹر“
علی جیسے نیند سے جاگا۔ اس نے اپنے جذبات کو سمیٹا۔ دل کو سمجھایا۔ دماغ کو ڈانٹا۔ ”بہت دیر لگا دی۔ ایک گھنٹے سے بیٹھا ہوں۔“
دیپا پہلے تو مسکرائی۔ پھر بناوٹی غصّے سے بولی: ”مسٹر! دیپا آپ کی طرح اکیلی نہیں رہتی۔ دادی بھی گھر پر ہوتی ہیں۔ سنڈے میری دادی کے لیے ہے۔“
وہ اِٹھلائی: ”میں تو تمھاری پریشانی کی وجہ سے آگئی۔۔۔سمجھے یا نہیں۔“
دیپا نے علی کی آنکھوں کے آگے چٹکی بجائی۔ جو اس کو دیکھتے ہو ئے، لمبی لمبی سانسیں لے رہا تھا۔ دیپا اس کے سامنے گھاس پر بیٹھی تھی۔ سنڈے کی وجہ سے پارک میں خاصی چہل پہل تھی۔
علی نے اپنا ذہن ہٹانے کے لیے پارک میں گھوم گھوم کر فروخت کر رہے چِپس، نمکین اور چائے بیچنے والوں کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا: ”کُچھ کھاؤگی؟ بھوک تو نہیں لگی“
”کھانا وانا بعد میں کھائیں گے۔ ویسے میں اپنے ہاتھ سے بنا پوہا لائی ہوں۔۔۔۔نکالوں؟“
”ہاں ہاں ضرور نکالو۔۔۔۔“ اس نے سنبھل کر بیٹھتے ہوئے کہا۔
دیپا نے اپنے بیگ سے ٹفن نکالا اور کھولتے ہوئے بولی: ”اچھّا یہ بتاؤ، تم نے مجھے بلایا کیوں ہے۔ تم کہہ رہے تھے کوئی پریشانی ہے۔ کیا ہوا؟“
علی نے سنجیدگی سے کہا: ”دیپا! خالہ کا فون پھر آیا تھا۔ پنکی کے بارے میں پوچھ رہی تھیں۔۔۔ رو رہی تھیں ۔۔۔ سمجھ ہی نہیں آرہا۔۔ پنکی کو کہاں تلاش کروں۔“
”مجھے لگتا ہے علی ہم کو گراؤنڈ پر خود ہی اترنا ہوگا۔ ہم کو خود ہی کوشش کرنی ہوگی۔ کسی سے کوئی امید کرنا فضول ہے۔“
”ہاں ایسا ہی لگتا ہے۔ پولیس کے سہارے بیٹھنا بھی محض وقت کی بربادی ہی ہے۔“ علی نے کہا اور کچھ دیر سوچ کر آگے بولا: ”میرے خیال میں ابھے اور معراج سے ملنا چاہئے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ابھے نے کوئی راستہ سوچا بھی ہو، پنکی کو تلاش کرنے کا۔ ابھے اور معراج میرے اچھّے دوست ہیں۔“
”اور میں۔۔۔؟“ دیپا نے تھوڑا چہرہ تِرچھا کر کے آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں۔
شرارت دیپا کے چہرے پر رقصاں تھی۔ سورج کی روشنی میں دمک رہے اپنے ان بالوں کو اس نے کان کے پیچھے کیا۔ جو بار بار اس کے گال کو چھو کر اشارہ کر رہے تھے کہ وہ علی سے اپنے دل کی بات کہہ دے۔
”تم تو۔۔۔۔“ علی بھی شرارت کے موڈ میں آگیا تھا۔ ”ایک دم فضول لڑکی ہو۔“
دیپا نے مصنوعی غصّے سے منھ پھلا کر چہرہ بائیں طرف کر لیا۔ بولی۔”جی ہاں یہ فضول لڑکی وقت آنے پر بہت کُچھ کر سکتی ہے۔۔۔۔۔۔“
”ارے۔۔۔ارے۔۔۔ میں مذاق کر رہا ہوں۔۔۔ تم تو۔۔۔“ علی کہتے کہتے پھر رک گیا۔
بات بدل کر بولا: ”تم تو میری سب سے اچھّی دوست ہو دیپا۔۔۔۔خیر چھوڑو۔۔۔۔یہ بتاؤکھانا کہاں کھائیں۔۔۔۔۔“
”ابھی تو پوہا کھایا ہے بھئی۔۔۔۔۔“ دیپاکی آنکھوں میں سورج کی تیز کرنیں پڑ رہی تھیں۔ وہ اس سے بچنے کے لیے علی کے قریب آکر بیٹھ گئی۔ دیپا کا کاندھا علی کے کاندھے سے لگا۔ علی کے جسم کو کوئی ترنگ سی چھو گئی۔ ریشمی سا کوئی احساس اس کی رگ و جاں میں گھل گیا۔ بے اختیار اس کا دل چاہا کہ وہ دیپا کو بانہوں میں بھر لے۔ مگر اس نے ایسا کرنے سے خود کو باز رکھا۔ وہ کھڑے ہوتے ہوئے بولا۔ ”چلو۔۔۔ ٹہلتے ہوئے کسی ریسٹورنٹ کی طرف چلتے ہیں۔۔۔۔اس کے بعد ابھے سے ملنے جاؤں گا۔“
” میں بھی چلوں گی۔ مل کر بات کریں گے تو یقینی طور پر کوئی راستہ نکلے گا۔“
دونوں پارک سے نکل کر سڑک پار کرنے لگے۔

(7)

ابھے درمیانہ قد کا صحت مند انسان تھا۔ آنکھیں چھوٹی چھوٹی تھیں۔ گھنی داڑھی اور مونچھ میں اس کا چہرہ چھُپا ہوا محسوس ہوتا۔ وہ اپنے آپ سے لاپرواہ نظر آتا تھا۔ سر کے بال اکثر بنا سنورے رہتے۔ مزاج میں سادگی تھی۔ رہن سہن ہی نہیں، کپڑے بھی نہایت سادہ ہوتے۔ سیمینارروں میں جینز اور کرتے کے ساتھ چپّل پہن کر پہنچ جاتا۔ وہ ایسی محفل میں بھی سادے لباس میں دیکھا جا سکتا تھا، جہاں لوگ سوٹ اور ٹائی میں نظر آتے۔ کبھی کوئی اس سے معلوم کرتا کہ آپ اتنے سادگی پسند کیوں ہیں، تو وہ جواب دیتا کہ ایسا نہیں ہے کہ میں سادگی پسند ہوں، بس اتنا ہے کہ میں سوچتا ہوں کہ جتنا وقت اپنے آپ کو سنوارنے، سجانے میں لگاؤں گا۔ اتنی دیر میں کوئی ایسا کام کیا جا سکتا ہے جو سماج کے لیے مفید ہو۔
ابھے کا کردار بھی اس کے صحت مند جسم کی طرح مضبوط تھا۔ اکثر جرنلزم میں کام کرنے والی لڑکیاں اس سے مدد مانگنے آتی تھیں۔ وہ بنا کسی لالچ کے ان کی مدد کرتا۔ وہ درد مند دل رکھتا تھا۔ کسی کی تکلیف نہیں دیکھ سکتا۔ کئی بار لوگ ابھے کی اس نرم مزاجی کا فائدہ اٹھاتے اور اس کا وقت برباد کرتے۔ مگر وہ سمجھ کر بھی نا سمجھ بن جاتا تھا اور نظر انداز کر دیا کرتا تھا۔
ابھے کے والد فوج میں افسر تھے۔ کسی جنگ میں شہید ہو چکے تھے۔ ماں اپنے بڑے بیٹے کے ساتھ دلشاد آباد سے دور کسی شہر میں رہتی تھی۔ بڑا بھائی بزنس کرتا تھا اور اپنے چھوٹے بھائی سے نالاں رہتا۔ ماں اور بڑے بھائی کی نگاہ میں ابھے نااہل تھا۔ جو نہ تو ابھی تک نوکری حاصل کر پایا تھا۔ نہ ہی اس نے کسی طرح پیسہ کمایا۔اُن کے خیال میں اپنا وقت اور صلاحیتیں سماج سیوا اور معمولی سی اخبار نویسی کر کے خود کو ضائع کر رہا تھا۔
ابھے دو کمروں کے ایک چھوٹے سے فلیٹ میں رہتا تھا۔ جس میں ایک کمرے میں کتابیں تھیں تو دوسرے کمرے میں اس کا بستر اور کام کرنے کی میز تھی۔
ابھے کا یہ فلیٹ یونی ورسٹی گیٹ کے بالکل سامنے محلہ ’ساریکا‘ میں تھا۔ اسی یونی ورسٹی سے ابھے نے تعلیم حاصل کی تھی۔ ’ساریکا‘ کو شاد و آباد کرنے میں یونی ورسٹی کے طالب علموں کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔ اکثر طالب علم تعلیم مکمل ہو جانے اور نوکری نہیں ملنے کی صورت میں گھر کی شرمندگی سے بچنے کے لیے’ساریکا‘ کی چھوٹی چھوٹی گلیوں کے ننھے منّے فلیٹوں میں رہنے لگتے تھے۔ وہ ان کمروں میں روشن مستقبل کے انتظار میں اپنے آپ کو تاریکیوں میں ڈبو دیتے تھے۔ یازندگی کو بہتر بنانے کے لیے اپنے حساب سے ’پاک ناپاک‘ راہ متعین کر لیتے۔ جہاں یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا تھا کہ تاریکی کیا ہے اور روشنی کون سی ہے۔
’ساریکا‘ کی گلیوں کے ان گھروں میں جن میں طالب علم رہتے تھے، اکثر گرما گرم بحث چھڑی رہتی تھی۔سینئر کے پاس یونی ورسٹی کے طلبا آتے جاتے رہتے۔ سیاست، مذہب، فلسفہ ہو یا تاریخ، یہاں سب پر گھماسان چھڑا رہتا۔ دانشوری کی افیم کا نشہ سر چڑھ کر بولتا تھا۔ نوجوانی کے انقلاب کی جادوگری طرح طرح کے عجیب و غریب جلوے دکھاتی تھی۔
یونی ورسٹی اپنے سیاسی خیالات و افکار کے لیے سارے ملک میں جانی جاتی تھی۔ اکثر یہیں سے انقلاب شروع ہوتا۔ یہاں لینن اور کارل مارکس کا نام بڑی عقیدت سے لیا جاتا تھا۔ ’داس کیپیٹل‘ کو لڑکے، لڑکیاں سینے سے لگائے گھومتے۔ ابھے کے چھوٹے سے اس گھر میں اکثر نوجوان آتے جاتے رہتے تھے، جو زیادہ تر یونی ورسٹی کے طالب علم ہوتے۔
علی اور دیپا جس وقت ابھے کے گھر پہنچے۔ تب وہاں تین چار یونی ورسٹی کے طالب علم موجود تھے۔ ملک کی موجودہ سیاست پر بحث چل رہی تھی۔
”حکومتوں کا پہلا کام یہی ہوتا ہے کہ بولنے والوں کی بولتی بند کرو۔ آج ایسا ہو رہا ہے تو اس میں حیرت کی کیا بات ہے بھائی۔ کس بات کی بے چینی ہے آپ لوگوں کو؟“ دھرم ویر نے ذرا تیز لہجے میں کہا: ”یار میرے! آئی ایگری کمپلیٹلی وِد یو۔۔۔۔۔۔۔ٹھیک ہے گُزرے زمانے میں کیا کیا نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن اظہارِ آزادی پر بالکل ہی پابندی لگا دینا۔۔۔۔۔ ظلم ہے بھائی۔۔۔۔“
راہل کا مزاج بھی گرم ہونے لگا: ”اور اگر کوئی بولے تو اس پر سڈیشن کا چارج لگا دینا۔۔۔۔۔یہ تو کھلم کھلا زیادتی ہے نا۔۔۔“
نظریاتی اعتبار سے دھرم ویر اور راہل الگ سیاسی جماعتوں کی حمایت کرتے تھے۔
”کاہے کا ظلم۔۔۔۔کہاں کی زیادتی۔۔۔۔۔ یہ سب فضول باتیں ہیں نا۔۔۔۔“ دھرم ویر نے ابھے کی طرف دیکھا۔ وہ طیش میں آ چکا تھا۔ وہ کھڑا ہو گیا اور چپّل پہنتے ہوئے بولا: ”اتنی سی بات سمجھ میں نہیں آتی۔۔۔۔۔۔۔۔ہر زمانے میں، کسی بھی یُگ میں جس کی لاٹھی ہوتی ہے، بھینس وہی لے جاتا ہے۔“
دونوں گروپ آپس میں اُلجھنے ہی والے تھے کہ موقع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ابھے کھڑا ہو گیا۔ بولا:
”ساتھیو! ہم آپس میں بات کر رہے ہیں۔ کسی کو کُچھ ملنے والا نہیں ہے اس جھگڑے سے۔ بیٹھو یار دھرم ویر۔۔۔۔ سب کے لیے چائے بناتا ہوں۔ گرما گرم چائے سے ہی گرما گرم بحث کو مارتے ہیں۔۔۔۔کیا خیال ہے علی۔“
علی اور دیپا جو بحث و تکرار سے بیزار بیٹھے تھے۔ دونوں نے جلدی سے ہاں میں گردن ہلائی۔
”واہ ابھے جی واہ۔۔۔۔ ملنے نا ملنے پر ہی انصاف کی بات بولی جائے گی۔۔۔۔۔آپ کے ڈبل اسٹینڈرڈ کا بھی جواب نہیں۔“
ابھے نے اپنے جذبات کو قابو میں کرتے ہوئے کہا:
”یار دھرم ویر آپس میں دوست ہیں ہم سب۔۔۔۔۔۔میرا کوئی ڈبل اسٹنڈرڈ نہیں ہے۔ بس میں ہمیشہ کوشش یہ کرتا ہوں کہ صحیح کے ساتھ کھڑا رہوں۔“
دھرم ویر نے نفرت سے علی کی طرف دیکھا۔ اور ابھے سے تلخ مگر دبے لہجے میں بولا:
”ہاں وہ تو میں دیکھ ہی رہا ہوں۔۔۔۔۔آپ کا صحیح اور غلط۔۔۔۔ سب سمجھ رہا ہوں۔“ دھرم ویر ابھے کے گھر سے نکلتے نکلتے رُکا۔ اور بولا:
”ابھے کمار سے نام بدل کر اپنا نام ابھے حسین رکھ لو ساتھی۔۔۔۔۔ یہی صحیح لگ رہا ہے مجھے آپ کے لیے۔“
اس نے دروازہ کھولنے سے پہلے ایک اور نفرت کی نگاہ علی پر اُچھالی اور چلا گیا۔ علی زہر کا گھونٹ پی کر رہ گیا۔
دیپا تلملا کر کھڑی ہوئی۔ وہ باہر جاکر دھرم ویر کو جواب دینے ہی والی تھی کہ علی نے دیپا کا ہاتھ پکڑ کر روکا۔ ابھے نے اشارے سے منع کیا۔
کُچھ دیر کمرے میں بے ترتیب خاموشی چھائی رہی۔ چند منٹ بعد راہل اجازت لے کر چلا گیا۔ یونی ورسٹی کے اسٹوڈنٹ اپنے ہاسٹل روانہ ہو گئے۔
علی اور دیپا نے چین کی سانس لی۔
ابھے نے مسکرا کر دیپا سے پوچھا: ”جی دیپا جی کیسی ہیں آپ۔۔۔۔ آپ میرے یہاں پہلی بار آئیں اور ہم لوگ بقراطی میں لگے ہوئے تھے۔“
دیپا بولی: ”ایسی کوئی بات نہیں۔۔۔۔بس آج کل علی بہت پریشان ہے۔۔۔۔ اپنی چھوٹی بہن کی گمشدگی کی وجہ سے۔۔۔تو۔۔۔۔“
”ہاں یہ تو خیر واقعی بہت دُکھ کی بات ہے۔۔۔۔۔“ ابھے بولا: ”یار علی جو آپ حکم کرو گے میں کرنے کو تیار ہوں۔ میرا کیا ہے۔ اکیلا انسان ہوں۔ نہ بیوی نہ بچّے۔۔۔۔ بس یہ کتابیں ہیں اور آرٹیکل وغیرہ لکھ لیتا ہوں۔۔۔ گزر بسر ہو ہی جاتی ہے۔“
پھر وہ تینوں سر جوڑ کر حساب لگانے لگے کہ پنکی کی تلاش کیسے اور کہاں سے شروع کریں۔ کیا حکمتِ عملی تیار کی جائے۔ ابھے نے مشورہ دیا: ”اکثر ہم لوگوں کو بچّے بھیک مانگتے ہوئے مل جاتے ہیں۔ میرے خیال میں ایسے اُٹھائے بچوں سے بھیک بھی منگوائی جاتی ہوگی۔ اس لیے ہم ایسے علاقوں سے شروعات کرتے ہیں، جہاں زیادہ بھکاری ہوں، وہاں ہم پنکی کی تصویر کی فوٹو کاپی بھی تقسیم کریں گے۔۔۔۔ میرا خیال ہے، کوئی نہ کوئی سراغ تو ملے گا، ضرور۔“
ابھے نے آگے کہا: ”کل سے ابھیان شروع کریں گے۔ دونوں ٹییمیں روز گھر سے نکل کر الگ الگ ایریوں میں جائیں گی۔ جیسے ریلوے اسٹیشن، بس اڈہ۔۔۔۔میٹرو اسٹیشن کے آس پاس۔۔۔۔۔۔اور گھنی آبادیاں جہاں۔۔۔۔۔میں معراج کے ساتھ رہوں گا اور آپ دونوں۔۔۔۔۔۔“
ابھے کی بات پوری ہوتے ہی علی بولا: ”معراج بھی چلے گا کیا۔ اس کی طبیعت کیسی ہے اب۔“
”اب تو بہتر ہے۔۔۔۔ بہت زیادہ خیال رکھا جا رہا ہے اس کا۔ ان کے فادر بھی اب روز ملنے آتے ہیں۔ میں ایک دن چھوڑ کر ضرور جاتا ہوں۔۔۔۔۔ اور ہاں یاد آیا، معراج فکر مند ہے۔ وہ آپ کی بہن کے بارے میں معلوم بھی کر رہا تھا۔ اس نے کئی لوگوں سے آپ کی بہن کو تلاش کرنے کے لیے بات بھی کی۔ یہ الگ بات کہ ابھی تک کوئی خاطر خواہ نتیجہ سامنے نہیں آیا۔“
دیپا نے پوچھا: ”ویسے ابھے بھائی، معراج کو لے جانا ٹھیک رہے گا۔۔۔۔ان کی طبیعت۔۔۔۔۔۔۔؟“
”اصل میں ڈاکٹر سوشیل کا ہی کہنا ہے کہ اس کو کسی مہم جیسے کام میں مشغول کر یں تاکہ یہ تصورات کی دنیا سے نکل کر حقیقت کی دنیا کاسامنا کر سکے۔ اور اتفاق یہ ہے کہ پنکی کی تلاش کی صورت، مہم بھی عین موقع پر ہمارے سامنے آ چکی ہے۔۔“
پنکی کی تلاش کیسے شروع کریں؟ اس پر بات ہوتی رہی۔ علی اور دیپا اس کا بھی ذکر کر رہے تھے کہ دونوں کو کیسے اسکول سے چھُٹّی ملے گی۔ چھُٹّی لینے میں کیا کیا پریشانیاں آ سکتی ہیں۔
اچانک ابھے کو جیسے کُچھ یاد آیا۔ اس نے علی سے پوچھا:
”آپ دونوں کا اسکول وہی ہے نہ جس کی چئیر پرسن دیدی ہیں۔ مشہور سماجی کارکن نندی دیدی؟“
علی اور دیپا نے ایک ساتھ ہاں میں گردن ہلائی تو ابھے آگے بولا:
”علی، وہ تو آج کل چائلڈ ٹریفکنگ پر بہت ایکٹو ہیں۔اسی پر کام کر رہی ہیں۔ آپ ایک بار ان سے بات کر کے دیکھو۔۔۔۔۔ شاید پنکی کی تلاش میں کوئی سراغ مل سکے۔“
دیپا نے چونک کر کہا: ”ہاں، یہ بات تو صحیح ہے۔“
علی امید ناامید ی کے ملے جلے جذبے سے بولا:
”یہ بات میرے دماغ میں بھی آئی تھی۔ مگر وہ اسکول کب آتی ہیں؟ کب جاتی ہیں؟ پتہ نہیں چل پاتا۔ ان کے پی۔ اے۔ سے اگر وقت مانگوں تو کُچھ پتہ نہیں کب کی تاریخ ملے۔“
”ہاں۔۔۔۔ یہ تو خیر ہے۔“ دیپا بولی۔
ابھے بولا: ”دیکھو، کل ’میدانِ عمل‘ میں ایک ریلی ہے۔ میری معلومات کے حساب سے شاید وہ بھی کل وہاں پہنچیں گی۔۔۔۔ علی آپ کوشش کر کے کل وہاں ان سے ملو۔ اپنی بات کہو۔۔۔۔۔پھر آگے دیکھتے ہیں۔۔۔۔۔اس کے علاوہ جو ہم کام کریں گے وہ تو کریں گے ہی۔“
”او۔ کے۔“ علی بولا اور دیپا کو چلنے کا اشارہ کیا۔
***
وہ دیدی کے نام سے مشہور تھیں۔ چھوٹا ہو یا بڑا، امیر ہو یا غریب سب ان کو دیدی کہہ کر ہی مخاطب کرتے تھے۔ دیدی جہاں ’اپنا‘ نام اسکول کی مالکن تھیں وہیں وہ سماج سدھار کے لیے کئی کام کرتی تھیں۔ ’بچّوں کا گھر‘ نام سے ایک این. جی. او بھی چلاتی تھیں۔ اس ’بچوں کا گھر‘ میں لگ بھگ پانچ سو بچّے رہتے تھے۔ ان بچّوں کی تعلیم کے ساتھ رہنے اور کھانے کا انتظام بھی مفت ہوتا۔ یہ بچّے بے سہارا، یتیم و لاوارث ہوتے۔ وہ انسان سے محبت کرنے والی شخصیت مانی جاتی تھیں۔ ان کے کام اور ان کی رحم دلی کے چرچے ہر طرف تھے۔وہ غریبوں اور لاچاروں کی مسیحا تھیں۔ وہ چھوٹے سے قد کی مضبوط جسم کی عورت تھیں۔ ہمیشہ سادہ لباس میں نظر آتیں۔
آج اتوار تھا۔ دیدی ’میدانِ عمل‘ میں پہنچی ہوئی تھیں، ایک دھرنے میں حصّہ لینے کے لیے۔ دیدی نے سال بھر پہلے جو ’بچپن بچاؤ‘ تحریک شروع کی تھی، اُس سے اب ان کی تنظیم کے علاوہ بھی اور بہت سی فلاحی تنظیمیں اور یونی ورسٹی کی یونین کے اسٹوڈنٹ وابستہ ہو گئے تھے۔ بالکل نئی بنی سیاسی پارٹی کے ورکر بھی آئے تھے۔ اب تحریک میں تیزی آ گئی تھی۔ اس وقت ’میدانِ عمل‘ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع تھے۔ اسٹیج پر کئی لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ نئی سیاسی پارٹی ’ہم سب‘ کا ایک لیڈر، یونی ورسٹی یونین کا صدر اور کئی فلاحی تنظیموں کے لوگ بھی موجو د تھے۔ مائک دیدی کے ہاتھ میں تھا:
”سرکار سے ہماری صرف اتنی مانگ ہے کہ وہ بے سہارا بچوں کے لیے کوئی پُختہ قدم اُٹھائے۔ لاوارث و یتیم بچّے سڑک پر مارے مارے پھرتے ہیں۔ غلط لوگوں کا شکار ہوتے ہیں۔ ان کو غیر انسانی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہماری جیسی آرگنائزیشن اپنے اِستر پر کام کرتی رہی ہیں اور اب بھی کر رہی ہیں مگر، ہمارے ریسورسز محدود ہیں۔ ایسے بچّوں کو بھی ہمارے، آپ کے بچوں کی طرح بنیادی چیزوں کی ضرورت ہے۔ یہ ان کا انسانی حق ہے۔ جس کی ہم سرکار سے مانگ کرتے ہیں۔ اِس کے علاوہ ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ معصوم بچیوں کے ساتھ ریپ کی تعداد دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔ پولیس سختی سے قانون کا پالن کرے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ روز ہی شہروں سے ہزاروں بچّے غائب ہو جاتے ہیں. آخر یہ بچّے کہاں جاتے ہیں، جن میں زیادہ تر بچوں کا پتہ خود پولیس بھی نہیں لگا پاتی ہے۔ یہ کون لوگ ہیں جو حکومت سے بھی زیادہ طاقت ور اور عقل مند ہیں کہ سرکار، پولیس پرشاسن سب ناکام ہیں۔ اس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔اور ایک عجیب بات یہ بھی دیکھنے کو مل رہی ہے کہ بھیک مانگنے والے بچوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ کہاں سے آتے ہیں یہ بھکاری۔ سرکار کو چاہئے کہ وہ ان پر لگام لگائے، اگر یہ واقعی ضرورت مند اور مجبور ہیں توان بے سہاروں کے لیے کُچھ کرے اور اگر ان لوگوں نے یہ اپنا پیشہ بنا لیا ہے تواس دھندھے کو ختم کرنے کے لیے کوئی ٹھوس قدم اُٹھائے سرکار۔۔۔۔آخر ہمارے دیش کی عزّت کا سوال ہے۔ دوسرے ملکوں میں بھارت کی ڈگنٹی کا پرشن ہے۔“
دیدی کی تقریر ابھی جاری ہی تھی کہ ایک لڑکی اسٹیج پر آئی اور کاغذ کا پُرزہ دیدی کو دے کر چلی گئی۔ دیدی نے اُچٹتی ہو ئی نگاہ اس پُرزے پر ڈالی اور اپنی تقریر جلدی سے مکمل کر کے منتظمین جلسہ سے اجازت چاہی۔
علی اور دیپا بھی میدانِ عمل میں موجود تھے۔ وہ اس امید پر آئے تھے شاید دیدی سے ملاقات ہو جائے۔ علی اپنی بہن پنکی کے گم ہو جانے کی بات ان سے کر سکے۔ اس سے پہلے کہ علی بھیڑ سے نکل کر دیدی تک پہنچے، وہ اسٹیج سے اتر کر میڈیا والوں کے سوالات کے جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے تیزی سے میدانِ عمل سے نکل کر اپنی گاڑی کی طرف لپکیں۔
اسی درمیان علی لوگوں کو ہٹاتا ہوا دیدی تک پہنچ گیا۔ اس نے دیدی کو ”ہیلو“ کہا۔دیدی نے پہچان کر جواب دیا۔ علی نے بہت جلدی سے پنکی کے بارے میں اپنی پریشانی بتا کر مدد چاہی۔
دیدی نے سنجیدگی سے کہا:
”بہت افسوس کی بات ہے یہ۔ ہم لوگ اس پر کام بھی کر رہے ہیں۔ ہم پوری کوشش کریں گے کہ آپ کی کُچھ مدد کر سکیں۔ مگر چائلڈ ٹریفکنگ ایک سمندر ہے۔ سمندر میں ایسا اتفاق سے ہی ہوتا ہے کہ خوفناک مچھلیوں میں سے کوئی مچھلی اپنے شکار کو اُگل کر کنارے کی طرف اُچھال دے۔“
ڈرائیور نے دروازہ کھولا۔ دیدی گاڑی میں بیٹھیں۔ گاڑی آگے بڑھ گئی۔
جاتی ہوئی گاڑی کو علی مایوسی سے دیکھتا رہ گیا۔
دیپا پیچھے سے آئی۔ اس نے علی کے بازو پر ہاتھ رکھا۔علی نے مایوس مسکراہٹ کے ساتھ اپنے کاندھے اچکا کر چھوڑ دیے۔
دیپا بولی: ”کیا کہہ رہی تھیں دیدی؟“
علی نے پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ بتایا: ”تسلّی دے رہی تھیں۔۔۔۔ مجھے تو ایسا لگا جیسے بات سُن کر فارمیلٹی نبھا رہی ہوں۔“
دیپا علی کو حوصلہ دیتے ہوئے بولی: ”کوئی بات نہیں علی، ہم اپنے طریقے سے بچّی کو تلاش کریں گے۔۔۔۔پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔“
علی کے چہرے پر امید کی مسکراہٹ پھیل گئی۔ دونوں سڑک کی دوسری طرف چل پڑے۔

***
یہ انڈر گراؤنڈ بڑا سا کمرہ تھا۔ جو دیدی کے فارم ہاؤس میں بنا یا گیا تھا۔ فارم ہاؤس شہر سے دور ایک ویران علاقے میں تھا جہاں چار پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر کئی فارم ہاؤس تھے۔ اس انڈر گراؤنڈ کمرے میں خفیہ میٹنگ چل رہی تھی۔ دیدی کا دایاں ہاتھ کہا جانے والا ان کا خاص ملازم، جو ان کے پی اے کی حیثیت سے جانا جاتا تھا، سیڑھیوں پر کُرسی ڈال کر بیٹھ گیا تھا۔ تاکہ کوئی اندر نہیں جا سکے۔
میٹنگ شروع ہو چکی تھی۔ چار لوگ اسٹیج پر تھے، باقی سامنے بیٹھے تھے۔
دیدی نے کہنا شروع کیا: ”دوستو! یوں تو یہ نیلامی سال میں دو بار ہوتی ہے مگر اس بار ایک سال کے بعد ہو رہی ہے کیوں کہ ملک بھر سے جتنے پارسل کی امید تھی اس سے بہت کم آئے ہیں۔ مگر اچھی بات یہ ہے کہ پارسل زیادہ تر خوب صورت اور تندرست ہیں اور اچھی فیملی کو بلونگ کرتے ہیں۔ اس لیے بولی کی شروعات طے شدہ رقم سے زیادہ دام سے ہو گی۔“
دیدی کی اس بات پر وہاں موجود سب لوگوں نے پلٹ پلٹ کر ایک دوسرے کا چہرہ دیکھا اور چہ میگوئیاں کرنے لگے۔ دیدی نے بولی لگانے والے لوگوں کو غور سے دیکھا اور چند منٹ خاموش رہنے کے بعد بولی: ”آپ بالکل پریشان نہ ہوں۔ پہلے پارسل کا مال دیکھیں، پھر فیصلہ کریں۔ جہاں تک بڑھے دام کی بات ہے تو میں آپ کو بتا دوں۔ پہلے جیسا معاملہ نہیں رہا۔ اب بہت مشکل سے مال آتا ہے۔ پھر سپلائر مشکل سے ملتے ہیں۔ سپلائرز کا کہنا بھی ٹھیک ہے کہ یہ بے حد خطرناک کام ہے، اس میں جہاں جیل جانے کا خدشہ ہے وہیں، جان بھی جا سکتی ہے۔ پارسل بنانے کو ہر کوئی راضی نہیں ہوتا۔ وہ اپنی شرطوں پر کام کرنا چاہتے ہیں۔ پھر ایجنٹ مہنگائی کا بھی رونا روتے ہیں۔ بس یوں سمجھ لو، مہنگائی بھتّا مانگتے ہیں۔“ دیدی مسکرائیں۔
بولی لگانے والوں میں سے ایک بولا: ”دیدی آپ کی ساری باتیں صحیح ہیں مگر آخر ہمیں بھی تو کھانا کمانا ہوتا ہے۔“
”اس میں پریشانی کی کیا بات ہے۔۔۔ جیسے آپ کو مال ملے ویسے آگے بڑھائیں۔ مارکیٹ میں ڈیمانڈ تو بڑھ رہی ہے نا، پھر کیا بات ہے۔“ دیدی نے تھوڑا سا پیشہ ورانہ رویہ اختیار کیا۔ وہ آگے بولی: ”پہلے آپ مال دیکھ لیں، پھر بات کریں گے۔“ دیدی نے برابر میں بیٹھے شخص کو اشارہ کیا، جس کی میز پر لیپ ٹاپ رکھا تھا۔ وہ اس بات کا منتظر تھا کہ دیدی کہیں تو وہ میز کے پیچھے لگے پردے پر پروجیکٹر کی مدد سے ہال میں موجود لوگوں کو تازہ سپلائی کی تصویریں دکھائے۔
اس شخص نے تصویریں دکھانی شروع کیں۔ چار سال کے بچّے سے لے کر سولہ سال کے بچوں کی تصویریں تھیں۔ ان تصویروں کو چار الگ الگ فولڈرز میں رکھا گیا تھا۔ جن کی قیمت بچوں کی صحت، عمر، خوب صورتی اور جینڈر کے حساب سے تھی۔
ہال میں موجود لوگوں نے بولیاں لگانی شروع کر دیں۔
٭٭٭
دلشاد آباد کے مصروف ترین علاقوں میں ایک تھا، ٹیلا ہاؤس۔
یہ وہ علاقہ تھا جہاں جگہ کم اور انسانوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔
تہوار کے علاوہ بھی اس علاقے کی سڑکوں، گلیوں اور بازاروں میں خوب بھیڑ رہتی۔ کھانوں اور کپڑوں کی دکانوں میں ہر وقت لوگ نظر آتے۔ باہر سے آئے انسان کا دم گھٹ کر مر جانے کا خدشہ رہتا۔ مقامی لوگوں کو دم گھٹ گھٹ کر جینے کی عادت ہو چکی تھی۔ یہاں غریب، لاچار اور بھکاریوں کی ٹولیاں نظر آتیں۔ برسات کے موسم میں گندگی اور کیچڑ یہاں کا مقدر بن جاتی۔ انھی گلیوں، بازاروں اور سڑکوں پر دیپا اور علی پنکی کے پوسٹر لگاتے گھوم رہے تھے۔ ان پوسٹر میں پنکی کی تصویر کے ساتھ علی اور ابھے کے موبائل نمبر درج تھے۔ اطلاع دینے والے کو مناسب انعام دیے جانے کا بھی اعلان تھا۔
ٹیلا ہاؤس کی طرح ہی ایک دوسرے محلے ’چندر پور‘ میں معراج اور ابھے پنکی کی تلاش میں مصروف تھے۔
چاروں دوست پنکی کی تلاش میں دلشادآباد کی غریب اور گندی بستیوں کی خاک چھان رہے تھے۔ لیکن وہ اس خاک میں پنکی کا ایک ذرّہ بھی تلاش نہیں کر پا رہے تھے۔ لاکھوں کے آتے جاتے انسانوں میں کون جانتا تھا کہ کتنے علی اپنی بہن کو تلاش کر رہے تھے اور نہ جانے کتنے بچّے پارسل بن رہے تھے۔
***
پنکی کی تلاش میں آج پانچواں دن تھا۔
دیپا اور علی محلہ ٹیلا ہاؤس کے ایک چوراہے پر تھے۔ وہ بھیڑ سے بھڑتے اور غریب و لاچار بھکاریوں سے بچتے ہوئے پوسٹر لگا رہے تھے۔ دیپا نے کہا: ”ارے، ہم نے تو یہاں پرسوں بھی پوسٹر لگایا تھا۔ اب نظر نہیں آ رہا ہے۔“
علی بولا: ”ہاں، لگتا ہے کوئی پوسٹر پھاڑ دیتا ہے۔۔۔۔۔ اور دیکھو۔۔۔۔۔یہ بھی ہوتا ہے کُچھ لوگ پوسٹر کے اوپر پوسٹر بھی لگا دیتے ہیں۔“
ٹریفک کا بے ہنگم شور، چیخ چیخ کر پھل سبزیاں بیچتے پھیری والے، خریداروں کی باتیں، چھوٹے چھوٹے بچوں سے لے کر عورتوں، ادھیڑ، بوڑھے بھکاریوں کی صدائیں اور مزدوری، نوکریوں پر جاتے لوگوں کے جھگڑے ماحول میں عجیب افرا تفری کا ماحول پیدا کر رہے تھے۔
دیپا علی کی بات کو سمجھتے ہوئے کُچھ کہنے ہی والی تھی کہ اچانک اس کی نگاہ تھوڑی دور کھڑے اس بھکاری پر گئی، جس کا ایک ہاتھ نہیں تھا۔ وہ بھکاری پنکی کے پوسٹر کو بہت ہی غور سے دیکھ رہاتھا۔ بھکاری نے جب دیکھا کہ دیپا اس کی طرف دیکھ رہی ہے تو اس نے نظر بچا لی۔ علی نے وہاں پوسٹر لگا لیا تو اس نے کہا: ”چلو، سڑک کی دوسری طرف چلتے ہیں۔ سامنے کی فُٹ پاتھ کے دیوار پر بھی لگا دیتے ہیں۔“ دونوں نے سڑک پار کی اور دوسری طرف چلے گئے۔
دیپا کو جو شک تھا وہ صحیح نکلا۔ وہ علی کو جان بوجھ کر سڑک کی دوسری طرف لے کر آئی تھی تاکہ اس بنا ہاتھ والے بھکاری کو دور سے دیکھ سکے۔ دیپا نے علی کو ساری بات بتائی۔ دونوں نے اس طرف دیکھا تو علی کو تعجب ہوا کہ وہی بھکاری پنکی کے پوسٹر کے پاس کھڑا تھا اور بہت غور سے دیکھ رہا تھا۔
علی نے دیپا سے کہا: ”چلو اس سے بات کرتے ہیں۔“ دونوں تیزی سے سڑک پار کر کے بھکاری کے پاس جانے لگے۔ بھکاری نے اس بات کو محسوس کر لیا۔ دونوں کے بھکاری کے قریب پہنچنے سے پہلے ہی وہ وہاں سے بھیڑ میں غائب ہو گیا۔ اُن کو بہت حیرانی ہوئی۔
تھوڑی دیر وہ بھکاری کوتلا ش کرتے رہے پھر مایوسی کے ساتھ گھر واپس لوٹ آئے۔
گھر پہنچ کر علی نے فون پر ابھے اور معراج کو بھکاری والی ساری بات بتائی۔ آپسی رضا مندی سے یہ طے پایا کہ کل چاروں ساتھی ٹیلا ہاؤس کی طرف جائیں گے۔ پنکی کی تلاش کے ساتھ اس بھکاری کو ڈھونڈیں گے۔ اگر وہ مل جاتا ہے تو پنکی کی تلاش میں کوئی سراغ ضرور حاصل ہوگا۔
***
پنکی کی تلاش میں ایک دن اور شروع ہو چکا تھا۔
بھکاری کو بھی تلاش کرنے کے ارادے سے چاروں دوست ایک ہی محلے میں موجود تھے۔ دونوں ٹیمیں ایک ہی علاقے کی الگ الگ سڑکوں پر کام کر رہی تھیں۔ ابھے اور معراج ٹیلا ہاؤس کی سڑکوں اور گلیوں میں پنکی کی تلاش میں پوسٹر لگا رہے تھے۔ لوگوں سے بات کر رہے تھے۔ دوسری جانب علی اور دیپا اس بھکاری کو تلاش کر رہے تھے جو کل بہت غور سے پنکی کی تصویر دیکھ رہا تھا۔
ابھے اور معراج ٹیلا ہاؤس کی لمبی سڑک پر تھے۔ اس سڑک کا نام تھا، آنند روڈ۔
آنند روڈ ٹیلا ہاؤس کی گوشت منڈی تھی۔ یہاں چھوٹی بڑی بہت سی دکانیں تھیں۔ ان دکانوں پر ہر طرح کا گوشت دستیاب تھا۔ ان دکانوں پر گوشت کے بڑے بڑے پارچے لٹک رہے تھے۔ تازہ تازہ کٹے گوشت سے بھاپ اڑ رہی تھی۔
ابھے اسی روڈ پر پنکی کو تلاش کر رہا تھا۔ مناسب مقام دیکھ کر پوسٹر چپکا رہا تھا۔ وہ روڈ سے اندر کو جا رہی گلیوں میں لوگوں سے باتیں کرنے لگا۔ جب کہ معراج گوشت کی دکانوں پر رُک رُک کر لٹک رہے گوشت اور پنجروں میں بند مرغ، بٹیر اور تیتر جیسے پرندوں کو دیکھ رہا تھا۔ کٹے، چھلے مٹن کے بڑے بڑے ٹُکڑے دکانوں کے دروازوں پر جھول رہے تھے۔ حالانکہ معراج کبھی کبھی ہی گوشت کھاتا تھا۔ اس وقت یہ سب دیکھ کر نہ جانے کیوں اُس کو خیال آیا۔
’انسان ہر طرح کا گوشت کھا جاتا ہے۔ ہضم کر جاتا ہے۔‘
اس خیال کے آتے ہی اسے کراہیت سی محسوس ہوئی۔
ابھے نے معراج کو دیکھا۔ اسے یہ سمجھتے دیر نہیں لگی کہ معراج کا مزاج اس وقت ٹھیک نہیں ہے۔ وہ اسے تیزی سے آنند روڈ کی ایک پتلی سی گلی میں لے کر مُڑ گیا۔ اور معراج سے بولا: ”چلو ان چھوٹی چھوٹی گلیوں میں پوسٹر لگاتے ہیں۔ لوگوں سے بات کرتے ہیں۔“
ابھے کی بات پر معراج کا ذہن گوشت کی طرف سے ہٹ گیا۔ وہ بھی دیواروں پر پوسٹر لگانے لگا۔ دوسری طرف دیپا اور علی پنکی اور بھکاری کو تلا ش کرتے ہوئے ’ٹیلا ہاؤس کالج‘ کی طرف نکل گئے۔
یہ ٹیلا ہاؤس کا مین روڈ تھا۔ جہاں سے سڑکیں شہر کے مختلف علاقوں کی سمت جاتی تھیں۔ اس روڈ کا نام کالج روڈ تھا۔ اس روڈ کے دائیں طرف کالج تھا اور دوسری طرف میدان تھا جو کالج کی ملکیت مانا جاتا تھا۔ میدان میں درخت اور بے ترتیب جھاڑیاں تھیں۔ یہیں بارہ تیرہ پریوار نے غیر قانونی جھگیاں بنالی تھیں۔ ان جھگیوں میں جو لوگ رہتے تھے، ان کے مختلف پیشے تھے۔ جیسے بھیک مانگنا، چوری کرنا، اسٹیشن، بس اڈوں سے موبائل اور سونے کی چین وغیرہ چھیننا، چرانا۔ لوگوں کے گھروں میں صاف صفائی کا کام کرتے ہوئے، پولیس کے لیے مخبری کا کام کرنا۔ یہ لوگ طرح طرح کا نشہ بھی کرتے تھے۔ نشے کی لت شاید ان کی مجبوری یا ضرورت تھی۔ زندگی کی بے ترتیبی اور موسم و حالات کی سختیاں ان کو نشے کا عادی بنا دیتی تھیں۔ سارا سارا دن یہاں وہاں مارے مارے پھرنا، جسمانی طاقت سے زیادہ محنت کرنا۔ چوریاں کرتے۔پکڑے جاتے تو پبلک کے ہاتھوں بے تحاشہ پٹتے۔ پولیس کے لیے مخبری کا کام کرنے پر جرائم گینگ پاگلوں کی طرح مارتے۔ تب درد جھیلنے کا واحد سہارہ سستا نشہ ہی ہوتا۔ علی اور دیپا، ان سے پنکی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر نے لگے۔ مگر یہ لوگ بہت ہی شاطر تھے۔ کوئی بھی، کسی بھی قیمت پر کُچھ بتانے کو تیار نہ تھا۔ پنکی کی تصویر بھی دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔ اُچٹتی نگاہ تصویر پر ڈالتے اور ادھر اُدھر ہو جاتے۔ جب دیپا نے ان کو کھانے یا پیسوں کا لالچ دیا تب وہ لوگ پنکی کی تصویر دیکھنے کو راضی ہوئے۔ مگر ان سے کوئی معلومات فراہم نہیں ہو سکی۔
شام ہونے لگی تھی۔
دیپا اور علی کو بھوک بھی لگ رہی تھی، انھیں کھانا کھائے ہوئے چار گھنٹے ہو چکے تھے۔ اس بیچ صرف پانی ہی پیا تھا۔ دیپا نے علی سے کہا چلو پہلے چائے پی لیتے ہیں۔ علی نے جیب سے فون نکالا اور ابھے کا نمبر ملایا: ”جی ابھے، کہاں ہو؟ کیا چائے وائے پی آپ لوگوں نے۔۔۔۔؟“
” آپ کے بنا چائے کیسے پی سکتے ہیں۔ کہاں ہیں آپ لوگ۔ ہم لوگ آنند روڈ سے چوک کی طرف آ رہے ہیں۔ اور آپ۔۔۔۔۔۔۔۔“
”ہم دونوں کالج روڈ پر ہیں۔ ہم بھی ادھر ہی چوک کی طرف آ تے ہیں۔۔ وہیں چائے ناشتہ کرتے ہیں۔“ سڑک کنارے علی اور دیپا، دونوں کا انتظار کرنے لگے۔
چاروں نے مِل کر فیصلہ کیا کہ معراج کے گھر چلتے ہیں۔ وہیں بیٹھ کر آرام سے بات کریں گے۔
***
ڈرائینگ روم میں چاروں دوست صوفے پر آمنے سامنے بیٹھے تھے۔
دن بھر کے کام کا تجزیہ پیش کیا جا رہا تھا۔ آگے کی حکمتِ علمی پر غور ہو رہا تھا۔ یہ بھی سوچا جا رہا تھا کہ دیپا اور علی آگے چھُٹی لیں یا نہیں اور کیا چھُٹی لینا مناسب بھی ہوگا۔ ابھے نے تجویز رکھی: ”علی! میرے خیال میں آپ دفتر سے ایک ہفتے کی چھُٹی اور لے لو۔ ہاں دیپا کو اسکول جانے دو۔ ہم تینوں مہم جاری رکھتے ہیں۔ کُچھ دن بعد اگر ضرورت ہوتی ہے تو دیپا چھُٹی لے لے گی۔“
”علی نے ابھے کے کاندھے پر ہاتھ رکھا: ”بھائی! آپ کتنا کر رہے ہیں میرے لیے۔۔“
ابھے فوراََ بولا: ”کیسی بات کرتے ہو علی، ہم سب انسان ہیں۔ ہم سب کو ایک دوسرے کا ساتھ دینا، مدد کرنا۔ انسانیت ہے، محبت ہے۔ انسان ہونے کا یہی مطلب ہوتا ہے۔“
انسان اور انسانیت کی بات پر معراج کا دماغ بہت تیزی سے کام کرنے لگا۔ وہ بولا: ”آپ لوگ جانتے ہیں، جب سے انسان اس دھرتی پر ہے اس نے سب سے بڑی غلطی کیا کی ہے؟“
معراج کی اس بات پر تینوں نے ایک دوسرے کو دیکھا جیسے یہ بھی جاننا چاہتے ہوں کہ اب تک انسان کی سب سے بڑی غلطی کیا ہے اور یہ بھی سمجھنا چاہتے ہوں کہ معراج کے دماغ میں کیا چل رہا ہے۔
دیپا بولی: ’’میرے خیال میں اس بات کو آپ ہی بتا سکتے ہیں۔“
معراج نے کہنا شروع کیا: ”دراصل انسان کی سب سے بڑی غلطی ایگری کلچر ہے۔“ وہ چند لمحے رُکا اور آگے بولا:
”جب سے انسان اس زمین پر ہے۔ لاکھوں سال سے۔۔۔۔ لاکھوں سال پہلے وہ ایک جگہ نہیں رُکتا تھا۔ پہاڑوں، جنگلوں، ندی، سمندر، صحراؤں کی خاک چھانتا رہتا تھا۔ وہ پہلے جنگلی پھلوں سے اور جانوروں کا شکار کر کے اپنا جیون گزارتا تھا۔ اُس وقت اس میں بے پناہ قوّت ہوتی تھی۔ عمر لمبی ہوتی تھی۔ اس کا جسم سخت سے سخت موسم، حالات سے لڑنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ ہرن سے تیز دوڑ سکتا تھا۔ پیڑ پر چڑھ سکتا تھا۔ پہاڑوں کو بنا رکاوٹ چڑھ سکتا تھا۔ بے پناہ جدوجہد کرنے والا جاندار تھا۔۔۔۔ مگر زراعت کی ایجاد نے، اس گیہوں نے انسان کو ایک جگہ رہنے کی لت لگا دی اور برباد ہو گیا۔۔۔۔میرا خیال ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔“
معراج لاکھوں، ہزاروں سال پہلے کی تاریخ کی خوبیاں، خامیاں بیان کرتا رہا۔
یہ محفل کافی دیر تک جمی رہی۔

***
آج دیپا اسکول چلی گئی. علی نے اپنی چھٹّیاں بڑھوالیں تھیں۔
معراج کے والد اس سے ملنے آرہے تھے۔ اس وجہ سے محلہ ٹیلا ہاؤس صرف ابھے اور علی جا رہے تھے۔ وہ میٹرو سے سفر کر رہے تھے۔ تاکہ پہلے بھکاری کو تلاش کریں۔ اگر مل جاتا ہے تو اس سے بات کرنے کی کوشش کریں گے۔ ورنہ ایک راستہ یہ بھی ہے کہ ’ٹیلا ہاؤس کالج‘ کے سامنے جو بنجارے رہتے ہیں، ان سے بھکاری کے بارے میں معلومات حاصل کریں گے۔ ابھے نے علی کو بتایا کہ اسے پتا چلا ہے کہ ان بنجاروں میں پولیس کے مخبر بھی ہوتے ہیں۔ وہ ہماری مدد کر سکتے ہیں۔
جب وہ میٹرو سے نکل کر سڑک پر آئے ہمیشہ کی طرح کئی بھیک مانگنے والے ان کے قریب آگئے۔ ان میں کئی چھوٹے بچے بھی تھے۔ علی یہ سوچ کر پریشان ہو گیا کہ شاید پنکی بھی کسی اسٹیشن، میٹرو یا چوراہے پر بھیک مانگ رہی ہو گی۔ اس کے ہاتھ، پیر یا چہرے پر زخم کا نشان ہوگا۔ وہ سوچنے لگا انسان انسان کا دشمن کیوں ہے؟ یہی سوچتا ہوا آگے بڑھا جا رہا تھا کہ اس نے تین چار ایسے نوجوان دیکھے جو لاچار، مجبور لوگوں کی بغل میں نہایت خاموشی سے، کھانا، کمبل اور ضرورت کا معمولی سامان رکھ کر جا رہے تھے۔ یہ دیکھ کر علی کو کافی راحت ملی۔ اس کا انسانیت سے اٹھتا ہوا یقین پھر سے اپنی جگہ پر آگیا۔
اس نے سوچا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ دیپا، ابھے اور معراج پنکی کی تلاش میں اپنا وقت اور پیسہ برباد کر رہے ہیں۔ محض انسانی ہمدردی کے لیے۔ علی کو خیال آیا جب تک ایسے لوگ ہمارے آس پاس ہیں۔ دنیا میں محبت، بھائی چارہ اور انسانیت باقی رہے گی۔ چاہے ساری دنیا وحشی جانور کیوں نہ ہوجائے۔
ابھے اور علی جب اس دیوار کے پاس پہنچے جہاں سے دس بارہ جھونپڑیوں کی آبادی شروع ہوتی تھی۔ ان میں سے ایک جھونپڑی سے نکل کر ایک ادھیڑ عمر کا شخص علی سے بولا: ”ہم سب کا انٹرویو لینا ہے بابو؟۔۔۔۔ آپ لوگن فلم بنا رئے ہو نا۔۔۔۔“ وہ لوگ دونوں کو ڈوکمینٹری فلم بنانے والا سمجھ رہے تھے۔
علی نے سوالیہ نگاہوں سے ابھے کی طرف دیکھا۔ ابھے نے اس شخص سے کہا: ارے نہیں چاچا، ہم فلم والے نا ہی ہیں۔“ ابھے نے ان کا سا لہجہ اپنانے کی کوشش کی۔
وہ آدمی جلدی سے بولا: ”کھانا وانا دینا ہے کیا؟“ انھوں نے اندازہ لگایا کہ شاید یہ لوگ ہمارے لیے کھانا لائے ہیں۔ان لوگوں کو کھانا بانٹنے والے آتے رہتے تھے۔
”نہیں، کھانا وانا۔۔۔“ علی جملہ پورا نہیں کر پایا تھا کہ اس آدمی کے پاس تین چار بچّے اکٹھا ہو گئے۔ سب نے علی اور ابھے کو گھیر لیا۔ وہ سب پیسے مانگنے لگے۔ علی نے ابھے سے کہا: ”سمجھ نہیں آرہا ہے کہ۔۔۔۔“
ابھے نے علی کو ہاتھ کے اشارے سے روکا اور اس شخص سے بولا: ”چاچا، آپ سے ایک بات پوچھنی ہے؟“ اس آدمی نے حیرت سے ابھے کو دیکھا۔
ابھے کہنے لگا: ”چاچا مجھے نا اس آدمی کے بارے میں پوچھنا ہے، جو ٹیلا ہاؤس کے چوک پر بھیک مانگتا ہے، کئی دن سے نظر نہیں آرہا۔۔۔۔ایک ہاتھ نہیں ہے اس کا۔“
آدمی نے مشکوک نگاہوں سے دیکھا: ”مالک اس سے کیا کام پڑ گیا آپ کو؟“
”کُچھ نہیں بس ایسے ہی۔ چاچا اگر بتا سکتے ہوں تو ٹھیک ورنہ۔۔۔۔“
”پیسے کتنے دوگے بابو۔۔۔“ آدمی نے ابھے کو گھورتے ہوئے پوچھا۔
”پیسے۔۔۔۔“ ابھے پہلے تھوڑا گڑبڑایا۔ پھر بولا: ”پیسے بھی دے دوں گا۔پہلے بتاؤ تو۔۔۔“
وہ جھٹ سے بولا: ”پہلے پیسے دو۔۔۔۔بتادوں واں۔“ ابھے نے بنا سوچے سمجھے روپئے نکال کر اس کے ہاتھ میں رکھ دیے۔
”دیکھو بابو۔۔۔۔ اب اس کا اڈّ ا بدل دیا گیا۔۔۔شاید وہ پرانے سٹیشن پہ ملے۔۔۔“ پیسے ملتے ہی اس آدمی نے بتایا۔
”پرانے اسٹیشن پر کدھر کو۔۔۔“ ابھے نے کریدا۔
”وہ میرے کو نا پتا بابو۔۔۔۔“ یہ کہہ کر وہ وہاں سے چلا گیا۔ ابھے اور علی کو اس بھکاری کو تلاش کرنے میں چار دن لگ گئے۔ بھکاری پرانے ریلوے اسٹیشن پر بھیک مانگ رہا تھا۔ اس کے پاس پہلے ابھے گیا۔ بھکاری کو پیسے دیے۔ جسے اس نے جھپٹ لیے۔ پیچھے سے علی پہنچا۔ اس نے بھی پہلے پیسے دیے اور پھر پنکی کی تصویر نکال کر دکھائی: ”یہ میری چھوٹی بہن ہے۔ کیا آپ نے اسے کہیں دیکھا ہے؟“
بھکاری خالی خالی آنکھوں سے دونوں کو دیکھنے لگا۔ ایسے ہی کئی منٹ ہو گئے تو وہ وہاں سے جانے لگا۔ علی اور ابھے اس کے پیچھے پیچھے چل دیے۔ لگاتار چلتے چلے جانے اور بیچ بیچ میں پیچھے مُڑ کر دیکھنے سے ایسا لگتا تھا جیسے وہ پیچھے آنے کا سنکیت ہے۔ علی اور ابھے یہ سمجھ چکے تھے کہ یہ بھکاری بول نہیں سکتا۔ بیس پچیس منٹ چلتے چلتے وہ ایسی جگہ رُگ گیا جہاں کم لوگ آ جا رہے تھے۔
ابھے اور علی دونوں اس کے قریب پہنچے۔ دونوں کو ڈر بھی لگ رہا تھا کہ نہ جانے کس طرف سے اس کے ساتھی آنکلیں اور ان پر حملہ آور ہو جائیں۔ مگر بھکاری کی آنکھوں میں کوئی بات تھی جو دونوں اس کے پیچھے چلے آئے۔
یہ لوگ ایک پُل کے نیچے کھڑے تھے۔ بھکاری کا ہاتھ ٹیڑھا اور دسرا بازو سے کٹا ہوا تھا۔ اس نے ٹیڑھا ہاتھ بڑھا کر کوئی اشارہ کیا۔ علی نے سمجھا اور پیسے مانگ رہا ہے شاید۔ علی نے فوراََ ایک نوٹ نکال کر اس کی طرف بڑھایا۔ اس نے سر ہلا کر انکار کر دیا۔ علی نے سوالیہ نگاہوں سے ابھے کو دیکھا۔۔۔۔ ابھے نے بھکاری کو دیکھا اور بولا: ”کتنے پیسے چاہئیں؟“
بھکاری پھر سر ہلا نے لگا اور بہت مشکل سے اپنا ٹیڑھا ہاتھ اٹھا کر علی کی جیب کی طرف بڑھانے لگا۔ اس کوشش میں وہ علی کے بہت قریب آگیا۔ اتنا قریب کہ اس کے بدن سے جو بدبو دور سے قابلِ برداشت ہو رہی تھی وہ قریب آنے سے ناقابلِ برداشت کی صورت اختیار کرنے لگی۔ اس سے پہلے کہ علی پیچھے ہٹے۔ ابھے نے ہاتھ بڑھا کر علی کی جیب میں رکھا پین نکالا اور بھکاری سے بولا: ”یہ لوگے۔“
بھکاری کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔ اس نے سر ہلایا۔ ابھے علی سے بولا: ”یہ تو میرا تُکّا تھا۔۔۔ ٹھیک نشانے پر لگا۔“
ابھے نے وہ پین اس کے ٹیڑھے ہاتھ میں تھمایا، اس نے جیسے تیسے پین کو پکڑ لیا۔ اب وہ ادھر ادھر دیکھ کر کُچھ تلاش کرنے لگا۔ علی بولا: ”کاغذ۔۔۔۔؟“
بھکاری نے جلدی سے سر ہلایا تو علی نے تیزی سے اپنی جیب سے ڈائری نکالی۔۔۔۔ اس کی طرف بڑھائی، بھکاری زمین پر بیٹھ گیا۔ کئی منٹ کی مشقت کے بعد اس نے محض اتنا لکھا۔ ”آج رات دس گیارہ بجے ملوں گا۔۔۔ اپنے گھر لے چلنا۔۔۔ساری باتیں بتانا ہے۔۔۔ ابھی یہاں خطرہ ہے۔ ۔۔۔ پرانے اسٹیشن کے باہر درگاہ کے باہر والی مین ردڈ پر آنا۔“
بھکاری ڈائری واپس کر کے چلا گیا۔
دونوں دوست مقررہ وقت پر بھکاری کے بتائے مقام پر پہنچے۔ گیارہ بج چکے تھے۔ علی نے چاروں طرف نگاہ دوڑائی۔ بھکاری کہیں نظر نہیں آیا۔ ابھے بھی گاڑی سے نکل آیا تھا۔ اس کی نگاہیں بھی تلاش کر نے لگیں۔
تب ہی سب وے کی سیڑھیوں سے نکل کر بھکاری دائیں بائیں دیکھتا ہوا۔ ان کی طرف بڑھا۔ رات کی وجہ سے ٹریفک کم تھا۔ لوگوں کی آمد و رفت بھی معمولی رہ گئی تھی۔ بھکاری کو اپنی طرف آتا دیکھ کر ابھے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔ علی نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور بھکاری کو گاڑی میں بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ علی جلدی سے خود بھی گاڑی میں بیٹھ گیا۔
گاڑی تیزی سے ابھے کے گھر کی طرف دوڑ نے لگی۔
گھر پہنچ کر بھکاری کو کھانا کھلایا گیا۔ جب تینوں کھانے سے فارغ ہوگئے۔
بھکاری نے پین کاغذ لے کر لکھا کہ مجھے بائیں ہاتھ سے لکھنے میں بہت مشکل ہوگی اور وقت بھی زیادہ ہی لگے گا۔ اس لیے مجھے اپنا لیپ ٹوپ دے دیں۔ میں بائیں ہاتھ سے ہی ایک ایک لیٹر کر کے اپنی بات لکھ دوں گا۔“ اس کی تحریر پڑھ کر ابھے نے اپنا لیپ ٹوپ آگے بڑھا دیا۔
***
اگلی قسط جلد ہی. 

شیئر کیجیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے