اردو تعلیم و تدریس کے حوالے سے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کارنامے غیر معمولی ہیں: پروفیسر شہزاد انجم

اردو تعلیم و تدریس کے حوالے سے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کارنامے غیر معمولی ہیں: پروفیسر شہزاد انجم

اکادمی برائے اردو اساتذہ، جامعہ ملیہ اسلامیہ بہ اشتراک ہیومن ویلفیئر ٹرسٹ ہفت روزہ ورکشاپ کا آغاز

نئی دہلی ٢٤/مئی ٢٠٢٢ء (پریس ریلیز) اکادمی برائے فروغِ استعدادِ اردو میڈیم اساتذہ جامعہ ملیہ اسلامیہ بہ اشتراک ہیومن ویلفیئر ٹرسٹ، نئی دہلی کی جانب سے  مؤرخہ ٢٤ مئی ٢٠٢٢ء کو ہفت روزہ ورکشاپ کے افتتاحی اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت پروفیسر شہزاد انجم، اعزازی ڈائریکٹر، اکادمی برائے فروغ استعداد اردو میڈیم اساتذہ، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی نے فرمائی۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ جامعہ ایک تحریک ہے جس نے اردو کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ جامعہ کے معماروں نے انتہائی خلوص، محنت اور جاں فشانی سے جامعہ کی ترقی و بہبود کے ساتھ ساتھ اردو کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ ہمیں بھی اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جامعہ کی ترقی اور اردو کے فروغ کے لیے بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔ اردو تعلیم و تدریس کے حوالے سے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کارنامے غیر معمولی ہیں۔ افتتاحی اجلاس میں مہمانان خصوصی کی حیثیت سے جناب سید تنویر احمد (ڈائریکٹر) مرکزی تعلیمی بورڈ، نئی دہلی، جناب محمد سلیم اللہ خان (اسسٹنٹ سکریٹری) مرکزی تعلیمی بورڈ، نئی دہلی اور جناب مولانا انعام اللہ فلاحی (کوآرڈینیٹر درسیات) مرکزی تعلیمی بورڈ، نئی دہلی شریک ہوئے۔ مرکزی تعلیمی بورڈ کے ڈائریکٹر جناب سید تنویر احمد نے آموزشی ماحصل کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے اس کے چار نکات یعنی معلومات، مہارت، اقدار کی تخم ریزی اور پائیدار ترقی پر تفصیل سے روشی ڈالی۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہمیں اپنے تدریسی نظام میں انفارمیشن، کمیو نی کیشن اور ٹکنالوجی کو بھی بروئے کار لانے کی سخت ضرورت ہے۔ جناب سلیم اللہ خان نے کہا کہ اترپردیش کے دوردراز علاقوں میں ہماری تیار کردہ کتاب یعنی ’ہماری کتاب‘ داخل نصاب ہے جو اس کی اہمیت کی گواہ ہے۔ جناب مولانا انعام اللہ فلاحی نے کہا کہ درسی کتاب کی تیاری کے ضمن میں ہمارا مقصد اسلامی نقطۂ نظر کی ترویج و اشاعت، تعمیرِ سیرت کے ساتھ ساتھ این سی ایف اور این سی ای آرٹی کے نئے رہ نما اصول و ضوابط کو سامنے ر کھنا بھی ہے۔جناب محمد شفیق عالم ندوی نے افتتاحی اجلاس میں ورکشاپ کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے مہمانوں کا خیر مقدم کیا۔ ڈاکٹر حنا آفریں، کوآرڈینیٹر ورکشاپ نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ ڈاکٹر نوشاد عالم کے ہدیۂ تشکر کے ساتھ افتتاحی اجلاس اختتام پذیر ہوا۔
افتتاحی اجلاس میں ڈاکٹر خالدمبشر، جناب اقبال حسین، جناب الیاس احمد، جناب سرتاج، ڈاکٹر جاوید حسن، ڈاکٹر آفتاب منیری، ڈاکٹر آس محمد صدیقی، ڈاکٹر علام الدین، ڈاکٹر سعود عالم، ڈاکٹرعبد اللہ منیر عالم اور محترمہ عائشہ رحمٰن شریک رہے۔
(تصویردائیں سے پروفیسر شہزاد انجم، سید تنویر احمد، جناب سلیم اللہ خان اور جناب انعام اللہ فلاحی )
آپ یہ بھی پڑھ سکتے ہیں :جامعہ ملیہ اسلامیہ تحریک آزادی کی پیداوار ہے: پروفیسر شہزاد انجم

شیئر کیجیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے