ہواؤں میں بڑی افسردگی ہے
صفدر امام قادری
شعبۂ اردو، کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ
اس اطلاع کے لیے کم و بیش پوری اردو آبادی تیار تھی کہ کسی بھی وقت بشیر بدر آخری سفر کے لیے نکل جائیں گے۔ عمر طبعی بھی 91 برس کی ہو چکی تھی۔ کوئی سولہ برس سے ڈیمنشیا (Dementia) جیسے مہلک مرض میں وہ بسترِ مرگ سے لگ چکے تھے۔ نہ کسی کو پہچانتے تھے اور نہ کسی نئے پرانے موضوع کے بارے میں کوئی گفتگو کر سکتے تھے۔ زبان میں رعشہ اس قدر آچکا تھا کہ آواز اور الفاظ میں تال میل بٹھانا مشکل تھا۔ بہت کاوش کے بعد جب ان کے قریب ہو کر ان کے لا زوال شعر سنائیے تو چند الفاظ وہ دہرا دیتے تھے جس سے یہ سوچا جا سکتا تھا کہ ایک دو فی صد حافظہ اب بھی بچا ہوا ہے۔ دوست احباب اور دنیا جہان تو وہ بہت پہلے بھول چکے تھے۔
2010 ء میں منور رانا اور بشیر بدر کے درمیان بھوپال کے ایک مشاعرے میں نا چاقی پیدا ہوئی اور یہ رنجش اخبارات اور ٹی وی کے چینلوں کے سہارے قومی سطح پر پھیل گئی۔ اس کے بعد لکھنؤ کے ایک مشاعرے میں بشیر بدر نے شرکت کی مگر بہت مشکلوں سے وہ اپنے اشعار کو یاد کر کے پڑھ سکتے تھے۔ جس شخص نے ساری زندگی اپنے حافظے کی بے پناہ قوت کے ساتھ مشاعروں میں کرشمہ سازی کی ہو اور ہند و پاک سے لے کر خلیج کے ممالک اور امریکہ کے مشاعروں میں جس کا طوطی بولتا ہو، وہ اس بے چارگی میں شعر پڑھے، خود اسے بھی قبول نہیں تھا۔ مشہور نقاد اور شاعر اقبال مسعود نے بتایا کہ اس مشاعرے سے واپسی کے بعد انھوں نے گھر والوں سے یہ کہہ دیا کہ اب اس بے بسی میں مشاعروں میں میں شریک نہیں ہو سکوں گا۔ 2005ء میں ہی وہ مدھیہ پردیش اردو اکادمی کے چیرمین بن چکے تھے مگر 2011ء میں اس مرض کی وجہ سے انھوں نے دفتر آنا جانا چھوڑ دیا اور آئندہ 15 برسوں تک وہ ادبی دنیا سے لا تعلقی کا عذاب جھیلنے کے لیے مجبور رہے۔
امراض کی چپیٹ میں کئی ادبا و شعرا اس طرح مبتلا ہوئے کہ ان کی زندگی کا آخری دور نہایت بے بسی اور بے چارگی میں گزرا۔ سعادت حسن منٹو پر جنون کے دورے پڑے اور خوش قسمتی سے وہ صحت یاب ہو گئے۔ محمد حسین آزاد زندگی کے آخری اکیس برس (1889-1910) عالم جنون میں مبتلا رہے اور قابلِ رحم حالت میں جینے کو مجبور رہے۔ ٹھیک اس سے پہلے وہ ’آبِ حیات‘ اور ’نیرنگ ِ خیال‘ جیسی شاہکار کتابیں لکھ چکے تھے۔ بنگلا کے عظیم شاعر قاضی نذرالاسلام بھی 1946ء میں اپنے ایک نغمے کی اپنی آواز میں جب ریکارڈنگ کرا رہے تھے، اس وقت ان کی آواز بند ہو گئی۔ دنیا جہان کے علاج معالجے کے باوجود 1976ء میں ہی موت سے چارہ گری ممکن ہو سکی۔ محمد حسین آزاد نے زندگی کے آخری بیش قیمت اکیس برس اور قاضی نذرالاسلام نے زندگی کے آخری تیس برس ان خداداد بیماریوں کی نذر کیے۔ بشیر بدر بھی اس وقت جب وہ عالمی شہرت کی بلندیوں پر پہنچ چکے تھے، قدرت نے ان کا ایسا سخت امتحان لیا کہ جس سے موت کے ساتھ ہی نجات ملی۔ زندگی کے آخری سولہ برس ذہن و دل کی معطلی اور حافظے کی تنگی میں بسر کرنے کو مجبور ہوئے۔
بشیر بدر کو بہت سارے شعرا و ادبا کی طرح بنی بنائی زندگی نہیں ملی۔ والد بھی پولیس کی ملازمت میں معمولی درجے کے کارکن تھے۔ موجودہ امبیڈکر نگر (یوپی) کے بُکیا گائوں سے ان کا آبائی رشتہ رہا مگر ان کا گھرانا کوئی صاحبِ حیثیت گھرانوں میں شامل نہیں تھا اور نہ کوئی زمین جائداد ان کے خاندان کے پاس تھی۔ والد جب کانپور میں برسرِکار تھے، وہیں 15 فروری 1935ء میں وہ پیدا ہوئے۔ اٹاوا سے ہائی اسکول کا امتحان پاس کیا۔ 1957ء میں وہ سیتا پور میں پولیس کانسٹیبل کے طور پر فائز ہوئے۔ اس دوران ان کے والد گزر چکے تھے اور پورے خاندان کی کفالت ان کے سر پر آچکی تھی۔ سیتاپور میں رہتے ہوئے پرائیوٹ طور پر ادیبِ ماہر کے امتحان میں شریک ہوئے۔ 1964ء میں خیرآباد سے انھوں نے ادیبِ کامل کا امتحان گولڈ میڈل حاصل کرتے ہوئے پاس کیا۔
اسکول کے زمانے سے ہی وہ شعر کہنے لگے تھے اور رسائل و جرائد میں ان کا کلام شائع ہونے لگا تھا۔ سیتا پور کے مشاعروں میں وہ ابھرتے ہوئے شاعر کے طور پر اپنی پہچان بنانے لگے تھے۔ قاضی عبدالستار کی معاونت سے وہ علی گڑھ پہنچے اور مسلم یونی ورسٹی سے ایم۔اے اور پی ایچ۔ ڈی ۔کے مدارج تک پہنچے۔1967ء میں انھوں نے پولس کی ملازمت چھوڑ دی تھی اور یونی ورسٹی فیلوشپ کے ساتھ مشاعروں کی آمدنی سے اپنی زندگی کی گاڑی چلانے لگے۔ والد کی زندگی میں ہی ان کی چچازاد بہن قمر جہاں (شہناز) سے شادی ہوئی جن سے تین اولادیں ہوئیں۔1984ء میں ان کا انتقال ہوا ۔اس کے بعد 1986ء میں محترمہ راحت سلطان عرف راحت بدر سے نکاحِ ثانی ہوا جنھوں نے زندگی کی آخری سانس تک زندگی کے کڑے کوسوں میں بشیر بدر کی ہمراہی کا صبر آزما فریضہ انجام دیا۔
علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی ان کی زندگی اور ان کے خواب بدلنے کا ایک ذریعہ بنی۔ جب وہاں وہ پہنچے، شاعر کی حیثیت سے ان کی شہرت اچھی خاصی پھیل چکی تھی۔ ایم ۔اے کے نصاب میں چند جدید شاعروں کے ساتھ ان کا کلام بھی شامل تھا جو کسی طالبِ علم کے لیے یوں ہی ایک اعزاز کی بات تھی۔ ایم۔ اے میں وہ مسلم یونی ورسٹی میں کلاس فرسٹ ہوئے اور تمغۂ امتیاز پانے میں کامیاب رہے۔ تقریباً دو دہائیوں تک سب سے زیادہ نمبر لانے والے طالبِ علم کی حیثیت سے ان کا رکارڈ قائم رہا جسے بعد میں غالبًا قمرالہدی فریدی، موجودہ صدر شعبۂ اردو، علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی نے پار کیا تھا۔ 1969ء میں غالب صدی کے موقعے سے علی گڑھ میگزین کا انھوں نے اپنی ادارت میں خصوصی شمارہ شائع کیا۔ آلِ احمد سرور کی نگرانی میں انھوں نے ’’آزادی کے بعد اردو غزل کا تنقیدی مطالعہ ‘‘ کے عنوان سے پی ایچ۔ ڈی کا مقالہ لکھا جس پر انھیں 1973ء میں ڈگری تفویض ہوئی۔ 1981ء میں تحقیقی مقالے کے ابتدائی ابواب کو علاحدہ طور پر ’’بیسوی صدی میں اردو غزل‘‘ کے عنوان سے ایک مختصر کتاب کی شکل میں پیش کیا۔ اسی سال ان کا تحقیقی مقالہ بھی انجمن ترقی اردو ہند سے بہ اہتمام شائع ہوا۔ اس کتاب میں جدید اردو غزل کے امتیازات واضح کرنے کے لیے بشیر بدر نے خود اپنے 87 اشعار بہ طور اقتباس استعمال کیے تھے۔
ایک مختصر مدت کے لیے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں عارضی طور پر درس و تدریس سے وہ متعلق ضرور ہوئے مگر مستقل ملازمت انھیں میرٹھ کالج، میرٹھ میں ملی جہاں کم و بیش وہ سترہ برس تک درس و تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے۔ 1987ء میں میرٹھ کے فرقہ وارانہ فسادات میں بشیر بدر کے گھرمیں آگ لگا دی گئی۔ بشیر بدر کے گھر کے سامان کے ساتھ ان کا بہت سارا کلام اور ضروری کاغذات بھی اس آتش زدگی کی نذر ہوئے۔ 7جون1987ء کے اردو، ہندی ، انگریزی کے تمام اخبارات نے بشیر بدر کے پرانے مصرعے کو اس دن اپنی سرخیوں میں شامل کیا: ’یہ نئے مزاج کا شہر ہے، ذرا فاصلے سے ملا کرو‘ ۔1984ء میں بشیر بدر کی اہلیہ شہناز ان کے غیر ملکی سفر کے دوران گزر چکی تھیں۔ 1986ء میں انھوں نے جو دوسری شادی کی، وہ خاندان بھوپال سے متعلق تھا اور ناچار اسی مرحلے میں بشیر بدر نے میرٹھ سے مستقل طور پر بھوپال منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔ اب وہیں کی خاک میں وہ ہمیشہ کے لیے پیوست ہو گئے۔
بشیر بدر ابتدائی دور سے ہی اترپردیش کے چھوٹے بڑے مشاعروں میں کلام پیش کر کے اپنی شہرت میں اضافہ کرنے لگے تھے۔ وہی دور تھا جب جگر مرادآبادی، ساغر نظامی، فراق گورکھپوری جیسے شعرا مشاعروں کی بزم میں آخری آفتاب و ماہتاب بنے ہوئے تھے۔ ترقی پسند شعرا اور بعض کلاسیکی رنگ کے شعرا اپنا رنگ جمائے ہوئے تھے۔ یہ خاص موقع تھا جب نئے رنگ و آہنگ کے لوگ جو شعر و ادب میں اپنی جگہ بنا رہے تھے، وہ رسائل سے نکل کر مشاعروں کی بزم میں بھی حاضر ہوں۔ ملک زادہ منظور احمد نقیب کی حیثیت سے ابھرے اور بشیر بدر ایک ایسے البیلے شاعر کی حیثیت سے میدان میں آئے جو تحت اللفظ کے ساتھ کلاسیکی ترنم میں بہ یک وقت اپنے اشعار پیش کر سکتے تھے۔ اپنے شعری پیکر اور استعاروں کی وجہ سے یوں بھی بشیر بدر ہمیں حیرت انگیز طور پر چونکاتے تھے، انھیں یہ موقع ملا کہ اپنی شاعری میں جستہ جستہ رومانوی اظہار کے پیمانوں کو بھی انڈیلتے جائیں۔ پرانے شعرا جدید تعلیم سے آراستہ نہیں تھے۔ بشیر بدر ہوں یا ملک زادہ منظور احمد، دونوں جدید تعلیم کے فیض یافتہ تھے۔ دونوں یونی ورسٹیوں سے پی ایچ۔ ڈی کر کے مشاعروں کے اسٹیج تک پہنچے تھے۔ ان کی زبان سے لفظ تازہ پھول کی طرح رنگ اور خوشبو کا کھیل رچا تے تھے۔ دونوں کو جملے گڑھنے اور اپنی حاضر جوابی سے محفل لوٹنے کا فن آتا تھا۔ 1970ء سے 2010ء کے چالیس برسوں میں ہندستان اور دوسرے ممالک کے مشاعروں کے لیے یہ شعرا لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے تھے اور انھیں کبھی پیچھے مڑ کر دیکھنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ باقی تمام شعرا کی فہرست بدلتی رہتی تھی مگر یہ دونوں لازمی طور پر ایسے کسی مشاعرے کا حصّہ ہوتے تھے۔
علی گڑھ میں قیام کے دوران بشیر بدر کا پہلا شعری مجموعہ 1969ء میں ’اکائی‘ کے نام سے شائع ہوا۔ مجموعے کی آمد سے پہلے بشیر بدر کے اشعار اس دور کے معتبر نقادوں کے مضامین میں نقل کیے جانے لگے تھے۔ 1967ء میں شمس الرحمن فاروقی اور حامد حسین حامد کی مرتبہ ’’نئے نام‘‘ میں بھی بشیر بدر کی ایک غزل شامل ہو چکی تھی۔ ’اکائی‘ نے بشیر بدر کو جدید شعرا میں بالکل انوکھے رنگ کے شاعر کے طور پر اعتبار بخشا۔ چار برس کے بعد ’امیج‘ نام سے ان کا دوسرا شعری مجموعہ سامنے آیا جس نے ہم عصر شاعری میں انھیں سکۂ رائج الوقت بنایا۔ 1985ء میں جب کافی انتظار کے بعد تیسرا شعری مجموعہ ’آمد‘ منظر عام پر آیا، اس کی شاعری سے زیادہ اس کے پیش لفظ کا چرچا رہا جس میں بشیر بدر نے ’ایک خط 2035 کے پڑھنے والوں کے نام‘ مضمون شامل کیا تھا۔ اس کے بعد’ آس‘، ’ آہٹ‘ اور ’آسمان‘ مجموعے ایک ایک کر کے آتے گئے مگر ان کے ابتدائی دو مجموعوں نے جو سکہ جمایا تھا، وہی اردو کے قارئین کے ذہن پر چھایا رہا۔ 1999ء میں ’آس‘ مجموعے پر انھیں ساہتیہ اکادمی کا انعام ملا اور اسی سال’ پدم شری‘ کا بھی خطاب حکومتِ ہند نے عطا کیا۔ وہ اس دوران اٹل بہاری باجپئی کے انتخاب میں لکھنؤ آکر تشہیری مہم کا حصہ بنے۔ مدھیہ پردیش میں بھی اردو اکادمی کی صدارت شیوراج سنگھ چوہان کے دورِ اقتدار میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے انھیں حاصل ہوئی۔
بشیر بدر نے ادبی اور سماجی اعتبار سے ایک بھری پری زندگی گزاری۔ مقبولیت کا انھوں نے جو زمانہ دیکھا، جگر مرادآبادی کے بعد شاید ہی کسی اردو شاعر کے حصے میں وہ آئی ہو۔ مشاعروں میں دولت برسنے کی وہ ابتدا تھی مگر بشیر بدر نے ہی اس کی ابتدائی نرخیں طے کیں۔ چینلس اور ٹیلی کمیونی کیشن کی چکا چوند کے دور میں بہت سارے شعرا نے اپنی جگہ بنائی مگر یہ شاید ہی ممکن ہوا ہو کہ ہندستان کے کسی گوشے میں مشاعرے کا خاکہ تیار ہو اور فہرست میں پہلے مقام پر بشیر بدر کا نام نہ لکھا جائے۔ یہ صورت کوئی چار دہائیوں تک قائم رہی۔ بہت کم جگہوں کے لیے ہوائی جہاز کا سفر ممکن ہوتا تھا ۔ٹرین، بس اور کار کے سہارے بشیر بدر اپنی عوامی مقبولیت کے آسمان تک پہنچے۔ اس مقبولیت نے ایک طرف انھیں عالمی شناخت اور دولت عطا کی تو دوسری طرف خالص ادبی میدان میں ان کے حاسدین اور خود بشیر بدر کی بڑھی ہوئی انانیت نے ایک معکوسی کیفیت پیدا کی۔ جب وہ مشاعروں میں سب سے بڑے شعرا میں گنے جاتے تھے، 1980ء کے بعد اردو کے ادبی رسائل اور نقادوں کے مضامین سے ان کے نام غائب ہونے لگے۔ ان کی نئی شاعری اپنے ابتدئی دو مجموعوں کی مقبولیت کا ذائقہ دوبارہ نہیں پیش کر سکی۔ ان کی ادبی پہچان اور مشاعرے کی مقبولیت کے بیچ جو رسہ کشی شروع ہوئی، اس نے شعر و ادب کے کئی نئے مسائل پیدا کیے۔ یہ بحث بھی شروع ہوگئی کہ مقبولیت اور ادبیت میں واضح مخاصمت ہے۔ دوسرا سوال یہ پیدا ہونے لگا کہ مشاعروں میں کم تر درجے کی شاعری اب زیادہ پہچان بنانے لگی ہے۔ مل جل کر یہ صورتِ حال پیدا ہوئی کہ 1980ء سے پہلے کے بشیر بدر اور اس سے بعد کے بشیر بدر کی ادبی پہچان میں دو لخت رویہ سامنے آنے لگا۔
(اب اس کے بعد کا قصہ اگلی قسط میں ملاحظہ کریں)
***
دوسری قسط
بشیر بدر کی یاد میں
مشاعرے پانی کی قبریں ہیں
صفدر امام قادری
شعبۂ اردو، کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ
بشیر بدر کی عوامی مقبولیت مشاعروں کی وجہ سے قائم ہوئی. ان کے اشعار بڑی تعداد میں غیر اردو داں لوگوں کے بیچ زبان زد رہے، یہ بھی مشاعروں کے سبب ممکن ہوا۔ جس زمانے میں بشیر بدر نے مشاعروں کے توسط سے اپنی شناخت قائم کی، اس دور میں اسٹیج پر بڑے بڑے شعرا جنھیں ادبی وقار بھی حاصل تھا، نظر آ جاتے تھے۔بیکل اتساہی، غلام ربانی تاباں، علی سردار جعفری، کیفی اعظمی، مجروح سلطانپوری، اختر الایمان جیسے ترقی پسند شعرا اپنی خالص ادبی شاعری کی وجہ سے اسٹیج پر موجود تھے۔ جدید شعرا میں عزیز قیسی، قاضی سلیم، ندا فاضلی، شہریار، وحید اختر، شاذ تمکنت، زبیر رضوی، سلطان اختر، حسن نعیم، مظہر امام، والی آسی، عرفان صدیقی، مخمور سعیدی وغیرہ مشاعروں کی بزم میں موجود تھے۔چند پرکاش جوہر بجنوری، حیات وارثی، اظہر عنایتی، حبیب ہاشمی، ساغر اعظمی اور وسیم بریلوی بھی اسی قافلے کا حصہ تھے۔ راحت اندوری، منور رانا تک آتے آتے یہ فہرست مکمل ہو جاتی ہے۔ ان میں سے شاید ہی کسی کے بارے میں یہ الزام عائد ہو کہ ان کے اشعار دوسروں کے کہے ہوئے ہیں. اس وقت تک مشاعروں میں حقیقی شعرا کی ہی شمولیت ہوتی تھی اور محدود پیمانے پر شاعرات، ہندی رسمِ خط میں لکھ کر اپنا کلام پیش کرنے والے لوگ ابھی مشاعرے کے مرکزی منچ تک نہیں پہنچے تھے۔
اس دور میں لوگ مشاعروں میں ٹیپ رکارڈر لے کر پہنچتے اور اپنے مقبول شعرا کا کلام محفوظ کرتے جس سے ان کا کلام گھرگھر پہنچ سکا۔ جدیدیت کے ابتدائی زمانے میں ہی غزل گائکی نے بھی اردو کے بعض شعرا کو مقبول بنایا. اولاً مہدی حسن اور پھر غلام علی نے غزل گائکی کو اچھی اور معیاری شاعری کی پیغام رسانی کے لیے آزمایا۔ناصر کاظمی، ابنِ انشا اور احمد فراز کے کلا م کو گھر گھر پہنچنے کا موقع ملا۔ ہندستانی گائکوں میں جگجیت سنگھ، انوپ جلوٹا، پنکج اداس، چندن داس اور طلعت عزیز نے جدیدیت کے علمبردار شعرا کو مزید مقبولیت عطا کی۔ ناصر کاظمی اور ندا فاضلی کی طرح تو نہیں مگر بشیر بدر کے کلام کو مختلف موسیقاروں نے دور دور تک پہنچایا۔ ہمیں یہ یاد ہونا چاہیے کہ 1960 کے بعد کے مشاعرے اور غزل گوئی نے جدید رموز و علائم اور خاصے مختلف استعاروں کو عوامی شعر فہمی کا حصہ بنایا۔ کلاسیکی اردو غزل کو سمجھنے والے بڑی تعداد میں پیدا ہو چکے تھے مگر نئی غزل کے انجانے لفظوں اور انجانے مضامین کو عوامی سطح پر شاید ہی سراہا جاتا۔ ایک دشواری یہ بھی تھی کہ جدیدیت کے نقاد رسائل کے صفحے سے نکلنے کے لیے تیار نہیں تھے. ایسی حالت میں بشیر بدر اور ان کی نسل کے شعرا کو سمجھنے والے مشاعروں کی بھیڑ سے اور اپنے گھروں میں مہدی حسن اور غلام علی یا جگجیت سنگھ کے حوالے سے جاننے والی ایک بڑی آبادی نے سہارا دیا۔
ترقی پسند شعرا ہی نہیں، نثر نگار بھی عوامی مقبولیت میں پورے طور پر کامیاب رہے. بشیر بدر اور نقیب کے طور پر ملک زادہ منظور احمد کی با اثر موجودگی نے رسائل کے شعرا کو منچ پر نہ صرف یہ کہ پہنچایا بلکہ ان کی مقبولیت کے ضامن بھی بنے۔
ہمارے گھر کی دیواروں پہ ناصر
اداسی بال کھولے سو رہی ہے
یا
دل کی بستی پرانی دلی ہے
جو بھی گزرا ہے، اس نے لوٹا ہے
جیسے شعر بھلا کس طرح ماحول سازی کے بغیر سمجھے جا سکتے تھے۔ ملک زادہ منظور احمد نظامت میں جدیدیت کی پوری تاریخ پیش کر دیا کرتے تھے۔ ان کی یہ بھی کوشش ہوتی کہ جدید شاعروں کو ان کے اسلوبیاتی اور موضوعاتی اختصاص کے ساتھ عوام تک پہنچایا جائے۔ اس عہد کے جدید شعرا جو مشاعروں میں کامیاب ہو سکے، ان کے لیے ملک زادہ منظور احمد کی ماحول سازی کامیابی کا حقیقی حربہ تھی۔ یہ کہنے کی بات نہیں کہ 1970 کے بعد کے مشاعروں کے سب سے زیادہ پھل پھو ل بشیر بدر کے حصے میں آیا۔
بشیر بدر صورت شکل سے پُر کشش تھے. لباس کا خاص خیال رکھتے تھے. قد ملک زادہ کی طرح تو نہیں تھا مگر دوسروں سے نکلتے ہوئے معلوم ہوتے تھے۔ اوپر کے دانت ذرا نکلے ہوئے تھے مگر کھڑے ہو کر جب شعر پڑھتے تھے تو اس کا ایک مداوا انھوں نے ڈھونڈ لیا تھا۔ آدھے جسم سے دوہرے ہو کر وہ کھڑے ہوتے، اکثر اپنے ہاتھ یا کم از کم ایک ہاتھ پیٹھ کے کوبڑ ہوتے انداز پر رکھ لیتے۔ پڑھتے وقت یا داد کے بیچ کی خاموشی میں ان کے باہر نکلے ہوئے دانت کبھی بد نما معلوم نہیں ہوتے. حسب ضرورت جب تک سر پہ بال بچے رہے، انھیں وہ رہ رہ کر جھٹک لیتے جس سے ایک پُر اثر کیفیت پیدا ہو جاتی. مائک کے ساتھ اس انداز سے کھڑے ہونے کی نقل مشاعروں میں اب تک لوگ کرتے رہتے ہیں مگر بشیر بدر کی شاعری اور ان کی مقبولیت وہ کہاں سے لے آئیں.
1980 کے بعد بشیر بدر کی مقبولیت نصف النہار تک پہنچ چکی تھی. ہندستانی مشاعروں میں بھی ان پر ہُن برسنے لگا تھا لیکن خلیج کے ملکوں کے مشاعروں اور گاہے بہ گاہے امریکہ یا دوسرے ممالک کے مشاعروں سے ریال اور ڈالر بھی بڑی مقدار میں ہمارے شعرا کی گانٹھ میں آئے. وہ دَور تھا جب بشیر بدر کے ہاتھ میں پارس پتھر تھا؛ جس لفظ کو چھو دیں، وہ سونا ہو جائے۔ ہمارے بزرگ شعرا میں کوئی عینک بیچتا رہ گیا تھا تو کوئی رکشہ چلا کرگزارا کرتا تھا۔ یہ بات کسے معلوم تھی کہ مشاعروں کی وجہ سے زندگی میں ٹھاٹ باٹ آ سکتی ہے۔ ہندستان میں بشیر بدر وہ پہلے شاعر تھے جنھوں نے مشاعروں سے مالی منفعت کے دروازے وا کیے۔ بعد میں انھی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے وسیم بریلوی، منور رانا، راحت اندوری کامیاب ہوئے۔ گذشتہ دو دہائیوں میں مشاعروں میں معاوضے کی رقم بھی بڑھی جس کا پھل پھول اب نئے شعرا زیادہ پا رہے ہیں. شکیل اعظمی اور عمران پرتاپ گڑھی عہدِ حاضر کے شعرا میں مشاعروں سے بہتر معاوضہ حاصل کرنے کے لیے پہچانے جاتے ہیں. بشیر بدر نے جو مشاعرے میں مالیت کا پودا لگایا تھا، اس کے بہتر پھل پھول آج کے شعرا حاصل کر رہے ہیں.
بشیر بدر کے اشعار اچھے خاصے تہہ دار اور کثیر المعانی رہے ہیں جس سے ان کا ادبی اور علمی اعتبار قائم ہوا. ان میں دوسرے شعرا کے بر عکس ایک خطیبانہ صلاحیت بھی تھی. ایک مدت تک درس و تدریس میں رہنے اور بہترین اساتذہ سے درس حاصل کرنے کی وجہ سے ان میں تعبیر و تشریح کی صلاحیت بھی خوب خوب تھی. کبھی کبھار وہ مشاعروں کی نظامت کے دوران اپنی اس تقریری صلاحیت کا پتا دیتے تھے مگر شہرت کی بلندی تک پہنچنے کے بعد شعر پڑھنے کے دوران ایک ایک شعر کی تشریح کرنا اور اپنے اوصاف و کمالات بتانا بشیر بدر کے شعر پڑھنے سے ہم آہنگ ہو گئے. پرانے شعرا میں فراق گورکھپوری کے بارے میں یہ کہا جاتا تھا کہ وہ جب تک اپنے ایک ایک مصرعے کے فضائل بیان نہ کر لیں اور مشرقی اور مغربی شعرا کے شعروں سے موازنہ کر کے اپنی برتری ثابت نہ کر دیں، وہ مطمئن نہ ہو سکتے تھے. بشیر بدر نے شعر پڑھنے کے ساتھ تقریر کو پیشہ بنا لیا اور چالیس منٹ میں بیس منٹ شعر گوئی کے لیے اور اسی قدر تقریر کے لیے میعاد متعین کیا۔ مشاعروں میں آج شعر سے زیادہ لطیفے، تقریریں اور اپنے کوائف بیان کرنے کا جو مشغلہ ہر قابلِ ذکر شاعر نے اپنا رکھا ہے، اس بدعت کا آغاز بشیر بدر کی ہاتھوں ہوا تھا.
بشیر بدر نے ان تقریروں کا نفس مضمون اپنے کمالات تک محدود رکھا. ساری ادبی دنیا انھیں جس لگن اور محبت سے سن رہی تھی، اس سے انا اور تکبرکی بنیادیں اپنے آپ پیدا ہو جائیں گی. 1980 کے بعد بشیر بدر کا ایک انٹرویو ہندو پاک میں شائع ہوا جس میں انھوں نے اردو کے تین شاعروں میں اپنے ساتھ میر اور غالب کا شمار کیا تھا. شہرت کے نشے میں اب یہ باتیں آئے دن سامنے آنے لگی تھیں۔ مشفق خواجہ نے اپنے ایک مضمون میں ایک پھبتی کسی کہ غالب اور میر کے نام گنتی پوری کرنے کے لیے لیے گئے تھے، مقصود تو اپنا نام پیش کرنا تھا. پٹنہ کی ایک مجلس میں بشیر بدر نے بتایا کہ جس طرح میر کے بہتر نشتر مشہور ہیں، اسی طرح ان کے بھی دو چار کم یا زیادہ اشعار لا زوال شعروں کی فہرست میں شامل ہو چکے ہیں. 1987 میں ’آمد ‘ شعری مجموعے کی اشاعت کے ساتھ یہ دھماکہ بھی ہوا کہ وہ 2035 کے قارئین سے مخاطب ہیں۔ اس زمانے میں اس بات کی تشریح وہ اس طرح کرتے تھے کہ ان کی شاعری کا ایک ایک لفظ عصرِ حاضر کے قارئین کے دل میں اُتر چکا ہے جس کا وہ اپنی مقبولیت سے جواز پیش کرتے تھے. انھیں اندازہ تھا 2035 یعنی ان کی پیدائش کے 100 سال کے مکمل ہونے کے عرصے تک ان کی مقبولیت اور ادبی شناخت پھیلی ہوئی رہے گی، اسی لیے انھوں نے نئی صدی کے قارئین کو مخاطب کیا.
بشیر بدر اپنی مقبولیت کے گنبدِ بے در میں کچھ اس طرح سے قید ہوئے کہ انھیں اس سے نکلے کی مہلت نہیں ملی۔ وہ بے دریغ کسی نہ کسی بہانے اپنے مجموعی شعری سرماے کو کبھی دس ہزار، کبھی بیس تیس ہزار شعروں پر مشتمل قرار دیتے رہے۔ کئی بار صحافیوں اور کئی دوسرے شعرا نے ٹوکا مگر شہرت کی بلندی پر رہتے ہوئے انھیں پتا ہی نہیں چلا کہ سو سو صفحے کے جو تین چار مجموعے ہیں، ان میں موجود اشعار کوبیس تیس ہزار کی گنتی تک کیسے پہنچایا جا سکے گا. زندگی میں کئی اداروں نے ان کے کلیات شائع کیے، ان کا سارا کلام چار سو صفحے میں سمٹ آیا یعنی چار نہیں پانچ ہزار اشعارسے زیادہ نہیں کہے لیکن وہ بڑے اعتماد کے ساتھ اس جھوٹ کو تسلیم کراتے رہے. عوامی مقبولیت کی چکاچوند میں اس فضول گوئی کی حقیقت وہ خود نہیں سمجھ سکے.
بشیر بدر نے مشاعروں میں اپنی تقریروں میں ایک انکسار کے ساتھ تکبر کا اسلوب وضع کیا تھا. وہ موسیقاروں کی طرح جھوٹ سے احتراز یا اساتذہ کے نام لینے کے مرحلے میں اپنے کان چھوتے یا دونوں گالوں میں تھپکیاں مارتے اور کہتے جاتے کہ خدا جھوٹ نہ بلوائے. خود کو حقیر فقیر بتاتے مگر گفتگو کی تان انا پرستی پر ٹوٹتی جس میں واقعی وہ دکھاوے کا انکسار بیان میں شامل کرتے مگر انانیت اور غرور و تمکنت ہی ان کے حقیقی مقاصد تھے۔ اس سے ایک بگاڑ پیدا ہوا اور بشیر بدر کے سنجیدہ چاہنے والوں کی بڑی تعداد گھٹنے لگی. اردو کا تعلیم یافتہ حلقہ یوں بھی کب تک ان کی ایسی باتیں سنتا رہتا۔ اہم شعرا، ادبا اور نقادوں نے ان سے بے رخی برتنا شروع کر دیا۔ عنوان چشتی نے ان کی شاعرانہ اسقام پر بڑا سخت مضمون لکھا. حالت یہ ہو گئی کہ اپنے عہد کے سب سے مقبول شاعر کی طرف سے کسی دوسرے نے بھی ادبی دفاع نہیں کیا. شہرت کی دوڑ بھاگ میں بشیر بدر ذرا بھی سنبھل نہ سکے اور ادبی اور علمی حلقے میں ان کی قدر شناسی کے بجاے ایک بے رخی اور سرد مہری پیدا ہو گئی جو ان کے جیتے جی قائم رہی۔ انھیں سولہ برسوں کی اس اذیت ناک بیماری کے دوران بھی ادبی حلقے سے قبولیت اور ہمدردی کے جو بول ملنے تھے، وہ نہیں ملے۔ اس بے چارگی اور بے بسی پہ ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔
بہت پہلے بشیر بدر نے رسالہ ’ شاعر‘ میں کچھ اپنے شاعرانہ اور بلیغ جملے شائع کرائے تھے۔ اسی میں ایک جملہ یہ بھی تھا ’مشاعرے پانی کی قبریں ہیں، روز یہاں ایک نسل پیدا ہوتی ہے اور اسی میں ڈوب جاتی ہے‘۔ واقعی یہ تجربے کی بھٹی سے نکلا ہوا بیان تھا. انھوں نے خود کبھی خدا لگتی کہی تھی:
’شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشا ہے
جس ڈال پہ بیٹھے ہو، وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے
مگر بشیر بدر اپنے عروج کے زمانے میں اس بات کو سمجھنے سے قاصر رہے. اس نے بعد میں ان کی شہرت کو بھی نقصان پہنچایا اور ادبی مقبولیت کے بھی بہت سارے راستے منجمد کیے. کاش وہ اس بات کو وقت رہتے سمجھ باتے.
(بشیر بدر کے شاعرانہ امتیازات اور جدید شاعر کی حیثیت سے اسلوب و بیان کے تجربوں کے حوالے سے آئندہ قسطیں ملاحظہ کریں۔)
صفدر امام قادری کی گذشتہ نگارش : ابوالخیر نشتر: شخص اور شاعر