تعاقب

تعاقب

وسیم احمد علیمی

میں کہ بس ایک تودۂ خاکی
اور ہر سو یہ جاں گداز تپش
میری ہجرت بہ جانب فردا
میری منزل وہ صبح نور و سرور
میرے پیچھے یہ ناریان جہاں
جوق در جوق چلے آتے ہیں
کیوں کہ میں غیر ہوں ان کے لیے، ان میں سے نہیں
میرا مسجود نہیں وہ جو ان سبھوں کا ہے
وہ مری جان کے بھوکے
وہ مرے خون کے پیاسے
مجھے ماریں گے
مری لاش پہ اترائیں گے
میرے سینے پہ قدم رکھ کے پوری قوت سے
نعرہ ماریں گے اپنے مذہب کا
قید کر لیں گے ان مناظر کو
لوگ ہیبت میں مبتلا ہوں گے
اور کچھ لوگ جھوم اٹھیں گے
ہوگی گل پوشی قاتلوں کی پھر
اور اعزاز میں جلسے ہوں گے
لیکن بازی پلٹ بھی سکتی ہے
صدق دل سے اگر امانت کا
پاس رکھوں لحاظ رکھوں میں
وقت حاجت یہ موسوی ڈنڈا
ایک ٹھوکر سے نیل دریا میں
راستہ خوش نما بنائے گا
اور میں حالت تشکر میں
دور ساحل سے پرے، دور بہت
اپنی منزل کو چلا جاؤں گا
صاحب نظم کی یہ کاوش بھی ملاحظہ ہو :گزرا ہوا کل (نظم)

شیئر کیجیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے