مولانا علی الیاس: اوّل و آخر استاد

مولانا علی الیاس: اوّل و آخر استاد

صفدر امام قادری
شعبۂ اردو، کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ

١٣؍ دسمبر ٢٠٢٥ء کی ایک عجیب و غریب صبح تھی۔ میں عظیم آباد سے پورب کی طرف صبح چھے بجے اردو ڈائرکٹوریٹ کے پروگرام کے لیے چند ادبی ساتھیوں کے ساتھ کھگڑیا کے لیے نکل رہا تھا۔ اپنے گھر سے کوئی پانچ سات کیلو میٹر آگے بڑھا ہی تھا کہ موبائل پر رِنگ ہوا، نام محمد وسیم کا ظاہر ہورہا تھا۔ میرے استاد مولانا علی الیاس عاجز کے صاحب زادے کا یہ نمبر تھا۔ گذشتہ برسوں سے اسی نمبر سے استاد سے بات ہوتی تھی۔ ادھر کئی مہینوں سے ان کے مسلسل بیمار ہونے کی اطلاعات ملتی رہیں، کئی بار ان کے گھر پہنچ کر عیادت اور دل جوئی بھی کی۔ اس دوران اس نمبر سے جب بھی فون آتا تو ایک خوف اور گھبراہٹ کا عالم ہوتا۔ کئی بار اَنجانے احساس میں کال کو قبول نہیں کرتا، نہ جانے کون سی خبر آجائے۔ مگر اُس صبح کار میں بیٹھے آگے بڑھتے ہوئے جب وہ فون آیا تو پہلی ہی بار میں مَیں نے فون اٹھا لیا۔ ادھر سے دکھ بھری آواز آئی کہ ابھی چھے بجے صبح ابّا ہمیشہ کے لیے ہم سے رخصت ہوگئے۔ میں نے اپنے ساتھی مسافروں کو پٹنہ سٹی ریلوے اسٹیشن پہنچایا اور وہیں سے سوا دو سو کیلومیٹر دور اپنے استاد کو آخری بار دیکھ لینے اور ان کی تجہیز و تکفین میں شامل ہونے کے لیے نکل گیا۔
مولانا علی الیاس میرے کسی کلاس کے استاد نہیں تھے۔ ٧٦ـ١٩٧٥ء میں وہ بہ طورِ اتالیق ہمارے گھر وارد ہوئے۔ بتیا کے محلہ بسوریا مسجد کے احاطے میں قائم پرائمری اسکول میں استاد کی حیثیت سے ان کا تقرر ہوا تھا۔ میرے والد نے انھیں میرے چھوٹے بھائی کی تعلیم و تدریس کے لیے مقرر کیا۔ یوں بھی پرائمری اسکول کے ایک استاد سے یہ توقع مشکل ہے کہ میرے جیسے سائنس کے طالب علم کو وہ کچھ پڑھائیں۔ کبھی کسی شعر پر ان سے گفتگو ہوجاتی، کبھی مذہبیات کا معاملہ زیرِ بحث آجاتا۔ وہ ٹِرپل فاضل تھے، حدیث، فارسی اور اردو میں۔ اپنے ہر امتحان میں وہ پورے صوبے کے ٹاپر رہے جس سے ان کی امتیازی صلاحیتوں کے بارے میں سمجھا جا سکتا تھا۔ مدرسۂ عزیزیہ، بہار شریف اور مولانا ظفرالدین بہاری جیسے استاد کے شاگرد تھے جس کی وجہ سے ان کی نہایت پختہ تعلیم ہوئی تھی۔ لفظ، معانی، محلِ استعمال، منطق، تفسیر، فقہ اور ادبیات بالخصوص شاعری اور تنقید ان کے شوق کے خاص میدان تھے۔ دشواری یہ تھی کہ ان کا پیشہ پہلی سے تیسری جماعت کے بچوں کو درس دینا تھا۔ وہاں سے فراغت کے بعد وہ ہمارے گھر آجاتے، یہیں رہنا کھانا سب کچھ ان کے لیے مقرر تھا۔ میں نے کوئی مضمون لکھا تو انھیں دکھا دیا، فارسی کا کوئی سبق ہے تو اُن سے پوچھ لیا۔
اس زمانے میں اخلاقیات (Moral Sciences) کا پرچہ ہوتا تھا جس میں تاریخِ اسلام کا مطالعہ کرنا تھا۔ اسکول میں بھی اس کے لیے پڑھانے کا کچھ خاص اہتمام نہیں تھا۔ کبھی کبھی ہمارے ہیڈ ماسٹر صاحب آجاتے اور کتاب سے ریڈنگ دلادیتے۔ مجھے یاد ہے کہ مولانا علی الیاس نے صلحِ حدیبیہ، حضورۖ کی مکی اور مدنی زندگی اور چاروں خلفا کی حیات و خدمات کے لیے مختصر نوٹس لکھ کر دیے جن میں سے کچھ صفحات میں نے یاد کر لیے اور امتحان میں انھیں ہوبہ ہو لکھ کر چلا آیا۔ کاپیوں کی جانچ کے بعد ہیڈ ماسٹر صاحب بہ نفسِ نفیس کاپیاں دکھانے کے لیے کلاس میں تشریف لائے۔ باقی بچوں کو ڈانٹ پھٹکار اور تنبیہہ کرنے کے بعد انھوں نے مجھے بنچ سے اٹھایا اور کہا کہ آپ اپنی کاپی بہ آوازِ بلند پڑھ کر تمام کلاس کو سنائیے۔ بچوں سے کہا کہ دیکھیے! کس طرح لکھا جاتا ہے، اس کا معیار ان کی کاپی سے ملاحظہ کریں۔
آٹھویں جماعت کے ایک عام سے طالب علم کے لیے یہ پہلا سبق تھا کہ وہ سمجھے کہ ایک پرائمری اسکول کے استاد میں ایسی صلاحیت ہو سکتی ہے کہ اس کے لکھے پر ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر داد دینے کو مجبور ہوجائیں۔ یوں بھی مولانا علی الیاس کی خوش خطی سے ہم پہلے سے ہی حد درجہ متاثر بلکہ مبہوت تھے۔ وہ پروفیشنل کاتب تھے اور مدرسے کی تعلیم کے دوران باضابطہ خوش خطی سیکھ کر آئے تھے۔ اس فن میں اختراع کی بھی ان کی طبیعت تھی جس کے ہزار مظاہرے ان کی تحریروں سے ہوتے رہتے تھے۔ ہم اپنی کاپی اور ڈائریوں میں ان سے گزارش کرکے اپنے نام لکھواتے۔ وہ ہمارے والد کی غزلوں، نظموں کی بیاض کو نئی کاپی میں الگ الگ انداز سے لکھتے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم کو بیسیوں انداز سے لکھنے میں ان کی مہارت حد سے سوا تھی۔ وہ جب اردو میں دستخط کرتے تو اس میں بھی شوخیِ تحریر کا اثر نمایاں ہوتا۔ اردو عربی کے علاوہ cursive اور چھپائی کی انگریزی بھی اس سے کم مہارت سے نہیں لکھتے اور ہندی بھی ہزاروں سے زیادہ خوش خط لکھتے۔ میرے لیے ان کی یہ خوش خطی سب سے پہلی کشش کی وجہ ثابت ہوئی اور اس کے بعد ان کے کچھ حروف کی نقل، سادہ کاپی میں صاف ستھرا لکھنے کا شوق اور حسبِ ضرورت ان کے ساتھ بیٹھ کر متعلق اور غیر متعلق معاملات پر گفتگو اور بحث و مباحثے میں شریک ہونے کا ایک جنون پیدا ہوگیا۔
مولانا علی الیاس ضرورت پڑنے پر بہت تیز اور کبھی کبھی شکستہ بھی لکھتے تھے مگر ان کا پسندیدہ عمل یہ ہوتا کہ حروف کی واضح شکل اطمینان سے صفحۂ قرطاس پر اُتار دی جائے۔ عجلت جتنی بھی ہو مگر اس فن کی پاسداری وہ اس سے بڑھ کر کرتے تھے جس کی وجہ سے ان کے مسودات دیکھنے سے تعلق رکھتے تھے اور نمایاں معلوم ہوتے تھے۔ وہ دَور فائونٹین پِن کا تھا۔ سیاہ روشنائی سے وہ لکھتے اور ان کی ہر تحریر روشن اور تابناک معلوم ہوتی۔ گذشتہ پچاس برسوں میں میں نے ننانوے فی صد سیاہ روشنائی کا استعمال شاید انھی کی اتباع میں کیا۔ ویسا خط تو میسر نہیں آسکتا تھا مگر مقدور بھر صفائی کا خیال رکھا۔ جب فائونٹین پِن کے رخصت ہونے کا وقت آیا تو Gel pen کا سہارا میسر آیا۔ استاد کا یہ پہلا امِٹ نشان میری ذات پر پڑا جو پچاس سال تک اب بھی قائم ہے۔
مولانا علی الیاس جب ہمارے گھر میں ہوتے تو ان کے پاس محدود کپڑے اور ذاتی استعمال کی کچھ کتابیں ہوتیں۔ ہمارے گھر میں ادبی اور قانونی کتابوں کا بول بالا تھا، محدود تعداد میں مذہبی کتابیں ہوتیں۔ آٹھویں جماعت کے ایک طالب علم کی مذہبی معلومات محدود ہی ہوگی۔ مجھے اندازہ ہے کہ ہماری مسجد میں رکھے فضائلِ اعمال کی جلدیں، مختلف میلادوں میں علماے کرام کی تقریروں کے مواد تک ہی ہم مذہبِ اسلام کے معاملات جانتے تھے۔ اتنے جاننے کو ہم بہت کچھ سمجھتے تھے۔ مولانا کبھی مسجد میں نماز پڑھنے میں دیر کردیتے یا کبھی سوئے رہ جاتے تو انھیں ہم ٹوکتے اور اپنے مذہبی علم کی روشنی میں ہدایت دے دیتے۔ کبھی مسجد میں نماز کے بعد مختصر تعلیم کے لیے کتابیں پڑھی جاتیں تو دیکھتا کہ مولانا نماز کے بعد دھیرے سے وہاں سے نکل جاتے۔ کئی بار انھیں ٹوکا اور ثواب سے محروم ہونے کے الزامات عاید کیے تو مولانا نے بڑی بے رُخی سے جواب دیا کہ ان ضعیف احادیث اور بے تُکی گفتگوؤں میں مَیں اپنا وقت کیوں ضائع کروں؟
عام علماے کرام کی دلیلوں کی غیر علمی شان پر وہ دُکھی ہوتے اور چھوٹے موٹے مذہبی جلسوں سے خود کو دور رکھتے۔ مذہب کا اعتقادی رُخ تو ہم جانتے تھے مگر اس کے علمی مزاج سے مولانا علی الیاس کے توسط سے ہماری آشنائی ہوئی۔ اپنے وقت کے بہترین علما اور اچھے مدارس میں ان کی تعلیم و تربیت ہوئی تھی، اس لیے مذہب کے معاملات پر ان کی گفتگو کا معیار اور استدلال کا انداز مقبولِ عام رویوں سے مختلف تھا۔ مولانا الیاس کی یہ علمی شان رفتہ رفتہ ہمیں اور بھی متاثر کرنے لگی۔ کوئی چھوٹا سا مسئلہ زیرِ بحث ہو، وہ زبانی مختلف احادیث، تفاسیر اور ائمہ کرام کی زندگی سے مثالوں کے انبار لگا دیتے۔ قرآن فہمی بھی خاصی گہری تھی اور حسبِ ضرورت اس علم سے اپنی باتوں کو استحکام بخشتے۔ کمال یہ کہ جو شخص مذہبی علم کے اس درجے پر فائز ہو، حقیقت میں وہ ایک لور پرائمری سرکاری مکتب کا معمولی سا مدرّس تھا۔
اسلامی علوم کی تحصیل اور لائق اساتذہ اور علماے کرام کی صحبت میں مولانا الیاس نے جِرح، تفتیش، استنباط اور موضوع کی پرت در پرت گہرائی میں اترنے کے شوق کو اپنی شخصیت کا حصّہ بنالیا تھا۔ میں نے اپنے لیے ان کی اس صلاحیت کو ان کے تنقیدی ذہن کے آئینے میں سمجھنے کی کوشش کی۔ وہ ایک بھی شعر ایسا نہیں پڑھ سکتے تھے جس کے الفاظ اور معانی پر وہ بحث نہ کرنا چاہیں، محلِ استعمال کی حسبِ ضرورت دھجیاں نہ اڑائیں اور اس میں کوئی نہ کوئی زبان و بیان کی غلطیوں کے لیے شگاف نہ ڈھونڈلیں۔ اچھا خاصا شعر ہے مگر سامنے سے کچھ نظر نہ آیا تو اس کے معنوی ادھورے پن پر گرج برس جائیں گے۔ کبھی مذہبِ اسلام سے روگردانی کا الزام شاعر پر عائد کریں گے یا کبھی ادبی روایت سے اس کی غفلت شعاری پر ماتم کرتے ملیں گے۔ مگر یہ آسانی سے نہیں ہوسکتا تھا کہ وہ سامنے کے کسی متن چاہے وہ کسی بھی بڑے یا چھوٹے شاعر کا ہو، اس پر اپنی علمی اور تنقیدی توجہ نہ ڈالیں۔ ہمارے گھر کی شعری محفلوں میں جہاں مقامی شعراے کرام شریک ہوتے تھے، اس میں سامع کی حیثیت سے کنارے بیٹھ کر کلام تو وہ سن لیتے تھے مگر ہفتوں ان شعراے کرام کی خامیوں پر ان کے تبصرے اور مدلل بیانات آتے رہتے۔ اس کی وجہ سے وہ چھوٹے موٹے ادیبوں اور شاعروں کو کچھ خاص اہمیت بھی نہیں دیتے تھے۔
عربی فارسی کی پختہ تعلیم اور زبان و بیان کے تئیں گہری سنجیدگی کا ہی اثر ہوگا کہ انھوں نے کئی بار ہمارے اسکول کی ڈائری کے اندراجات میں زبان و بیان کی غلطیوں کی طرف اشارہ کیا۔ وہ افسوس کرتے کہ اردو ہائی اسکول ہونے کے باوجود یہ اغلاط مناسب نہیں۔ وہ ماتم کرتے کہ پورے اسکول میں کوئی ایسا استاد نہیں جو زبان و بیان کی غلطیوں کو درست کرنے کی اہلیت رکھتا ہو۔ کہیں نہ کہیں میرے دماغ میں بھی اپنی ڈائری کو ایک تنقیدی نظر سے دیکھنے کا شوق بڑھتا چلا گیا۔ ایک روز استاد اور شاگرد دونوں نے مل کر اسکول کی چالیس پچاس صفحات کی ڈائری کو زبان و بیان کی خامیوں کو ظاہر کرنے کے مقصد سے سرخ اور سبز روشنائی سے اس طرح رنگ دیا کہ اب وہ ڈائری کسی کام کی نہیں ہوسکتی تھی۔ اگلے روز میں نے ہیڈ ماسٹر کے ٹیبل پر وہ ڈائری پٹخ دی اور یہ بھی کہا کہ اتنی غلطیاں ہماری ڈائری میں ہیں، انھیں درست کرائیے۔ ہیڈ ماسٹر نے جب ڈائری کے صفحات باری باری سے پلٹے تو ان کا غصہ آنکھوں میں اترتا گیا اور ڈائری خراب کرنے کی پاداش میں مجھے بید رسید کی گئی۔ میں اپنا سا منہ لے کر اپنے کلاس میں واپس آگیا۔ میری وہ ڈائری ہیڈ ماسٹر کے قبضے میں چلی گئی۔ یہ غالباً نویں جماعت کا واقعہ ہے مگر اگلے برس جب ہمارے اسکول کی ڈائر ی چھَپ کر آئی تو اس میں زبان و بیان کی وہ تمام غلطیاں دور ہوچکی تھیں۔ یہاں ایک ساتھ کئی باتیں ہوئیں۔ یہ پتا چلا کہ تنقید سے سزا بھی ملتی ہے اور اصلاح کا کام بھی اس کے ذریعہ انجام پاتا ہے۔ تنقید کا یہ عملی پہلو زندگی میں مولانا علی الیاس کے حوالے سے ہمیں پہلی بار سمجھ میں آیا۔
مولانا علی الیاس نے ایک روز ہمارے والد کا ایک شعر پڑھا۔ وہ ان کی اچھی خاصی قدر کرتے تھے اور جذبۂ احترام سے بندھے تھے۔اس شعر میں قواعد کی ایک خامی پر ان کی نگاہ گئی۔ میں نے موقع ملتے ہی والد کو ان کی ادبی خامی کی طرف دلیلوں کے ساتھ زیرِ تنقید کرنے کی کوشش کی۔ میرے والد غالباً سمجھ گئے کہ اس کے پیچھے مولانا الیاس کا ہی ہاتھ ہے۔ انھوں نے کوئی ناراضگی کا اظہار نہیں کیا بلکہ کچھ ڈکشنریاں اور چند دواوین نکالے اور ڈھونڈ ڈھونڈ کر مثالیں جمع کرتے رہے جس سے یہ ثابت ہوگیا کہ وہ لفظ تذکیر اور تانیث دونوں طور پر اساتذہ کے یہاں مستعمل رہا ہے۔ میں نے واپس مولانا الیاس کو بھی یہ بات بتائی۔ پھر بڑے خوش گوار ماحول میں میرے والد، مولانا الیاس اور کونے میں بیٹھ کر میں بھی اس موضوع کے مختلف پہلوؤں پر دونوں کو محوِ گفتگو دیکھتا رہا۔ آٹھویں اور نویں جماعت کے طالب علم کے دماغ میں لفظوں کے درست اور نادرست استعمال کی شناخت واضح کرنا یا کتابوں یا چھپے ہوئے لفظوں میں غلطیوں کی موجودگی کا احساس کرانا میری زندگی کے لیے تنقیدی ذہن سازی کے وہ ابتدائی اسباق تھے جن کی نشوونما کے لیے بعد میں فضا سازگار ہوئی اور ایک سائنس کے طالب علم کو رفتہ رفتہ تنقید و تحقیق کے گلی کوچے کی سیر کے لیے حتمی طور پر چلے آنا ہوا۔
مولانا الیاس کا طریقۂ تدریس بالکل غیر روایتی تھا۔ باقاعدہ طور پر میں ان کا طالب علم بھی نہیں تھا، اس لیے کسی سبق کو آمنے سامنے بیٹھ کر پڑھنے پڑھانے کا شاید ہی کبھی موقع ملا ہو مگر وہ ہمہ وقت استاد تھے۔ سوتے جاگتے، اٹھتے بیٹھتے کب وہ آپ سے کچھ پوچھ لیں گے یا آپ کو کوئی گہری بات بتا دیں گے، یہ بالکل مقرر نہیں تھا۔ کسی لفظ کی ادائیگی آپ نے کی، انھوں نے وہ لفظ سن لیا تو موقع نکال کر اس کے درست تلفظ کی نشاندہی کریں گے۔ عربی لفظ ہے تو اس کے مشتقات و ملحقات کے بارے میں بھی اسی دوران بتا دیں گے۔ میں میٹرک کلاس میں تھا۔ مرارجی دیسائی کے بعد چرن سنگھ کی حکومت بن چکی تھی۔ انگریزی کے رسالے ”سنڈے" نے اپنی کوَر اسٹوری بنائی جس کا عنوان تھا ”Living on Borrowed Time” ۔ ایک لوور پرائمری اسکول کے استاد، کھانٹی قسم کے مولوی مولانا علی الیاس کا مجھ سے سوال ہوتا ہے کہ اس کا اردو ترجمہ کیا ہوگا! اس زمانے تک مولانا الیاس ہمارے دماغ میں عربی فارسی کی تراکیب انڈیلتے رہتے تھے۔ سادہ زبان کے مقابلے ہمیں فارسی زدہ یا معرب تراکیب زیادہ پسند آتی تھیں۔ میں نے فوراً جواب دیا "حیاتِ مستعار"۔ مولانا کی باچھیں کھِل گئیں۔ شاید انھیں لگا کہ ان کی تعلیم کا کچھ اثر ہونا شروع ہوگیا ہے۔ یہ بھی بتانے لگے کہ تم نے انگریزی سے کم لفظوں میں مفہوم کی ترجمانی کردی۔ میرے لیے یہ خوش بختی رہی کہ چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے ایک ایسا مدرس ہاتھ آگیا جو کبھی دینیات کا سبق پڑھا دیتا ہے تو کبھی خوش خطی کے اصول و ضوابط پر روشنی ڈالتا ہے۔ کبھی ادب کی باریک باتیں روشن کرتا ہے تو اب اردو انگریزی تراجم کی ایک نئی دنیا ہمارے سامنے پھیلا دیتا ہے۔ مدارسِ اسلامیہ کے ایسے سپوت ابھی حال حال تک ہمارے سماج میں پائے جاتے تھے مگر آنے والے وقت میں ایسی توقعات بہت کم کی جاسکتی ہیں۔
میٹرک پاس کرنے کے بعد میں بھاگل پور، مظفرپور ہوتے ہوئے پٹنہ پہنچ کر درس و تدریس کے کاموں میں الجھ گیا۔ مولانا علی الیاس سے رابطے کی اب نئی صورتیں پیدا ہوئیں۔ میں کبھی گھر پہنچتا تو وہ بھی ہمارے گھر چلے آتے۔ ان کی پوسٹنگ بھی بدلتی رہی۔ کسی سے معلوم ہوتا کہ میں بتیا آیا ہوا ہوں تو وہ دوڑتے بھاگتے ہمارے گھر پہنچ جاتے۔ کبھی میں انھیں اطلاع دے دیتا اور وہ چلے آتے۔ کبھی آٹھ نو کیلو میٹر دور اُن کے گھر میں کسی کے ساتھ پہنچ جاتا۔ مختلف طرح کی بیماریوں میں وہ بھی طویل وقفے سے الجھے ہوئے تھے۔ ان سے بڑھ کر ان کی اہلیہ بھی امراض کا منبع تھیں۔ دونوں اپنی بیماریوں کے علاج معالجے کے سلسلے سے پٹنہ آنے جانے لگے۔ کبھی کوئی آپریشن، کبھی کسی ڈاکٹر سے مشورہ یا مختلف اسپیشلسٹ ڈاکٹروں سے صلاح جیسے کاموں کا سلسلہ پچھلی دو دہائیوں سے قائم رہا۔ بھلے وہ دوا علاج کے سلسلے سے تشریف فرما ہوں مگر علم و ادب کی دنیا کی نئی نئی باتیں جاننے کے لیے وہ ہمیشہ متمنی ہوتے۔ انھوں نے کوئی مضمون پڑھا یا کسی کی کتاب زیر مطالعہ رہی یا کوئی نظم یا نثر کا نمونہ انھوں نے تیار کیا، ان سب باتوں پر وہ گفتگو کرتے۔ کبھی ساتھ ڈاکٹر کے یہاں جائیے تو راستے میں بھی وہ ادبی موضوعات پر ہی گفتگو کرتے ہوئے ملیں گے۔ اہلیہ کی وفات کے بعد اگرچہ ان کی صحت میں مزید بگاڑ آیا مگر وہ اپنی ادبی اور علمی سرگرمیوں میں کچھ کمی کرنے کو تیار نہیں تھے۔ اس دوران اپنی شاعری پر انھوں نے کچھ زیادہ ہی توجہ دے رکھی تھی۔ تقطیع کرنے کا شعور تو خوب تھا مگر بحر کے معاملے میں ان کے قدم پھسل جاتے تھے۔ میں نے انھیں ظفر کمالی اور واحد نظیر کے رابطے میں رہنے کے لیے کہا۔
جب ان کا شعری مجموعہ "رعنائیِ خیال" چھپنے کے لیے تیار ہورہا تھا، وہ ہفتوں پٹنہ میں بیٹھ کر کبھی میرے یہاں اور دسوں روز واحد نظیر کے گھر اپنے کلام کو درست کرتے اور کراتے۔ کسی مصرعے پر واحد نظیر نے نااطمینانی کا اظہار کیا، مولانا نے برجستہ چار اور مصرعے داغ دیے کہ ان میں سے کون سب سے موزوں ہوگا، اسے چن لیجیے۔ واحد نظیر کہتے تھے کہ موزونیِ طبع کے اعتبار سے تو وہ بے مثال ہیں ہی لیکن جس مشقت سے اپنے اشعار اور مصرعوں کو کئی کئی طرح سے کہنے پہ قادر ہیں، وہ فی زمانہ ناقابلِ یقین ہے۔ شاعری کا ان کا شوق بہت پرانا تھا۔ مجھے یاد آتا ہے کہ ٧٦ـ١٩٧٥ء میں جب وہ ہمارے گھر تشریف لائے تھے تو اس زمانے میں بھی انھیں اپنے شعر گنگناتے ہوئے میں دیکھتا تھا۔ کچھ الگ طرح کی ان کی بیاض بھی تھی جس میں وہ کلام درج ہوتا تھا۔ موت سے چند ماہ پہلے انھوں نے اپنا شعری سرمایہ مجھے ڈاک سے بھجوایا اور ان پر یہ بتایا کہ شاعری کے حوالے سے یہ میری اب آخری پونجی ہے، اس کی اصلاح کا انتظام کرادو۔ عجب اتفاق ہے کہ یہ پونجی تو ابھی محفوظ ہے مگر ان کے حکم کے مطابق اس کی اصلاح کا عمل ممکن نہ ہوسکا۔ آنے والے وقت میں ان شاء اللہ ان کا تمام شعری سرمایہ یکجا طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
[قسط۔٢]
مولانا الیاس کے مطالعے کا دائرہ وسیع تھا اور کسی مرحلے میں بھی کچھ نئی بات سیکھنے کے لیے وہ ہمیشہ تیار رہتے تھے۔ پرائمری اسکول میں سرکاری ملازمت پا لینے کے بعد مذہبی علوم سے بظاہر وہ کٹ چکے تھے مگر اس سے بچاو کی صورت اس طور پر انھوں نے پیدا کرلی تھی کہ احادیث اور تفسیر کے سلسلے کی بنیادی کتابیں ان کی ذاتی لائبریری کا حصہ ہوں۔ کسی طرح آس پاس کے پچیس پچاس کیلو میٹر کے درمیان کے جو مدارس تھے اور اکثر جگہوں پہ ان کے جاننے والے بھی موجود تھے، وہاں چھٹیوں میں پہنچ جاتے۔ وہاں رہ کر مطالعہ کرتے اور کبھی عاریتاً کتابیں لے کر آتے اور انھیں پڑھتے۔ اس کی وجہ سے چمپارن کے اکثر و بیش تر مدارس کے ارباب سے ان کا ایک رابطہ قائم ہوا اور ان کی مدد سے انھوں نے اپنی پرانی پڑھائی کو از سرِ نو تازہ کیا۔ اکثر معاملات میں وہ مذہبیات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کبھی کمزور علمی بنیادوں پر خود کو کھڑا نہیں رکھتے۔ ایسا اسی لیے ممکن ہوسکا کہ وہ پرائمری اسکول کے استاد ہونے کے باوجود اعلا درجے کی مذہبی کتابوں سے حسبِ گنجائش رابطے میں رہتے۔ اس مشقت نے انھیں علمی طور پر خود کو زندہ رکھا۔
ملازمت سے سبک دوشی کے بعد وہ مستقل طور پر گائوں میں رہنے لگے۔ کوشش کرکے اردو اخبار بالخصوص "انقلاب" وہاں بھی منگاتے۔ اخبار کی کسی خبر یا مضمون میں کوئی نیا لفظ یا ان کے اعتبار سے کسی لفظ کا غلط استعمال نظر آتا، وہ فوراً فون کریں گے۔ اب موبائل ان کے تصرّف میں ہر وقت موجود ہوتا۔ فون پر اس لفظ کے استعمال کے بارے میں فی زمانہ کیا رواج ہے، اس پر میری رائے سننا چاہتے۔ سیکڑوں بار ہوتا کہ میری بات سننے کے بعد وہ اپنے معروضات بھی پیش کرتے۔ عربی فارسی کی مقصود بالذات تراکیب سے چھیڑ چھاڑ کو وہ پسند نہیں کرتے تھے، اس لیے ایسے الفاظ و تراکیب پر وہ اپنی تشویشات کا اظہار کرتے۔ کبھی کبھی مجھ سے کہتے کہ دلی اور پٹنہ کے ایڈیٹران کا نمبر دو، ان سے میں اس موضوع پر گفتگو کروں گا۔ اخبار میں ادبی کوئز یا معمہ بھی گاہے بہ گاہے شائع ہوجاتے تھے، ان پر وہ مشق کرتے اور کوئی دشواری ہونے پر فوراً سے پیش تر فون کرتے۔ کسی مضمون نگار نے کسی شعر کا مصرعہ غلط لکھ دیا یا ناموزوں متن اپنی تحریر میں پیش کردیا تو ضرور وہ اس پر اپنی فکر مندی ظاہر کرتے اور مصنفین کی علمی کمزوریوں پر طرح طرح سے ماتم کرتے۔ اس علمی انہماک اور دل جمعی کے ساتھ ادب و فن کے اصول و ضوابط کے سائے میں میں نے بہت کم لوگوں کو اردو کے اخبارات پڑھتے دیکھا ہے۔ یہ ان کا ذاتی فعل تھا اور علمی رنگ میں انھوں نے خود کو ابتدا سے ہی کچھ اس طرح سے ڈھال رکھا تھا کہ وہ خبر پڑھتے ہوئے بھی دوسروں کی طرح سے زبان و بیان کی فروگذاشتوں کو چھوڑ نہیں سکتے تھے۔ میں اپنی مصروفیات کے سبب کبھی کبھی ان کا فون نہیں اٹھاپاتا تو بعد میں مجھے تنبیہہ کرتے اور یہ بھی کہتے کہ جب کوئی علمی مسئلہ الجھ جاتا ہے اور وہاں وہ حل نہیں ہوپاتا ہے، اسی وقت تم کو فون کرتا ہوں اور تمھارے جواب سے اطمینان ہوجاتا ہے۔ کبھی کبھی کسی سفر پر رہنے کی وجہ سے دوچار دن ان سے بات نہ ہوپاتی تو اس ہفتے کے ایسے بہت سارے علمی مسئلوں کو وہ خط کی شکل میں لکھ کر ڈاک سے اور کوریئر سے بھیج دیا کرتے تھے۔ ادھر پانچ سات برسوں سے اس کام میں اسمارٹ فون کا استعمال بھی شروع ہوگیا تھا۔ کاغذ پر وہ خط لکھ دیتے اور اپنے گھر کے کسی فرد سے اس کی تصویر کھنچوا کر مجھے بھیج دیتے۔ خدا کا فضل ہے کہ اس بہانے ان کے نہایت باریک حرفوں میں لکھے گئے چند خطوط میرے حصے میں آگئے۔
اپنی تعلیمی زندگی کے بعد مولانا نے علمی کاموں کے لیے ایک طویل مدت تک نہ ساز و سامان تیار کیا، نہ اپنے مطالعے میں باضابطگی لائی۔ فرائضِ منصبی ایسے رہے کہ پہلی سے تیسری جماعت کے بچوں میں وقت گزاری کیجیے۔ بعد میں جب انچارج ہیڈ ماسٹر کی ذمہ داری ملی تو اسکول اور سرکاری دفتروں کی دوڑ دھوپ میں وقت ضائع کرنا مقدّر ٹھہرا۔ عمر کے ساٹھ برس اسی طرح اعلا علمی کاموں سے دوری میں کٹ گئے جب کہ بہترین اساتذہ کی انھیں تربیت حاصل ہوئی تھی اور مذہبی، علمی اور ادبی ماحول بھی وقفے وقفے سے ملتا رہا تھا۔ میرے گھر میں رہتے ہوئے انھیں اردو کی ادبی کتابوں کو نہایت فیاضی سے الٹتے پلٹتے اور پڑھتے دیکھتا تھا۔ پھر جب جب ملاقات ہوتی تو کسی نئی یا پرانی کتا ب کا تذکرہ چھیڑتے اور ہدایت دیتے کہ اسے ہمارے پاس بھجوا دینا۔ مختلف وجوہات سے جب پٹنہ آنے جانے کا اور میرے گھر میں قیام کا سلسلہ ہوا تو میں نے ان کے مطالعے کے انداز کو دیکھا۔ ادبی شوق تو انھیں روزِ اول سے تھا مگر اسے مستحکم کرنے کے لیے مطالعے کی طاقت انھیں بڑھانی تھی۔
میرے گھر میں پہنچنے کے بعد کبھی کہتے کہ "مقدمہ شعر و شاعری" نکال دو، کبھی”موازنۂ انیس و دبیر" مانگتے، کبھی "امراؤ جان ادا" یا کبھی”فردوسِ بریں" کی طلب کرتے۔ نکال کر کتابیں ان کے پاس رکھ دیتا۔ کبھی صبح سے شام تک ایک کتاب کو پڑھ کر ختم کردیتے یا کبھی دس دس بیس بیس صفحہ کرکے پانچ پانچ کتابوں کو ایک ساتھ پڑھتے پائے جاتے۔ صبح میں ان کی مطلوبہ کتابیں نکال کر انھیں دے دیتا اور میں کالج چلا جاتا، کالج سے واپسی پر دیکھا کہ مختلف بُک شیلف سے انھوں نے مزید بیس پچیس کتابیں نکال رکھی ہیں۔ کسی کا دو صفحہ پڑھ کر پلٹ کر رکھ دیا ہے تو کسی میں نشان کے طور پر دوسری کتاب داخل کرکے رکھ چھوڑا ہے۔ گھر کا نقشہ میری عادتوں سے ہی بے ترتیبی کی انتہا پر ہوتا تھا مگر مولانا الیاس کے اندازِ مطالعہ سے تو اس کا نقشہ ہی کچھ دوسرا معلوم ہوتا تھا۔ شام میں بیٹھیے تو دن بھر کے مطالعے کے بارے میں وہ بات چیت شروع کریں گے۔ کتابوں سے پسندیدگی اور ناپسندیدگی کے بارے میں اپنی تنقیدی راے دیں گے اور پھر کون کون سی کتابیں انھیں مزید دیکھنی ہیں، اس کے بارے میں بھی ہدایات دیں گے۔ مطالعے کا ایسا مجنونانہ انداز شاید ہی کسی نے دیکھا ہو۔
میں نے مولانا الیاس کے سلسلے سے ایک مضمون لکھتے ہوئے ان کے مطالعے کی بے ضابطگی پر اشارے کنائے میں گفتگو کی تھی۔ مولانا نے وہ مضمون تو چھپنے دیا مگر بعد میں ایک روز تاریخ اسلام کا ایک واقعہ سنانے لگے۔ کہا کہ امامِ مالک نے اپنے شاگرد امام شافعی کو ایک روز اپنے گھر پہ دعوت دی اور رات کے قیام کو اس میں شامل کیا۔ امام مالک چاہتے تھے کہ ان کی صاحب زادی امام شافعی کو دیکھ سمجھ لے تاکہ شادی کے لیے بات چلائی جائے۔ امام شافعی اپنے استاد کے گھر حاضر ہوئے۔ رات کے کھانے پر استاد کے دسترخوان پر انواع و اقسام کے کھانے موجود تھے۔ امام شافعی نے بالکل دہقانی انداز میں ضرورت سے زیادہ اور ہر چیز کی جتنی مقدار تھی، تقریباً لوٹ لوٹ کر کھائی۔ پردے سے یہ منظر امام مالک کی صاحب زادی بھی دیکھ رہی تھی، انھیں یہ ناگوار معلوم ہوا۔ امام مالک کو بھی یہ بات تہذیبی اعتبار سے مناسب نہ لگی۔ صبح میں امام مالک نے اپنے شاگرد سے اپنی بیٹی کی طرف سے یہ سوال پوچھا کہ رات کے کھانے میں اس انداز کی دہقانیت اور بے تمیزی کیوں دَر آئی تھی۔ امام شافعی نے جواب دیا کہ میں جب آپ کے دسترخوان پر حاضر ہوا، میں نے دیکھا کہ آسمان سے رزقِ حلال کی دولت نازل ہورہی ہے۔ مجھے محسوس ہوا کہ اس سے بڑھ کر معقول رزق مجھے زندگی میں شاید ہی حاصل ہو سکے، اس لیے میں نے اپنی بساط بھر اس کا ایک ایک ٹکڑا کھاکر اللہ کا شکر ادا کیا۔ ظاہر ہے کہ امام مالک اور ان کی صاحب زادی کے سوال کا بہتر جواب مل گیا ہوگا۔ مولانا نے مجھے مخاطب کرکے کہا کہ میں جب تمھارے گھر آتا ہوں تو انواع و اقسام کی کتابیں دیکھ کر جی میں آتا ہے کہ ہر کتاب پڑھ لوں۔ کبھی ایک کتاب کے چند صفحات پڑھتا ہوں اور دوسری کتاب پر نظر جاتی ہے تو اسے نکال لیتا ہوں اور صبح سے شام ہوجاتی ہے۔ اس واقعے کے بعد استاد کے مطالعے کی بے ضابطگی پر بے خیالی میں بھی کبھی ذہن کے کسی گوشے میں کوئی بات نہ سما سکی۔
مولانا ہر سفر میں جاتے وقت کچھ کتابیں لے کر جاتے کہ انھیں گھر پر اطمینان سے پڑھوں گا۔ کبھی آتے تو ان کتابوں کو لے کر آتے اور بڑی محبت سے انھیں واپس کرتے۔ کبھی کسی کتاب کو بازار سے خرید کر بھیجنے کی ہدایت کرتے۔ موت سے کچھ دنوں پہلے اچانک فون کیا کہ "فردوسِ بریں" پڑھنے کا جی کررہا ہے۔ ہمیں بھجوا دو۔ اس وقت کتاب نہیں مل سکی۔ میں نے بازار میں دکھوایا، وہاں بھی کتاب نہیں تھی۔ پھر اس کی فوٹو کاپی کراکر ڈاک سے انھیں بھجوایا۔ ایک بار "ایک چادر میلی سی" کی انھوں نے طلب کی۔ آپ یہ آسانی سے نہیں کہہ سکتے کہ وہ کون سی اور کس طرح کی ادبی کتاب کا مطالبہ کریں گے۔ یہ آزاد مطالعے کی ایک حیرت انگیز روِش تھی۔ ایک کتاب کو لگاتار کئی بار پڑھ لیتے۔ جس کتاب کی زبان معیاری نہ ہوتی، اسے وہ ناپسند کرتے اور مصنف کے علمی درجے پر سوال قائم کرتے۔ کبھی غضنفر کے ناول لے جاتے تو کبھی رشید حسن خاں، کلیم الدین احمد اور قاضی عبدالودود کی کتابوں پر توجہ فرماتے۔ ہر طرح کی کتابوں کو اپنے ذوق میں داخل رکھتے۔ کسی مصنف کو کوئی انعام ملا یا کسی کی کوئی کتاب مشہور ہوگئی تو اس کے بارے میں نہ صرف یہ کہ گفتگو کرتے بلکہ مطالعے کا شوق بھی ظاہر کرتے اور کتاب پڑھنے کے بعد اس کے بارے میں اچھی یا بُری راے پیش کرتے۔ آزاد مطالعے اور کتابوں کے معیار کے بارے میں اس قدر چوکنّا رہتے کہ مشہور لوگوں کی رایوں پر بہت کم اعتماد کرتے اور ذاتی مطالعے کی بنیاد پر اس کتاب یا مصنف کے بارے میں اپنا فیصلہ سناتے۔ چاہے روشِ عام سے ان کی رائے متصادم ہی کیوں نہ ہو۔
مولانا نے اولاً گاؤں سے الگ بتیا شہر میں اپنے بڑے صاحب زادے کے لیے گھر بنوایا تاکہ وہ شہر میں رہ سکیں مگر یہ ممکن نہ ہوسکا۔ ان کا گاؤں بتیا شہر سے محض دس کیلو میٹر کے فاصلے پر تھا اور نیشنل ہائی وے سے بہ مشکل تین کیلو میٹر کی دوری پر واقع تھا۔ اس لیے وہ ملازمت کے ایک خاص حصے میں بھی گائوں سے ہی سائیکل اور موپڈ سے اسکول آتے جاتے۔ 2008ء میں سبک دوشی کے بعد سے مستقل طور پر تُرہاپٹّی، تیواری ٹولہ، دُبھوَلیا میں رہنے لگے۔ پرانے گھر میں تبدیلی کی۔ بڑا سا احاطہ تیار کیا۔ تالاب کھُدوایا۔دونوں بچوں کے لیے الگ الگ مکانات بنوائے۔ اپنے پڑھنے لکھنے کے لیے کتابیں بھی رکھیں۔ قرب و جوار کے گاؤں کے علماے کرام مذہبی معاملات پر تبادلۂ خیالات کے لیے ان کے یہاں آتے جاتے رہے۔ نئے علماے کرام کو اپنے علم سے وہ مضبوط بھی بناتے رہے۔ ان کی موت کے بعد جنازے میں چالیس پچاس اور سَو کیلومیٹر کے گائوں سے جس بڑی تعداد میں مساجد کے ائمۂ کرام، علما اور مدرسین جمع ہوئے، وہ منظر دیدنی تھا اور ہر شخص ان کے علم سے فیض حاصل کرنے کا تذکرہ کررہا تھا۔ محلے کی مسجد کے امام اپنی تقریر میں یہ بھی کہنے لگے کہ انھوں نے اس گائوں کے علمی شوق کو بڑھانے میں جو کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں، انھیں سنہرے حروف میں لکھا جائے گا۔
جب سے ظفر کمالی نے میری شخصیت اور ادبی کاموں کے حوالے سے دو جلدوں میں کتاب کا خاکہ بنانا شروع کیا، مجھ سے وہ کہنے لگے کہ اس کتاب میں آپ کے استاد مولانا علی الیاس کا بھی مضمون شامل ہونا چاہیے۔ سوانحی حصے کو مضبوط بنانے کے لیے انھوں نے میرے بڑے بھائی پروفیسر ظفر امام سے ایک تفصیلی مضمون لکھوا لیا۔ وہ جب جب مولانا الیاس کے مضمون کے بارے میں مجھ سے تقاضا کرتے، میں ان کی بات مولانا علی الیاس تک پہنچا دیتا۔ وہ بھی فون پر ان سے پیہم گزارشات کرتے رہے۔ اس بیچ کئی بار مولانا الیاس کی طبیعت بگڑی اور وہ اسپتال میں کئی کئی ہفتوں تک زیرِ علاج رہے۔ ظفر کمالی نے ان کی صحت کے معاملات کو سمجھتے ہوئے مجھ سے کہا کہ یہ نہایت ضروری کام ہے جس سے کتاب کے معیار اور استناد میں اضافہ ہوجائے گا۔ میں نے ان سے وعدہ کیا کہ مولانا الیاس کے گائوں جاکر پھر ان سے ایک بار گزارش کرتا ہوں۔ مولانا نے مجھ سے کئی بار کہا تھا کہ ذہن میں تمھاری شخصیت اور کتابوں کے حوالے سے جو بکھری باتیں ہیں، انھیں جمع کرلوں تو شاید آزادانہ طور پر وہ ایک کتاب ہوجائے۔ میں نے ان کے گھر جاکر ان کی صحبت میں بیٹھ کر ظفر کمالی کی طرف سے ایک بار پھر گزارش کی کہ آپ استاد کی حیثیت سے میری شخصیت اور نشوونما کو اپنی یادوں کے سہارے صفحۂ قرطاس پر اتار دیجیے۔
ہفتہ دس روز میں ان کا فون آیا کہ میں نے بیس نکات پر مشتمل مضمون لکھ دیا ہے جو اپنے آپ میں بھی مکمل ہے مگر ارادہ ہے کہ کچھ اور باتیں لکھوں گا ۔ میں نے ان سے کہا کہ جتنا لکھ دیا ہے، اس کی تصویر کھنچواکر مجھے بھیج دیجیے۔ انھوں نے دوسرے دن مضمون بھیج دیا۔ ایک سطر چھوڑ کر فُل اسکیپ کاغذ پر لکھے وہ بیس صفحات ایسے تھے جنھیں میں نے آنکھوں سے لگایا۔ تحریر ظفر کمالی کو بھجوائی تو انھیں بھی ازحد خوشی ہوئی کہ جس مضمون کے لیے کوئی دو برس سے وہ مجھے اور مولانا الیاس کو یاد دلاتے رہے، اس کی حتمی شکل سامنے آگئی۔ مضمون کے بعد مولانا کی بیماریوں کا سلسلہ مزید بڑھتا گیا اور یہ ممکن نہیں ہوسکا کہ اس میں وہ اضافہ کریں۔ وہ بار بار فون پر کہتے کہ اسے ابھی مکمل کرنا ہے مگر ان کی صحت کے حالات دیکھ کر میں ہر بار کہتا کہ وہ اپنے آپ میں مکمل ہے۔ پھر جب کتاب کی باری باری سے دونوں جلدیں انھیں چھَپ کر موصول ہوئیں تو ان کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں رہا اور چھپی ہوئی شکل میں جب اس مضمون کو انھوں نے پڑھا تو انھیں بھی اطمینان ہوا کہ جس مقصد سے انھوں نے وہ مضمون لکھا تھا، وہ مقصد پورا ہورہا تھا۔ میرے کاموں کے سلسلے سے بہت سارے لوگوں نے مضامین لکھے، ایسے افراد سو سے زیادہ ہیں مگر اپنے استاد مولانا علی الیاس اور اپنے بڑے بھائی پروفیسر ظفر امام کے مضمون کے بعد جیسی خوشی اور جیسا اطمینان میسر آیا، اس سے بڑھ کر کوئی پُر مسرت موقع مجھے ہاتھ نہیں آیا۔ ان دونوں مضامین کی اصل خوبی محبت، خلوص، شفقت اور اپنائیت تو ہے ہی مگر میرے ابتدائی حالات کو سمجھنے اور میری نشوونما کے مدارج سے واقفیت حاصل کرنے کے لیے ان تحریروں سے زیادہ تحقیقی مواد کسی اور مضمون یا کتاب میں شاید ہی مل سکے۔
مولانا حقیقت میں اسلامیات کے طالب علم تھے اور محدثین و مفسرین کا ایک انداز ان کی شخصیت میں ہمیشہ نظر آتا تھا۔ وہ کسی بھی کتاب یا رسالے کا مطالعہ کرتے تو اس کے حاشیے پر اپنے تاثرات، اضافے، تنقیدات یا کسی علمی نکتے کی وضاحت کے لیے چند جملے ضرور لکھتے جاتے۔ میری متعدد کتابوں کو انھوں نے اس اعتبار سے بہ خوبی آراستہ کیا۔ ١٩٩٤ء میں میری کتاب ”صلاح الدین پرویز کا آئڈنٹٹی کارڈ" شائع ہوئی۔ میں نے ان کی خدمت میں اس کی کاپی پیش کی۔ کئی مہینوں کے بعد جب وہ عظیم آباد تشریف لائے تو اس کتاب کی اس کاپی کو عنایت کرتے ہوئے بتایا کہ میں نے حسبِ ضرورت اپنے تاثرات جگہ جگہ لکھ دیے ہیں۔ کتاب کھولتا ہوں تو پوری کتاب شروع ہونے سے پہلے کے سادہ صفحے سے لے کر کتاب کے متن کے بعد بائنڈر کی طرف سے ڈالے ہوئے سادہ صفحے تک ان کی باریک اور خوش خط تحریر سے آراستہ تھی۔ جہاں کوئی باب شروع ہورہا تھا، وہاں اوپر کی طرف جو سادہ جگہ تھی، اکثر و بیش تر اس کا انھوں نے استعمال کرلیا تھا۔ کسی باب کے آخر میں کچھ جگہ سادہ تھی، مولانا نے اس صفحے کو بھی اپنی خوش خطی سے منور کردیا تھا۔ اس کے علاوہ حسبِ ضرورت کتاب کے حاشیے پر جہاں تہاں ان کے قلم سے لکھے گئے الفاظ چمکتے ہوئے نظر آئے۔ کہیں انھوں نے میری کسی بات پر داد دی تو کہیں صلاح الدین پرویز کی مزید خامیوں کے بارے میں کچھ اشارے کر دیے۔ کہیں میری زبان دانی پر سوال قائم کیا تو کہیں میری تجربہ پسندی پر کلاسیکی انداز سے سوالات ظاہر کیے۔ نفسِ مضمون یہی ہوتا مگر اس کی نئی نئی شکلیں بھی الگ الگ مثالوں کے ساتھ ان کی تحریر کا حصہ ہوتیں۔ [جاری]
***
صفدر امام قادری کی گذشتہ نگارش: بشیر بدر کا انتقالِ پُرملال

شیئر کیجیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے