کلامِ قاضی جلال ہری پوری : ایک مطالعہ

کلامِ قاضی جلال ہری پوری : ایک مطالعہ

پروفیسر ظفر حبیب
سابق صدر شعبۂ اردو، للت نارائن متھلا یونی ورسٹی، دربھنگہ

جب مجھے کسی ایسے قلم کار کا قلمی سرمایۂ حیات ہاتھ لگتا ہے جن کی کاوشات کی مقدار کثیر ہوتی ہے لیکن ان کی پذیرائی قلیل تو بس یہ سمجھیے کہ اس تصنیف کو پاکر میری رگِ حمیت پھڑکنے لگتی ہے۔ پیشِ نظر شعری مجموعے پر یہ کلیہ صد فی صد صادق نہیں آتا۔ اس لیے کہ یہ ایک مکمل کتاب ہے جو شاعر کا تعارف بھی کراتی ہے اور تخلیقات کا تجزیہ و تبصرہ بھی اس میں موجود ہے۔ وہ بھی اس ناچیز کے کمزور قلم کا لکھا ہوا نہیں بلکہ معتبر اہل الرائے کی تحریریں اس مجموعے کے زیب و زینت میں اضافہ کر رہی ہیں۔ موصوف کے لائق و فائق پوتے محمد رضوان ندوی نے ان کی شعری تخلیقات کو مرتب کیا اور زیورِ طبع سے آراستہ کیا۔ اس ترتیب کے مرحلے میں محمد رضوان ندوی نے انتہائی بھاگ دوڑ اور جد و جہد کا مظاہرہ کیا ہے۔ گذشتہ اور موجودہ صدی کے ناموروں سے اس مسودہ پر مقدمہ، تاثر اور تقریظ لکھوا یا ہے۔ ان کی خود نوشت کے چند صفحات بھی شاملِ اشاعت کیے گئے ہیں۔ اس طرح یہ ایک مکمل کتاب ہے جو قاضی جلال ہری پوری کی منفرد شخصیت کو نمایاں کرنے پر کفایت کرتی ہے۔
مقدمہ میں محترم و معتبر استادِ زمانہ پروفیسر طارق جمیلی نے قاضی صاحب کے اوصاف و کمالات کا نکتہ وار تجزیہ اور مطالعہ پیش کیا ہے۔ وہ ایک اکیلا مضمون کئی مضامین پر بھاری ہے۔ ان نکات کا سنجیدہ مطالعہ قاضی صاحب کی شاعری کی تفہیم کے تمام راستوں کو کشادہ کرتا ہے۔ پھر حقانی القاسمی نے نئی Vocablery اور ادبی Terminology کے سہارے ان کی شاعری کو کئی Dimention سے پر کھا ہے۔ ان دو مضامین کے مطالعے کے بعد کوئی نیا پہلو کہیں منھ چھپائے نظر نہیں آتا۔
اس کلیات کا آغاز حمدِ رب کریم سے ہوتا ہے جو تقاضائے بشریت بھی ہے، عکسِ شرافتِ فکر و نظر بھی ہے اور پاسداریِ رسم و روایت بھی:
نبیؐ امی لقب تو نے ہدایت کے لئے بھیجا
ضلالت سے نکالا اور بنایا کلمہ خواں تو نے
بچایا نوح کی کشتی کو تو نے غرق ہونے سے
گھٹایا بہرِ موسیٰؑ نیل کا بحرِ رواں تو نے
جنابِ حضرتِ ایوّبؑ کو صبر و سکوں بخشا
لیا جس دم بلاؤں میں پھنسا کر امتحاں تو نے
جلالِ بے نوا کو زندگی بخشی فقیرانہ
سکندر کو بنایا آمرِ جملہ جہاں تو نے
مذکورہ اشعار نہ صرف یہ کہ حمدِ رب ذوالجلال و الاکرام کے ہیں، بلکہ شاعر کے افکار و نظریات کی سمت نمائی کرنے والے بھی ہیں۔ شاعر اپنے رب کا شکریہ ادا کر رہا ہے کہ اسے نبیؐ امی لقب کی امت میں پیدا کرکے، اسے اندھیرے میں بھٹکنے سے بچاکر اجالوں کا سفیر بنادیا۔ پھر اپنے رب کے ان بے پناہ احسانات کا ذکر کرتا ہے جو مختلف انبیا کی مشکل گھڑیوں میں ان پر کیے گئے ہیں۔ مقطع میں اپنی محرومی کا ذکر کرتے ہوئے سہولیاتِ ارضی کی عطا کی درخواست کرتا ہے۔ یہ اشعار اس حقیقت کا پتہ دیتے ہیں کہ شاعر اول تا آخر خود کو رحمتِ الٰہی سے وابستہ رکھنا چاہتا ہے۔ شعر و ادب کا یہ مخصوص اور مضبوط نظریہ ہے۔ اسے جس نے اختیار کر لیا با مراد ہو گیا۔
ایسا شاعر و ادیب ٹھو کریں کھاتا ہے، ناکامیوں سے دوچار ہوتا ہے، لیکن محرومیوں اور مایوسیوں کا شکار ہوکر چپ بیٹھ جانا اس کا وطیرہ نہیں ہوتا۔ نہ وہ چیخ پکار کرتا ہے نہ چھین جھپٹ کی فطرت اس کے اندر سر اٹھاتی ہے اورنہ اپنے پالنہار سے شکوۂ بیجا شروع کردیتا ہے، بلکہ و تواصوا بالصبر پر کار بند ہو کر اپنا سفر جاری رکھتا ہے۔ یہ وہ نظریۂ حیات ہے جو دنیا میں انسانوں کے درمیان شکر اور استقلال کے جذبے کو پروان چڑھاتا ہے اور تگا پوئے دمادم کے لیے اسے آمادہ کرتا ہے۔ اس کی وجہ سے ایسا شخص دامنِ جود و بخشش کو مضبوط پکڑ کر جینے کی دھن میں لگا رہتا ہے۔ یہ دھن دنیا کو امن و سکون عطا کرنے والی ہوتی ہے اور آخرت کو دنیا پر ترجیح دینے کو آمادہ رکھتی ہے:
ہمچو بلبل نالہ ھای زار، در یادت زنم
گلستانِ ما توئی ہم لالہ زارِ ما توئی
یعنی وہ بلبل کی طرح اپنے رب کی یاد میں نالہ کناں رہتا ہے اس لیے کہ وہ اسی ذات کریم کو اپنا گلستاں اور لالہ زار تسلیم کرتا ہے:
عاقبت تیرے حوالے اے خدا !
کٹ تو جائے زندگی آرام سے
دامنِ مہتاب جب ہے داغ داغ
آدمی کیوں کر بچے الزام سے
میں ڈھونڈتا ہوں کسے، بار بار کیا کہیے
تڑپ تڑپ، کے شبِ انتظار، کیا کہیے
ٹپک جائے، تو ہے اس کی جگہ، دامانِ رحمت میں
جو اک ناچیر قطرہ اشک کا پلکوں پہ لرزاں ہے
میر درد نے کہا ہے:
مری طرح سے مہ و مہر بھی ہیں آوارہ
کسی حبیب کی یہ بھی ہیں جستجو کرتے
اور جلال کہتے ہیں:
شمعِ مہتاب فلک ہاتھ میں لے کر، گھر گھر
جستجو میں تری، ہر رات رواں ہوتا ہے
یہ ایک رخ ہے جو شاعر کی یک رخی اور مرکزیت کو دکھا رہا ہے۔ جس کی وجہ سے شاعر کے ایسے اشعار جنھیں عاشقانہ اور رومان پسندانہ زمرے میں رکھا جا سکتا تھا، وہ بھی عارفانہ اور صوفیانہ زمرے میں رکھنے کے قابل ہو گئے ہیں:
جلالِ بے نوا کو کرکے زخمی تیغِ ابرو سے
پلٹ کر پھر لگانا خود ہی مرہم ہم نہ بھولیں گے
الف ابجد کا بابِ عشق میں بعدِ فنا آیا
اسے ہم ابتدا پائے جسے بھی انتہا جانے
جبینِ آرزو میں سیکڑوں سجدے ہیں ایسے بھی
کہ جن کا قبلۂ اول تمھارا نقشِ پا ہوگا
بڑھا کے ہاتھ یہ خاکی اٹھا لیا اس کو
وہ بار، خوف سے جسے ملک اٹھا نہ سکا
ہر بات غزل ہے اب اے جانِ غزل ! میری
ہے عکس ترا جب سے اس دل کے سفینے میں
غزل کہنے میں اے جانِ غزل ! ہوتی ہے دشواری
نظر کے سامنے جب تو نہ جلوہ بار ہوتا ہے
اس طرح کے ڈھیر سارے اشعار اس مجموعے میں شامل ہیں جو ذو معنیین کے لطف سے معمور ہیں۔ چاہے اِدھر پلٹیے چاہے اُدھر پلٹیے، ہر طرف لطف ہی لطف ہے۔ مزہ ہی مزہ ہے۔ کہیں سوکھا پن اور روکھا پن کا احساس نہیں ہوتا. کلاسیکی شاعری کا یہی وصفِ خاص ہے۔ شاعر کا ایک معشوق نظر کے سامنے ہوتا ہے اور دوسرا اندرون میں چھپا بیٹھا ہوتا ہے۔ شاعر کو یہ اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اندرون میں جو چھپا ہے وہی اصل ہے۔ لیکن جو معیاری ہوتا ہے وہ اسے روشناسِ خلق کرنا اپنے عشق کی رسوائی سمجھتا ہے اور ایسی تذلیل اسے پسند نہیں، بلکہ وہ خود کو رسوا کر کے زندگی کاٹ لینا پسند کرتا ہے۔ اس لیے وہ ایسی باتیں کہہ گزرتا ہے جو ظاہر پسندوں کو ظاہر و باہر نظر آتا ہے۔ چند اور اشعار پڑھ لیجئے:
اٹھاؤ ہر قدم ہُشیار ہو کر
قضا منڈلا رہی بائے سر ہے
رفتار زندگی کے گزرنے کی آئی یاد
سوئے نشیب اوج سے سیلِ رواں گیا
نگاہِ شوق نے میری جہاں دیکھا جدھر دیکھا
اسی کو جلوہ گر ہر سو بہ اندازِ دگر دیکھا
جمالِ یار کا کرتا رہوں ہر وقت نظّارہ
اسی شغلِ حسیں میں زندگی کی شام ہو جائے
عشّاق سے زمانہ خالی نہیں رہا ہے
اب ہے جلالِ شیدا مجنوں کے پیرہن میں
جنابِ قیس کو دیکھو کوئی نسبت رہی مجھ سے
وہاں ویرانہ مسکن تھا، یہاں مسکن ہے ویرانہ
غزلیہ شاعری کے یہ چند نمونے ہیں۔ ایسے اور بھی اشعار ہیں جن کا مشاہدہ اوراقِ ’ کلامِ قاضی جلال ہری پوری ‘ میں کیا جاسکتا ہے۔ اس مرکزی نکتہ کی وضاحت میں نے صرف اس لیے کی ہے کہ اردو شعر و ادب ابتدا سے ارتقا کے تمام مراحل میں فکری ارتکاز رکھتی ہے۔ تعمیر پسندی کی یہ وہ تیز لہر ہے جو زیریں لہر کے بطور ہمیشہ رواں دواں ہے اور یہ رفتار ہمیشہ قائم رہے گی کہ ذاتِ الٰہی مستقل بالذات ہے۔ یہ دنیا جب تک قائم ہے اسی کے حکم سے ہے اور جب فنا ہوگی تو اسی کے حکم سے ہوگی۔ اس لیے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، اس سے وابستہ فکر و نظر بھی ہمیشگی کی صفت سے متصف ہے۔ بقیہ جتنے نظریات ہیں وہ اس موّاج دریا کی اوپری سطح پر نظر آنے والے خس و خاشاک ہیں جو اوپر اوپر نظر آتے ہیں لیکن موّاج دریا انھیں کہیں نہ کہیں لے جاکر پھینک دیتا ہے۔ ایک وقت تک وہ اپنے وجود کا پتہ دیتے ہیں پھر ناپید ہوجاتے ہیں.
ایک بار پھر میں یہ عرض کرنا چا ہوں گا کہ مجھے خوشی ہے کہ قاضی جلال ہری پوری کی شاعری میری نظر سے گزری اور اس کے مطالعہ سے مجھے سر شاری ملی۔ دعا گو ہوں کہ ان کے صاحبزادے ماسٹر قاضی حامد حسن صاحب کے لائق فرزند عزیزِ گرامی مولانا محمد رضوان ندوی کے حوصلے بلند رہیں کہ وہ اپنے اسلاف و اجداد کی خدمات سے اہلِ علم کو آشنا کراتے رہیں۔ ان کے اسلاف و اجداد کا ان پر یہ حق ہے۔ جناب قاضی جلال ہری پوری مرحوم کو اپنے پوتے سے اس کی توقع بھی تھی۔
***
آپ یہ بھی پڑھ سکتے ہیں :قاضی جلال ہری پوری کی نعتیہ شاعری

شیئر کیجیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے