پروفیسر عید محمد انصاری:  شخصیت اور کارنامے

پروفیسر عید محمد انصاری: شخصیت اور کارنامے

ڈاکٹر عبدالودود قاسمیؔ
ڈلوکھر، مدھوبنی،بہار
Mobile:7979936725

فطرت کے وضع کردہ اصولوں میں سے ایک اصول یہ ہے کہ ہر آبادی اور علاقے میں چند ایسے خوش بخت افراد ہوتے ہیں جن کی خدمات اور کارناموں سے اس علاقے اور آبادی کی شناخت، علمی ادبی اور سماجی منظر نامے پر مثل کہکشاں بکھر جاتی ہیں۔ متھلا کا قلب کہا جانے والا شہر مدھوبنی عالمی منظر نا مے پر اب محتاج تعارف نہیں، مدھوبنی شہرسے سوئے شمال سترہ کلومیٹر کے فاصلے پر”قضیاہی“ نام کی ایک مردم خیز بستی واقع ہے۔ اس سرزمین سے تعلق رکھنے والے متعدد اصحاب علم و فن مختلف عملی میدان میں سرکاری و غیر سرکاری طور پر اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ سبھوں کی اپنی انفرادیت، امتیازی پہلو اور شناخت مُسلم ہے۔
سر زمین”قضیاہی“ (کھجولی، مدھوبنی) سے تعلق رکھنے والے مذہبی،سیاسی، سماجی اور علمی وادبی شخصیات کی ایک لمبی فہرست ہے. ان میں سے چند قابل ذکر بزرگوں میں مولانا تفضل حسین، مولانا محمد قاسم، ماسٹر عبدالمجید، محمد عثمان، ایڈووکیٹ فقیر محمد، ماسٹر محمد یعقوب، ماسٹر مطیع الرحمٰن، ماسٹر محمد شفیق، ماسٹر محمد الیاس، ماسٹر محمد ذوالنورین، ماسٹر شاہ محمد، ماسٹر محمد جمیل، ماسٹر محمد عثمان اور مولانا بشیر احمد کے نام اہم ہیں۔
نئی نسل کے علم برداروں میں ڈاکٹر محمد جاوید اختر (اسسٹنٹ پروفیسر ایم، ایم، یونی ورسٹی، پٹنہ بہار) ڈاکٹر محمد شمیم، مولانا نصیر الدین عارفی، ڈاکٹر فہیم احمد، محمد شمشاد عالم، ماسٹر محمد ظہیر عالم، مولانا محمد سرفراز عالم قاسمی، ماسٹر محمد فیروز، مولانا انور حسین قاسمی (مترجم کیوٹی بلاک) مفتی افضل امام قاسمی، مولانا عطاء الرحمٰن قاسمی وغیرہ کے نام اہم ہیں۔
پیش نظر مضمون میں مجھے قضیاہی بستی سے تعلق رکھنے والے اس عظیم لعل و گہر کی شخصیت اور کارنامے پر روشنی ڈالنی ہے جو جہان ادب میں پروفیسر عید محمد انصاری کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ ایک ملاقات میں راقم الحروف نے ان سے ان کے نام کی وجہ تسمیہ معلوم کی تو موصوف مسکراتے ہوئے بولے کہ میری پیدائش عین عید کے دن ہوئی اس لیے والدین لاڈ پیار سے مجھے عیدی اور عیدو کہنے لگے، اس طرح موصوف بھی بعینہ حضرت ابو ھریرؓہ کی طرح ایک اہم صفت اور وجہ تسمیہ کی بنا پر عید محمد کے نام سے ہی موسوم ہوگئے۔
موصوف جہان ادب میں فارسی زبان و ادب کے با صلاحیت استاد، ادیب، ناقد و محقق کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ منصب جلیلہ اور جاہ و حشمت کے باوجود آپ بہت ہی سادہ لوح، خاکسار، شریف النفس، ملنسار اور منکسر المزاج انسان ہیں. آپ کی سادگی و شرافت کی شہادت ہر وہ شخص دے سکتا ہے جو آپ سے مل چکا ہو۔
پروفیسر عید محمد انصاری کے احوال و کوائف اور تدریسی مشاغل سے متعلق بڑی تفصیل سے ڈاکٹر محمد شمیم اپنی کتاب ”پروفیسر سید حسن عسکری کے چند اردو مقالات کا تنقیدی جائزہ“ میں لکھتے ہیں، اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
”عید محمد انصاری میرے پدر بزرگوار ہیں، آپ عید کے دن پیدا ہوئے اس لیے عید محمد کہلائے۔ اسکولی سند کے مطابق آپ کی تاریخ پیدائش یکم جولائی 1956ء ہے۔ والد کا نام عبدالعزیز انصاری مرحوم، والدہ کا نام میمون خاتون مرحومہ اور اہلیہ کا نام بی بی حجن رضوانہ خاتون ہے۔ مقام قضیاہی پوسٹ کھولی، ضلع مدھوبنی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مدرسہ نور الہدیٰ قضیاہی، دور متوسط کی تعلیم مدرسہ رحمانیہ سپول، در بھنگہ اور عالم و فاضل کی تعلیم مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ اور ادارہ تحقیقات عربی و فارسی پٹنہ سے حاصل کیں۔ دینی علوم کی تحصیل کے بعد عصری علوم کی طرف راغب ہوئے۔ پٹنہ کالج سے بی۔اے (فارسی آنرس) فارسی، اردو، اور ہسٹری میں ایم۔ اے کیے۔ پی ایچ ڈی کا عنوان ”حضرت شیخ شرف الدین یحییٰ منیری کے غیر مطبوعہ مکاتیب کی تصحیح و تحشیہ ہے، نگراں جناب پروفیسر محمد صدیق مرحوم تھے۔
تعلیم سے فراغت کے بعد سب سے پہلے ”جیسوال ریسرچ انسٹیٹیوٹ“میوزیم بلڈنگ پٹنہ میں بحیثیت پرشین اسکرائب 17 مئی 1979ء کو جوائن کیے۔ پھر یونیورسیٹی سلیکشن کمیٹی کے ذریعہ لسٹ تیار ہوئی اور 9 نو/ نومبر 1982ء کو لکچرر کی حیثیت سے ”للت نراین تربت کا لج“، مظفر پور میں فارسی کی جگہ پر جوائن کیے۔ بعدہُ 13 /جنوری 1997ء کو شعبۂ فارسی بہار یونیورسیٹی مظفر پور میں آپ کا تبادلہ ہوا، ایک عرصہ تک آپ وہیں درس و تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے، 9 /نومبر 1990ء کو ریڈر کے عہدہ پر اور 9 /نومبر 1998ء کو میرٹ پرموشن اسکیم کے تحت پروفیسر کے عہدہ پر فائز ہوئے۔ آپ کو 1978ء میں ایران جانے کا اتفاق ہوا۔ 1 /مئی 2009 ء سے 20 /جون 2012ء تک صدر شعبہ کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دیے۔ 1997-1998ء میں پی۔ جی ہوسٹل 4 کا ہوسٹل سپریٹنڈنٹ بھی رہے۔ ”آل انڈیا پرشین ٹیچرس کانفرنس“ میں برابر شریک ہوتے رہے اور اس کے مجلس عاملہ کے رکن بھی ہیں۔ بہار یونیورسیٹی کے”پی جی ٹیچرس ایسوسی ایشن“ کے نائب صدر اور ممبر بھی رہ چکے ہیں۔ دوران تعلیم ”مدرسہ اسٹوڈنٹس یونین“ کے نائب صدر اور خازن بھی رہے ہیں۔ اب تک 6 ریسرچ اسکالرس آپ کے انڈر میں پی ایچ ڈی کر چکے ہیں۔ لکھنے پڑھنے کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ موصوف کے انڈر میں کئی ریسرچ اسکالرس پی ایچ ڈی کر چکے ہیں۔ فارسی زبان و ادب کے مسائل پر پروفیسر موصوف کی گہری نظر رہتی ہے۔ مسلمانوں کے مسائل بالخصوص عربی و فارسی کے جو مسائل ہیں اس کو برابر اجاگر کرتے رہتے ہیں۔ بہت فعال اور متحرک ہیں۔ پروفیسر محمد صدیق، پروفیسر سید اقبال، پروفیسر سید حسن، پروفیسر فیاض الدین حیدر، پروفیسر علی حیدر، پروفیسر اطہر شیر، پروفیسر حبیب المرسلین، پروفیسر بلقیس آفاق، پروفیسر انوار احمد، اور پروفیسر محمد غفار صدیقی و غیرہم کے آپ شاگرد عزیز رہے ہیں۔“
(پروفیسر سید حسن عسکری کے چند اردو مقالات کا تنقیدی جائزہ۔ مرتب: ڈاکٹر محمد شمیم۔ سال اشاعت: 2020ء۔ صفحہ نمبر:281-282)
پروفیسر عید محمد انصاری نے رسم بسم اللہ اپنی آبائی بستی قضیاہی میں واقع مدرسہ نور الہدیٰ سے کی۔اس دوران مدرسہ مذکورہ سے لے کر پٹنہ کالج و یونی ورسٹی تک بڑے اہم قابل و باصلاحیت اساتذہ سے آپ کو اکتساب فیض حاصل کرنے کا شرف حاصل رہا، آپ کے اساتذہ میں حضرت مولانا زبیر احمد قا سمی، حضرت مولانا عثمان (سپول) مولانا حفیظ الرحمٰن (پٹنہ) پروفیسر سید محمد اقبال حسین، پروفیسر سید حسن، پروفیسر محمد صدیق، پروفیسر فیاض الدین حیدر، پروفیسر علی حیدر نیر، پروفیسر بلقیس آفاق، پروفیسر سید انوار احمد، پروفیسر محمد غفار صدیقی، پروفیسر مطیع الرحمٰن، پروفیسر کلیم احمد عاجز، وغیرہم کے نام قابل ذکر ہیں۔
سال 1989ء میں پروفیسر محمد صدیق صاحب کی نگرانی میں ”حضرت مخدوم جہاں شیخ شرف الدین احمد یحیٰی منیری ؒکے غیر مطبوعہ مکاتیب“ پر تحقیقی مقالہ لکھ کر پی. ایچ. ڈی کی سند حاصل کی۔ موصوف کا تحقیقی مقالہ تقریباً چار دہائی بعد 2022ء میں اسی عنوان سے کتابی شکل میں شائع ہوا، یہ موصوف کی پہلی تصنیف ہے. دوسری کتاب”دیوان شوق پنڈولوی“ ہے۔تدریسی مشاغل اور انتظامی کاموں کی کثرت کی وجہ سے تصنیف و تالیف کی طرف آپ نے کم توجہ فرمائی۔
درج بالا ماہر فن اساتذہ کی صحبت اور فیوض و برکات سے آپ کی شخصیت کے جوہر نکھرتے چلے گئے اور بہت جلد کالج میں درس و تدریس کے فرائض انجام دینے کے لیے مامور ہوگئے۔ موصوف فارسی زبان و ادب کے باصلاحیت مخلص اور فعال استاد رہے، آپ کی تمام تر علمی و ادبی اور تحریکی کاموں کا اللہ نے صلۂ عظیم یہ عطا کیا کہ آپ نے ”مولانا مظہر الحق عربی وفارسی یونی ورسٹی“، پٹنہ، بہار میں پرووائس چانسلر کی حیثیت سے 21/ ستمبر2020 کو جوائن کیا، جوائننگ کے بعد اپنی بہترین انتظامی صلاحیت و تجربات سے یونی ورسٹی کے تدریسی وغیرہ تدریسی امور کو بہ حسن و خوبی انجام دیتے ہوئے 20/ستمبر2023ء کو سبکدوش ہوگئے، سبک دوشی سے قبل تقریباً ایک مہینہ انچارج وی، سی کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دینے کا شرف آپ کو حاصل ہوا۔ ملازمت سے سبک دوشی کے بعد موصوف ان دنوں مظفر پور میں قیام پذیر ہیں۔
عام طور پر لوگ ملازمت سے وظیفہ یاب ہونے کے بعد آرام کرنے میں لگ جاتے ہیں اور ان کی علمی و ادبی تحریک سست اور زوال پذیر ہو جاتی ہے ساتھ ہی ان کا قلم بھی خاموش ہو جاتا ہے، اس کے برعکس پروفیسر عید محمد انصاری سبک دوشی کے بعد بھی قلمی سفر پر آج بھی کمر بستہ ہیں۔
پنڈول (مدھو بنی) سے تعلق رکھنے والے ایک گمنام شاعر شوقؔ پنڈولوی کا قلمی دیوان، ”حدیث شوق“ آپ کو دستیاب ہوا ”نام نیک رفتگاں ضائع مکن“ پر عمل کرتے ہوئے آپ نے بڑی محنت و عرق ریزی سے شوق پنڈولوی کے تمام کلام کو ”دیوان شوق“ نام سے کتابی شکل میں شایع کر کے ایک بڑا علمی و ادبی کارنامہ انجام دے کر مدھوبنی کے ایک شاعر کو گمنامی سے نکال کر ادبی منظر نامے پر پیش کر کے جہاں انھیں سچی خراج عقیدت پیش کی ہے وہیں ان کے علمی اثاثے کو ضائع ہونے سے بھی بچا لیا ہے۔ آپ کی اس مخلصانہ کوشش و خدمات کا اعتراف ”دیوان شوق“ کے تقریب رسم اجرا سے لے کر آج تک دانشوران علم و ادب اپنی تحاریر میں کر رہے ہیں۔ طوالت کی وجہ سے صرف چار لوگوں کی تحریروں کے اقتباسات ذیل میں پیش کیے جا رہے ہیں جن کے مطالعے سے پروفیسر عید محمد انصاری کی ہمہ جہت شخصیت اور شوقؔ پنڈولوی کی شاعرانہ عظمت کے اسرار و رموز کھل کر سامنے آسکتے ہیں۔
گذشتہ دنوں شعبۂ فارسی پٹنہ یونی ورسٹی میں موصوف کی مرتب کردہ کتاب ”دیوان شوق پنڈولوی“ کی رسم اجر کی محفل پروفیسر محمد صادق حسین (صدر شعبۂ فارسی پٹنہ یونی ورسٹی) منعقد کی گئی جس میں ڈاکٹر اعجاز احمد (ڈین فیکلٹی آف ہیو مینٹیز مولانا مظہر الحق عربی و فارسی یونی ورسٹی)، ڈاکٹر جاوید اختر (اسسٹنٹ پروفیسر ایم، ایم، یونی ورسٹی، پٹنہ) اور دیگر دانشورانِ علم و ادب نے شرکت کی. موصوف کے اس کارنامۂ عظیم کو سراہتے ہوئے کہا کہ قابل مبارکباد ہیں پروفیسر عید محمد انصاری کہ شوق پنڈولوی جیسے اہم شاعر کی تخلیقات کو ضایع ہونے سے بچالیا۔ دیوان کی اشاعت کے بعد متعدد اساتذہ ادب کے مذکورہ دیوان کے تبصراتی مضامین مذکورہ دیوان پر شائع ہوچکے ہیں اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔
پروفیسر عید محمد انصاری کی علمی و ادبی خدمات کا اعتراف آپ کے معاصرین نے بڑے خلوص سے کیا ہے۔ پروفیسر سید شفیق احمد اشرفی (سابق صدر شعبۂ اردو خواجہ معین الدین چشتی یونی ورسٹی، لکھنؤ) اپنی تقریظ میں لکھتے ہیں:
”موصوف کا شمار بہار میں عصر حاضر کے ان چند اصحاب علم و ادب میں ہے جنہوں نے فارسی زبان کی تنزلی کو محسوس کیا۔ حکومت وقت کے اعلیٰ عہدے داروں کو اس زبان کی بقا کے لیے متوجہ کیا۔ اس لیے دنیائے علم و ادب میں پروفیسر عید محمد انصاری کا نام نہایت ادب کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ پروفیسر موصوف بہترین محقق، مدون اور مستند ادیب ہیں۔ ان کے مقالے ملک کے مقتدر رسائل و اخبارات میں ہمیشہ شائع ہوتے رہے ہیں۔ وہ تحقیق و تدوین کے رموز سے خوب آشنا ہیں“۔
(دیوان شوق پنڈولوی۔ مرتبین: پروفیسر عید محمد انصاری و ڈاکٹر محمد جاوید اختر۔ سال اشاعت: 2026۔ صفحہ: 9)
پروفیسر رضوان اللہ آروی اپنی کتاب”بہار کے فارسی اساتذہ“ میں موصوف سے متعلق لکھتے ہیں، اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
”بہار کے فارسی اساتذہ میں پروفیسر عید محمد صاحب واحد ایسے استاد ہیں جو مجھے استاد کم اور Activist زیادہ نظر آئے۔ اور ان کی اس فعالیت نے انہیں قومی سطح پر فارسی کے حلقوں سے متعارف کرایا۔ چنانچہ فارسی اساتذہ کی کل ہند انجمن نے ان کی مسلسل خدمات سے متاثر ہو کر انہیں بحیثیت رکن اپنی مجلس عاملہ میں شامل کیا جس میں انہوں نے کامیابی کے ساتھ بہار کی نمائندگی کی اور اس کے ایک فعال رکن کی حیثیت سے انجمن کے مقاصد کے حصول میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ چکی کی یہ مشقت اپنی جگہ لیکن اس کے ساتھ ان کا مشق سخن بھی جاری رہا اور وہ مختلف دانشگاہوں میں منعقد ہونے والے علمی سیمیناروں میں مسلسل شرکت کر کے اپنے مقالات بھی پیش کرتے رہے اور علمی دنیا میں بھی اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہے۔ ”اک طرفہ تماشا ہے حسرت کی طبیعت بھی“۔
(بہار کے فارسی شعراء: ترتیب وتدوین۔ پروفیسر رضوان اللہ آروی، سال اشاعت: 2026ء۔ صفحہ: 304)
معروف ادیب و مبصر جناب انوار الحسن وسطویؔ اپنے مضمون میں رقم طراز ہیں، اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
”شوقؔ پنڈولوی کا یہ دیوان اتفاق سے پروفیسر عید محمد انصاری کے ہاتھ لگ گیا۔ دیوان کے مطالعہ سے پروفیسر موصوف نے یہ محسوس کیا کہ شوقؔ پنڈولوی واقعی ایک عمدہ اور بڑے شاعر ہیں۔ اس لیے کیوں نہ اس گمنام شاعر کو گمنامی سے نکال کر متعارف کرایا جائے اور ان کے کلام کے فنی پہلوؤں پر تنقیدی روشنی ڈالی جائے۔ ساتھ ہی کلام کو زیور طباعت سے آراستہ کر کے لوگوں کے درمیان عام کیا جائے۔ پروفیسر عید محمد انصاری کے بقول شوقؔ پنڈولوی کے اس دیوان کی ترتیب و تدوین کے کام میں پروفیسر ممتاز احمد خاں (مرحوم) سابق استاذ شعبۂ اردو، بہار یونیورسٹی، مظفر پور کے ایک خیال نے مہمیز کیا“۔ (روزنامہ پندار، صفحہ7/ جون 2026ء)
اسی طرح پروفیسر مشتاق احمد (سابق رجسٹرار ایل، این، ایم، یو، دربھنگہ) اپنے مضمون میں لکھتے ہیں:
”دیوان شوق پنڈولوی‘‘ اردو ادب کی ایک اہم اشاعت ہے جو ایک فراموش شدہ شاعر کو دوبارہ ادبی دنیا سے متعارف کراتی ہے۔ پروفیسر عید محمد انصاری اور کے ان لائق و فائق صاحبزادہ ڈاکٹر محمد جاوید اختر کی یہ کاوش اردو کے تحقیقی اور تدوینی ادب میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جائے گی۔ اس کتاب نے ثابت کیا ہے کہ ادب کی دنیا میں کوئی تخلیقی سرمایہ ہمیشہ کے لیے گم نہیں ہوتا، اگر مخلص محققین اور مرتبین موجود ہوں تو ماضی کے چراغ پھر روشن ہو سکتے ہیں۔ یہ دیوان نہ صرف شوق پنڈولوی کی شعری عظمت کا آئینہ دار ہے بلکہ ان محققین کے عزم و حوصلے کا بھی ثبوت ہے جنہوں نے ایک گم نام شاعر کو دوبارہ زندہ جاوید بنانے کی کامیاب کوشش کی ہے“۔
(روز نامہ فاروقی تنظیم۔ 14/جون 2026)
خلاصہ یہ کہ پروفیسر عید محمد انصاری قضیاہی مدھوبنی کا شمار فارسی زبان و ادب کے لائق و فائق اساتذہ میں ہوتا ہے۔ درج بالا باتیں موصوف کی علمی و ادبی خدمات پر مشتمل تھیں، اب دو چند باتیں میں اپنے تجربات و مشاہدات کی بنا پر رقم کرنا موصوف کے حوالے سے مناسب اور ضروری سمجھتاہوں جو حقیقت پر مبنی ہے۔ سرکاری ملازمت میں آنے کے بعد بھی آپ کا دل ہمیشہ اپنے علاقے میں اٹکا رہا، چند بزرگوں کی سرپرستی میں ”اصلاح معاشرہ تنظیم“ بنا کر کبھی اصلاح معاشرہ کا پروگرام کرتے تو کبھی تعلیمی بیداری کا نفرنس تو کبھی جہیز مخالف کمیٹی بناکر بستی بستی جاکر جہیز کی ملعون رسم سے لوگوں کو بچنے کی تلقین کرتے، اس اصلاحی و فلاحی تحریکات میں رام کھتاری، مدھوبنی کی مشہور شخصیت انجینئر محمد شہاب الدین احمد اور دیگر اکابر کی سر پرستی آپ کوحاصل رہی، دو چند پروگرام میں خاکسار بھی آپ کے ساتھ شریک رہا۔
***
آپ یہ بھی پڑھ سکتے ہیں :الپنچ اور خیر رحمانی دربھنگوی

شیئر کیجیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے