مصنف: ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن
صفحات:146
قیمت:200
سال اشاعت:2026ء
ناشر: خسرو فاؤنڈیشن، نئی دہلی
آئی ایس بی این: 978-81-996621-4-8
مبصر : ڈاکٹر ریحان اختر،اسٹنٹ پروفیسر ، فیکلٹی آف تھیولوجی، علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی، علی گڑھ
انسان کی شناخت صرف اس کے عقیدے سے متعین نہیں ہوتی بلکہ اس کے ساتھ اس کی سرزمین، تاریخ، تہذیب، زبان، اجتماعی یادداشت اور وہ رشتے بھی وابستہ ہوتے ہیں جو نسلوں کے تجربے سے تشکیل پاتے ہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں کی تاریخ کو بھی اس وسیع پس منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ ان کی دینی شناخت کے ساتھ اس ملک کی تہذیبی زندگی، علمی روایات اور قومی تاریخ کے کئی ابواب گہرے طور پر مربوط ہیں۔ وقت کے بدلتے ہوئے حالات نے ان نسبتوں کے بارے میں نئے سوالات ضرور پیدا کیے ہیں، لیکن ان سوالات کا جواب صرف موجودہ سیاسی حالات میں نہیں مل سکتا، اس کے لیے تاریخ کے تجربات، تہذیب کی تشکیل اور علمی روایات، سب کو ایک ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔
ہندوستانی مسلمان اپنی دینی شناخت کے ساتھ اپنی قومی اور تہذیبی نسبتوں کو کس طرح ہم آہنگ کرتا ہے، اس کے ماضی سے اس کا رشتہ کیا ہے اور بدلتے ہوئے زمانے میں اس کے فکری اور اجتماعی فرائض کیا ہو سکتے ہیں؟ انھی بنیادی سوالات اور موضوعات کو ڈاکٹر حفیظ الرحمن نے "این انڈین مسلم اسپیکس" (An Indian Muslim Speaks) میں تاریخ، تہذیب اور عہد حاضر کے مختلف حوالوں سے موضوع بحث بنایا ہے۔
ڈاکٹر حفیظ الرحمن کی یہ انگریزی کتاب ہندوستانی مسلمانوں کی شناخت کو محض مذہبی نسبت کے دائرے میں نہیں دیکھتی، بلکہ تاریخ، قومی زندگی، تہذیب، روحانی روایت، تعلیم، علمی میراث سیاست اور عالمی حالات سے اس کے گہرے تعلق کو مختلف زاویوں سے سامنے لاتی ہے۔ مصنف اسلامی علوم سے وابستہ ایک صاحب نظر اسکالر ہیں اور صوفی فکر، بین المذاہب ہم آہنگی، مشتر کہ تہذیبی اقدار اور ہندوستان کی فکری روایت سے ان کی خاص دل چسپی ہے۔ وہ جواہر لال نہرو یونی ورسٹی، نئی دہلی میں تدریس سے وابستہ بھی رہے ہیں اور رومی (Rumi: The Guide and Philosopher) کے مصنف ہیں، ان کی یہی علمی وابستگیاں کتاب کے مختلف مباحث میں بھی نمایاں ہوتی ہیں۔ کتاب کی فہرست مضامین سے کتاب کے موضوعاتی تنوع کا اندازہ ہوتا ہے۔ مصنف نے شناخت اور قومیت سے آغاز کرتے ہوئے مشترکہ تہذیب، روحانیت، مذہبی اصلاح، تعلیم، علمی تجدید اور عصر حاضر کے سیاسی و عالمی مسائل تک بحث کو وسعت دی ہے۔
کتاب کے ابتدائی مباحث میں ہندوستانی مسلمانوں کی شناخت اور قومی زندگی کے باہمی تعلق کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ مصنف کے نزدیک مذہبی وابستگی اور قومی وابستگی کو ایک دوسرے کی ضد سمجھنے کے بجائے ان کے درمیان ہم آہنگی اور باہمی ذمے داری کے امکانات تلاش کیے گئے ہیں۔ اسی سلسلے میں علماے ہند کے کردار کو بھی اہمیت دی گئی ہے اور یہ پہلو سامنے آتا ہے کہ مذہبی قیادت کا اثر صرف مذہبی امور تک محدود نہیں رہتا بلکہ قومی اور معاشرتی زندگی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اسی ابتدائی حصے کے ضمن میں ہندوستان اور انڈو نیشیا کے مذہبی مکالمے کا ذکر بھی قابلِ توجہ ہے، جہاں مذہبی رہنماؤں کے باہمی روابط، مذہبی ہم آہنگی، امن اور انتہا پسندی کے مقابلے جیسے مسائل پر تبادلے کی صورت سامنے آتی ہے۔
یہ مختصر مگر معنی خیز حوالہ اس بات کو نمایاں کرتا ہے کہ مذہبی فکر کو قومی حدود میں مقید رکھنے کے بجائے مختلف مسلم معاشروں کے تجربات سے بھی استفادہ کیا جاسکتا ہے، خصوصاً تعلیم، امن اور معاشرتی ہم آہنگی کے میدان میں۔
ہندوستانی مسلمانوں کی قومی زندگی کے حوالے سے مصنف نے تاریخی تجربات سے بھی رہنمائی لی ہے۔ قدیم تاریخی مثالوں کے ذریعے مختلف مذہبی گروہوں کے درمیان مشتر کہ سیاسی زندگی، باہمی حقوق اور ذمے داریوں کے تصور کو واضح کیا گیا ہے۔ اسی طرح ہندوستان کی آزادی کی جدو جہد اور علماے ہند کے کردار کا ذکر بھی اس بحث کو تاریخی بنیاد فراہم کرتا ہے. مولانا فضلِ حق خیر آبادی اور دوسرے اہلِ علم کا تذکرہ کرتے ہوئے مصنف نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ مذہبی علما ہندوستان کی سیاسی اور قومی تاریخ سے الگ تھلگ نہیں رہے۔ اس طرح ماضی کے واقعات محض تاریخی معلومات نہیں رہتے بلکہ مصنف کے موجودہ ہندوستان کے بارے میں فکری تصور کو سمجھنے کا وسیلہ بن جاتے ہیں۔
کتاب کا تہذیبی اور روحانی پہلو اس وقت زیادہ نمایاں ہوتا ہے جب مصنف ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کی تشکیل میں صوفی روایات اور ان بزرگوں کا ذکر کرتے ہیں، جنھوں نے مذہبی اختلافات کے باوجود انسانی قربت اور تہذیبی اشتراک کی فضا پیدا کی۔ خواجہ غریب نواز، امیر خسرو، دارا شکوہ اور مولانا جلال الدین رومی کے تذکرے اسی وسیع روایت کا حصہ ہیں۔ ان شخصیات کے ذریعے مصنف نے ہندوستانی تہذیب کے اس روحانی اور علمی پہلو کو نمایاں کیا ہے جس میں انسانی محبت، فکری وسعت اور مختلف مذہبی روایتوں کے درمیان ربط کی گنجائش رہی ہے۔ دارا شکوہ پر مستقل بحث، نیز کاشی، مشترکہ مقدس مقامات اور ہندوستانی مساجد کے تذکرے سے کتاب کی تہذیبی معنویت مزید نمایاں ہوتی ہے۔
کتاب کی ایک اہم خوبی یہ سامنے آتی ہے کہ مصنف نے ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کو محض ماضی کی ایک خوش گوار یاد کے طور پر پیش نہیں کیا بلکہ اسے موجودہ ہندوستانی معاشرے کے لیے بھی معنویت رکھنے والی روایت کے طور پر دیکھا ہے۔ حضرت خواجہ غریب نواز کی روحانی کشش، امیر خسرو کی تہذیبی شخصیت، دارا شکوہ کی فکری جستجو اور رومی کی روحانی تعلیمات کے حوالے سے ہندوستانی معاشرے میں مذہب اور تہذیب کے باہمی تعلق کی ایک ایسی تصویر بنتی ہے جس میں اختلاف اپنی جگہ موجود رہتے ہوئے بھی باہمی احترام اور قربت کے امکانات باقی رہتے ہیں۔
مذہب، اصلاح اور امن سے متعلق مباحث میں مصنف کی توجہ موجودہ دور کے ان مسائل کی طرف جاتی ہے جہاں مذہبی فکر، انسانی اتحاد، اعتدال اور شدت پسندی کے سوالات ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔ مذہب کیا انسانی اتحاد کا ذریعہ بن سکتا ہے، ضبط و اعتدال کی وہ مذہبی روایت کہاں گئی جو مذہبی زندگی کو توازن عطا کرتی تھی، اسلام کی غلط تعبیر کس طرح شدت پسندی کو جنم دیتی ہے اور مذہبی تصورات کس طرح سیاسی نعروں میں تبدیل ہو جاتے ہیں؛ یہ سب سوالات کتاب کے اس حصے میں سامنے آتے ہیں۔
اس بحث میں مصنف مذہب کی ایسی تعبیر پر زور دیتے ہیں جو انسانی زندگی میں اخلاق، ذمہ داری، ضبط اور امن کو جگہ دیتی ہو۔ ان مباحث کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ آج مذہب کے نام پر پیدا ہونے والی بعض صورت حال نے مذہبی تعلیم اور مذہبی رویے کے درمیان فرق کو سمجھنے کی ضرورت پیدا کر دی ہے۔
تعلیم اور فکری تجدید سے متعلق حصے میں کتاب کا لہجہ مزید اصلاحی ہو جاتا ہے۔ مسلمانوں کی تہذیبی عظمت کے زوال، فراموش شدہ علمی سرمایہ، احساس محرومی سے آگے بڑھنے اور قلم کی قوت کو تلوار پر ترجیح دینے جیسے موضوعات دراصل ایک ہی بنیادی فکر کے مختلف پہلو ہیں۔ مصنف ماضی کی علمی عظمت کو یاد کرتے ہوئے اس سوال کی طرف بھی متوجہ کرتے ہیں کہ آج کی مسلم دنیا اپنی علمی اور فکری قوت کو کسی طرح دوبارہ حاصل کر سکتی ہے۔ یہاں محض ماضی پر فخر کرنے کے بجائے بھولی ہوئی علمی میراث کی بازیافت، تعلیم کی اصلاح اور موجودہ علمی تقاضوں سے واقفیت کو اہمیت دی گئی ہے۔ مذہبی تعلیم کے ساتھ، سائنس، جدید علوم اور سماجی علوم سے شناسائی کی ضرورت بھی اسی فکری سمت کا حصہ ہے۔ اس زاویے سے دیکھا جائے تو کتاب کا تعلیمی تصور صرف نصاب کی تبدیلی تک محدود نہیں بلکہ مسلم معاشرے کے فکری مزاج کی تشکیل سے بھی تعلق رکھتا ہے۔
احساسِ محرومی سے آگے بڑھنے کے اس فکری مزاج کا اہم حصہ ہے۔ مصنف کے نزدیک ماضی کی مشکلات اور موجودہ حالات کا شعور ضروری ہے، لیکن اس شعور کو مستقل شکایت میں تبدیل کرنے کے بجائے اس کی طرف پیش قدمی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ اسی طرح قلم اور تلوار کا تقابل بھی محض ایک خوب صورت عنوان نہیں بلکہ ایک واضح ترجیح کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ قوموں کی دیر پا قوت علم، فکر، تعلیم اور قلم سے پیدا ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کتاب میں علمی تجدید کا مسلہ محض ایک تعلیمی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ اسے مسلم معاشرے کے مستقبل سے جوڑ دیا گیا ہے۔
کتاب کے آخری مباحث میں سیاست، سلامتی اور جدید دنیا کے مسائل زیادہ نمایاں ہو جاتے ہیں۔ پاکستان میں فرقہ وارانہ تشدد، عالمی امن کو متاثر کرنے والے عوامل اور جدید دنیا میں سلامتی کے سوالات اس حصے کو ہندوستانی مسلم شناخت کے ابتدائی مسئلے سے ایک وسیع عالمی دائرے تک لے جاتے ہیں۔ فلسطین اور غزہ کے مسئلے پر مصنف نے فلسطینی عوام اور ان کے حقوق کی حمایت کو کسی مخصوص سیاسی تنظیم کی حمایت سے الگ رکھنے کی ضرورت کی طرف توجہ دلائی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مصنف عالمی سیاسی مسائل کو صرف جذباتی وابستگی کے ذریعے نہیں بلکہ اخلاقی اور سیاسی امتیاز کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔
کتاب کی زبان انگریزی ہے، مگر اس کے موضوعات کی ترتیب اور عنوانات سے مصنف کا اسلوب صاف اور براہ راست معلوم ہوتا ہے۔ وہ پیچیدہ مذہبی، تاریخی اور سیاسی مسائل کو مختلف چھوٹے دائروں میں تقسیم کر کے قاری کے سامنے رکھتے ہیں، جس سے کتاب کا مطالعہ یک رُخی نہیں رہتا ہے۔ بعض جگہ لہجہ تنقیدی ہے، کہیں تاریخی مثالوں سے مدد لی گئی ہے، کہیں تہذیبی اور روحانی روایات کو بنیاد بنایا گیا ہے اور کہیں جدید تعلیم، سیاست اور عالمی امن کے مسائل کو سامنے رکھا گیا ہے۔ اسلوب کی یہی تنوع پذیری کتاب کو صرف تاریخی یا مذہبی مطالعہ بننے سے روکتی ہے اور اسے ہندوستانی مسلمان کی موجودہ فکری صورتِ حال پر ایک صاحب ِنظر مطالعہ بناتی ہے۔
کتاب کی سب سے نمایاں خوبی شاید یہی ہے کہ مصنف نے ہندوستانی مسلمان کو کسی ایک نسبت میں محدود کر کے نہیں دیکھا ہے۔ وہ مسلمان جو اپنی دینی روایت سے وابستہ ہے، اس کے ساتھ ہندوستان کی تہذیب کا وارث بھی ہے، جو اپنی تاریخ کو یاد رکھتا ہے، اسے اپنے عہد کے علمی تقاضوں سے بھی واقف ہونا چاہیے، جو اپنے مذہبی تشخص کی حفاظت چاہتا ہے، اسے قومی زندگی میں اپنی ذمہ داریوں کا احساس بھی ہونا چاہیے اور جو عالمی مسائل پر رائے رکھتا ہے، اسے جذبات کے ساتھ اخلاقی اور سیاسی امتیاز کو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے۔
کتاب کے مختلف مباحث اسی وسیع تصور کے مختلف پہلو سامنے لاتے ہیں۔ اس اعتبار سے این انڈین مسلم اسپیکس کو صرف ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل کا بیان کہنا اس کے دائرہ فکر کو محدود کر دینا ہو گا، یہ کتاب شناخت، تہذیب، مذہبی فکر، تعلیم علمی میراث اور اجتماعی زندگی کے باہمی تعلق کو سمجھنے کی ایک کوشش بھی ہے۔
یقینا اتنے وسیع موضوعات کو ایک ہی کتاب میں سمیٹنے کے باعث بعض مباحث مزید تفصیل اور مستقل تحقیق کے متقاضی محسوس ہو سکتے ہیں۔ مذہب اور قومیت، صوفی روایات، علمی زوال، تعلیمی اصلاح، فرقہ وارانہ تشدد اور عالمی سیاست؛ ہر ایک موضوع اپنی جگہ ایک مستقل علمی مطالعے کا تقاضا کرتا ہے۔ کتاب کی اہمیت کسی ایک مسئلے کا حتمی جواب پیش کرنے میں نہیں، بلکہ مختلف موضوعات کو باہم مربوط کر کے ایک وسیع فکری منظر نامہ سامنے لانے میں ہے. بعض آرا سے اختلاف کی گنجائش کے باوجود یہی فکری وسعت کتاب کو غور و فکر کے قابل بناتی ہے۔ ہندوستانی مسلمان کے ماضی، حال اور مستقبل کو باہم مربوط کر کے دیکھنا این انڈین مسلم اسپیس کی نمایاں خصوصیت ہے۔
کتاب میں مذہبی شناخت، قومی وابستگی، مشترکہ تہذیب، صوفی روایت، علمی میراث، تعلیم، فکری تجدید اور عصر حاضر کے مسائل کو ایک وسیع فکری دائرے میں سمیٹا گیا ہے۔ مصنف نے ان متنوع موضوعات کو جس وسعت نظر، علمی سنجید گی اور فکری بصیرت کے ساتھ پیش کیا ہے، وہ ان کی قابل قدر علمی کاوش کا مظہر ہے۔
اس اعتبار سے یہ کتاب ہندوستانی مسلمانوں کی فکری و تہذیبی زندگی کے مطالعے میں ایک اہم علمی کاوش اور قابلِ قدر اضافہ ہے، جو سنجیدہ قارئین کو غور و فکر کے نئے زاویے فراہم کرتی ہے۔
***
آپ یہ بھی پڑھ سکتے ہیں :کتاب : مسلم اذہان کی تشکیل نو