احمد نعیممالیگاؤں، مہاراشٹر، بھارت میں مرنے کے بعد اپنے جسم کو کھدیڑوانا نہیں چاہتا تھا، میں مرنے کے لیے اِن گدھوں سے دور ایک جاے
زمرہ: افسانہ
بجوکا (مع تجزیہ)
سریندر پرکاش پریم چند کی کہانی کا ’ہوری‘ اتنا بوڑھا ہو چکا تھا کہ اس کی پلکوں اور بھوؤں تک کے بال سفید ہو گئے
موم کی لڑکی
سید بصیر الحسن وفاؔ نقوی اس کی عمر ستر سے کچھ زیادہ اور پچھتر سے کچھ کم معلوم دیتی تھی جسم ایک دم لاغر اور
کپڑوں میں پیشاب کرنے والے
ڈاکٹر ذاکر فیضی ”سر! مجھے نوکری سے کیوں نکالا جا رہا ہے؟“ پرائیویٹ اسکول ٹیچر نے پرنسپل سے پوچھا۔”آپ کے بارے میں معلوم ہوا ہے
19 مارچ 2350
نور الحسنین خضر میاں نے بٹن دبایا اور اسکرین پر ۱۹ مارچ ۲۳۵۰ء کی تاریخ منہ چڑھانے لگی، اُنھوں نے گردن اونچی کی اور ۵۷۷۱
اکیسویں صدی کی داستان
ذاکر فیضی، نئی دہلی اکیسویں صدی کی بات ہے۔ ایک بہت بڑا ملک تھا۔اس ملک میں ایک بہت بڑی یونی ورسٹی تھی۔اس یونی ورسٹی میں