کتاب کا نام : پرواز غزل

کتاب کا نام : پرواز غزل

مصنف کا نام : ڈاکٹر محمد اسلم پرویز اسلم
ضخامت : 112
قیمت : 300 روپے
مبصر : محمد انعام برنی
ریسرچ اسکالر
دہلی یونی ورسٹی، دہلی

میں اس سے قبل بھی اپنے کئی تبصروں میں اس بات کی طرف اشارہ کر چکا ہوں کہ سرزمین بہار نے ہر دور میں اردو زبان و ادب کو ایک سے بڑھ کر ایک کوہ نور دیا ہے۔ جنھوں نے اپنی شعری و ادبی روشنی سے پوری اردو دنیا کو روشن کیا۔۔۔۔ انھی ستاروں میں سے ایک ستارہ ہیں جناب ڈاکٹر محمد اسلم پرویز اسلم۔ آپ کا تعلق بھاگل پور بہار سے ہے۔ حال ہی میں آپ کی ادبی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے امریکا کی معروف ادبی تنظیم "ادبی سنگم" نے آپ کو بین الاقوامی ادبی اعزاز سے نوازا ہے۔ جس کی تعریف نہ صرف ہندستانی ادبی حلقوں میں ہوئی بلکہ ہندستان سے باہر بھی جہاں جہاں اردو داں طبقہ مقیم ہے، سب نے اس خبر پر مسرت کا اظہار کیا۔
موصوف کا شمار عہد حاضر کے ان فعال قلم کاروں میں ہوتا ہے جن کی تخلیقات آۓے دن ہمیں ملک اور بیرون ملک سے شائع ہونے والے رسائل و جرائد میں دیکھنے کو ملتی رہتی ہیں۔ یوں تو جناب اسلم صاحب نے اردو زبان کی تقریباً سبھی اصناف پر خامہ فرسائی کی ہے۔ جن میں خاص طور پر حمد، نعت، منقبت، رباعی اور غزل قابل ذکر ہیں۔ تاہم ان کو صنفِ رباعی سے خاص دل چسپی ہے۔ تخلیقی سفر ابھی اپنے ابتدائی ایام میں ہے، مگر اس قلیل مدت میں انھوں نے جو کچھ لکھا اس پر عہد حاضر کے نامور ناقدین ادب نے جو رائیں پیش کی ان کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نئے لکھاری کا مستقبل بڑا تابناک ہے۔ اسلم پرویز کی شاعری سے متعلق جن علماے ادب کی آرا شامل کتاب ہیں، ان میں مرحوم شمس الرحمٰن فاروقی، ناوک حمزہ پوری، جیلانی بانو، باصر سلطان کاظمی، مظفر احمد مظفر اور علقمہ شبلی جیسے حضرات کے نام قابل ذکر ہے۔ اب تک اسلم پرویز اسلم کی پانچ کتابیں زیور طباعت سے آراستہ و پیراستہ ہو کر ادبی حلقوں میں داد و تحسین حاصل کر چکی ہیں۔ ان میں "پرواز" جو رباعیات و قطعات پر مشتمل ہے، "شخصیات" یہ شخصی رباعیات پر مبنی ہے، "رباعیات اسماعیل میرٹھی" اس کتاب کو مرتب نے بڑی ہی تلاش و جستجو کے بعد ترتیب دیا ہے، "آہنگ" یہ بھی آپ کی رباعیات پر مبنی کتاب ہے جو ضخامت کے اعتبار سے تو بہت چھوٹی ہے لیکن اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ "آہنگ" کی تمام رباعیات، رباعی کے سب سے مشکل وزن مفعولن مفعولن مفعولن فع/ فاع میں تخلیق کی گئی ہیں۔ رباعی کی شکل میں اس میں جو کلام ہے اس میں ایک سے ایک گوہر نایاب چھپا ہوا ہے جو اپنے قاری سے جوہری کی طرح پرکھنے کا تقاضا کرتا ہے۔ چھٹی کتاب مضامین پر مشتمل یوگی جو اس وقت طباعت کے مرحلے میں ہے. امید ہے کہ عن قریب وہ کتاب بھی ہم سب کے ہاتھوں میں ہوگی۔
زیر نظر مجموعہ بہ عنوان پرواز غزل 112 صفحات پر مشتمل ہے جس کے ابتدائی 13 صفحات ان مشاہیر ادب کے مضامین کے لیے مختص کیے گئے ہیں جنھوں نے متعلقہ مجموعے کے مسودے کا مطالعہ کر اپنے تاثرات کا اظہار کیا ہے۔ کتاب کا انتساب اردو زبان کی مشہور و معروف شاعرہ جو دیارِ غیر میں اردو زبان کی شیرینی سے لوگوں کو عرصہ دراز سے محظوظ کر رہی ہیں، میری مراد عابدہ شیخ صاحبہ سے ہے، کے نام کیا ہے۔ جب کہ کتاب کی پشت کو اپنے احساسات کی زینت بخشی ہے اردو زبان و ادب کی نابغہ روزگار شخصیت ناصر کاظمی کے صاحب زادے باصر سلطان کاظمی صاحب نے۔ جن کے تاثرات کسی بھی کتاب یا مجموعے کے لیے سند کا حکم رکھتے ہیں۔ کتاب کا پہلا مضمون معتبر نوجوان شاعر جناب محمد اسلم پرویز کی دل کش اور وقیع شاعری کے نام سے جناب تنویر پھول صاحب کی نوک قلم سے نکلا ہے۔ جس میں موصوف نے نہ صرف صاحب کتاب کے کلام کی تعریف و توصیف بیان کی ہے بلکہ ان کے فنی نکات پر بھی سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ دوسرا مضمون بہ عنوان غزل کی پرواز کا شاعر ڈاکٹر اسلم پرویز اسلم کے نام سے جناب شفیق مراد صاحب نے قلم بند کیا ہے. اس مضمون میں شفیق صاحب نے صاحب کتاب کی غزلوں سے چیدہ چیدہ اشعار کا انتخاب کر ان کا بھر پور جائزہ لیا ہے۔ تیسرا مضمون پرواز غزل کے نام سے محترمہ ثریا شاہد صاحبہ نے تحریر کیا ہے، جس میں آپ نے جناب اسلم صاحب کا اس میدان خار دار میں اپنی غیر معمولی عروضی صلاحیتوں سے گزر جانے کا بے لاگ لپیٹ اعتراف کیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں انھی کے الفاظ میں:-
” وہ غزل کی بساط پر طبع آزمائی کرتے ہوئے غزل کے تمام لوازمات کو لے کر چلتے اور عروض کی شرائط کی تکمیل کرتے ہوئے سلیقے سے قدم جماتے ہیں۔" ( ص 13 )
چوتھا مضمون بہ عنوان نوجوان نسل کے نمائندہ شاعر : ڈاکٹر محمد اسلم پرویز کے نام سے عالی جناب پروفیسر ڈاکٹر قمر الطاف صاحب حال مقیم اسلام آباد پاکستان نے تحریر کیا ہے، جس میں انھوں نے ایک طرف کتاب کے انتساب پر شاد مانی اور مسرت کا اظہار کیا ہے وہیں دوسری اور اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ موصوف کے کلام میں خداے سخن میر تقی میر کا اثر نمایاں طور پر معلوم ہوتا ہے۔ شامل مجموعہ کچھ غزلیں ایسی ہیں کہ جو سہل ممتنع کی عمدہ ترین مثال ہیں۔ مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ فرمائیں نمونہ کلام:-
(1) کاش! پہلے بدل گیا ہوتا
دن بھی بدلا تو آج بدلا ہے
(2) بے ارادہ کچھ نہیں ملتا یہاں
جس نے چاہا اس کو حاصل ہو گیا
علاوہ ازیں صفحہ نمبر 16 تا 78 مختلف رنگوں کا رنگ لیے ہوئی الگ الگ موضوعات کا احاطہ کرتی ہوئی خوب صورت غزلیں ہیں جن میں ماضی، حال اور مستقبل ہماری آنکھوں میں رقص کرتا ہوا کبھی نہ مٹنے والے نقوش ثبت کرتا چلا جاتا ہے۔ اس مجموعے کے وہ اشعار جنھوں نے دوران مطالعہ مجھے بہت متاثر کیا، میں چاہتا ہوں کہ ان تمام کا اشتراک آپ قارئین کے ساتھ کروں تاکہ آپ تمام کو بھی یہ سمجھنے میں آسانی ہو جائے کہ متعلقہ مجموعے میں کس طرح کے کلام کو ضبط تحریر میں لایا گیا ہے۔
(1) سر قلم اتنی صفائی سے کیا کرتے ہیں
اپنے سر وہ کوئی الزام نہیں لیتے
(2) مسجدیں توڑ کے مندر کو بنانے کے لیے
آپ لیتے ہیں زمیں رام نہیں لیتے ہیں
(3) جھوٹ کو پھر جتا دیا اس نے
سچ کو آخر ہرا دیا اس نے
(4) سمندر کہاں میں نے مانگا ہے اسلم
فقط ایک قطرے کی خواہش تو کی ہے
بقیہ صفحات 79 تا 112 متذکرہ کتاب اور مصنف کی دیگر کتب پر ادب پرور اور شائقین اردو کے تاثراتی مکتوبات کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ ان سے یہ اندازا لگانا قطعی مشکل نہیں کہ صاحب کتاب ادبی حلقوں میں اپنی الگ پہچان اور منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ آپ کے شعری درک کا اعتراف کرتے ہوئے جناب عظیم الرحمٰن اپنے ایک مضمون میں یوں حق بہ جانب ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں:-
"اسلم پرویز اردو کا سب سے کم عمر پختہ رباعی گو شاعر ہی نہیں بلکہ اردو شعر و ادب کا ایک مستقل ادارہ ہے۔ اخلاقیات اور ایمانیات کے میدان میں ایک قندیل رہبانی ہے۔ اتنی کم عمری میں ایسا روشن ستارہ کم ہی نمودار ہوتا ہے۔ " ( ص نمبر 85 )
حاصل کلام یہ ہے کہ موصوف آنے والی نسلوں کے لیے ادب کے لحاظ سے ایک بہت بڑا سرمایہ ہیں، جن کے اندر منجھا ہوا قلم کار چھپا ہوا ہے۔ میرے ناقص علم کے مطابق آپ نے جتنی بھی اصناف سخن میں طبع آزمائی کی ہے اس میں نہ صرف آپ کامیاب ہیں بلکہ سرخروئی کے جھنڈے بھی گاڑ دیے ہیں۔ اردو کے ادیبوں سے درخواست ہے، جن میں ہمارے قارئین اور ناقدین دونوں شامل ہیں کہ وہ اپنے مطالعہ اور تنقید کا مرکز معدودے چند شعرا اور قلم کار ہی کو نہ بنائیں بلکہ نئے شعرا اور قلم کاروں کی نگارشات کو بھی زیر مطالعہ لائیں اور ببانگ دہل اپنی مثبت اور منفی رائے کا اظہار کریں۔ امید کرتا ہوں کہ آپ تمام ڈاکٹر اسلم پرویز اسلم کے اس مجموعے کو بھی ہمیشہ کی طرح دیگر مجموعوں کی سی شرف قبولیت بخشیں گے۔ مطالعہ کے شوقین حضرات کتاب کی حصولیابی کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ قائم کر سکتے ہیں۔
6205628961
***
محمد انعام برنی کی گذشتہ نگارش:کتاب: روداد قفس

شیئر کیجیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے