علم بردار

علم بردار

اسماء حمزہ
کراچی، پاکستان


میں نے سگریٹ کا کش بھرا اور دھوئیں کے مرغولے کے پار انچ بھر کے بٹ کو جانچا.
شیشہ سرکا کر ابھی اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کو تھا کہ وہ سامنے آگئی.
"تیرے بچے جئیں، تو مدینہ دیکھے بابو. دے اللہ کے نام پر کچھ."
میں نے اس کی میلی کچیلی شرٹ کے پھٹے کونے کے پار دہکتی سیاہ چمڑی کو دل چسپی سے جھانکا اور ١٠ کا نوٹ اس کی چمڑی کی ملائمت کو جانچتے تھما دیا. آج موڈ بے حد خوش گوار تھا.
صبح مائی نسرین شاذلی کو کام پر ساتھ لے آئی تھی.
برا ہو ثمینہ کا جو اسے کچن میں برتن دھونے کھڑا کر ہی رہی تھی، وہ تو شور مچایا میں نے کہ
” کمرے کی صفائی فورا کرواؤ مجھے تیار ہونا ہے."
تب کہیں جا کر شاذلی کمرے تک آئی.
آہ شاذلی….
یہی سوچتے میں نے ریڈیو کا والیوم بڑھایا اور ہنی سنگھ کے آو راجہ کے ساتھ تال ملا لی.
تال کا ملنا تھا کہ گاڑی کی رفتار بھی بڑھ گئی.
اب گاڑی فل مستی میں بڑھتی جارہی تھی کہ اچانک پاؤں بریک پر رکھنا پڑا.
سامنے ٹریفک جام تھا. اسکول کی چھٹی ہوئی تھی غالباً جس کے نتیجے میں بچیاں روڈ کراس کر رہی تھیں.
"ارے یار کیا ڈراما لگایا ہوا ہے! سب کو پریشان کر رکھا ہے. شہر سے باہر بناؤ یہ اسکول اور ان سب پھلجھڑیوں کو اسکول کے ڈرامے کروانے کی ضرورت ہی کیا ہے بھلا؟!"
کوفت کے مارے میں نے دو گالیاں اس ملک کے سسٹم کو عنایت کی اور قطار ختم ہوتے ہی گاڑی بڑھائی. سامنے ہی منزل تھی.
میں نے گاڑی ویلے کے حوالے کی. ٹائی کی ناٹ درست کی اور ہال کی جانب قدم بڑھا دیے جہاں حقوقِ نسواں پر میری پرجوش تقریر کا سب کو انتظار تھا.
***
آپ یہ افسانچہ بھی پڑھ سکتے ہیں :کوتاہی عمر کی دعا

شیئر کیجیے

One thought on “علم بردار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے