افسانہ نگار : پروفیسر لوئی علی خلیل (قطر یونی ورسٹی)
عربی سے ترجمہ : وسیم احمد علیمی
(1) ٹیکسی
رات کے اندھیرے میں شہر میں ایک خبر سرسرانے لگی کہ فوجی اچانک شہر سے نکل گئے ہیں۔ کسی نے گمان بھی نہیں کیا تھا کہ بغاوت اس قدر سخت مزاحمت کرے گی۔ فوج جاتے جاتے تین ٹینک اور کچھ اسلحہ پیچھے چھوڑ گئی تھی۔ افواہیں (البوکمال) جیسے چھوٹے سے شہر میں جلد نہیں مرتیں۔ صبح کی پہلی کرن کے ساتھ بچے گلیوں میں نکل آئے تاکہ وہ تین ٹینک ڈھونڈ سکیں، اور ان کے پیچھے پیچھے اہل محلہ بھی اسی تلاش میں تھے۔ مجھے خود میں کوئی رغبت محسوس نہ ہوئی کہ میں بھی جا کر ٹینک تلاش کروں۔
اگر واقعی کہیں ہوں گے تو البوکمال کی تنگ گلیوں اور چھوٹے گھروں کے بیچ چھپے ہوں گے۔
میں تو شہر کے کنارے والے تندور کی طرف چل پڑا کہ روٹی، انقلاب کے شروع ہونے کے بعد سے، بہت کم یاب ہوگئی تھی۔ واپسی کے راستے میں اچانک ایک گرج دار آواز سنائی دی۔ کچھ بھاری سا، جیسے فولاد کا کوئی دیو، آہستہ آہستہ قریب آتا جا رہا ہو۔ میں رک گیا۔ نظر دوڑائی تو دیکھا کہ سڑک کے بیچ ایک بڑا سا لوہے کا جانور دھیرے دھیرے رینگ رہا ہے۔ اس کے گرد درجنوں لڑکے، اور اس کے اوپر چند نو جوان بیٹھے تھے۔ جب وہ میرے برابر آئی تو رک گئی۔
اندر سے کسی نے میرا نام پکارا۔ پہلے تو پہچان نہ سکا۔ پھر ٹینک کے اوپر ایک چھوٹا سا دہانہ کھلا، اور اس میں سے میرا دوست عبد الحمید سفر نے اپنا سر بلند کیا۔ وہ جوش سے بولا:
"آؤ تمہیں گھر چھوڑ دیتا ہوں!"
میں نے حیرت سے پوچھا:
"تم ٹینک کے اندر کیا کر رہے ہو؟“
بولا :
"یہ مال غنیمت ہے !"
میں نے کہا:
"اور تمہیں اسے چلانا آتا ہے؟“
ہنستے ہوئے بولا :
"بالکل آسان! گاڑی سے بھی آسان۔ آؤ، زیادہ باتیں نہ کرو!“
میں نے ہنستے ہوئے کہا:
"تو کیا اب ٹینک ٹیکسی کا کام بھی کرنے لگے ہیں؟"
وہ اور اوپر بیٹھے لڑکے زور سے ہنسنے لگے۔
عبد الحمید بولا :
"ہاں ، اور عام ٹیکسی سے سستی ہے، آؤ بیٹھو !"
میں اوپر چڑھ گیا۔
عبد الحمید نے ٹینک کو شہر کی گلیوں سے گزارا۔
گرد اڑتی جا رہی تھی، لوگ ہمیں دیکھ کر خوشی سے نعرے لگانے لگے۔ جب ہم گھر کے سامنے پہنچے تو میں اُترا، اس کا شکریہ ادا کیا، اور جانے لگا تو پیچھے سے اُس کی آواز آئی:
"پیسے کہاں ہیں ؟“
میں رک گیا۔
"کون سے پیسے؟“
گاڑی کا کرایہ!
اس کے لہجے کی سختی نے مجھے چونکا دیا۔ وہ مذاق نہیں کر رہا تھا۔ میں نے جیب سے پچاس لیرہ نکال کر دیے۔
اس نے پچیس واپس کیے، اور ٹینک دھیرے دھیرے دھول کے بادل میں غائب ہو گیا۔
☆☆☆
(2) ہزاروں خواہشیں ایسی
قبر عاتکہ اور باب سریجہ کے درمیان ایک تنگ گلی تھی، جو تمام السوق کے اطراف کا احاطہ کرتی تھی۔ اس کی دیواریں اوپر کی طرف جھک کر تقریبا ڈیڑھ میٹر کی اونچائی پر حمام کی دیوار میں مدغم ہو جاتی تھیں، اور یوں راستے کے دونوں کناروں پر ایک اونچا فرش سا بن جاتا تھا۔ اس بلند فرش میں ہر ایک میٹر کے فاصلے پر چھوٹی چھوٹی گول درزیں تھیں، جن سے رنگ برنگے پھول جھانکتے تھے، اور اس تنگ گلی کو ایک عجب شادمانی بخشتے تھے۔ جب میں بچپن میں اس گلی سے گزرتا تو مجھے یوں محسوس ہوتا جیسے میں قوسِ قزح کے اندر چل رہا ہوں، اور ایک انوکھی سی سرشاری میرے وجود پر چھا جاتی، جس کی کوئی تعبیر میرے پاس نہ تھی۔
ایک دن ابو نے مجھے ایک پوری لیرہ دی۔ اس سے پہلے وہ زیادہ سے زیادہ ایک یا دو فرانک دیا کرتے تھے۔ کہنے لگے جو چاہو ، خرید لو۔
میں نے دونوں ہتھیلیوں میں وہ لیرہ مضبوطی سے تھام لی، اور دل میں بوزہ، مصاصہ اور سورج مکھی کے بیجوں کے خواب بننے لگا۔ خوشی سے میں نے طے کیا کہ ”قوس قزح“ والی گلی، جسے میں بچپن میں یہی نام دیتا تھا، وہیں جاؤں گا۔
میں لیرہ کو ہوا میں اچھالتا اور کبھی دائیں، کبھی بائیں ہاتھ سے پکڑ لیتا۔ مگر تیسری بار جب اچھالی تو میرا دایاں ہاتھ خالی لوٹا۔ لیرہ اوپر والے پھولوں والی چھوٹی درز میں جا کر اٹک گئی تھی۔ وہیں کہیں بوزہ، مصاصہ اور سورج مکھی کے بیج بھی گم ہو گئے۔ درز مجھ سے زیادہ دور نہ تھی، مگر میری چھوٹی سی ہتھیلی وہاں تک پہنچ نہ پاتی تھی۔ کتنا رشک آیا تھا مجھے ان بڑوں پر، لمبے قد والوں پر۔ اگر میں بڑا اور اونچا ہوتا تو آج میری لیرہ یوں ضائع نہ ہوتی! پتہ نہیں کیوں برسوں بعد آج وہ گلی یاد آ گئی۔ دل چاہتا ہے کہ جا کر اسے دیکھوں۔ میرے ذہن میں اب کوئی اور آرزو نہیں، بس یہی ایک خواہش باقی ہے۔ اگر جنگ جاری رہے، تو رہے، مگر مجھے اجازت ہو کہ میں قوس قزح کی گلی دیکھ آؤں۔ میں جانتا ہوں کہ باہر نکلنا خطرے سے خالی نہیں۔ کسی سیکیورٹی چیک پوسٹ سے ٹکرا جاؤں، یا کوئی آوارہ گولی، یا کسی سنائپر کی شرارت کا نشانہ بن جاؤں، مگر میرے قدم جیسے میری مرضی کے نہیں رہے۔ انھوں نے میرا بدن گھسیٹ لیا، جیسے میں کوئی سایہ ہوں جس کے پاس کوئی اختیار نہیں۔ میں گھر سے نکلا اور پرانی دیواروں کے سائے سے چپک کر چلنے لگا۔ جب گلی کے دہانے پر پہنچا تو میں نے اسے پہچانا ہی نہیں۔ قوس قزح مر چکا تھا۔ نہ پھول، نہ رنگ، صرف مٹی اور گرد کا ایک ہیولی۔ میں اس مقام پر پہنچا جہاں برسوں پہلے میری لیرہ اٹکی تھی۔ درز زیادہ اونچی نہیں تھی، بلکہ میری توقع سے قریب۔ کتنے نزدیک تھے وہ بوزہ، وہ مصاصہ، وہ سورج مکھی کے بیج!
میں نے انگلیوں سے درز کا مٹیالا حصہ کریدنا شروع کیا۔ اچانک میری انگلیوں نے تین لیرہ چھو لیں، ایک نہیں، تین! میں چونک گیا۔ کتنی تمنائیں تھیں جو اس چھوٹی سی درز نے نگل لی تھیں! کتنی بوزہ پکھل گئی، کتنی مصاصہ بہہ گئی اور کتنے بیج سوکھ گئے! میں نے لیرہ پر سے مٹی جھاڑی، انھیں اپنی قمیص کی آستین سے پونچھا۔ وقت نے انھیں زیادہ نقصان نہیں پہنچایا تھا، ابھی بھی چاندی کی چمک ان کے چہروں پر باقی تھی۔ میں نے تینوں لیرہ کو مضبوطی سے مٹھی میں بند کیا اور واپس چلنے کا ارادہ کیا۔ ابھی چند قدم ہی چلا تھا کہ دل پر ایک خلش جاگ اٹھی۔ کیا مجھے یہ لیرائیں رکھنے کا حق ہے؟ کیا ان کے اصل مالک بھی یوں ہی کبھی تلاش میں نہیں آئے ہوں گے، جیسے آج میں آیا ہوں؟ اچانک ایک دھماکے نے فضا کو چیر دیا۔ میرے سر کے اوپر کوئی خوفناک آواز گونجی، زمین ہلنے لگی، میں گرا اور کچھ سمجھنے سے پہلے ہی بازار میں گرتی ایک گولہ باری نے مجھے اپنے اندر لے لیا۔ جب آنکھ کھلی تو میری دائیں ہتھیلی خالی تھی۔ دھول کے بادل میں کچھ دکھائی نہ دیتا تھا مگر میں نے ایک چاندی سی چیز کو لڑھکتے، پھسلتے اور پانی کی نالی میں گرتے دیکھا۔ میں رینگتا ہوا نالی کے کنارے پہنچا۔ چہرہ اتنا جھکایا کہ لوہے کی سلاخوں سے چھو گیا۔ نیچے میری تینوں لیرا ئیں چمک رہی تھیں ، بہت قریب مگر میری انگلیاں وہاں تک نہیں پہنچ پا رہی تھیں۔ سلاخوں کے بیچ خلا بہت تنگ تھی۔ میں نے ہاتھ بڑھایا، بیکار ۔ لیرا ئیں بس ذراسی دور تھیں لیکن میری بڑی ، بھاری انگلیاں وہاں نہیں پہنچ سکیں۔ کتنا رشک آیا مجھے چھوٹے ہاتھوں والوں پر، ان نرم ، نازک ہتھیلیوں پر۔ کاش میں چھوٹا ہوتا کسی بچے جیسی نرم ہتھیلی رکھتا تو آج میری لیرا ئیں ضائع نہ ہوتیں۔
☆☆☆
(3) فرشتے
میں شگاف کے پیچھے کھڑی تھی ، اُس کے جسم کو غور سے دیکھ رہی تھی جو زمین پر پڑا تھا۔ وہ مجھ سے تقریباً ایک بالشت لمبا دکھائی دے رہا تھا۔ جسم دبلا پتلا۔ چہرے کے نچلے حصے پر اب بھی نقاب بندھا ہوا تھا۔ اُس کے سیاہ بال بکھرے ہوئے تھے، اور آنکھوں پر جما ہوا خون اُس کے چہرے کے نصف حصے کو چھپائے ہوئے تھا۔
میں نے بنا سوچے دروازہ کھولا اور زمین پر لیٹ گئی۔ آہستہ آہستہ رینگتی ہوئی اُس کی طرف بڑھی۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے گولیاں میرے گھٹنے کے قریب سے گزر رہی ہوں۔ مگر ایک عجیب سی جرأت مجھ میں سرایت کر چکی تھی۔ ہمارے درمیان فاصلہ زیادہ نہیں تھا۔ میں اُس کے برابر آ کر لیٹ گئی، میرا چہرہ اُس کے چہرے کے مقابل، میری سانسیں اُس کے گالوں سے ٹکرا رہی تھیں۔ میں نے اپنے سینے سے رومال نکالا اور اُس کے ماتھے اور آنکھوں سے خون صاف کیا۔ دل چاہا کہ نقاب اُتار کر اس کا چہرہ دیکھوں، مگر کچھ تھا جو مجھے روک رہا تھا۔ میں نے آخری لمحے میں ہاتھ روک لیا۔ اُس کی پلکیں بند کیں، رومال دوبارہ اپنے سینے میں چھپایا، اور آہستہ آہستہ واپس گھر کی طرف رینگ گئی۔
میں نے پردے کے شگاف سے جھانکا۔ چند لمحے بھی نہ گزرے تھے کہ میں نے اپنی پڑوسن ام یوسف کو دیکھا، جو اپنے گھر سے نکل کر نقاب پوش کی طرف رینگ رہی تھی۔ اُس نے بہ مشکل دوگز کا فاصلہ طے کیا ہی تھا کہ ایک منحوس گولی اُس کی بائیں پنڈلی کے اوپر سے گزری اور اُسے زخمی کر گئی۔ مگر اُم یوسف رکی نہیں۔ وہ رینگتی ہوئی اُس کے برابر جا پہنچی۔ اُس نے اپنا ہاتھ بڑھا کر نقاب پر رکھا۔ میں نے محسوس کیا اُس کا ہاتھ کانپ رہا ہے۔
خدایا، وہ نقاب نہ اُتارے، میں اُسے پہچاننا نہیں چاہتی، میں اُس کا چہرہ دیکھنا نہیں چاہتی۔
ام یوسف نے ہاتھ اٹھا لیا، نقاب اپنی جگہ رہا۔ اُس نے جیب سے ایک سیاہ کنگھی نکالی اور نقاب پوش کے بکھرے ہوئے بالوں کو سنوارنے لگی۔ پھر کنگھی کو جیب میں رکھ کر واپس اپنے گھر کی طرف رینگ گئی۔
میں سوچ میں پڑگئی، میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ کیوں نہ اُس کے بال سنوار دوں؟
مجھے نہیں معلوم کتنا وقت گزرا جب میں نے ہماری ہمسایہ کی بیٹی، ہدی کو دیکھا، وہ یونی ورسٹی کی طالبہ تھی، وہ بھی رینگتی ہوئی اُس کی طرف بڑھ رہی تھی۔ اُس نے پہلے ایک جوتا اٹھایا جو ذرا دور پڑا تھا، پھر اُس کے قدموں کی طرف گئی۔ اُس نے ایک ہاتھ سے اُس کا دایاں پاؤں تھاما اور دوسرے ہاتھ سے جوتا پہنا دیا۔ غالبا وہ بھاگتے ہوئے اپنا جوتا کھو بیٹھا تھا۔
ہدی نے اپنے سینے سے ایک رومال نکالا، دونوں جوتے صاف کیے، اور پھر آہستہ آہستہ واپس لوٹ گئی۔
اچانک بوڑھی اُم فادی کے گھر کا دروازہ کھلا ۔ اُس نے اپنا سر باہر نکالا، ادھر اُدھر دیکھا، جیسے یقین کرنا چاہتی ہو کہ گلی خالی ہے۔ پھر اُس نے اپنی لاٹھی دیوار سے لگائی اور زمین پر لیٹ گئی۔ وہ بھی رینگتی ہوئی اُس کی طرف بڑھی، یہاں تک کہ اس کے برابر جا پہنچی۔ جیب سے ایک شیشی نکالی، عطر چھڑ کا، اور مسکراتی ہوئی واپس اپنے گھر کی طرف لوٹ گئی۔ دروازہ بند کیا، اور اپنے پردے کے پیچھے گم ہوگئی۔
میں نے اپنی ساری پڑوسنوں کے دریچوں کی طرف دیکھا۔ سب کی نظریں اُسی پر جمی تھیں، ہم سب عورتیں تھیں، اکیلی ، چپ چاپ، پردوں کے شگافوں کے پیچھے کھڑی ایک نقاب پوش پر فاتحہ پڑھتی ہوئی۔ ہم اُسے نہیں جانتے تھے، وہ ہماری گلی میں ایک فرشتے کی طرح پھیل کر لیٹا ہوا تھا.
***
وسیم علیمی کی گذشتہ نگارش: پہلا احتلام