شب خون

شب خون

نذیرؔ فتح پوری

یہ معلوم نہیں کب کا زما نہ تھا، ممکن ہے بہت پہلے کا ہو، ممکن ہے آج کا ہی ہو۔
رات بہت اندھیری تھی۔ بستی میں بجلی اچانک غائب ہوگئی تھی۔ ہاتھ سے ہا تھ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔ میں نے اُٹھ کر دیا سلائی تلاش کی اور دیا سلائی جلا کر اس کی روشنی میں موم بتی تلاش کرنے لگا۔ موم بتی تلاش کرتے کرتے تین چار دیا سلائی بجھ چکی تھیں، پتا نہیں مری بیوی نے موم بتی کا پیکٹ کہاں چھوڑا۔ بیوی……بچوں کے سا تھ کچھ دنوں کے لیے میکہ گئی ہوئی تھی۔ یہ ہندستانی بیویاں بھی غضب کی ہو تی ہیں۔ گھر سے جب جاتی ہیں تو گھر کا گھر اپنے سا تھ اُٹھا کر لے جاتی ہیں۔ اب دیکھیے موم بتی بھی اپنے سا تھ اُٹھا کر لے گئی میری بیوی۔ اچھا ہوا کہ دیا سلائی میں اپنے سرہانے لے کر سویا تھا ورنہ اس بھیانک اندھیرے میں دیا سلائی کی تلاش میں کہاں ہاتھ پیر ما رتا۔ غالباً یہ ساتویں دیا سلائی تھی۔ جو ابھی ابھی میں نے روشن کی تھی. دیا سلائی کی روشنی ہوتے ہی مجھے الما ری کے ایک حصّے میں موم بتیوں کا پیکٹ مل گیا. میں یوں خوش ہوا جیسے ساتویں دیا سلائی کے سا تھ میں نے حاتم طائی کے سات سوالوں کا جواب تلاش کرلیا۔ میں بہت خوش تھا۔ خوامخواہ میں بیوی پر ناراض ہورہا تھا۔ بیوی صرف بچوں کے سا تھ میکہ گئی تھی۔ گھر کا گھر تو یہیں اسی گھر میں اِدھر اُدھر چھپا کر سلیقے سے چھوڑ گئی تھی۔ مرد اپنی ساری غیر ذمہ داریاں بڑی آسانی کے سا تھ بیویوں کے سر منڈ دیتے ہیں۔ میں نے بھی یہی کیا تھا۔ بیوی کے جانے کے بعد یہ پہلی رات تو تھی اور کسی چیز کے لیے یہ میری تلاش بھی پہلی تھی۔ میں جو چھپے خزانے تلاش کرنے والا ایک محقق، ساری دنیا نے جس کی تحقیق و تلاش کا لوہا مانا ہے اسے اپنے ہی گھر میں ایک موم بتی تلاش کرنے میں دانتوں پسینے آگئے۔ لیکن میری انانیت مجھے اپنی غلطی کا اعتراف کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ میں تو بیوی پر ہی برس کر رہ گیا ہوں لیکن اچانک یہ بجلی کو کیا ہوا؟ یہ کہاں چلی گئی؟ میں نے موم بتی جلا کر سیدھے ہاتھ میں پکڑلی اور بائیں ہاتھ سے چھجہ بناکر موم بتی کی ہوا سے حفاظت کرتے ہوئے کمرے سے با ہر نکلا۔ میرے چھوٹے سے صحن میں بھی اندھیرا تھا۔ صحن میں لگے دونوں پیڑوں پر جب میری نظر پڑی تو ایک خوف میرے جسم میں سرسرا گیا۔ میں واقعی ڈر گیا۔ دونوں پیڑ مجھے اپنی شا خوں اور ٹہنیوں کے سا تھ اندھیرے کا لباس پہنے ہوئے کسی عفریت کی طرح نظر آئے۔ میری آگے بڑھنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ میں نے ایک موم بتی اپنی جیب میں رکھ لی تھی اور اپنے پڑوسی کو دینے کے لیے جارہا تھا۔ مجھے یقین تھا کہ پڑوسی کے گھر میں بھی یقیناً اندھیرا ہوگا۔ مجھے یہ خیال پریشان کررہا تھا کہ میرے گھر میں اُجالا ہو اور پڑوسی کا گھر اندھیرے کی چادر میں لپٹا رہے۔ دروازے کے سامنے کھڑے کھڑے میں نے پلٹ کر کمرے کی دیوار کی جانب دیکھا تو دیوار پر مجھے اپنا ہی سا یہ پھیلا ہوا نظر آیا۔ میں سہم گیا۔ اندھیرا کتنے روپ دکھا تا ہے۔ آدمی اپنے ہی سائے سے بھی ڈر جا تا ہے۔
میں نے ہمت بٹوری اور مکان کے صدر دروازے سے باہر آگیا. پوری بستی اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھی۔ میر ی آہٹ پاکر کتّے بھونکنے لگے۔ ہوا کا ایک جھونکا ذرا تیز رفتاری کے سا تھ آیا تو موم بتی کا سر قلم کرکے چلا گیا۔ یا اللہ۔ یہ اندھیرا کسی قبر کے اندھیرے سے کم نہ تھا۔ مجھے دیا سلائی کی یاد آئی۔ میں دیا سلائی گھر ہی میں بھول آیا تھا۔ ایک لمحے کے لیے میں جہاں تھا وہی جم کر رہ گیا تھا۔ آگے بڑھنے کی مجھ میں ہمت نہیں تھی۔ پیچھے قدم ہٹانے کاحو صلہ بھی نہ تھا۔ کتّوں کی بھونکنے کی آوازوں میں اضا فہ ہوگیا تھا۔ لگ رہا تھا بستی کے سارے کتّے ایک سا تھ مل کر مجھ پر حملہ کرنے والے ہیں۔ کتّوں کا یہ اتحاد دیکھ کر مجھے تعجب ہوا۔ کتّے آدمی کے خلاف متحد ہو جاتے ہیں۔ یہ میں نے پہلی بار محسوس کیا۔ میں نے پھر اپنی ہمت کی ٹوٹی ہوئی کر چیوں کو یکجا کیا۔ اگر میں گھر میں نہیں گیا تو یہ کتّے مجھے پھمبھوڑ کر کھا جائیں گے. اندھیرے میں کتّوں کے نوکیلے دانت مجھے چمکتے نظر آئے۔ مجھے لگا جیسے سا ری بستی کتوں کے نرغے میں گھِر چکی ہے۔ کون بچائے گا کتوں سے اس بستی کو… پھر مجھے کتوں کے سا تھ کچھ انسانوں کے بھونکنے کی آواز بھی آنے لگی۔ میں سمجھ نہیں پارہا تھا کہ کتے انسانوں کے سا تھ مل کر بھونک رہے تھے یا انسان کتوں کے ہمنوا بن گئے۔ کچھ بھی ہو دونوں میرے لیے مہلک تھے۔ بے حد خطر ناک۔ اگر دونوں نے مل کر مجھ پر حملہ کردیا تو مجھے کون بچائے گا۔ میں اپنا تحفظ کیسے کرسکوں گا۔ میرے ہاتھ میں بجھی ہوئی موم بتی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ موم بتی آدھی جل کر پگھل چکی ہے۔ میں اسے جلا کر اندھیرے سے مقا بلہ تو کر سکتا ہوں لیکن کتوں اور کتوں کے سا تھ بھونکنے والے انسانوں سے مقابلے کے لیے تو ہتھیاروں کی ضرورت ہے۔ میرے پاس تو ایک معمولی سا ڈنڈا بھی نہیں ہے۔ مجھے اپنی بیوی کا خیال آرہا ہے۔ بچوں کا خیال آرہا ہے۔ وہاں کے کیا حالات ہیں. کیا وہاں بھی اندھیروں کا راج ہے. کیا وہاں بھی انسان اور کتے مل کر کم زور لوگوں پر بھونک رہے ہیں۔ یا اللہ اس بستی کی حفاظت کر۔ میں ہتھیاروں کا متمنی نہیں امن کا متمنی ہوں۔ اگر بجلی آجائے تو مجھے حوصلہ ملے۔ میں اندھیروں کے حصار سے نکل آؤں۔ مجھے اپنے ہونے کا یقین ہوجائے۔
میں آسمان کی طرف دیکھتا ہوں۔ وہاں بھی اندھیرا ہے۔ نہ چاند ہے نہ کوئی ستارہ۔ سُنا تھا آسمانوں کے فیصلے زمین پر بسنے والے انسانوں کے اعمال پر انحصار کرتے ہیں تو کیا واقعی زمین پر بسنے والے انسان اندھیروں کے پجاری ہوگئے۔ لیکن میں اندھیروں کا پجاری نہیں۔ مجھے روشنی پسند ہے۔ کیا میری پسند کے مطابق آسمانوں پر کوئی فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ مجھے خیال گزرا کہ تم اقلیت میں ہو۔ تنہا ہو، اکیلے ہو۔ تم نے کبھی زمین پر اپنے ہمنوا بنا نے کی کو شش نہیں کی۔ بلکہ تم نے اپنے ہمنواؤں کونفرت میں ڈال کر اپنے سے الگ کردیا۔ تم نے اپنے اتحاد کے شیرازے کو منتشر کردیا۔ تم نے خود اپنے چراغ بجھا رکھے ہیں۔ آسمانوں سے جو لائحہ عمل تمہارے لیے تجویز کیا گیا تھا تم نے اس کے پرخچے اُڑا دیے۔ تمھارے لیے یہی سزا طے ہوئی ہے کہ تم سا ری زندگی اندھیرے کے جنگل میں بھٹکتے رہوگے۔ اور یہ بھونکنے والے کتے۔ ان کتوں کے سا تھ بھونکنے والے انسان ریزہ ریزہ کرکے تمھارے وجود کو آسانی کے سا تھ اپنی غذا بنا لیں گے.
ختم شُد

تجزیہ: نثارانجم

ربانی قندیلیں اندھیرے کو نگلنے کے لیے کب کی اتاری جا چکی ہیں۔ لیکن ان قندیلوں کو ہم نے عقیدت کی طاق پر ویسے ہی بجھا چھوڑ دیا۔
روشنی کا منبع طاقوں پر سجا ہے اور ہم اپنے وجود پر طاری اندھیرے کو دور کرنے کے لیے روشنی کو چراغ تلے صدیوں سے تلاش کررہے ہیں۔ قرآن پاک میں ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ ارشاد فر ماتا ہے
یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے ہدایت چھوڑ کر گمراہی خریدی، تو نہ تو ان کی تجارت ہی نے کچھ نفع دیا اور نہ وہ ہدایت یاب ہی ہوئے ﴿۱٦﴾
ان کی مثال اس شخص کی سی ہے کہ جس نے (شبِ تاریک میں) آگ جلائی۔ جب آگ نے اس کے اردگرد کی چیزیں روشن کیں تو خدا نے ان کی روشنی زائل کر دی اور ان کو اندھیروں میں چھوڑ دیا کہ کچھ نہیں دیکھتے ﴿۱۷﴾
(یہ) بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں کہ (کسی طرح سیدھے رستے کی طرف) لوٹ ہی نہیں سکتے۔
﴿۱۸﴾ یا ان کی مثال مینہ کی سی ہے کہ آسمان سے (برس رہا ہو اور) اس میں اندھیرے پر اندھیرا (چھا رہا) ہو اور (بادل) گرج (رہا) ہو اور بجلی (کوند رہی) ہو تو یہ کڑک سے (ڈر کر) موت کے خوف سے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور الله کافروں کو (ہر طرف سے) گھیرے ہوئے ہے.
﴿۱۹﴾ قریب ہے کہ بجلی (کی چمک) ان کی آنکھوں (کی بصارت) کو اچک لے جائے۔ جب بجلی (چمکتی اور) ان پر روشنی ڈالتی ہے تو اس میں چل پڑتے ہیں اور جب اندھیرا ہو جاتا ہے تو کھڑے کے کھڑے رہ جاتے ہیں اور اگر الله چاہتا تو ان کے کانوں (کی شنوائی) اور آنکھوں (کی بینائی دونوں) کو زائل کر دیتا ہے۔ بے شک الله ہر چیز پر قادر ہے ﴿۲۰}
اللہ نے ”انکارِ مُنکَر“ یعنی خرابیوں پر ایک دوسرے کو خبردار کرنے کی کس قدر تاکید فرمائی ہے۔ اس فریضے سے غفلت پر دنیا ہی میں اللہ کے عذاب کی وعید بھی سنائی ہے۔
اندھیرا بڑھ رہا ہے. اندھیروں کے اژدہے رینگتے ہوۓ اقلیتوں کی ڈیوڑھیوں تک آگئے ہیں۔ اخلاقی تنزل کے بھنور میں امت کی اقلیتی کشتی کے نکلنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ملت کی آبرو کا چراغ لے کر خطروں میں گھری اور اندیشوں کی شکار اس ملت کو اللہ کی اس بستی میں اپنے ہمنوا بنانے کی ضرورت تھی۔ یہ اخلاقی عفونت اور سڑاند بڑھتی ہی رہے گی۔ اندھیروں کے نرغے میں گھری قوم کی کشتی کو ساحل عافیت تک لے آنے والے وہ عقل و خرد کے امام کہاں ہیں۔ اگر ہیں بھی تو اپنے ساۓ سے خائف ۔ ذہانت وفراست، ہمت وحوصلہ، ایثار وبے لوثی، حقیقت پسندی اور غیرت مندی کی روشنی سے متصف وہ جماعت کہاں ہے؟ جو اس لرزتی لو کی حفاظت کے لیے آئے۔ عزم، جوشِ عمل، صبر و برداشت، حالات کی تبدیلی کے لیے قربانیوں کا مزاج اور ظلم سے نبرد آزمائی کے حوصلہ کے فقدان سے ایک بڑا خطرہ ہمارے وجود پر طاری اندھیرے کی طرح ہے۔
تیلی بھی ہے اور روشنی کے سارے ذرائع بھی پھر یہ غفلت کیشی کیسی۔
وہ وقت کب آۓ گا جب اندھیروں میں کتے کی آواز سے آواز ملاکر وحشت طاری کرنے والے کا قلع قمع کیا جاسکے۔ قوتِ عزم سے لیس یہ ڈری ہوئی اندھیروں کی ستائی قوم کی کشتی اندھیروں کے گرداب سے ابھر آئے۔
تاریخ کا یہ نیا موڑ کب آئے گا۔ جب دعوت نور کا چراغ ہر اس اندھیرے کے مکین تک پہنچے۔
یہی وہ سوال ہے جو تیلی موم بتی اور اندھیرے اور کتے کی آواز کی تمثیل کے پیرایے میں ایک اقلیتی قوم کی عصری تصویر کی پیش کش کے ذریعہ کی گئی ہے۔
واقعات، تمثیلی اشاریے، زبان و بیاں تخلیقی نثر کی رسی پر اس فہم سے چلتے ہیں کہ اس کی رفتار اور شعلگی، تحریر میں اس اقلیت کی حالت زار، ایک تصویر کی شکل میں اندھیرے میں بھی ایک چمک دار پیام کے ساتھ نظر آتے ہیں۔
افسانہ نگار نے اندھیرے اور خوف کی کیفیت کو بیانیہ کے حسن سے قابل تفہیم اور پر کشش بنا دیا ہے کہ قاری اس ساتویں تیلی اور بجھی ہوئی قندیلوں کے ساتھ افسانے کے اس آخری سرنگ والے چھور تک جاتاہے جہاں ایک کانپتی ہوئی روشنی اپنے محسن کے انتظار میں کھڑی ہے۔
ایک اچھے تمثیلی افسانے پر مصنف کو مبارک باد
نثار انجم کا یہ تجزیہ بھی ملاحظہ فرمائیں :شبراتی

شیئر کیجیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے