وسیم احمد علیمی
کسے پڑی ہے کہ ہے بھوک یا کہ سیری ہے
نیا شہر ہے پریشاں ہے اجنبی چہرہ
کوئی تو پوچھے مرا بودو باش بطرز میر
دراز قد مینارۂ بلند پر ہے روشنی
چمک رہے ہیں بام و در
اداس ہیں مگر رخ مسافرین بے نوا
نہ پوچھو مجھ سے دوستو
پلاسٹک کی بوتلوں میں قید پانیوں کا حال
پلاسٹک کی تھیلیوں میں گرم روٹیاں وبال
کدھر کو جائیں کیا کریں
کہ ہوٹلوں میں بک رہے ہیں مرض افزا چاول دال
دل ہے خالی، من ہے خالی جیب بھی ہے خالی ہی
کسے پکاریں کس کو اپنا نام ہی بتائیں ہم
کہ آسمان بھی سرد ہے برس رہی ہیں بارشیں
ہوا بھی تند مزاج ہے
ہے حکم دل کہ اے وسیم
ہوا ہی کھا کے رہ چلو
کہ دیکھو کتنے پرسکوں ہیں تین کتے درمیاں
شکستہ گھر کے صحن میں
نہ بھوک کا گلہ انہیں
نہ بے گھری کا واسطہ
نئے شہر میں دلنشیں
رہو مثال سگ کہ تم
جہاں تلک ہو اجنبی
سگے نہیں ہو سگ ہو تم
***
وسیم علیمی کی گذشتہ نگارش: لوئی علی خلیل کی تین کہانیاں
شناخت نامہ
شیئر کیجیے