کتاب: آسماں کم ہے

کتاب: آسماں کم ہے

مصنف: خان حسنین عاقب
مبصر: صابرہ اکبر علی شیخ (وڈالا، ممبئی)

آسماں کم ہے، کسی کتاب کا عنوان ہوسکتا ہے، یہ حیرانی کی بات ہے۔ لیکن جب معلوم ہوا کہ یہ عنوان ایک شعر سے لیا گیا ہے تو اچھا لگا۔
شعر یوں ہے :
مجھے بتا کہ میرا حوصلہ کہاں کم ہے
میری اڑان کے آگے تو آسماں کم ہے
کتاب کے پیش لفظ کی بات کریں تو مصنف خان حسنین عاقب نے کہانی اور بچپن کے تعلق پر بھرپور روشنی ڈالی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بچپن کی وادی سے گزرنے والے ہر انسان کے حافظے میں دادی، نانی کی سنائی ہوئی کہانیاں اور پریوں کے قصے نقش ہوتے ہیں۔ لیکن کیا ہم نے کبھی گہرائی سے یہ سوچنے کی زحمت کی کہ ایک کہانی بنتی کیسے ہے؟ اسے پیش کرنے کا سلیقہ کیا ہوتا ہے؟ اور ایک با اثر کہانی بچے کے نازک ذہن اور کردار پر کیا نقش چھوڑتی ہے؟ ایسے ہی سوالات کا ایک انتہائی خوبصورت، معقول اور عملی جواب خان حسنین عاقب کی کتاب "آسمان کم ہے" میں ملتا ہے۔
یہ تصنیف محض بچوں کے لیے لکھے قصے کہانیوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ ان تمام قلم کاروں، اساتذہ اور والدین کے لیے ایک مشعلِ راہ اور تحریک دینے والا پیغام ہے جو بچوں کے لیے لکھنے اور ان کی تربیت کا ذوق رکھتے ہیں۔ خان حسنین عاقب نے بچوں کی نفسیات کو مدنظر رکھتے ہوئے دل چسپ کہانیوں کے ذریعے اخلاقیات، ارادے اور سبق آموز باتوں کو جمع کر دیا ہے۔
اس کتاب میں شامل کہانیاں الگ الگ موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں جن میں اخلاق، محنت، دوستی اور انسانی قدروں کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ذیل میں اس کتاب کے منتخب قصوں اور ان کے فکری پہلوؤں کا جائزہ پیش ہے:
(1)ایسے سخی تھے پیارے نبی ﷺ
یہ کہانی بچوں کے سامنے ایک دل نشین محفل کی صورت میں کھلتی ہے جہاں عدنان میاں اور فرمان بھائی جان اپنے والد سے سوالات کر رہے ہیں۔ بات چیت کے دوران ابو بڑے پیار سے سمجھاتے ہیں کہ اگرچہ حاتم طائی کی سخاوت تاریخی ہے، لیکن ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ کی سخاوت دو جہانوں میں سب سے بے مثال اور اعلیٰ ہے۔ کہانی کا اختتام اس وعدے پر ہوتا ہے کہ بچے بھی سیرتِ طیبہ کی اس عظیم صفت کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں گے۔ (1)اگلی کہانی "سُرخ مٹکا" بظاہر تو ایک پانی بھرنے والے چانگ پینگ اور اس کے دو مٹکوں کی کہانی ہے لیکن انسانی زندگی کا ایک گہرا فلسفہ بیان کرتی ہے۔ ایک سبز مٹکا درست حالت میں ہے جب کہ سُرخ مٹکے میں دراڑ ہے۔ سُرخ مٹکا خود کو ناکارہ سمجھ کر شرمندہ ہوتا ہے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اس کی دراڑ سے رسنے والے پانی نے راستے کے دونوں جانب خوبصورت پھول کھلا دیے ہیں۔ یہ کہانی سکھاتی ہے کہ خامیوں کے باوجود ہر وجود کا ایک مقصد ہوتا ہے۔
جو ٹوٹا ہے وہی گلشن سجاتا ہے
وہی راہوں میں پھولوں کو کھلاتا ہے
(3) "اُڑتا سکھ" معروف ایتھلیٹ ملکھا سنگھ کی جد و جہد پر مبنی ہے، جو ۱۹۳۵ء میں گووند پورہ میں پیدا ہوئے۔ وہ بچہ جس کے پاس اسکول جانے کا کرایہ تک نہ تھا اور جو روزانہ دس کلو میٹر دوڑ کر اسکول پہنچتا تھا، اس نے اپنی مجبوری کو اپنی سب سے بڑی طاقت بنا لیا۔ مصنف نے ثابت کیا ہے کہ جب ارادے مضبوط ہوں تو آسمان بھی پرواز کے لیے کم پڑ جاتا ہے۔
دوڑ مجبوری تھی، پھر پہچان بن گئی
وہی دس کلو میٹر کی تھکن، شان بن گئی
(4)”شیخ سعدی، ایک دینار اور تین بھوکے"بظاہر بھوک کے گرد گھومتی کہانی ہے لیکن دراصل عقل اور بصیرت کا شاہ کار ہے۔ ایک بزرگ، ان کا کتا اور ان کا مرغ تینوں بھوکے ہیں اور پاس صرف ایک دینار ہے۔ جب ایک بچے سے اس کا حل پوچھا جاتا ہے تو وہ سکھاتا ہے کہ ایک دینار کا تربوز خریدا جائے جس کے بیج مرغ، چھلکا گدھا اور مغز انسان استعمال کرسکتا ہے۔ یہ داستان مخالف حالات میں حکمتِ عملی کا سبق دیتی ہے۔ "سچی عید" اس مجموعے کی سب سے عمدہ اور نہایت مشہور کہانی ہے۔ یہ پانچویں جماعت کے بچے عدنان کی کہانی ہے جو عید پر نئی سائیکل خریدنا چاہتا ہے لیکن والدین کی رقم کے بجائے اپنی محنت اور جیب خرچ سے پیسے جمع کرتا ہے۔ چار ہزار روپے جمع کرکے اسے ایک معذور رکشا ڈرائیور کو دے دینا تاکہ اس کے گھر بھی عید منائی جاسکے یہ بتاتی ہے کہ حقیقی خوشی اور عید دوسروں کو خوشی کا خیال رکھنے میں ہے۔
(5) "بھوندو میاں اور کیلے کا چھلکا" ساتویں جماعت میں زیرِ تعلیم بھوندو میاں کی معصومیت، ان کا انگریزی استاد کو سادہ لوحی سے جواب دینا اور دیگر مزاحیہ واقعات قارئین کے لبوں پر مسکراہٹ بکھیر دیتے ہیں۔ یہ کہانی بچوں کے لب و لہجے اور ان کے معصومانہ طرزِ فکر کو حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کرتی ہے۔ (6) "چچا چھکن بنے کورونا وارئیر" بھی ایک مزاحیہ کہانی ہے جس کا کردار مشہور چچا چھکن ہیں۔ یہ کہانی بھی بہت دل چسپ اور مزیدار ہے۔
کتاب کا ایک حصہ بچوں کی روزمرہ زندگی کے تربیتی مسائل اور ان کے حل پر مبنی کہانیوں سے سجا ہے:
کہانی "فیصلہ" میں مصنف نے دکھایا ہے کہ دوست کے بلاوے اور والدہ کی ہدایت کے درمیان انتخاب کا لمحہ کتنا اہم ہوتا ہے۔ والدہ کا یہ سبق کہ”جو فیصلہ دل کو سکون دے وہی صحیح ہے"، بچوں کو درست سمت دکھاتا ہے۔ "دوستی کا امتحان"، "وقت کی قدر"، "ماں کی دعا"، اور "استاد کا احترام" جیسی کہانیاں بچوں میں وقت کی پابندی، والدین اور اساتذہ کے احترام کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔
کئی کہانیوں میں جدید دور کے مسائل کو موضوع بنایا گیا ہے۔ "فرمان کی لائبریری"،” ننھا منا پی ڈی" ،”تپش پیما چرندہ"، آر کے لکشمن اور دوسری کہانیاں معلوماتی ہونے کے ساتھ ساتھ دل چسپ بھی ہیں۔
خان حسنین عاقب کا طرزِ تحریر بچوں کے مزاج کے مطابق نہایت سادہ، سلیس، اور اثر انگیز ہے۔ ان کے انداز میں پیچیدہ اور بھاری بھرکم الفاظ نہیں ہیں. انھوں نے ایسی زبان استعمال کی ہے جسے بچے بآسانی سمجھ سکتے ہیں۔ کہانیوں کا ماحول اس انداز سے بنایا گیا ہے کہ قاری خود کو اس کا حصہ محسوس کرتا ہے۔
آخر میں یہی کہنا چاہوں گی کہ "آسماں کم ہے" صرف کہانیوں کی کتاب نہیں ہے بلکہ یہ ادب اطفال میں ایک بیش قیمتی اضافہ ہے۔ یہ کتاب بچوں کے اندر پڑھنے کا شوق بیدار کرتی ہے اور ساتھ ہی ان کی اخلاقی و روحانی تربیت کا انتظام بھی کرتی ہے۔
ہر وہ استاد، سرپرست اور قلم کار جو بچوں کے روشن مستقبل کا خواہاں ہے، اسے اس تصنیف کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔ خان حسنین عاقب کی یہ تصنیف ثابت کرتی ہے کہ اگر ارادے بلند ہوں تو بچوں کے لیے تخلیق کی جانے والی کہانیوں کی پرواز کے لیے واقعی آسمان کم ہے۔
***
آپ یہ بھی پڑھ سکتے ہیں :انگریزی ادب کو prophiem کا تحفہ دینے والے شاعر: خان حسنین عاقبؔ

شیئر کیجیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے