اسلم رحمانی
(جواہر لعل نہرو یونی ورسٹی ،نئی دہلی)
یہ دنیا اہلِ کمال سے کبھی خالی نہیں رہی۔ ہر عہد میں کچھ ایسے مردانِ کار پیدا ہوتے رہے ہیں جو خاموشی سے علم و معرفت کے چراغ جلائے رکھتے ہیں اور زمانہ ان کی روشنی سے منور ہوتا رہتا ہے۔ درس و تدریس بھی انھی مقدس خدمات میں سے ایک عظیم خدمت ہے جسے انبیائی وراثت کہا گیا ہے۔ جو شخص اس میدان میں اخلاص، محنت اور حسنِ کردار کے ساتھ قدم رکھتا ہے، وہ محض استاد نہیں رہتا بلکہ نسلوں کا معمار بن جاتا ہے۔ سرزمینِ بہار خصوصاً خطۂ دربھنگہ ہمیشہ علم و ادب، تہذیب و شرافت اور رجالِ کار کی آماج گاہ رہا ہے۔ اسی مردم خیز سرزمین نے ہر دور میں ایسے باصلاحیت افراد کو جنم دیا جنھوں نے اپنے کردار، علم، قلم اور خدمات سے معاشرے کو نئی روشنی عطا کی۔ انھی تابندہ ناموں میں ایک نام محمد عارف اقبال کا بھی ہے، جو بیک وقت صحافی، استاد، مصنف، کالم نگار اور ادبی شخصیت کی حیثیت سے اپنی منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ محمد عارف اقبال کی پیدائش شہر دربھنگہ کے ریلوے جنکشن سے متصل مشرقی سمت واقع محلہ کٹرہیا پوکھر، وارڈ نمبر سترہ میں ایک معزز، علمی، دینی اور زمین دار گھرانے میں ہوئی۔ ان کے دادا مرحوم محمد بشیر الدین اپنے علاقے کے معروف زمین دار تھے اور دربھنگہ ضلع کے چمڑے کے بڑے تاجروں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ والد محمد قاسم شہر کے معروف سماجی کارکن اور کامیاب تاجر ہیں۔ وہ سابق مرکزی وزیر محمد علی اشرف فاطمی کے ہم زلف اور درسی ساتھی رہے ہیں۔والدہ محترمہ شمس النساء ہیں، جب کہ نانیہال باڑھ مکامہ، ضلع پٹنہ میں ہے۔ ایام طفولیت میں ان کی تربیت دینی ماحول میں ہوئی۔ رسمِ بسم اللہ محلہ کی مسجد میں ادا ہوئی اور ابتدائی حروفِ تہجی سے آشنائی مولانا جمیل اختر نے کرائی۔ یہی وہ مبارک لمحہ تھا جب ایک روشن مستقبل رکھنے والے طالب علم کے سفرِ علم کا آغاز ہوا۔
ابتدائی تعلیم شہر دربھنگہ کے قدیم و تاریخی ادارہ مدرسہ امدادیہ، لہریا سرائے سے حاصل کی، جہاں نابغۂ روزگار استاذ الاساتذہ حافظ ظفیر الحسن سے کسبِ فیض کیا۔ یہی وہ تاریخی درس گاہ ہے جہاں سے علامہ سید سلیمان ندوی، مولانا مناظر حسن گیلانی، قاضی مجاہد الاسلام قاسمی، امیر شریعت مولانا سید نظام الدین اور پروفیسر ابوالکلام قاسمی جیسے جلیل القدر اہلِ علم نے تعلیم حاصل کی تھی۔
بعد ازاں علمی تشنگی بجھانے کے لیے عارف اقبال نے مدرسہ اسلامیہ جامع العلوم مظفرپور میں داخلہ لیا، جہاں استاذ القراء حضرت قاری علیم اللہ سے فیض یاب ہوئے۔عارف اقبال کا مزاج بچپن ہی سے صحافتی تھا۔ حالات و واقعات کو سمجھنے، معاشرتی مسائل پر غور کرنے اور قلم کے ذریعے اظہار کرنے کا جذبہ ان کے اندر ابتدا ہی سے موجزن تھا۔ چنانچہ انھوں نےصحافت کی طرف رخ کیا اور فنِ صحافت میں مہارت پیدا کرنے کے لیے پٹنہ یونی ورسٹی سے اردو زبان میں پی. جی ڈپلومہ اِن اردو جرنلزم اینڈ ماس کمیونی کیشن مکمل کیا۔ مزید اعلیٰ تعلیم اور جدید میڈیا کی باریکیوں کو سمجھنے کے لیے جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی میں ہندی زبان کے ذریعہ ماس کمیونی کیشن میں داخلہ لیا۔ وہاں ماہرینِ صحافت سے میڈیا کے فنی و تکنیکی امور سیکھے۔ اسی دوران علمی سفر جاری رکھا اور دہلی یونی ورسٹی، دہلی کے شعبۂ اردو سے ایم. اے کیا، جب کہ الفلاح یونی ورسٹی سے بی ایڈ کی ڈگری حاصل کی۔ ان کی شخصیت کی تعمیر میں متعدد اساتذۂ کرام کا کردار رہا۔ صحافتی میدان میں انھوں نے تقریباً دو سال تک روزنامہ قومی تنظیم بہار کے دربھنگہ زونل آفس میں خدمات انجام دیں اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ بعد ازاں زی نیوز اور انڈیا نیوز جیسے قومی چینلوں سے وابستہ ہوئے۔ پھر ای. ٹی. وی بھارت اردو میں بہ حیثیت رپورٹر و کنٹنٹ ایڈیٹر خدمات انجام دیں، جہاں سیمانچل کے ضلع ارریہ اور بعد میں بہار کی دارالحکومت پٹنہ کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ کم عمری میں اردو صحافت کی دنیا میں ان کا نام وقار اور اعتماد کے ساتھ لیا جانے لگا۔
مجھے وہ زمانہ خوب یاد ہے جب 2009ء میں مظفرپور کے معروف صحافی، روزنامہ قومی تنظیم شمالی بہار کے سابق بیورو چیف مرحوم این نیازی سے ملاقات کے دوران گفتگو کا موضوع اردو صحافت اور اس کے امکانات تھا۔ نئی نسل کے صحافیوں کا ذکر چھڑا تو عارف اقبال کا نام زبان پر آیا۔ نیازی صاحب نے نہایت اعتماد سے فرمایا تھا: "عارف اقبال ابھرتا ہوا صحافی ہے، مستقبل میں یہ نمایاں کام انجام دے گا۔"
اہلِ بصیرت کی نگاہ خطا نہیں کرتی۔ این نیازی نے جو چراغ دور سے دیکھا تھا، آج وہ پوری آب و تاب سے روشن ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہ چراغ صحافت کے ایوان ہی میں نہیں، تعلیم کے ایوان میں بھی فروزاں ہے۔ یہ پیشین گوئی آج اپنی پوری شان کے ساتھ سچ ثابت ہوچکی ہے۔اسی دور میں عارف اقبال کا شہرۂ آفاق مضمون "میرے خوابوں کا تاج محل دارالعلوم دیوبند" جب ملک کے متعدد اخبارات میں شائع ہوا تو اربابِ ذوق نے ان کے قلم کی تازگی، فکر کی رفعت اور اسلوب کی دل کشی کا اعتراف کیا۔ یہ تحریر اس بات کی گواہی تھی کہ ان کے اندر ادب کا دریا بھی موجزن ہے اور اظہار کا سلیقہ بھی۔ عارف اقبال صرف صحافی یا استاد ہی نہیں بلکہ صاحبِ قلم کالم نگار بھی ہیں۔ اب تک ان کے دو سو سے زائد مضامین ملک کے مؤقر اخبارات و رسائل میں شائع ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ سیکڑوں علمی، ادبی، تحقیقی، صحافتی اور شخصی مضامین منظر عام پر آ چکے ہیں اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ اگرچہ صحافت میں روشن امکانات موجود تھے، مگر انھوں نے یہ جان لیا کہ اگر قوم کی تقدیر سنوارنی ہے تو درس گاہ کے دروازے پر دستک دینا ہوگی۔ چنانچہ انھوں نے تدریس کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا اور سنہ 2023 میں بی. پی. ایس. سی کے ذریعے منعقدہ مقابلہ جاتی امتحان میں کامیاب ہو کر پلس ٹو اپگریڈیڈ ہائی اسکول، ٹھکرنیا، مُریا، دربھنگہ میں بہ حیثیت استاد منتخب ہوئے۔ صرف دو ہی برس کی مختصر مدت میں انھوں نے اردو زبان کے پژمردہ گلشن میں تازہ بہار پیدا کردی۔ آج ان کے شاگردوں کی نمایاں کامیابیاں، 2026 انٹرمیڈیٹ امتحان میں درخشاں نتائج، اور کئی طلبہ و طالبات کے اردو میں نوے سے زائد نمبرات حاصل کرنا اس حقیقت کا روشن ثبوت ہے کہ اگر استاد صاحبِ ذوق ہو، محنت شعار ہو اور اپنے فن سے محبت رکھتا ہو تو بنجر زمین بھی گلزار بن جاتی ہے۔ یہ کامیابی محض طلبہ کی نہیں بلکہ استاد کے اخلاص، استقامت اور شبانہ روز جدوجہد کی کامیابی ہے۔ تصنیف و تالیف کے میدان میں بھی ان کی خدمات قابلِ قدر ہیں۔ ان کی نمایاں کتابوں میں باتیں میر کارواں کی (سوانح حیات: امیر شریعت بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ حضرت مولانا سید نظام الدین صاحب، جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)، امیر شریعت سادس؛ نقوش و تاثرات، حضرت مولانا سید ابو اختر قاسمی؛ حیات و خدمات اور مٹتی ہوئی تہذیب کا نوحہ (مشاہیر کے خطوط عارف اقبال کے نام)، شامل ہیں۔ ان کی صحافتی اور علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں انھیں ریاستی اور قومی سطح پر کئی اہم ایوارڈ سے نوازا جاچکا ہے۔ عارف اقبال کی تدریسی کاوشوں کے نتیجے میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی کے لیے 25؍اپریل 2026 کا وہ روشن اور یادگار دن دربھنگہ کے صدر بلاک مریا گاؤں کی علمی و تہذیبی تاریخ میں ہمیشہ سنہرے حروف سے یاد رکھا جائے گا، جب کامیاب طلبہ کی حوصلہ افزائی، ان کی عزت افزائی اور ان کے روشن مستقبل کے اعتراف کے لیے قاسم ایجوکیشنل فاؤنڈیشن بہ اشتراک عارف اقبال اردو کلاسیز ایک عظیم الشان بزم سے آراستہ ہوئی۔ یہ محفل محض ایک رسمی تقریب نہ تھی بلکہ ایک ایسے معلمِ باوقار کی خاموش مگر درخشاں جدوجہد کا اعتراف تھی، جس نے اپنی زندگی کے قیمتی لمحات قوم کے بچوں کی تعلیم، تربیت اور شعوری بیداری کے لیے وقف کر دیے۔ یہ اجتماع دراصل عارف اقبال کی تعلیمی بصیرت، ان کی خلوص بھری کاوشوں، طلبہ سے بے لوث محبت اور اردو زبان سے والہانہ وابستگی کا جیتا جاگتا ثبوت تھا۔ اس بزم میں جب سابق مرکزی وزیر مملکت برائے امور داخلہ حکومت ہند ڈاکٹر شکیل احمد، سابق صدر شعبۂ اردو للت نارائن متھلا یونی ورسٹی دربھنگہ پروفیسر شاکر خلیق، کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس پٹنہ کے معروف استاد پروفیسر صفدر امام قادری، صدر شعبۂ اردو نتیشور کالج مظفرپور کے اسسٹنٹ پروفیسر کامرا غنی صبا اور دیگر معزز اہلِ علم و دانش شریک ہوئے تو اس محفل کی رونق دوبالا ہوگئی۔ ان شخصیات کی موجودگی گویا اس حقیقت کی گواہی تھی کہ جہاں علم کی شمع روشن ہو، جہاں نوجوان نسل کی ذہنی آبیاری کی جا رہی ہو، جہاں خوابوں کو حقیقت کا لباس پہنایا جا رہا ہو، وہاں اہلِ نظر خود بہ خود کھنچے چلے آتے ہیں۔ تقریب کی نظامت ڈاکٹر عبدالودود قاسمی اور احتشام الحق نے جس سلیقے، شائستگی اور دل کشی کے ساتھ انجام دی، اس نے سامعین کے دل موہ لیے۔ الفاظ میں وقار تھا، انداز میں محبت تھی اور ہر جملے سے علم دوستی کی خوشبو آرہی تھی۔ اس محفل کا ہر لمحہ یہ پیغام دے رہا تھا کہ جب نیت صاف ہو، مقصد بلند ہو اور جذبہ خدمت سے سرشار ہو تو معمولی سے معمولی کوشش بھی غیر معمولی اثرات پیدا کرتی ہے۔
یہ اجتماع اس حقیقت کا اعلان تھا کہ محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی، اخلاص کبھی بے قدر نہیں رہتا، اور جو لوگ خاموشی سے نسلوں کی تعمیر میں لگے رہتے ہیں، ایک دن زمانہ ان کے کام کا اعتراف ضرور کرتا ہے۔ عارف اقبال نے جس استقامت، دیانت اور درد مندی کے ساتھ تعلیمی میدان میں چراغ جلایا، وہ آج ایک تناور درخت بنتا دکھائی دے رہا ہے، جس کے سایے میں بے شمار طلبہ اپنی منزلیں تلاش کر رہے ہیں۔ انھوں نے یہ ثابت کر دیا کہ وسائل کی کمی راستہ نہیں روک سکتی، اگر ارادہ بلند ہو، عزم صادق ہو اور دل میں قوم کی خدمت کا درد موجود ہو۔ عارف اقبال کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ انھوں نے تعلیم کو صرف روزگار کا ذریعہ نہیں سمجھا بلکہ اسے کردار سازی، شعور آفرینی اور تہذیبی بقا کا وسیلہ بنایا۔ انھوں نے طلبہ کو صرف نصابی کتابیں نہیں پڑھائیں بلکہ انھیں خواب دیکھنا، مقصد بنانا، وقت کی قدر کرنا اور اپنی شناخت پر فخر کرنا بھی سکھایا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے شاگرد انھیں محض استاد نہیں بلکہ رہنما، مربی اور مشفق سرپرست کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔ اردو زبان کے تعلق سے ان کی خدمات بھی لائقِ تحسین ہیں۔ ایسے دور میں جب مادری زبانوں سے بے اعتنائی بڑھ رہی ہے، عارف اقبال نے اردو کی شمع کو نہ صرف روشن رکھا بلکہ نئی نسل کے دلوں میں اس کی محبت بھی پیدا کی۔ انھوں نے ثابت کیا کہ اردو محض زبان نہیں، تہذیب ہے، احساس ہے، روایت ہے اور دلوں کو جوڑنے کا حسین وسیلہ ہے۔ یہ تقریب دراصل کامیاب طلبہ کی عزت افزائی کے ساتھ ساتھ ان تمام اساتذہ کے نام ایک خراجِ تحسین بھی تھی جو خاموشی سے معاشرے کی بنیادیں مضبوط کرتے ہیں۔ آج اگر ہمارے درمیان عارف اقبال جیسے مخلص، باصلاحیت اور درد مند معلم موجود ہیں تو یقیناً مستقبل ابھی روشن ہے، امید ابھی زندہ ہے، اور قوم کی کشتی ابھی کنارے سے دور نہیں ہوئی۔ دعا ہے کہ ربِ کریم عارف اقبال کو صحتِ کاملہ، عزتِ دوام، رزقِ حلال میں فراوانی، علم و قلم میں مزید برکت، فکر میں وسعت، زبان میں تاثیر اور شخصیت میں مزید نکھار عطا فرمائے۔ ان کی محنتوں کو قبول فرمائے، ان کے شاگردوں کو قوم و ملت کا سرمایہ بنائے اور انھیں ہر میدان میں کامیابیوں سے ہمکنار کرے۔ یقیناً قوموں کی اصل دولت نہ خزانے ہوتے ہیں، نہ عمارتیں، نہ اقتدار؛ بلکہ عارف اقبال جیسے اساتذہ ہوتے ہیں، جو خاموشی سے نسلوں کے مقدر بدل دیتے ہیں۔ ایسے چراغ جب جلتے ہیں تو صرف ایک بستی نہیں، پورا زمانہ روشن ہو جاتا ہے۔
***
آپ یہ بھی پڑھ سکتے ہیں :صحافت میں ”عارف اقبال“ کی اقبال مندی صاف جھلکتی ہے
عارف اقبال: محنت، اخلاص اور تدریسی بصیرت کا استعارہ
شیئر کیجیے