ابھے کمار شاہ
مالیگاؤں
مراٹھی سے اردو ترجمہ: خان حسنین عاقب
پوسد
(ادارتی نوٹ: کوئی کسی ادیب و شاعر سے محبت کرے تو ایسے کرے جیسے ابھے کمار شاہ نے مصطفی اثر صدیقی سے کیا. مصطفی اثر صدیقی کا تعلق مالیگاؤں مہاراشٹر سے ہے. ابھے کمار شاہ نے ان کا شخصی خاکہ اس طرح لکھا ہے کہ مصطفی اثر صدیقی کے ساتھ ابھے کمار سے بھی محبت ہوجائے. مراٹھی میں لکھی اس تحریر کی ہر سطر سے بے لوث محبت ٹپکتی ہے. ابھے کمار نے پہلے لفظوں کو سچے موتیوں کے سمندر میں ڈبویا، اس پر محبت کی گل افشانی کی اور پھر اثر صدیقی سے اپنی پہلی ملاقات اور دوستی کے پروان چڑھنے اور تعلق قائم رکھنے کو اس انداز میں بیان کیا کہ مالیگاؤں کے سماجی، ادبی اور تاریخی پس منظر کے ساتھ ان کا عہد بھی جی اٹھا.
خان حسنین عاقب ایسے ادیب ہیں جن کے قلم میں متعدد زبانوں نے اپنا گھر بنایا ہے. انھوں نے مراٹھی سے ترجمہ کرتے ہوئے ایک ایسی تحریر کا انتخاب کیا جس سے خود ان کی ادب دوستی کا ثبوت ملتا ہے.)
کسی شہر کی شہرت کے حساب میں اگر فسادات اور بم دھماکوں کے سوا کچھ بھی درج نہ ہو تو اسے دیوالیہ پن ہی کہا جانا چاہیے۔ اگر بال گندھرو، پُو۔لا۔ دیش پانڈے یا کنےکر جیسے مراٹھی ادب کے نامور اور صف اول کے شعرا و ادیب مالیگاؤں کے لوگوں کی یادوں میں محفوظ ہوں بھی، تو وہ سب مالیگاؤں کی مخصوص شناخت نہیں بن سکتے۔ نہ کوئی صنعتی پس منظر، نہ کھیل کے میدان، نہ باغات، نہ تالاب، نہ خوبصورت عمارتیں، نہ صفائی، نہ صاف ندیاں، نہ بہتر انتظامی نظام؛ یعنی نام لینے لائق کوئی چیز نہیں۔ یہ بات درست ہے کہ یہاں کے لوگ بہت اچھے ہیں مگر محض اچھے لوگ کسی شہر کی شناخت نہیں بن سکتے۔
البتہ کچھ شخصیات ایسی ضرور ہو گزری ہیں اور کچھ ہمارے درمیان ہنوز موجود ہیں جن کی وجہ سے اپنے اپنے شعبہ ہاے حیات میں مالیگاؤں کا نام لوگوں کی زبان پر رواں ہوا۔ ایسے ہی لوگوں میں ایک نمایاں نام مصطفیٰ ’اثر‘ صدیقی کا ہے۔
مالیگاؤں میں اردو داں طبقہ اکثریت میں ہے۔ یہاں ان کی سکونت کی تاریخ تقریباً سات سو برس پرانی ہے۔ ان کی ثقافتی روایات کی جڑیں بھی اتنی ہی گہری ہیں۔ اردو زبان کی روایت میں شاعری ہمیشہ بلند ترین مقام پر فائز رہی ہے۔ غزل کے علاوہ نظم، آزاد نظم، رباعی، قطعہ، نیز موقع و محل کے مطابق کہی جانے والی شاعری جیسے قصیدہ، مرثیہ، روداد، سراپا، رخصتی، استقبالیہ اور حمد و نعتِ رسولؐ، یہ سب اور ان جیسی کئی شعری اصناف اردو شاعری کا سرمایہ ہیں۔
ابتدائی دور کے بعد اثر صاحب نے مشاعروں کی نظامت شروع کی۔ نظامت یعنی اسٹیج کی ماحول سازی یا نظامتِ مشاعرہ۔ میں نے جس پہلے مشاعرے میں اثر کو سنا، اس میں شہرہ آفاق ناظم مشاعرہ ثقلین حیدر نظامت کر رہے تھے۔ مالیگاؤں میں شعرا کی ایک مضبوط اور زرخیز روایت موجود ہے۔ اثر صدیقی کی نظامت کا تجربہ کرنے کے بعد باقی تمام ناظم پھیکے محسوس ہونے لگتے ہیں۔ مشاعرے کی نظامت گویا شیو دھنش اٹھانے جیسا مشکل کام ہے۔
شعرا کے تخلص کے ساتھ شہر کا نام جوڑنے کی روایت بھی وہیں سے شروع ہوئی۔ مثال کے طور پر داغ دہلوی، ساقب لکھنوی، جگر مرادآبادی، اسی طرح آج کے دور میں سہیل مالیگانوی۔
نظامت کے لیے ضروری ہے کہ بہترین اشعار زبان پر ہوں، نہ صرف ان کے ظاہری معنی بلکہ علامتوں کے پیچھے چھپے مفاہیم کو سمجھنے کی صلاحیت بھی ہو اور ہر لمحے یہ یاد ہو کہ کس موضوع پر کس شاعر نے کیا لکھا ہے۔ یہ سب کچھ فوراً یاد آ جانا چاہیے۔ اور اگر شعر پڑھتے وقت وزن یا بحر میں ذرا سی بھی لغزش ہو جائے تو اسٹیج پر بیٹھے ہوئے شعرا اور سامنے بیٹھے ہوئے سنجیدہ سامعین اسے ہرگز برداشت نہیں کرتے۔
سنہ 87- 1986 میں جے۔اے۔ٹی۔ ہائی اسکول کے احاطے میں منعقد ہونے والے ایک مشاعرے میں میں نے پہلی بار اثر کو دیکھا۔ والی آسی، بشیر بدر، منظر بھوپالی، نریش کمار جیسے بڑے شعرا وہاں موجود تھے۔ ’’مصطفیٰ اثر صدیقی‘‘ کا نام پکارا گیا۔ اثر اسٹیج سے اٹھ کر مائیک پر آئے۔ سفید، کڑک استری کیا ہوا لمبی آستینوں والا قمیص، کالی پتلون، کالی فریم کا چشمہ، کانوں کے پاس اور گردن کے اوپر قدرے گھنگریالے، گھنے سیاہ بال، اس وقت مکمل طور پر صاف شیو، قد اوسط سے کچھ زیادہ، روشن گورا رنگ؛ ایک باوقار اور متاثر کن شخصیت۔ اشعار کی قرأت (اگرچہ سب زبانی یاد ہوتے ہیں، مگر اسے قرأت ہی کہا جاتا ہے) شروع ہوئی۔ بھاری، گونج دار آواز۔ شعری کیفیت کے مطابق حیرت انگیز اتار چڑھاؤ، مگر آواز کی گہرائی اور وقار میں کوئی کمی نہیں۔ آہستہ آہستہ نگاہ شخصیت سے ہٹ کر صرف آواز پر مرکوز ہو گئی۔ بعد میں کبھی ڈاکٹر دلیپ بھامرے نے انھیں سنا تو کہا:
"اردو سمجھ میں آئے یا نہ آئے، صرف سننے میں ہی بہت لطف آتا ہے۔"
اور واقعی، اس جملے میں بڑی سچائی ہے۔ اثر کی اردو دقیق اور فارسی آمیز ہے۔ نئے الفاظ وضع کرنے اور انھیں اپنی شاعری کے ذریعے رائج کرنے میں، انہیں خاص دل چسپی ہے۔ مذاقاً کہا جاتا ہے کہ اثر کی شاعری سنتے وقت لغت لے کر بھی بیٹھا جائے تو کام نہیں چلتا کیونکہ بہت سے الفاظ لغت سے باہر کے بھی ہوتے ہیں۔
اثر صدیقی کے ذہن میں کم و بیش دس ہزار اشعار محفوظ ہوں گے جو ضرورت پڑنے پر ایک فرماں بردار خادم کی طرح فوراً حاضر ہو جاتے ہیں۔ ہر شاعر کو مائیک پر بلاتے وقت اس شاعر اور اس کی شاعری کے بارے میں جو تعریفی کلمات وہ کہتے ہیں، وہ واقعی لاجواب ہوتے ہیں۔ ایسی تعریف اگر ہم جیسے عام لوگوں کی ہو جائے تو بدہضمی ہی نہیں اسہال تک ہو جائے!
آج پورے ہندوستان کے مشاعروں میں اثر صدیقی کا نام ایک ممتاز ناظم کے طور پر لیا جاتا ہے۔ ان کی گونج دار آواز کا سحر، معیاری زبان، شعر کہنے کا مخصوص انداز اور پُرکشش شخصیت لوگوں کو ان کا دیوانہ بنا دیتی ہے۔ خوب داد ملتی ہے۔ اثر کہتے ہیں:
"اگر میں سیاست جانتا ہوتا تو اب تک لال قلعے کے مشاعرے کی نظامت بھی میں ہی کر رہا ہوتا مگر دہلی میں دہلی اور یوپی والوں ہی کا سکہ چلتا ہے۔”
اس کے باوجود، پورے ملک کے اردو ذوق رکھنے والوں نے اثر کو سر آنکھوں پر بٹھایا ہے۔ انھیں درباری سرپرستی سے بڑھ کر عوامی محبت حاصل ہے۔ مالیگاؤں کا نام ملک کے کونے کونے میں مثبت طور پر متعارف کرانے کا کام اثر صدیقی نے کیا۔ اس پہلے مشاعرے کے ایک دو مہینے بعد کی بات ہے۔ ایک تپتی دوپہر میں، چھترپتی شیواجی کے مجسمے کے قریب ایک آٹو پارٹس کی دکان کے سامنے کھڑے دو تین لوگوں پر میری نظر ٹھہر گئی۔ ان میں اثر صدیقی بھی شامل تھے۔ اسکوٹر کے پرزے خریدنے میں مصروف۔ تجسس، عقیدت اور احترام کے ملے جلے جذبات تھے میں بے اختیار اثر صدیقی کی جانب کھنچا چلا گیا۔ نام ابھی زبان پر پوری طرح رچا نہیں تھا۔ میں نے پوچھا:
"آپ شاعر ہیں نا؟" انھوں نے اثبات میں سر ہلایا۔
آج ان کے بدن پر پتلون کے بجائے نیلے رنگ کی سفید چیک دار لنگی تھی مگر قمیص وہی تھی۔ میں نے انھیں دکان کے اندر آنے کی دعوت دی۔ ساتھ کھڑے لوگوں نے جلدی جانے کے لیے مختلف بہانے پیش کئے مگر اثر بولے:
"چلو یار، ادب کے لیے ایک پیالہ چائے پینے کا وقت تو نکالا ہی جا سکتا ہے۔”
یوں ہماری پہلی شناسائی ہوئی۔ بس پھر گویا دیر ہی نہیں لگی۔ ہر پندرہ دن یا مہینے میں ان کے گھر محفل ہوتی اور میں مدعو افراد میں شامل ہوتا۔ اکثر اوقات میں واحد غیر اردو داں فرد ہوتا۔ اسی لیے کبھی میں صدر بنتا، کبھی مہمانِ خصوصی۔ نشست رات دس بجے شروع ہوتی اور دو ڈھائی بجے تک چلتی۔ ساڑھے بارہ ایک کے بعد یہ صدر صاحب اونگھتے ہوئے پکڑے جاتے۔
اردو کے مخصوص لہجے اور تلفظ زبان پر چڑھ جانے کی وجہ سے وہ آج تک میرے نام کو صحیح طور پر ادا نہیں کر پاتے، بغیر کانا، ماترا اور ویلَنٹی کے۔ وہ مجھے "ابھے" کہتے ہیں۔ پروگراموں میں: "ابھے شاہ…"
اثر کا خاندان مالیگاؤں کے معزز اور معروف خاندانوں میں شمار ہوتا ہے، راج ہنس ساڑی والے، خُنّو خاندان۔ پاورلوم کے بڑے کاروباری یاسین خُنّو ان کے والد تھے۔ اثر سب سے چھوٹے بھائی۔ دو بڑے بھائی، ڈاکٹر غلام حیدر اور امین صدیقی تھے۔ ڈاکٹر صاحب شوقیہ مصوری کرتے تھے اور امین چچا نہایت عمدہ شاعر تھے۔ دونوں بھائی مجھ سے بے حد محبت کرتے تھے۔ کورونا سے پہلے امین چچا کا انتقال ہوا اور کورونا کے آغاز میں ڈاکٹر صاحب بھی چل بسے۔ ڈاکٹر صاحب کی تصویروں کی نمائش کے لیے اثر کے ساتھ میں نے بھرپور محنت کی۔ ناسک کے مصور شیواجی تُپے سر افتتاح کے لیے آئے تھے۔ امین چچا چین اسموکر تھے مگر میرے گھر کے مشاعروں میں گھر کی لاج رکھتے ہوئے چار چار گھنٹے سگریٹ کو ہاتھ نہ لگاتے۔ یوں ہمارے گھریلو تعلقات مزید گہرے ہوتے چلے گئے۔
وہ ہمیں اپنے گھر کھانے پر بلانے لگے۔ جس دن ہمیں جانا ہوتا، اس سے ایک دن پہلے خاص ہمارے لیے کھانا پکانے، پیش کرنے اور کھانے کے لیے بالکل نئے اور غیر استعمال شدہ برتن نکال کر دھوئے جاتے۔ بعد میں وہ برتن ہمارے ہی لیے مخصوص ہو گئے۔ فریج اچھی طرح دھو کر صاف کیا جاتا۔ یہاں تک کہ چونکہ ہم لوگ پیاز، آلو اور لہسن نہیں کھاتے، اس لیے وہ چیزیں بھی فریج میں نہیں رکھی جاتیں۔ کھانے میں لوکی کی دال، روٹی، چاول اور کریلا مسلّم ہوتا۔
پہلی مرتبہ جب میرے بھائی امر نے "کریلا مسلّم" کا نام سنا تو گھبرا گیا۔ اسے لگا پتا نہیں ہمیں کیا کھلایا جا رہا ہے! "مسلّم" یعنی پورا یا ثابت۔ ثابت کڑوے کریلے کو درمیان سے چیرا لگا کر اس میں مسالہ بھر کر پکایا جاتا ہے، اس سبزی کو کریلا مسلم کہا جاتا ہے۔
وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ بھی کئی بار ہمارے گھر آتے اور پوری اپنائیت سے کہتے: "شرمیلا، آپ کے ہاتھ کا پوہا مجھے بہت پسند ہے، مجھے اور کچھ نہیں چاہیے۔" میری والدہ حیات تھیں تو "بہن جی، بیٹھیے" کہہ کر ان کی خدمت میں اپنی ماں کی یاد میں کہی ہوئی اپنی چند نہایت اعلیٰ اور پُرجوش تخلیقات پیش کردیتے۔
شہر میں تقریباً ہر شادی کے کارڈ پر اثر کے اشعار چھپنے لگے، جیسے یہ ایک روایت بن گئی ہو۔ یہ اشعار اسی شادی کے لیے فوراً تخلیق کی گئی مختصر نظمیں ہوتیں۔ ہزاروں گھروں میں وہ اشعار فریم ہو کر دیواروں پر سجے ہوئے ہیں۔ اردو شاعری کو اس عملی اور گھریلو صورت میں گھر گھر پہنچانے کا کارنامہ اثر کے سوا شاید ہی کوئی کر سکتا ہو۔
دہلی کے باذوق احباب کہتے ہیں:
"آپ جیسی اردو تو اردو پر اپنا حق جتانے والے پاکستان کے بڑے سے بڑے مشاعروں میں بھی نہیں بولی جاتی۔"
برسوں تک میں انھیں سمجھاتا رہا کہ اپنی غزلوں کی کتاب شائع کریں اور اسے دیوناگری رسم الخط میں بھی چھپوائیں تاکہ وہ بڑا طبقہ بھی آپ کے کلام سے محظوظ ہوسکے جسے اردو زبان سے رغبت تو ہے مگر اسے اردو رسم الخط نہیں آتا۔ مگر اثر کسی نہ کسی وجہ سے ٹالتے رہے۔
لاک ڈاؤن کے دوران کورونا نے انھیں آ لیا۔ حال ہی میں ان کے دل کی سرجری ہوئی تھی۔ بڑی مشکل سے جان بچی۔ دو ایک مہینے بعد وہ لرزتے قدموں سے دکان کی سیڑھیاں چڑھ کر آئے۔ بولے:
"ابھے، میری ساری غزلیں ایک اٹیچی میں میرے بیڈروم کی الماری پر رکھی ہیں۔ اگر میرا کچھ کم زیادہ ہو جائے تو کتاب کا کام تمھیں کرنا ہے۔ میرے بعد اگر کوئی اس کام کو انجام دے سکتا ہے تو وہ تم ہو۔"
انھوں نے جیب میں ہاتھ ڈال کر نوٹوں کا بنڈل میز پر رکھا، دو لاکھ روپے تھے۔
"یہ وراثت تمھاری ہے۔ یہ کام میں اپنے بچوں کو نہیں سونپ رہا ہوں۔ یہ رقم اسی کام کے لیے ہے۔ دیکھو ابھے، زمین اور اینٹ پتھر کی جائیداد میرے بچوں کی ہے. شاعری کی وراثت تم سنبھالو۔"
ان کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے اور میری آنکھیں بھی اشک ریز تھیں.
آخرکار اثر صحت یاب ہو گئے۔ اس کے بعد ان کی حمد اور نعت کا پہلا مجموعہ شائع ہوا۔ تقریبِ اجرا میں میری بھی تقریر ہوئی۔ پورا ہال کھڑا ہو کر تالیوں کی گونج سے میری اس تقریر کو داد و تحسین سے دیر تک نوازتا رہا۔
دوسری کتاب غزلوں کا مجموعہ، پچھلے سال شائع ہوا۔ اس دوران وہ ہفتے میں تین چار دن دکان پر آتے اور دو دو گھنٹے بیٹھتے۔ اس کتاب کا تقریباً ہر کام میری دکان میں بیٹھ کر ہوا۔
ڈی ٹی پی والے کو فون میں کرتا، پرنٹر پر جلدی کام کرنے کا دباؤ ڈالتا، سرورق اور اندر کی رنگین تصویریں میری مدد سے منتخب ہوتیں، کاغذ خریدنے ناسک ان کے ساتھ میں ہی جاتا۔ یوں پوری تکریم اور احترام کے ساتھ انھوں نے اپنا وعدہ نبھایا۔
جب کشمیر کی ایک سرکاری ادبی تنظیم نے یہ کتاب منگوائی اور بعد میں مزید دس نسخے طلب کرتے ہوئے انھوں نے خط میں لکھا کہ "آپ کی یہ کتابیں اس لیے حاصل کی جارہی ہیں تاکہ آنے والی نسلوں کو دکھایا جا سکے کہ اردو اس طرح بھی لکھی جاتی ہے۔"
اثر صدیقی اب تھک چکے ہیں۔ عمر، قلبی عارضے اور جوڑوں کے درد نے انھیں نڈھال کر دیا ہے۔
اب ان کی آمد کم ہو گئی ہے۔ ساڑی کی پرنٹنگ کے لیے پہچانے جانے والے معزز اور وسیع راج ہنس خاندان کے وہ واحد فرد ہیں جو دولت و وسائل کے اعتبار سے تو محض ایک متوسط حصے کے مالک ہیں مگر سرسوتی کا وردان صرف انہی کے حصے میں آیا ہے۔ خاندان کی تاریخ میں نہ ان سے پہلے کوئی شاعر تھا نہ آئندہ نسلوں میں وہ چنگاری دکھائی دیتی ہے۔ باقی سب افراد دولت کمانے کے شوقین ہیں جنھیں نوٹوں کے سوا کسی اور شے میں مسرت نظر نہیں آتی۔
ماں گدیما کی ایک خوبصورت نظم گنگنایا کرتی تھیں: "ایک تالاب میں تھیں بطخیں، ننھے منے حسین بچے۔" بالکل اسی طرح، ان تمام حسین بطخ کے بچوں کے درمیان یہ ایک ہی راج ہنس ہے!
***
خان حسنین عاقب سے متعلق گذشتہ نگارش:تخلیقِ ادب میں اے آئی سوائے فریب اور سراب کے کچھ نہیں : خان حسنین عاقب
صحبت کا اثر / اثر کی صحبت
شیئر کیجیے