افسانہ نگار : بھیشم ساہنی
مترجم: ڈاکٹر صابر رضا رہبر
اسسٹنٹ پروفیسر کے پی کالج مرلی گنج (بی این منڈل یونی ورسٹی) مدھے پورہ
رابطہ: 8804542020
آج مسٹر شام ناتھ کے گھر چیف کی دعوت تھی۔ شام ناتھ اور اس کی اہلیہ کے پاس پسینہ پونچھنے کی فرصت نہیں تھی۔ بیوی ڈریسنگ گاؤن پہنے، الجھے ہوئے بالوں کا جڑا بنائے، منھ پر پھیلی ہوئی سرخیوں اور پاؤڈر کو ملے اور مسٹر شام ناتھ سگریٹ پر سگریٹ پھونکتے ہوئے چیزوں کی فہرست ہاتھ میں تھامے ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں آ جا رہے تھے۔
آخر پانچ بجتے بجتے تیاریاں مکمل ہونے لگیں۔ کرسیاں، میز، تپائیاں، نیپکن، پھول سب برآمدہ میں پہنچ گئے۔ ڈرنک کا اہتمام بیٹھک میں کردیا گیا۔ اب گھر کا فالتو سامان الماریوں کے پیچھے اور پلنگوں کے نیچے چھپایا جانے لگا۔ تب ہی شام ناتھ کے سامنے اچانک ایک مسئلہ کھڑا ہوگیا
’ماں کا کیا ہو گا‘؟
اس بات کی جانب نہ ان کا اور نہ ہی ان کی ہنرمند ہاؤس وائف کا دھیان گیا تھا۔ مسٹر شام ناتھ نے مسز کی طرف متوجہ ہوکر انگریزی میں کہا:
’ماں کا کیا ہوگا؟‘
مسز کام کرتے کرتے ٹھہر گئیں اور تھوڑی دیر تک سوچنے کے بعد کہا :
’انہیں پچھواڑے میں ان کی سہیلی کے گھر بھیج دو، بے شک وہ رات بھر وہیں رہیں ‘
شام ناتھ سگریٹ منھ میں رکھتے ہوئے سکڑتی آنکھوں سے مسز کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے لمحہ بھر سوچتے رہے پھر سر ہلایا اور کہا:
’نہیں، میں نہیں چاہتا کہ اس بڑھیا کا آنا جانا پھر سے شروع ہو۔ پہلے ہی بڑی مشکل سے بند کیا تھا۔ ماں سے کہیں کہ جلد ہی کھانا کھاکر شام کو ہی اپنی کوٹھری میں چلی جائیں۔ مہمان کہیں آٹھ بجے تک آئیں گے، اس سے پہلے ہی اپنے کام سے نپٹ لیں‘۔
تجویز ٹھیک تھی۔ دونوں کو پسند آئی۔ لیکن پھر اچانک مسز نے کہا:
’ جو وہ سوگئیں اور نیند میں خراٹے لینے لگیں تو؟، ساتھ ہی تو برآمدہ ہے جہاں لوگ کھانا کھائیں گے ‘۔
’تو انھیں کہہ دیں گے کہ اندر سے دروازہ بند کرلیں۔ میں باہر سے تالا لگادوں گا۔ یا ماں کو کہہ دیتا ہوں کہ اندر نا سوئیں نہیں، بیٹھی رہیں، اور کیا؟‘
’اور جو سوگئیں تو؟، ڈنر کا کیا معلوم کب تک چلے۔ گیارہ گیارہ بجے تو تم ڈرنک ہی کرتے رہتے ہو.‘
شام ناتھ کچھ غصے میں آگئے اور جھڑکتے ہوئے کہا:
’اچھی بھلی یہ بھائی کے پاس جارہی تھیں، تم نے یوں ہی خود اچھا بننے کے لیے بیچ میں ٹانگ اڑادی۔‘
’واہ ! تم ماں اور بیٹے کی باتوں میں میں کیوں بری بنوں؟ تم جانو اور وہ جانیں‘۔
مسٹر شام ناتھ خاموش رہے۔ یہ موقع بحث کا نہیں تھا بلکہ مسئلے کا حل ڈھونڈنے کا تھا۔ انھوں نے مڑ کر ماں کی کوٹھری کی طرف دیکھا۔ کوٹھری کا دروازہ برآمدے میں کھلتا تھا۔ برآمدے کی طرف دیکھتے ہوئے فوراً بولے:
’میں نے سوچ لیا ہے‘
اور انھی قدموں ماں کی کوٹھری کے باہر جا کھڑے ہوئے۔ ماں دیوار کے ساتھ ایک چوکی پر بیٹھی، ڈوپٹے میں منھ سر لپیٹے مالا جپ رہی تھیں۔ صبح سے تیاری ہوتی دیکھ کر ماں کا بھی دل دھڑک رہا تھا۔ بیٹے کے دفتر کا بڑا صاحب گھر پر آ رہا ہے، سارے کام اچھے سے ہو جائے۔
’ماں! آج تم کھانا جلدی کھا لینا۔ مہمان ساڑھے سات بجے آجائیں گے۔‘
ماں نے دھیرے سے منھ سے ڈوپٹہ ہٹایا اور بیٹے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:
’آج مجھے کھانا نہیں کھانا ہے بیٹا، تم تو جانتے ہو کہ مانس مچھلی بنے تو میں کچھ نہیں کھاتی۔‘
’جیسے بھی ہو اپنے کام سے جلدی نبٹ لینا۔
’اچھا بیٹا۔‘
’اور ماں، ہم لوگ پہلے بیٹھک میں بیٹھیں گے، اتنی دیر تم یہاں برآمدے میں بیٹھنا۔ پھر جب ہم یہاں آجائیں تو تم غسل خانے کے راستے بیٹھک میں چلی جانا ‘
ماں خموش ہوکر بیٹے کا چہرہ دیکھنے لگیں۔ پھر دھیرے سے بولیں:
’ اچھا بیٹا‘
’اور ماں آج جلدی سو نہیں جانا، تمھارے خراٹوں کی آواز دورتک جاتی ہے‘
ماں شرمندہ لہجے میں بولیں’’ کیا کروں بیٹا! میرے بس کی بات نہیں ہے۔ جب سے بیماری سے اٹھی ہوں؛ ناک سے سانس نہیں لے سکتی ‘
مسٹر شام ناتھ نے انتظام توکردیا پھر بھی ان کی ادھیڑ بن ختم نہیں ہوئی. جو چیف اچانک ادھر آ نکلا تو؟ ، آٹھ دس مہمان ہوں گے، دیسی افسر، ان کی بیویاں ہوں گی، کوئی بھی غسل خانے کی طرف جاسکتا ہے۔ غصے اور بوکھلاہٹ سے جھوجھلنے لگے۔ ایک کرسی کو اٹھا کر برآمدے میں کوٹھری کے باہر رکھتے ہوئے بولے:
’ آؤ ماں ! اس پر ذرا بیٹھو تو‘
ماں ملا سنبھالتی، پلوٹھیک کرتی اٹھیں، اور دھیرے سے کرسی پر آکر بیٹھ گئیں۔
’یوں نہیں ماں! ٹانگیں اوپر چڑھا کر نہیں بیٹھتے۔ یہ کھاٹ نہیں ہے.‘
ماں نے ٹانگیں نیچے اتار لیں۔
’اور خدا کے واسطے ننگے پاؤں نہیں گھومنا۔ نہیں وہ کھڑاؤں پہن کر سامنے آنا، کسی دن تمھہاری یہ کھڑاؤں اٹھا کر میں باہر پھینک دوں گا ‘
ماں چپ رہیں۔
’کپڑے کون سا پہنیں گی ماں؟‘
’جو ہے وہی پہنوں گی بیٹا ! جو کہو پہن لوں‘
مسٹر شام ناتھ سگریٹ منھ میں رکھے پھر نیم کھلی آنکھوں سے ماں کی جانب دیکھنے لگے اور ماں کے کپڑوں کے بارے میں سوچنے لگے۔ شام ناتھ ہر بات میں ترتیب چاہتے تھے۔ گھر کا سب انتظام ان کے ا پنے ہاتھ میں تھا۔ کھونٹیاں گھر میں کہاں پر لگائی جائیں، بستر کہاں پر بچھیں، کس رنگ کے پردے لگائے جائیں، مسز کون سی ساڑی پہنیں، میز کس سائز کی ہو …… شام ناتھ کو فکر تھی کہ اگر چیف کا سامنا ماں سے ہوگیا تو کہیں شرمندہ نہ ہونا پڑے۔ ماں کو سرے پاؤں تک دیکھتے ہوئے بولے
’تم سفید قمیض اور سفید شلوار پہن لو ماں! پہن کے آؤ تو، ذرا دیکھوں‘
ماں دھیرے سے اٹھیں اور اپنی کوٹھری میں کپڑے پہننے چلی گئیں۔
یہ ماں کا جھمیلا ہی رہے گا، انھوں نے پھر انگریزی میں اپنی اہلیہ سے کہا:
’’ کوئی ڈھنگ کی بات ہو تو بھی کوئی کہے، اگر کوئی الٹی سیدھی بات ہوئی تو، چیف کو برا لگا تو سارا مزا جاتا رہے گا۔
ماں سفید قمیض اور سفید شلوار پہن کر باہر نکلیں۔ چھوٹا سا قد ، سفید کپڑوں میں لپٹا چھوٹا سا سوکھا ہوا جسم، دھندلی آنکھیں صرف سر کے آدھے جھڑے ہوئے بال پلو کی اوٹ میں چھپ گئے تھے۔ پہلے کی بہ نسبت کچھ کم بدصورت نظر آرہی تھیں۔
’چلو ٹھیک ہے، کوئی چوڑیاں اوڑیاں ہوں تو وہ بھی پہن لو، کوئی حرج نہیں‘۔
’چوڑیاں کہاں سے لاؤں بیٹا؟، تم تو جانتے ہو، سب زیورات تمھاری پڑھائی میں بک گئے.‘
یہ جملہ شام ناتھ کو تیر کی طرح لگا۔ تنک کر بولے
’یہ کون سا راگ چھیڑ دیا، ماں! سیدھا کہہ دو نہیں ہے، اس سے پڑھائی وڑھائی کا کیا تعلق ہے، جو زیور فروخت ہوا تو کچھ بن کر ہی آیا ہوں، نرا جاہل تو نہیں لوٹ آیا۔ جتنا دیا تھا اس سے دوگنا لے لینا‘
’میری زبان جل جائے بیٹا! تم سے زیور لوں گی؟ بس میرے منھ سے نکل گیا، جو ہتے تو لاکھ پہنتی.‘
ساڑھے پانچ بج چکے تھے۔ ابھی مسٹر شام ناتھ کو خود بھی نہا دھو کر تیار ہونا تھا۔ مسز کب کی اپنے کمرے میں جاچکی تھیں۔ شام ناتھ جاتے ہوئے ایک بار پھر ماں کو ہدایت کرتے گئے:
’ماں! روز کی طرح گم سم ہوکر نہیں بیٹھی رہنا۔ اگر صاحب ادھر آ نکلیں اور کوئی بات پوچھیں تو ٹھیک طرح سے بات کا جواب دینا.‘
’میں نہ پڑھی، نہ لکھی بیٹا! میں کیا بات کروں گی؟ تم کہہ دینا ماں اَن پڑھ ہے، کچھ جانتی سمجھتی نہیں، وہ نہیں پوچھےگا‘۔
سات بجتے بجتے ماں کا دل دھک دھک کرنے لگا۔ اگر چیف سامنے آگیا اور اس نے کچھ پوچھا تو وہ کیا جواب دے گی۔ انگریز کو تو دور سے دیکھ کر گھبرا اٹھتی تھیں، یہ تو امریکی ہے۔ نہ معلوم کیا پوچھے۔ ماں کا جی چاہا کہ چپ چاپ پیچھے بیوہ سہیلی کے گھر چلی جائیں۔ مگر بیٹے کےحکم کو کیسے ٹال سکتی تھیں۔ چپ چاپ کرسی سے ٹانگیں لٹکائے وہیں بیٹھی رہیں۔
ایک کامیاب پارٹی وہ ہے جس میں ڈرنک کامیابی سے چل جائے۔ شام ناتھ کی پارٹی کامیابی کے عروج کو چومنے لگی۔ گفتگو اسی رو میں جاری تھی جس رو میں گلاس بھرے جارہے تھے۔ کہیں کوئی رکاوٹ نہ تھی، کوئی اڑچن نہیں تھی۔ کوئی صاحب کو وہسکی پسندآئی تھی۔ میم صاحب کو پردے پسند آئے تھے، صوفہ کور کا ڈیزائن پسند آیا تھا، کمرے کی سجاوٹ پسند آئی تھی۔ اس سے بڑھ کر کیا چاہئے۔ صاحب تو ڈرنگ کے دوسرے میں دور میں ہی چٹکلے اور کہانیاں کہنے لگ گئے تھے۔ دفتر میں جتنا رعب رکھتے تھے یہاں اتنے ہی دوست پرور نظر آ رہے تھے اور ان کی بیگم سیاہ گاؤن پہنے، گلے میں سفید موتیوں کا ہار، سینٹ اور پاؤڈر کی خوشبو سے آنے جانے والے اور کمرے میں بیٹھیں سبھی دیسی خواتین کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی تھیں۔ بات بات پر ہنستیں، بات بات پر سرہلاتیں اور شام ناتھ کی اہلیہ سے تو ایسے باتیں کررہی تھیں جیسے ان کی پرانی سہیلی ہو۔
اور اسی رو میں پیتے پلاتے ساڑھے دس بج گئے۔ وقت گزرتے پتہ ہی نہیں چلا۔
آخر سب لوگ اپنے اپنے گلاسوں میں سے آخری گھونٹ پی کر کھانا کھانے کے لیے اٹھے اور بیٹھک سے باہرنکلے۔ آگے آگے شام ناتھ راستہ دکھاتے ہوئے، پیچھے چیف اور دوسرے مہمان۔ برآمدے میں پہنچتے ہی شام ناتھ اچانک ششدررہ گئے۔ جو منظر انھوں نے دیکھا اس سے ان کی ٹانگیں لڑکھڑا گئیں اور لمحہ بھر کے لیے سارا نشہ ہرن ہونے لگا۔ برآمدے کے عین کوٹھری کے باہر ماں اپنی کرسی پر جوں کی توں بیٹھی تھیں۔ مگر دونوں پاؤں کرسی کی سیٹ پر رکھے ہوئے اور سر دائیں اور بائیں سے دائیں جھول رہا تھا اور منھ سے مسلسل گہرے کھراٹے کی آوازیں آرہی تھیں۔ جب سر کچھ دیر لیے ٹیڑھا ہوکر ایک طرف تھم جاتا تو کھراٹے اور بھی تیز ہو اٹھتے۔ اور پھر جب جھٹکے سے نیند ٹوٹتی تو سر پھر سے دائیں سے بائیں جھولنے لگتا۔ پلو سر سے کھسک آیا تھا اور ماں کے جھرے ہوئے بال، نیم گنجے سر پر ادھر ادھر بکھر رہے تھے۔
دیکھتے ہی شام ناتھ مشتعل ہوگئے۔ جی چاہا کہ ماں کو دھکا دے کر اٹھادیں اورانھیں کوٹھری میں دھکیل دیں مگر ایسا کرنا ممکن نہیں تھا۔ چیف اور باقی مہمان پاس کھڑے تھے۔
ماں کو دیکھتے ہی مقامی افسروں کی کچھ بیویاں ہنس دیں کہ اتنے میں چیف نے دھیرے سے کہا ’بےچاری‘۔
ماں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھیں۔ سامنے کھڑے اتنے لوگوں کو دیکھ کر وہ ایسی گھبرائیں کہ کچھ کہتے نہ بنا۔ جھٹ سے پلو سر پر رکھتی ہوئی کھڑی ہوئیں اور زمین کو دیکھنے لگیں۔ ان کے پاؤں لڑکھڑانے لگے اور ہاتھوں کی انگلیاں کانپنے لگیں۔
’ماں! تم جاکر سو جاو، تم کیوں اتنی دیر تک جاگ رہی تھیں؟‘
اور غضب ناک نظروں سے شام ناتھ چیف کے منھ کی طرف دیکھنے لگے۔
چیف کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ وہ وہیں کھڑے کھڑے بولے ’نمستے!‘
ماں نے جھجکتے ہوئے، اپنے میں سمٹتے ہوئے دونوں ہاتھ جوڑے مگر ایک ہاتھ ڈوپٹے کے اندر مالا کو پکڑے ہوئے تھا، دوسرا باہر، ٹھیک طرح سے نمستے بھی نہ کرپائیں۔ شام ناتھ بھی اس پر بھی خفا ہو اٹھے۔
اتنے میں چیف نے اپنا دایاں ہاتھ ملانے کے لیے ماں کے آگے کیا۔ ماں اور بھی گھبراگئیں۔
’ماں ہاتھ ملاؤ۔‘
مگر ہاتھ کیسے ملاتیں؟ دائیں ہاتھ میں تو مالا تھی۔ گھبراہٹ میں ماں نے بایاں ہاتھ ہی صاحب کے دائیں ہاتھ میں رکھ دیا۔ شام ناتھ دل ہی دل میں جل اٹھے۔ مقامی افسران کی بیویاں کھلکھلا کر ہنس پڑیں۔
’یوں نہیں ماں! تم تو جانتی ہو، دایاں ہاتھ ملایا جاتا ہے۔ اپنا دایاں ہاتھ ملاؤ‘۔
مگر تب تک چیف ماں کا بایاں ہاتھ ہی بار بار ہلاکر کہہ رہے تھے ’ ہاؤ ڈو یو ڈو‘
ماں کہتی ہیں ’ میں ٹھیک ہوں ‘۔
کہو ماں’ ہائو ڈو یو ڈو‘
ماں ہچکاتے ہوئے دھیرے سے بولیں ’ ہوو ڈوڈو‘
ایک بار پھر قہقہہ اٹھا.
ماحول ہلکا ہونے لگا۔ صاحب نے حالات سنبھال لیے تھے۔ لوگ ہنسنے چہکنے لگے تھے۔ شام ناتھ کے من کی کڑواہٹ کچھ کچھ کم ہونے لگی تھی۔
صاحب اپنے ہاتھ میں ماں کا ہاتھ اب ابھی تھامے ہوئے تھے اور ماں سکڑتی جارہی تھیں۔ صاحب کے منھ سے شراب کی بو آرہی تھی۔
شام ناتھ انگریزی میں بولا
’میری ماں گاؤں کی رہنے والی ہیں۔ عمر بھر گاؤں میں رہی ہیں، اس لیے آپ سے شرماتی ہیں ‘
صاحب اس پر خوش نظر آئے۔ بولے:
’سچ مجھے گاؤں کے لوگ بہت پسند ہیں، تب تو تمھاری ماں گاؤں کے گیت اور ناچ بھی جانتی ہوں گی ‘
چیف خوشی سے سر ہلاتے ہوئے ماں کو ٹکٹکی باندھے دیکھنے لگے۔
’ماں ! صاحب کہتے ہیں کوئی گانا سناؤ، کوئی پرانا گیت تمھیں تو کتنے ہی یاد ہوں گے.‘
ماں دھیرے سے بولیں:
’میں کیا گائوں گی بیٹا! میں نے کب گایا ہے.‘
’واہ ماں! مہمان کو بھی کوئی ٹالتا ہے؟ صاحب نے اتنے پیار سے کہا ہے، نہیں گاؤگی تو صاحب برا مانیں گے.‘
’ میں کیا گاؤں بیٹا ؟ مجھے کیا آتا ہے ‘؟
’واہ کوئی بہتر ٹپّے سنادو، دو پتر اناراں دے …‘
دیسی افسران اور ان کی خواتین نے اس مشورے پر تالیاں پیٹیں۔ ماں کبھی کمزور نظروں سے بیٹے کو دیکھتیں، کبھی پاس کھڑے بہو کے چہرے کو.
اتنے میں بیٹے نے سنجیدہ ہوکر حکم بھرے لہجے میں کہا:
’ماں‘
اس کے بعد ’ہاں‘ یا ’نا‘ کا سوال ہی نہیں اٹھتا تھا۔ ماں بیٹھ گئیں اور ایک کمزور، پردرد اور شرمیلی آواز میں شادی کا ایک پرانا گیت گانے لگیں۔
’ہریاں نی مائیں، ہریا نی بھنے
ہریا تے بھاگی بھریا ہے‘
دیسی عورتیں کھلکھلاکر ہنس پڑیں۔ تین لائنیں گا کے ماں چپ ہوگئیں۔
برآمدہ تالیوں سے گونج اٹھا۔ صاحب تالیاں بجانا بند ہی نہیں کرتے تھے۔ شام ناتھ کا غصہ خوشی اور فخر میں بدل گیا۔ والدہ نے پارٹی کو ایک نیا رنگ دیا۔
تالیاں تھمنے پر صاحب نے کہا:
’پنجاب کے گاؤں میں کیا کیا فن کاری ہے‘؟
شام ناتھ خوشی میں جھوم رہے تھے۔ بولے:
’او بہت کچھ صاحب ! میں آپ کو ان چیزوں کا ایک سیٹ تحفے میں دوں گا۔ آپ انھیں دیکھ کر خوش ہوں گے ‘
مگر صاحب نے سر ہلاکر انگریزی میں پھر پوچھا:
’ نہیں، میں دکانوں کی چیزیں نہیں مانگتا، پنجابیوں کے گھروں میں کیا بنتا ہے، عورتیں خود کیا بناتی ہیں ؟‘
شام ناتھ کچھ سوچتے ہوئے بولے:
’ لڑکیاں گڑیاں بناتی ہیں اور پھلکاریاں بناتی ہیں ‘
’پھلکاری کیا ہے؟‘
شام ناتھ پھلکاری کا مطلب سمجھانےکی ناکام کوشش کرنے کے بعد ماں کو بولے:
’ کیوں ماں کوئی پرانی پھلکاری گھر میں ہے ‘
ماں چپ چاپ اندر گئیں اور اپنی پرانی پھلکاری اٹھا لائیں۔
صاحب نے پھلکاری کو بڑی دل چسپی سے دیکھنا شروع کیا۔ پرانی پھلکاری تھی، جگہ جگہ سے اس کی ٹاگے ٹوٹ رہے تھے اور کپڑا پھٹنے لگا تھا۔ صاحب کی دل چسپی دیکھ کر شام ناتھ نے کہا:
’یہ پھٹی ہوئی ہے، صاحب میں آپ کو نئی بنوادوں گا، ماں بنا دیں گی، کیوں ماں، صاحب کو پھلکاری بہت پسند ہیں، انھیں ایسی ایک پھلکاری بنادو گی نا‘
ماں چپ رہیں۔ پھر ڈرتےڈرتے دھیرے سے بولیں:
’اب میری نظر کہاں ہے بیٹا! بوڑھی آنکھیں کیا دیکھیں گی؟ ‘
مگر ماں کی بات درمیان میں کاٹتے ہوئے شام ناتھ صاحب کو بولے:
’ وہ ضرور بنادیں گی، آپ اسے دیکھ کر خوش ہوں گے ‘
صاحب نے سر ہلایا، شکریہ ادا کیا اور ہلکے ہلکے جھومتے ہوئے کھانے کی میز کی جانب بڑھ گئے۔ باقی مہمان بھی ان کے پیچھے پیچھے ہو لیے۔
جب مہمان بیٹھ گئے اور ماں سے سب کی نگاہیں ہٹ گئیں تو ماں دھیرے سے کرسی سے اٹھیں اور سب سے نظریں بچاتی ہوئی اپنی کوٹھری میں چلی گئیں۔
مگر اس کوٹھری میں بیٹھنے کی دیر تھی کہ آنکھوں سے آنسو برسنے لگے۔ وہ بار بار دوپٹے سے آنسو پونچھتیں مگر وہ باربار امڈ آتے جیسے برسوں کا باندھ توڑکر امڈ آئے ہوں۔ ماں نے بے چین دل کو سمجھایا، ہاتھ جوڑے، بھگوان کا نام لیا، بیٹے کی ترقی کے لیے پراتھنا کی۔ باربار آنکھیں بند کیں مگر آنسو بارش کے پانی کی طرح جیسے تھمنے کانام ہی لے رہے تھے۔
آدھی رات کا وقت ہوگا۔ مہمان کھانا کھاکر ایک ایک کرکے جاچکے تھے۔ ماں دیوار سے لگ کر بیٹھی آنکھیں پھاڑے دیوار کو دیکھے جا رہی تھیں۔ گھر ماحول میں تناؤ ڈھیلا پڑ چکا تھا۔ محلے کی خموشی شام ناتھ کے گھر بھی چھاچکی تھی۔ صرف کچن میں پلیٹوں کے کھنکنانے کی آوازیں آرہی تھیں۔ تبھی اچانک ماں کی کوٹھری کا دروازہ زورسے کھٹکنے لگا۔
’ماں ! دروازہ کھولو‘
ماں کا دل بیٹھ گیا، ہڑبڑا کر اٹھیں۔ کیا مجھ سے پھر کوئی بھول ہوگئی؟ ماں کتنی دیر سے اپنے آپ کو کوس رہی تھیں کہ کیوں انھیں نیند آگئی۔ کیوں وہ اونگھنے لگیں، کیا بیٹے نے ابھی تک معاف نہیں کیا؟ ماں اٹھیں اور کانپتے ہاتھوں سے دروازہ کھول دیا۔
دروازہ کھلتے ہی شام ناتھ جھومتے ہوئے آگے بڑھ آئے اورماں کو گلے لگا لیا۔
’اوامی! تم نے آج رنگ لادیا! … صاحب تم سے اتنا خوش ہوا کہ کیا کہوں۔ او امی ! امی !‘
ماں کا چھوٹا سا جسم سمٹ کر بیٹے کے گلے میں چھپ گیا۔ ماں کی آنکھوں میں پھر سے آنسو آگئے۔ انھیں پونچھتی ہوئی دھیرے سے بولیں:
بیٹا تم مجھے ہری دوار بھیج دو، میں کب سے کہہ رہی ہوں ‘
شا م ناتھ کا جھومنا اچانک بن ہو گیا اور ان کی پیشانی پر پھر سے بل پڑنے لگے۔ ان کی باہیں ماں کے جسم سے ہٹ گئیں.‘
’ کیا کہا ماں؟ یہ کونسا راگ پھر سے چھیڑ دیا؟ ‘
شام ناتھ کا غصہ بڑھنے لگاتھا، بولتے گئے:
’تم مجھے بدنام کرنا چاہتی ہو تاکہ دنیا کہے کہ بیٹا ماں کو اپنے پاس نہیں رکھ سکتا۔‘
’نہیں بیٹا! اب تم بہو کے ساتھ جیسا من چاہے رہو۔ میں نے کھا پہن لیا۔ اب یہاں کیا کروں گی؟ جو تھوڑے دن زندگی کے باقی ہیں؛ بھگوان کا نام لوں گی۔ تم مجھے ہری دوار بھیج دو.‘
’تم چلی گئی تو پھلکاری کون بنائے گا؟ صاحب سے تمھارے سامنے ہی پھلکاری دینے کا اقرار کیا ہے.‘
’ میری آنکھیں اب نہیں ہیں بیٹا! جو پھلکاری بناسکوں۔ تم کہیں اور سے بنوا لو، بنی بنائی لے لو‘
’ماں! تم مجھے دھوکہ دے کر یونہی چلی جاؤگی، میرا بنتا کام بگاڑوگی، جانتی نہیں صاحب خوش ہوگا تو مجھے ترقی ملے گی‘
ماں چپ ہوگئیں، پھر بیٹے کے منھ کی طرف دیکھتے ہوئے بولیں
’کیا تیری ترقی ہوگی؟ کیا صاحب ترقی کردےگا، کیا اس نے کچھ کہا ہے؟‘
’کہا نہیں ، مگر دیکھتی نہیں کتنا خوش ہوگیا ہے، کہتا تھا جب تیری ماں پھلکاری بنانا شروع کریں گی تو میں دیکھنے آؤں گا کہ کیسے بناتی ہیں۔ جو صاحب خوش ہوگیا تو مجھے اس سے بڑی نوکری بھی مل سکتی ہے، میں بڑا افسر بن سکتا ہوں.‘
ماں کے چہرے کا رنگ بدلنے لگا، دھیرے دھیرے ان کا جھریوں بھرا چہرہ کھلنے لگا، آنکھوں میں ہلکی ہلکی چمک آنے لگی۔
’تو تیری ترقی ہوگی بیٹا؟‘
’ترقی یونہی ہو جائےگی؟ صاحب کو خوش رکھوں گا تو کچھ کرے گا ورنہ اس کی خدمت کرنے والے اور بھی ہیں.‘
’تو میں بنادوں گی بیٹا، جیسے بن پڑے گا ، بنادوں گی‘
اور ماں دل ہی دل میں پھر سے بیٹے کے روشن مستقبل کی دعائیں کرنے گئی اور مسٹر شام ناتھ:
’اب سوجاؤ ماں ‘
کہتے ہوئے تھوڑا لڑکھڑاتے ہوئے اپنے کمرے کی جانب مڑگئے۔
***
آپ یہ بھی پڑھ سکتے ہیں : بیضہ فروش