یوم عاشور اور مسلمان

یوم عاشور اور مسلمان

سید عارف سعید بخاری، پاکستان 
Email:arifsaeedbukhari@gmail.com

ماہ محرم الحرام ادب و احترام کے ساتھ اسلامی فرائض پورا کرنے کا مہینہ ہے، جب کہ یوم عاشور یعنی کہ 10 محرم کا دن اسلام میں نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ دن صرف ایک مکتب فکر کے لیے مخصوص نہیں بل کہ دنیا کے تمام مسلمانوں کے لیے اہمیت کا حامل ہے. کیوں کہ 10 محرم کے روز دنیا کے پہلے انسان اور سب سے پہلے نبی حضرت آدم ؑکی توبہ اللہ کے حضور میں قبول ہوئی تھی، اسی دن حضرت عیسیٰ ؑ کو آسمان کی جانب اٹھایا گیا تھا، حضرت موسی ؑ کو اسی دن فرعون سے نجات ملی اور فرعون غرق ہوا، اسی دن حضرت یونس ؑ کو مچھلی کے پیٹ سے نکالا گیا تھا، دسویں محرم کو ہی حضرت نوح ؑ کی کشتی بھی بحکم اللہ طوفان سے باہر آئی تھی، حضرت ابراہیم ؑ کی ولادت کی اسی دن ہوئی۔ اسی دن انہیں خلیل بنایا گیا اور آگ سے نجات ملی۔حضرت داؤد ؑ کی توبہ بھی اسی دن قبول ہوئی۔ حضرت سلیمان ؑ کو اسی دن بادشاہی ملی۔ اور اسی روز نبی کریم ﷺ کے پیارے نواسے حضرت امام حسین ؓ اور ان کے ساتھ ان کے 72جاں نثاروں کو بھی میدان کربلا میں شہید کر دیا گیا جو کہ اسلامی تاریخ میں ایک ایسا سانحہ ہے جس کو عالم اسلام میں رہتی دنیا تک یاد کیا جاتا رہے گا۔ حضرت امام حسین ؑ نے یزید کی بیعت نہ کرکے حق و صداقت کا پرچم سربلند کیا۔ اسلامی تاریخ میں واقعۂ کربلا کی اہمیت مسلمہ ہے. جب کہ 9 اور 10 محرم کو شہدائے کربلا پر ظلم وستم کے جو پہاڑ توڑے گئے وہ عالمِ انسانیت کے لیے آج بھی ایک سوالیہ نشان ہیں۔
یوم عاشور پر روزہ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے، حضورِ اقدس صلی اللہ وعلیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ”مجھے اللہ جل شانہ کی رحمت سے یہ امید ہے کہ جو شخص عاشورہ کا روزہ رکھے تو اس کے پچھلے ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ادا ہو جائے گا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص یوم عاشورہ کا روزہ رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اسے ہزار فرشتوں کا ثواب مرحمت فرماتے ہیں۔ جو شخص عاشورہ کا روزہ رکھتا ہے اسے دس ہزار حج اور عمرہ کرنے والوں کا ثواب ملتا ہے اور دس ہزار شہیدوں کا اور جوکوئی عاشورہ کے دن کسی یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرتا ہے اللہ تعالیٰ ہربال کے عوض اس کا ایک درجہ بلند فرماتے ہیں اور جو شخص عاشورہ کی شام کسی مسلمان کا روزہ افطار کرتا ہے وہ ایسا ہے گویا اس نے تمام امت محمدیہ کو روزہ افطار کرایا اور انھیں پیٹ بھر کے کھانا کھلایا۔
ایک حدیث میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد منقول ہے کہ”جو شخص عاشورہ کے دن اپنے گھر والوں اور ان لوگوں پر جو اس کے عیال میں ہے، (مثلاً اس کے بیوی بچے، گھر کے ملازم وغیرہ) ان کو عام دنوں کے مقابلے میں عمدہ اور اچھا کھانا کھلائے اور کھانے میں وسعت اختیار کرے۔ تو اللہ تعالی اس کی روزی میں برکت عطا فرمائیں گے۔ لہذا اس دن گھر والوں پر کھانے میں وسعت کرنا چاہیے، اپنے دسترخوان کو وسیع کرنا چاہیے۔ کیوں کہ ہمارا یہ عمل خیر و برکت کا سبب ہے۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جنگ کی ایک سمت تو حضرت امام حسین ؓ کا قافلہ تھا جس نے بہادری، جرات و شجاعت اور صبر و استقلال کی وہ مثالیں قائم کیں جنھیں رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا جب کہ ان کے مقابلے پر موجود افراد نے بھی خود کو مسلمان ہی کہا۔ایسے مسلمان جو اسلام کے ساتھ ساتھ انسانیت کے نام پر بھی دھبا تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ واقعۂ کربلا کسی سیاست اور اقتدار کی جنگ کی بجائے صرف اور صرف بقائے اسلام کی جنگ تھی۔ یزید حضرت امام حسین ؓ سے بیعت چاہتا تھا جب کہ امام حسین ؓ نے یہ بیعت اِس لیے نہ کی کیوں کہ آپ شریعتِ اسلامی کا نفاذ چاہتے تھے۔
خاندانِ رسول کو ظالمانہ اور وحشیانہ انداز میں شہید کرنے سے ثابت ہوتا ہے کہ یزید کے ذہن میں رسول اکرم ﷺ یا آپ ﷺ کے خاندان کا کوئی احترام یا لحاظ نہیں تھا۔ کوفہ میں موجود مسلمانوں نے ہزاروں کی تعداد میں خطوط لکھے اور حضرت امام حسین ؓ کو کوفہ آنے کی دعوت دی، تاہم جنگِ کربلا میں اہلِ کوفہ نے وفا نہ کی، خود کوفی تو پیچھے ہٹ گئے لیکن حضرت امام حسینؓ نے یہ جنگ آخری دم تک لڑی۔ کربلا میں حضرت امام حسین ؓ کے قافلے پر پانی بند کردیا گیا۔ سنہ 61 ہجری میں 9 محرم تک یزید کی بیعت کے لیے زبردست دبا ؤڈالا گیا لیکن حضرت امام حسین ؓ نے فرمایا کہ میں بیعت نہیں کرسکتا۔ مکہ واپس جاناچاہتا ہوں، میرا راستہ چھوڑ دیا جائے لیکن یزید کے لشکر نے انکار کردیا۔صرف 72 ساتھیوں کے ہم راہ ہزاروں کی فوج کا مقابلہ کرنے کے لیے حضرت امام حسین ؓ میدانِ کربلا میں نکلے۔ 10 محرم کے روز جنگ میں ایک ایک کرکے تمام رفقا نے جامِ شہادت نوش کیا۔
حسب روایت امسال بھی یوم عاشورہ کے موقع پر پورے ملک میں ماتمی جلوس نکالے جائیں گے، مجالس عزا برپا کی جائیں گی، دعائیہ محافل میں مصائب اہل بیت اطہار بیان کیے جائیں گے۔ ایک لمحہ ماضی اور حال کے مذہبی ماحول کا جائزہ لیا جائے تو گذشتہ چالیس پچاس برس قبل ماہ محرم الحرم، یوم عاشور اور عید میلادالنبی ؐ کے جلوس مسلم امہ کی مذہبی اخوت و رواداری کا نمونہ ہوا کرتے تھے۔ ان جلوسوں میں سبھی مسلمان مشترکہ طور پر شریک ہوتے، کسی قسم کا تفرقہ دیکھنے میں نہیں آتا تھا۔ جلوسوں کے راستوں میں بچے بوڑھے اور جوان حتی ٰکہ خواتین بھی ارد گرد کی چھتوں پر موجود ہوتی تھیں۔ پانی کی سبیلیں لگائی جاتی تھیں، لنگر تقسیم کیا جاتا تھا، لیکن گذشتہ چند سالوں میں سارا ماحول ہی بدل چکا ہے۔ ہماری صفوں میں ایسے اسلام و پاکستان دشمن عناصر گھس گئے ہیں کہ جو جان بوجھ کر ماحول کو پراگندہ کر کے تفرقہ بازی کو ہوا دینے کی سازشوں کو پروان چڑھا رہے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے اندر موجود ملک و اسلام دشمن عناصر کو پہچانیں، اسلام امن پسندی کا مذہب ہے اور ہم سبھی کو حضرت امام حسینؓ کی صبر و تحمل والی زندگی سے سبق لینا چاہئے۔ ماہ محرم الحرام کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھیں، تمام مسلمان سنجیدگی کا مظاہرہ کریں اور صبر و ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے اخوت، محبت و بھائی چارے کو فروغ دیتے ہوئے تفرقہ بازی سے پرہیز کریں، مذہبی عقائد کے مطابق ہر مکتب فکرکو آزادی سے اپنے فرائض ادا کرنے کا موقع دینا چاہئے۔ یہی اسلام ہے کہ ہم کسی دوسرے کے عقائد کو نہ چھیڑیں اورایک دوسرے کو برداشت کرنے کی عادت اپنائیں۔ تفرقہ بازی نے ہماری ملکی سلامتی کو خطرات سے دوچار کر رکھا ہے۔ ایسے میں ہمیں ملک و ملت کی بقا کے لیے اسلامی تعلیمات کے مطابق اتحاد بین المسلیمین کا عملی مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اسی میں ہماری بقا ہے۔

شیئر کیجیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے