دکھتی رگ پر انگلی رکھنے والا افسانہ نگار: خالد بشیر تلگامی

دکھتی رگ پر انگلی رکھنے والا افسانہ نگار: خالد بشیر تلگامی

تنویر اختر رومانی

منی افسانوں/ افسانچوں کے سرخیل سعادت حسن منٹو سے لے کر افسانچوں کے کفیل خالد بشیر تلگامی تک اس صنف کا ایک بڑا کارواں بن گیا ہے، جس میں کئی لوگ قائدانہ کردار ادا کررہے ہیں تو کچھ رہبری فرمارہے ہیں اور کچھ ہم قدم ہوکر کارواں کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔
اس وقت ہندوپاک میں سو سے زاید قلم کار افسانچے کو اس کا ”جائز مقام“ دلانے میں دن رات کوشاں ہیں۔ اپنی مخلصانہ تگ و دو اور سعی جمیل سے جن افسانچہ نگاروں نے اس صنف کو بامِ عروج پر پہنچایا ہے ان میں مرحوم مناظر عاشق ہرگانوی، مرحوم ایم اے حق، رونق جمال، ایم اے راہی، عبد العزیز خان، اسلم جمشیدپوری، قیوم اثر، نخشب مسعود، پرویز بلگرامی، محترمہ نعیمہ جعفری پاشا، ڈاکٹر یاسمین اختر، محترمہ مسرور تمنا، محمد علی صدیقی، سراج فاروقی، محمد علیم اسماعیل اور اس ناچیز کے نام لیے جاسکتے ہیں۔ یہ فہرست طویل ہے۔ افسانہ نگاروں کے اس مجمع میں ایک نمایاں نام خالد بشیر تلگامی کا بھی ہے۔ وہ افسانچے لکھنے کے ساتھ وہاٹس گروپ”گلشنِ افسانچہ“ کے توسل سے نشر کرنے کا بھی اہتمام کرتے ہیں۔
منٹو اپنے افسانچوں میں سماج کے زخموں کی نشان دہی کرتے تھے جب کہ خالد بشیر نہ صرف معاشرت کے زخموں اور سیاست، سیادت، قیادت کے امراض کی نشان دہی کرنے بلکہ سماج کی دکھتی رگوں پر انگلی رکھنے کا”فریضہ“ بھی انجام دیتے ہیں۔ دونوں کے اپنے اپنے طرزِ نگارش ہیں!
”دکھتی رگ“ خالد بشیر کے افسانچوں کا پہلا مجموعہ ہوگا۔ میں نے اس مجموعے کے سبھی افسانچوں کا لفظ بہ لفظ کم از کم تین بار مطالعہ کیا ہے۔ گرچہ اس مجموعے میں ”دکھتی رگ“ نام کا کوئی افسانچہ نہیں ہے لیکن اگر آپ چاہیں تو مجموعے کے ہر افسانے کو اسی نام سے موسوم کرسکتے ہیں کیونکہ ہر افسانچہ معاشرتِ انسانی کی کسی نہ کسی دکھتی رگ سے عبارت ہے۔
اس مجموعے میں ایک سو سات افسانچے ہیں۔ سبھی کا احتساب کرنا اس مختصر مضمون کی اخلاقیات اجازت نہیں دیتی۔ میں نے افسانچوں کے اس جم غفیر سے دس ایسے افسانچوں کا انتخاب کیا ہے، جن سے موصوف کے فن، ان کی مہارت کا پتا چلتا ہے۔ معاشرت کے تئیں ان کے خیالات و میلانات، نوعِ انسانی کے لیے ان کی دردمندی، ظلم و جبر اور نا انصافیوں پر ان کی فکرمندی عیاں ہوتی ہے۔
خالد بشیر تلگامی کے افسانچوں کی قرأت سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ذاتی کرب، انسانی درد، لسانی ملال، سیاسی جلال، کشمیری غم، ملّی الم، ملکی ستم سے بے حد بے چین ہیں۔ ان کی یہ بے چینی الفاظ کے جامے میں، افسانچوں کے پیکر میں ڈھلتی ہے۔ ایسا ایک مدت کے تجربات اور گہرے مشاہدات پر منتج ہوتا ہے۔ اتنی کم عمری میں یہ تجربات و مشاہدات! مرحباخالد بشیر!!
ملت اسلامیہ میں پیری مریدی ایک صنعت کا درجہ حاصل کرچکی ہے۔ ڈھونگی پیر دنیوی مال و متاع کے حصول کی خاطر کیسے کیسے حربے اپناتے ہیں، اپنے عقیدت مندوں، مخلص مریدوں کا کس کس نہج سے استحصال کرتے ہیں، اس کی ایک بہت سچّی اور چشم کشا تصویر کھینچی ہے خالد بشیر نے اپنے افسانچے ”شارٹ کٹ“ میں۔ بھلا بتائیے! دم کیا ہوا پانی پی کر کوئی شخص کروڑ پتی بن سکتا ہے؟ لیکن سادہ لوح اور کم زور ایمان والے مسلمانوں کو دنیا طلب مرشد اسی طرح بے وقوف بناتے ہیں اور دولت مند بنانے کے شارٹ کٹ راستے بتاتے ہیں۔ پیری مریدی کی غلط روش پر کاری ضرب لگاتا یہ افسانچہ ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔
خالقِ کائنات نے اپنے لاریب صحیفے میں اور شارع علیہ السلام نے اپنے حدیث زریں میں والدین کی خدمت اور ان کی خوشنودی پر جس جنت کی بشارت دی ہے، اس کو آج کی اولاد فراموش کرچکی ہے۔ اسے جنتِ اخروی سے زیادہ جنتِ ارضی کا خیال رہتا ہے۔ اس عہد میں اولادیں اپنی دنیا بنانے کی حرص میں اجرِ آخرت کو فراموش کر بیٹھی ہیں۔ اس درد و کرب کو افسانچہ رنگ میں دیکھنا ہو تو ”لاوارث“ کی قرأت کیجئے۔ ایک باپ جو اپنے بیٹے کی پرورش، اس کی تعلیم و تربیت، اس کی ترقی، اس کی خواہشات، اس کی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے اپنی حیاتِ فانی کا ایک بڑا سرمایہ وقف کر دیتا ہے، بیٹے کے لیے اپنا سب کچھ تج دیتا ہے، اسی بیٹے کے پاس باپ کی دل جوئی کے لیے چند ساعتوں کی بھی فرصت نہیں رہتی۔ آخر باپ کو وصیت کرنا پڑتی ہے:

”بیٹے، تم جیتے جی مجھ سے کبھی ملنے نہیں آئے۔ اب مرنے کے بعد آئے ہو تو مہربانی کرکے میری قبر پر یہ کتبہ لگوادینا….. میں ایک لاوارث باپ ہوں۔“

اس جملے سے باپ کے قلبی ملال اور ذہنی کرب کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ کاش! کوئی ایسا بیٹا اس افسانچے کو پڑھ لیتا۔
آج ہمارے وطنِ عزیز میں بے روزگاری کا ناگ پھن کاڑھے کھڑا ہے۔ بے روزگاری ایک بہت سنگین مسئلے کے طور پر ہمارے نوجوانوں کے سامنے ہے۔ اور کچھ لوگ ایسے ہیں کہ اس سنگینی میں بھی خوش گواری تلاش کرلیتے ہیں۔ کل کارخانوں، فرموں کے دولت مند مالکان مزید دولت کی حرص میں بے روزگاروں کا کس کس ڈھنگ سے استحصال کرتے ہیں، ان کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے کیسی کیسی حکمتیں بروئے کار لاتے ہیں، ان کی ایک دل دوز جھلک آپ افسانچہ”فارمولا“ میں دیکھ سکتے ہیں۔ اس ملک کا کتنا بڑا المیہ ہے کہ پانچ اسامیوں کے لیے پچاس ہزار سے زاید درخواستیں آتی ہیں۔ ظاہر ہے ان درخواستوں کے صلے میں مالکان کے ہزاروں کا کیا لاکھوں روپے کے وارے نیارے ہوجاتے ہیں۔اب تو نجی فرموں کے مالکان ہی نہیں بعض ریاستی حکومتیں بھی یہ حربہ اپنانے لگی ہیں۔ اللہ خیر کرے!
”المیہ“ تو سچ مچ ایک المیہ کہانی ہے۔ یہ المیہ نہیں تو اور کیا ہے کہ ایک قلم کار نے زندگی بھر جن کتابوں کو خرید خرید کر جمع کیا ہو، ان کے لیے بیٹا کہتا ہے کہ آپ کے مرنے کے بعد تو کسی کو ان کتابوں سے مطلب نہیں، اس لیے انہیں ردّی والے کو بیچ دوں گا۔
ٹیلی ویژن، موبائیل فون، سوشل میڈیا، انٹرنیٹ نے ہماری نسلِ نو کی جو ذہنی تربیت کر رکھی ہے، یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ وہ کتابوں، رسالوں اور صحیفوں سے بہت دور ہوگئی ہے۔ اس معاملے میں ابّا حضور کم قصور وار نہیں ہیں کہ انھوں نے اپنے نورِ نظر کی ایسی تربیت ہی نہیں کی ہے جس سے اس کو کتابوں سے دل چسپی ہو، دل بستگی ہو۔
ہم عام دنوں میں چاہے جس طرح زندگی گزارتے ہوں لیکن رمضان المبارک میں ہماری روزمرہ کی زندگی بہت سی باتوں کی پابند ہوجاتی ہے۔ ماہِ رمضان میں ہمارا رویہ، ہمارا سلوک، ہماری عبادتیں، ہمارے اعمال، ہمارے اذکار و افکار، ہمارا جذبۂ ایمانی، ہمارا اخلاق و انفاق، ہماری نظر و بصر، ہمارا کردار و گفتار سب کچھ احترامِ رمضان کے تابع ہوجاتا ہے۔ ہمارے احوالِ زندگی میں یکسر تبدیلی آجاتی ہے۔ اور جیسے ہی رمضان ختم ہوتاہے، اُدھر شیطان پابندِ سلاسل سے آزاد ہوتا ہے تو اِدھر ہم آپے سے باہر ہوجاتے ہیں۔ احترامِ رمضان کی تصویر کشی کرتا افسانچہ ”احترام“ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ غیر رمضان میں بھی ہم اپنی عبادت، تجارت، معاشرت کو رمضان والے حدود و قیود کا پابند بنائیں۔ رمضان میں جب دودھ گاڑھا یا خالص بیچتے ہیں تو عام دنوں میں پانی کیوں ملاتے ہیں؟ اور دیکھیے یہ کام ایک مسلمان امجد خان صاحب کرتے ہیں۔ واقیمو الوزن بالقسط ولا تخسروالمیزان! یہ قرآنی حکم کیوں یاد نہیں رہتا؟
لاک ڈاؤن نے انسانی زندگی کو عجیب سے المیے سے دوچار کردیا ہے۔ سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر، بڑے پیمانے پر نوکریوں کا خاتمہ ایک نہایت سنگین مسئلہ بن گیا ہے۔ معاش و روزگار کے بے شمار دروازے بند ہوگیے ہیں۔ مذہبی، تعلیمی، معاشی، کاروباری ادارے خوفناک قسم کے کرب و بلا کے شکار ہیں۔ ایسی صورت حال کا مارا ایک ٹیچر اپنے اہل و عیال کی فاقہ کشی سے پریشان ہو کر جب ایک سیٹھ کے آگے نوکری کے لیے ہاتھ پھیلاتا ہے توجانتے ہیں سیٹھ نے اسے کیا کام دیا؟ اپنے پالتو کتّے کی دیکھ بھال کا! لاک ڈاؤن نے ہمارے لیے المیہ کے کون کون سے دروازے وا کیے ہیں، جاننے کے لیے افسانچہ ”کتّے کا باپ“ پڑھیے۔
خود غرض، مطلبی اور ابن الوقت قسم کے لوگوں میں ریاکاری عام ہے۔ سرکاری افسران، سیاست دان تو عوام کے لیے کوئی چھوٹا سا بھی کام کرتے ہیں تو اس کا بڑا پروپیگنڈہ کرتے ہیں۔ اپنی تصویریں اس طرح کھنچواتے ہیں کہ لگے عوام الناس کے لیے ساری بھلائیاں ان ہی کے دم سے ہیں۔ آج سوشل میڈیانے تو ہماری سوچ فکر کو ایسا مہمیز کیا ہے کہ اب کوئی مسلمان شخص، کوئی مسلم ادارہ بھی کسی طرح کامفادِ عامہ کا کام کرتا ہے تو پبلسٹی، اشتہار بازی کا موقع نہیں گنواتا۔ شہرت حاصل کرنے کا سہل اور کارگر طریقہ ہوگیا ہے۔ ایسی ریاکاری کو دیکھنے کے لیے ”طریقہ“ پڑھیے لیکن اگر آپ سچے مسلمان ہیں تو اس پر عمل مت کیجئے۔
عالمی وبا ”کورونا“ کی قہر سامانی کو دیکھ کر، سن کر، جان کر دل دہل اٹھتا ہے۔ اگر اس وبا سے ہونے والی اموات کو دیکھ کر کسی معصوم بچّی کی موت ہوجائے تو اس سے زیادہ دردناک بات اور کیا ہوسکتی ہے۔ اس دردناکی کو خالد بشیر نے افسانچہ ”قہر“ میں پیش کیا ہے۔ خلیل صاحب کی دس سالہ بیٹی شاذی وہاٹس ایپ پر اٹلی میں مرنے والوں اور ان کے لواحقین کے ماتم کرنے کا ویڈیو دیکھ کر مارے دہشت کے دم توڑ دیتی ہے۔ مجھے یہ بات تھوڑی غیر فطری لگتی ہے۔ ممکن ہے کہیں ایسا واقعہ ہوا ہو۔
افسانچہ ”روبوٹ“ میں باپ بیٹے کا یہ مکالمہ ملاحظہ فرمائیں:
بیٹا: پاپا، دیکھیے یہ عورت اس موبائیل میں کیسے فٹا فٹ روٹی، سبزی، چاول، چائے سب چیز تیار کررہی ہے۔
باپ: …..یہ عورت نہیں ہے….یہ ایک روبوٹ ہے….جانتے ہو روبوٹ کیسا ہوتا ہے؟
بیٹا: ہاں پاپا….ممّا جیسا۔
آج ہمارے گھروں میں ”گھریلو خواتین“ کا کیا حالِ زار ہے، اس کو بیٹے کا جواب عیاں کردیتا ہے۔ اگر روبوٹ کچن میں ”بیوی“ کے سارے فرائض انجام دے سکتا ہے تو یہ افسانچہ واقعی الم انگیز ہے۔ دنیا کے سارے دولت مندوں کو روبوٹ کی خدمات حاصل کرلینا چاہیے۔ کم از کم بیوی کو باورچی خانے کے ”عذاب“ سے نجات مل جائے گی۔
”بلی“ نسبتاً کچھ طویل افسانچہ ہے۔ کشمیر کسی زمانے میں جنت نظیر جنت ارضی سے موسوم تھا۔ آج یہ خطۂ ارضی ہندستان کے جغرافیائی نقشے پر تو ہے لیکن ”ہمارے“ دلوں پر نقش نہیں ہے۔ کشمیر تو ہمارا ہے لیکن کشمیری ہمارے نہیں ہیں۔ کئی دہائیوں سے ان کے ساتھ جو متعصبانہ رویّہ روا رکھا گیا ہے، وہ انتہائی جانکاہ ہے۔ اگرسیاسی گروہ، مذہبی گروہ کشمیریوں کی بلی چڑھانے میں درد محسوس نہیں کرتے تو کشمیریوں کو اتنا ”دکھ“ نہیں ہوتا۔ لیکن کشمیریوں کی بلی چڑھانے میں کچھ سرکاری ”اعلیٰ حضرات“ بھی پیش پیش رہے ہیں۔ یوں تو کشمیر المیے پر کئی افسانے، ناول لکھے گیے ہیں، لیکن افسانچہ شاید یہ پہلا ہے۔ خالد بشیر تلگامی کا تعلق کشمیر سے ہے۔ وہ اس حزن وملال کو مدتِ طویل سے جھیل رہے ہیں۔ اس لیے ان کا قلم اس کرب و غم کو بیان کرنے سے رک نہیں سکا۔ انسانی جان کا اتلاف بلکہ جانوروں کی ہلاکت کا المیہ تو ہر کس و ناکس کو بے چین کردیتا ہے لیکن کشمیریوں کی جانوں کے اتلاف پر ہم کتنے بے چین ہوتے ہیں؟ یہ سوال انسانوں کی بلی دینے والے گروہ سے کیا جانا چاہیے۔
ہماری روح تک کو المناکیوں سے ہمکنار کرنے والے، افسانچہ ”بلی“ کا یہ اقتباس ذرا دیکھیں۔

”اتناہی جانتا ہوں جتنا نیوز چینلوں پر دکھایا جاتا ہے….میں تو بچپن میں ہی کشمیر چھوڑ کر دہلی مزدوری کرنے کے لیے چلا گیا تھا۔“
”دیکھو میرے بچے!….اس شہر کو کالے ناگوں نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے….اور ہر روز خیالی دیوتا کی خوشنودی کے لیے یہاں بے گناہ انسانوں کی بلی چڑھاتے ہیں….کب کس کی بلی چڑھادی جائے گی یہ کوئی نہیں جانتا۔“

یہ اقتباس کشمیر کی موجودہ صورت حال کی پوری اور سچی عکاسی کرتا ہے۔ افسانچہ ”بلی“ خالد بشیر کے قلبی واردات کا المناک اظہاریہ ہے۔
یہ تھا چند مخصوص افسانچوں کا جائزہ۔ اگر ہم خالد بشیر کی افسانچہ نگاری پر اجمالی نگاہ ڈالیں تو چند امتیازات محسوس ہوں گے۔
) بیش تر افسانچے مسلم معاشرت، مسلم کردار پر مبنی ہیں۔
) زیادہ تر افسانچے کرداروں کے باہمی مکالموں پر منحصر ہیں۔
) خالد بشیر پنچ لائن سے قارئین کو متاثر کرنے کا اہتمام کرتے ہیں۔
) کلائمکس پر چونکانے کا التزام بھی کرتے ہیں۔ لیکن دو تین افسانچوں کو چھوڑکر ”او ہنری کلائمکس“ نہیں ہو سکا ہے۔ نیز اس اہتمام و التزام کی وجہ سے بعض افسانچوں میں حقائق، فطری تقاضوں سے غیر شعوری طور پر صرف نظر کر جاتے ہیں۔
) ہر افسانچے کے بین السطور میں قارئین کے لیے ایک مثبت پیغام پنہاں رہتا ہے۔
خالد بشیر افسانچہ نگاروں کے کارواں میں اپنی شناخت بنانے کی جہدِ مسلسل کر رہے ہیں۔ یقین واثق ہے کہ اس مجموعے سے ان کی ایک شناخت بن جائے گی۔ میں دعاگو ہوں!
آپ یہ بھی پڑھ سکتے ہیں :بالیدہ شعور کا آئینہ: دکھتی رگ

شیئر کیجیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے