مولانا علی الیاس: اوّل و آخر استاد (قسط-٣،٤)

مولانا علی الیاس: اوّل و آخر استاد (قسط-٣،٤)

صفدر امام قادری
شعبۂ اردو، کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ
[ادارتی نوٹ: مولانا علی الیاس کی شخصیت کی تہہ داری میں ان کی تحشیہ نگاری کا ایک اہم پہلو ہے. انھوں نے بہار کے اسکولی نصاب کے لیے جس طرح اپنا علمی و عملی تعاون پیش کیا اور اپنے مسودوں کی تیاری میں انہماک کا مظاہرہ کیا؛ کئی پہلوؤں سے متاثر کن ہے. صفدر امام قادری نے چار قسطوں میں لکھی اس تفصیلی تحریر میں اپنے استاد کو شان دار خراج عقیدت پیش کیا ہے. انھوں نے مولانا کے کردار کو جس ہفت رنگ سے پیش کیا اور ان کی علمی، تدریسی، ادبی اور عملی جہتوں کو روشن کیا؛ وہ دل چسپ بھی ہے اور سبق آموز بھی. اس میں استاد اور شاگرد کے رشتے کی عظمت، احترام اور محبت کے کئی پہلو دونوں شخصیات کے اعلا کردار کو سامنے لاتے ہیں. بنا جذباتی ہوئے سادگی اور سلاست (جسے مولانا کم کم پسند فرماتے تھے) کے ساتھ صفدر امام قادری نے اس خراج عقیدت کو ایک خاص افسانوی ترتیب میں بیان کرکے ادبی شہہ پارہ بنادیا ہے.] 
[قسط۔٣]
٢٠١٣ء میں جب میرے تبصروں پر مشتمل کتاب ”نئی پرانی کتابیں" منظرِ عام پر آئی تو اس کی ایک کاپی میں نے ان کی خدمت میں بھجوائی۔ اس کتاب کا انتساب میں نے انھی کے نام کیا تھا۔ اس بات کی انھیں از حدخوشی تھی کہ میں نے انھیں علمی طور پر یاد رکھا۔ اپنی کتابوں میں اس انتساب کا بھی انھوں نے خاص طور سے ذکر کیا ہے مگر کچھ مہینوں کے بعد جب وہ واردِ عظیم آباد ہوئے تو "نئی پرانی کتابیں" کی اپنے نام کی کاپی لیتے آئے اور میرے سپرد کرتے ہوئے کہا کہ میں نے کتاب پڑھ لی ہے اور اپنے کچھ تاثرات بھی وہیں نقل کردیے ہیں۔ کتاب کھولتے ہی مجھے بیس برس پہلے”صلاح الدین پرویز کا آئڈنٹٹی کارڈ" کتاب پر لکھے ان کے حاشیوں کی یاد آگئی۔ اس کتاب میں بھی بہت کم سادہ جگہیں انھوں نے چھوڑی تھیں۔ یہاں بھی تصحیح، اضافہ، تنقید و تبصرہ اور اصل موضوع سے متعلق بعض باتوں کے سلسلے سے ان کی علمی، تنقیدی و تحقیقی باتیں زیرِ قلم آگئی تھیں۔ میں نے کتاب کی دوسری کاپی ان کے حوالے کی اور کہا کہ میرے لیے اب یہ تبرک ہے جسے میرے پاس ہی رہنا چاہیے۔ تحشیہ نگاری میں ان کی باریک تحریک اور خوش خط انداز سے سیدھی سطروں میں جو باتیں آگئیں، ان کا علمی درجہ تو ہے ہی مگر ماہر تحشیہ نگار کی طرح انھوں نے کتاب میں سینکڑوں جگہ جو اضافے کیے، وہ فنِ تحریر کے اعتبار سے بھی کہیں گراں نہیں گزرتے۔ خط ایسا تھا کہ جو کتابت اور کمپیوٹر کی آراستگی کے عین مطابق ہوجاتا۔ میری دو کتابوں پر ان کی مکمل حاشیہ آرائی میرے لیے ایک نادر دستاویز کے طور پر محفوظ ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ان حاشیوں میں انھوں نے محض تعریف کے پہلو ڈھونڈے ہیں۔ ان میں جگہ جگہ سخت تنقیدی نقطۂ نظر بھی موجود ہے۔ ہم عصر ادبی معاملات میں ان کا علم فطرتاً محدود تھا اور بدلتی ادبی قدروں سے ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے وہ پورے طور پر تیّار بھی نہیں تھے۔ اس وجہ سے ان کے بہت سارے تبصرے جدید ادبی علوم کی روشنی میں غیر ضروری تسلیم کیے جائیں گے مگر ان کے مخصوص نظریۂ حیات و ادب کے آئینے میں اور خاص طور سے علمی زبان لکھنے پر قدرت کے ثبوت کے طور پر ان حاشیوں کو ہم ادب و تنقید و انشا نگاری کے بہترین نمونے کے طور پر پڑھ سکتے ہیں۔
گذشتہ بیس پچیس برسوں میں جب وہ پٹنہ آکر کئی کئی روز علاج معالجے کے لیے یا کتابیں تیار کرنے اور ان پر نظرِ ثانی کے لیے میرے گھر ٹھہرنے لگے تو اس دوران میرے شاگردوں سے ان کی ملاقاتیں بڑھیں۔ کبھی پڑھنے کے وقت میں یا کبھی فرصت کے لمحات میں بچے ان سے عقیدت مندانہ طور پر ملتے اور ان کے ساتھ اپنی تصویریں کھینچتے۔ پرانے شاگردوں میں ترنم جہاں، الفیہ نوری، نکہت پروین، تسلیم عارف اور افشاں بانو سے وہ اچھے خاصے گھُل مل گئے تھے۔ ان سب کی غیرحاضری میں فرداً فرداً ان کی شخصیت اور تعلیمی صلاحیتوں پر مجھ سے تبادلۂ خیالات کرتے۔ تسلیم عارف کی مستقل ملازمت میں دیری پر وہ پریشان رہتے اور ان کی خواہش تھی کہ اتنی صلاحیت رکھنے والے بچے کو معقول ملازمت مل جانی چاہیے۔ ان بچوں میں سب سے کم عمر کے طالب علموں میں انیس فیصل کی محبت داری اور خدمت شعاری سے وہ بہت متاثر رہتے۔ اسے انھوں نے اپنے گھر پر آنے اور کچھ دنوں قیام کرنے کے لیے بھی دعوت دی۔ مجھے فون کرکے اس کی سادگی اور شرافت کی تعریف کرتے۔ بیچ بیچ میں ہمارے ان شاگردوں کو ملازمتیں بھی ملتی جاتیں، اس کی انھیں خبر ہوتی تھی اور وہ خوش ہوتے تھے۔ بچوں کی تعلیمی زندگی میں میری ہمہ وقت مشغولیت سے بھی وہ خوش رہتے۔
مولانا علی الیاس میرے بعض دوستوں سے بھی محبت کا برتاو رکھتے تھے۔ ظفرکمالی، واحد نظیر، خورشید اکبر اور جمشید قمر کو خاص طور پر وہ مختلف وجوہات سے یاد رکھتے تھے۔ میرے گھر آتے تو نئے پرانے ادیب شاعر اور اساتذہ بھی آتے جاتے رہتے، ان سے بھی ان کی ملاقاتیں رہتیں اور ان سے بھی نہایت شفقت آمیز برتاؤ رہتا۔ ظفر کمالی اور واحد نظیر سے ان کے روابط آخری دور تک رہے۔ ملاقات کے علاوہ فون سے بھی ان لوگوں سے ان کے معاملات رہتے۔ خاص طور سے شاعری کے پہلو سے یا کسی عروضی مسئلے میں الجھنے پر فوری تدارک کے لیے مولانا ان دونوں حضرات کو یاد کرتے۔ ٹیکسٹ بک کی تیاری کے دوران تقریباً چار برسوں میں ظفر کمالی، واحد نظیر اور مولانا الیاس ورک شاپ میں بھی ساتھ بیٹھتے اور فارغ وقتوں میں بھی علمی موضوعات پر تبادلۂ خیالات میں منہمک ہوتے۔ غالباً تینوں کو ایک دوسرے کی سنجیدگی اور علمی گہرائی کا احساس ہوچکا تھا۔ اس وجہ سے بھی ان سب کے بیچ ایک گہرا علمی رشتہ قائم ہوا۔ کمال یہ ہے کہ مولانا علی الیاس نے کبھی اپنی عمر یا میرے استاد ہونے کی وجہ سے اپنی فوقیت جتانے کی کوشش نہیں کی بلکہ خود کو وہ ایک سیکھنے والے کی حیثیت سے ہی سامنے لاتے اور کچھ نہ کچھ نئے معاملات میں ان لوگوں سے دریافت کرتے یا علمی گتھیوں کو مل جل کر سلجھانے کی کوشش کرتے۔
مولانا الیاس عربی فارسی اور اسلامیات کے راستوں سے اردو میں آئے تھے۔ انھیں آرائشی زبان پسند تھی۔ وہ خود بھی طول طویل جملوں میں مشکل الفاظ کو جمع کر دینے کا ہنر جانتے تھے۔ گذشتہ دس برسوں میں وہ مجھ سے کہتے کہ تمھاری نثر نویسی میں بگاڑ پیدا ہورہا ہے۔ وہ خاص طور سے اخبار میں شائع ہونے والے میرے کالم پڑھتے تھے۔ بعض ادبی مضامین کے مطالعے کے بعد بھی انھوں نے میری زبان کی سہل پسندی کو غیر معیاری قرار دیا۔ یہ بات بھی کہی کہ تم میں جس قدر تنقیدی گہرائی آتی جارہی ہے، اس کے برعکس تمھاری نثر نویسی کا معیار کم تر ہوتا جارہا ہے۔ کبھی کبھی مثال میں ہمارے حلقۂ دوستاں سے واحد نظیر کی تحریریں پیش کرتے جہاں فارسی اور عربی کے ساتھ ضرورت کے مطابق اسلامی اصطلاحات موجود ہوتی ہیں۔ میں نے جان بوجھ کر اس کا کبھی کوئی جواب نہیں دیا۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ جس سانچے کے ڈھلے ہوئے ہیں، وہاں زبان و بیان کی سادگی اور سلاست یا تنقیدی نثر کی صراحت کی قدر کیوں کر ہوسکتی ہے؟
مولانا نے اپنی ابتدائی زندگی بہت مشکلات میں گزاری تھی۔ رشتے داروں نے بے یار و مددگار چھوڑ دیا تھا اور انھیں تعلیم کے مقصد سے یتیم خانہ میں رہ کر گزارا کرنا پڑا تھا۔ بچوں کی پرورش کے لیے ان کی والدہ نے دایا کا کام بھی کیا۔ ان مشکلات کے باوجود مولانا نے اپنی تعلیم مکمل کی جس کے ننتیجے میں مولانا کو بروقت پرائمری اسکول کی سرکاری ملازمت مل گئی اور گھر خوش سلیقگی سے چلنے لگا۔ اس بیچ انھوں نے اپنی اہلیہ کو ٹیچرس ٹریننگ کراکے اس لائق بنا دیا کہ وہ بھی اسکول کی ملازمت میں آجائیں۔ ٢١ اپریل ٢٠١٥ء کو سبک دوشی سے تین ماہ پہلے وہ مولانا کا ساتھ چھوڑ کر سفرِ آخرت پر نکل گئیں۔ وہ ذیابیطس کی پرانی مریضہ تھیں اور ملازمت کے آخری دور بہت مشکلات سے کٹ رہے تھے۔ ان کی وفات کے دس برس بعد تک بھلے مولانا زندہ رہے مگر صحت میں گراوٹ کی واضح ابتدا وہیں سے ہوئی۔ خانماں بربادی کی زندگی سے آغاز کرکے وہ رفتہ رفتہ آگے بڑھتے رہے۔ دولت کی قیمت سمجھتے تھے حالاں کہ کسی نازک لمحے میں وہ اپنے آل عیال کے ذریعہ مالی بربادی پر شکوہ سنج بھی ہوتے۔ پہلے گھر چھوٹے حصے پہ بنایا۔ گھر کی تیاری کے لیے شیشم اور ساگوان کی لکڑیوں کا پورا انتظام کیا۔ مجھے یاد ہے کہ دو یا تین کمرے لکڑیوں کے تیار کرکے بھرے ہوئے تھے مگر گائوں میں ایک دن آگ لگ گئی اور سب کچھ تباہ و برباد ہوگیا۔ مولانا نے پھر سے گھر میں ہاتھ لگایا۔ آس پاس کچھ اور زمینیں خرید لیں۔ ایک تالاب اور ایک قیمتی پیڑوں کا آرائشی جنگل تیار کیا۔ گھر کے پاس ہی ایک اور مکان اس مقصد سے بنادیا کہ دونوں بیٹے گائوں میں رہنا چاہیں تو اطمینان سے رہ سکتے ہیں۔ بڑے بیٹے کے لیے تو پہلے ہی شہر میں زمین اور مکان کے انتظامات کرادیے تھے۔ مفلوک الحالی سے رفتہ رفتہ چار دہائیوں میں یہ خاندان خوش حال ہوتا گیا۔ کھیتی باڑی بھی اتنی کرلی کہ اناج خریدنے کی ضرورت نہ پڑے۔ پیسے سنبھال کر خرچ کرتے ہر چند کنجوسی نہیں تھی۔ کبھی کبھی تنہائی میں مجھ سے پوچھتے کہ اتنے دنوں کی سروس ہوگئی، تمھاری سیونگ اچھی خاصی ہونی چاہیے۔ وہ جبریہ بچت کی بھی ایک سرپرست کی حیثیت سے صلاح دیتے۔ پھر خود ہی کہتے کہ تمھارے اخراجات حد سے سوا ہیں، اس میں بھلا بچت کیسے ہوسکتی ہے۔ پھر بھی اس سمت ان کی تاکید رہتی ہی تھی۔
ملازمت کے دوران ہی انھوں نے کئی حج کرلیے تھے۔ سبک دوشی کے بعد بھی وہ حج پر گئے۔ کل پانچ بار اس فریضے کی ادائیگی کی۔ اس کے اخراجات انھوں نے اپنی بچت سے پورے کیے۔ جب پانچ سال کے وقفے کے بعد ہی دوسرا حج کرنے کا قانون نافذ ہوا تو مولانا کہتے تھے کہ چلو میں اس قانون کے بننے سے پہلے ہی جلدی جلدی کئی بار وہاں پہنچ گیا۔ ابتدائی دنوں میں وہ عملی زندگی میں پورے طور پر مذہبی نہیں معلوم ہوتے تھے۔ پنج وقتی نماز میں بھی کبھی کبھی غفلت برتتے۔ مگر بعد میں عملی طور پر ان کے یہاں باقاعدگی آگئی تھی۔ سبک دوشی کے بعد تقریباً اٹھارہ برسوں تک وہ گائوں میں رہے، اس دوران ان کی مذہبی حیثیت عملی اور علمی دونوں طور پر ابھر کر سامنے آئی۔ اس معاملے میں ان سے ایک بڑے حلقے نے فیض اٹھایا۔
مولانا الیاس میں تصنیف و تالیف کا شعور بہت پہلے سے موجود تھا۔ شعر گوئی سے بھی ایک خاص شغف تھا۔ اختراعی ذہن پایا تھا، اس لیے کوئی نہ کوئی نئی بات کہنے کی اُن میں صلاحیت آگئی تھی۔ مذہبی معلومات بھی اتنی گہری تھیں کہ ان کے لیے ادب کی دنیا کی سیر بھی علمی اعتبار سے مشکل نہیں تھی۔ کچھ مختصر مضامین یا خاکے وہ تیار کرتے رہتے۔ اسکول میں مختلف پروگراموں کے مواقع سے ان کی نظمیں پڑھی جاتیں۔ سرکار کے حکم سے بھی بعض موضوعات کو وہاں شامل کرنا ہوتا، اس سلسلے سے انھوں نے ایک بیاض بھی بنالی تھی مگر انھیں فراغت ٣١مئی ٢٠٠٨ء کو سبک دوشی کے بعد ہی حاصل ہوسکی۔
انھیں طرح طرح کے موضوعات پر کتابیں لکھنے کا خیال آتا تھا۔ نہایت خوش خط تھے، اس لیے بہترین کاغذ پر مسودات تیار کرتے۔ ایک بار تقریباً ڈھائی سو صفحات پر مشتمل کتاب فائنل کرکے لیتے آئے جس کا عجیب و غریب نام انھوں نے تجویز کررکھا تھا ”شاعری یا شیطنت !"۔ ان کی خواہش کے مطابق میں نے بہار اردو اکادمی میں مالی اعانت کے لیے اسے جمع کرا دیا۔ میں جانتا تھا کہ شاید ہی کوئی مبصر اس نام سے کسی کتاب کو منظوری عطا کرے۔ انھوں نے دوسرا مسودہ تیار کیا۔ اس کا عنوان بھی کم مشکل نہیں تھا ”فتنہ ہاے اہلِ حدیث"۔ اسے پٹنہ میں ہی کمپیوٹر کمپوزنگ کرانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ کمپوزیٹر نے پہلا پرنٹ آؤٹ مصنف کے حوالے کیا تاکہ پروف خوانی ہوسکے۔ مولانا نے اصلاح کے نام پر اس کا پورا متن تبدیل کر دیا۔ آپریٹر کے تو ہوش ٹھکانے آگئے۔ میری پیہم گزارشات پر انھوں نے نئے سرے سے کمپوزنگ کردی۔ ایک دو بار پھر یہی تصحیح در تصحیح اور اضافہ در اضافے کا سلسلہ رہا۔ کوئی چار برس صرف ہوئے ہوں گے تب جاکر ٢٠١٠ء میں دیوبند کے ایک پریس سے یہ کتاب شائع ہوسکی۔ کتاب کا موضوع اور اس کی زبان مناظرے سے قریب ہے۔ مولانا نے ایک ہی جلد میں دو حصے شامل کیے ہیں۔ پہلے حصے میں اصولی مباحث ہیں اور دوسرے حصے میں کچھ افسانے پیش کیے گئے ہیں جن میں مذکورہ مسائل کی پیچیدگی سامنے آتی ہے۔ ٢٠١٥ء میں مولانا کا پہلا شعری مجموعہ ”رعنائیِ خیال" شائع ہوا جس میں حمد، نعت، غزل، ترکیبِ بند، مثنویاں، مسدس، گیت؛ سب کچھ شامل ہیں۔ ہر کلام کے ساتھ اس کی بحر بھی لکھ دی گئی ہے۔ ایک گیت بحر سے آزاد بھی شامل ہے۔ مولانا نے چند چیزیں اپنے ابتدائی دور کی شاعری سے بھی یہاں شامل کردی ہیں تاکہ یہ پتا چل سکے کہ دورِ اول میں ان کی شاعری کس نہج پر چل رہی تھی۔ اس کا پیشِ لفظ ڈاکٹر واحد نظیر نے لکھا ہے۔ ایک مختصر تحریر میں نے بھی رقم کی ہے۔
٢٠١٨ء میں انھوں نے اپنی شاعری کا دوسرا مجموعہ ”دردِ مشرق" کے نام سے شائع کیا۔ یہ پورا مجموعہ اسلامی واقعات سے مزین ہے۔ اس کتاب میں مولانا نے ٩٠ صفحات پر مشتمل مقدمہ قلم بند کیا ہے جو ان کے حالات زندگی اور ادبی خیالات جاننے کے لیے نہایت اہم دستاویز ہے۔ سوا سو صفحات میں جو شعری سرمایہ اس میں شامل ہے، اس میں بھی انھوں نے توضیحات اور حواشی درج کرکے کتاب کی مذہبی اور علمی معنویت میں اضافہ کردیا ہے۔ احادیث سے انتخاب مع توضیحات کی بنیاد پر انھوں نے ”نوادرات" نام کی کتاب لکھی۔ آخری دور کا کلام انھوں نے مجھے بھجوایا تاکہ میں اسے دیکھ سکوں۔ بات چیت میں انھوں نے صاف صاف کہا کہ یہ میری شاعری کا آخری مجموعہ ہوگا۔ غالباً وہ اپنی صحت، مذہبی تصورات اور اصلاح و نظرِ ثانی کے جھمیلوں سے اُکتا چکے تھے۔ آنے والے وقت میں ان کی ایسی غیر مرتب چیزوں کی اشاعت کی کوشش کی جائے گی۔
٠٤ـ٢٠٠٣ء کے دوران حکومتِ بہار نے اسکولی نصاب کی تجدید اور اس کے مطابق نئی کتابوں کی تشکیل کے لیے مجھے اورینٹل لینگویجز گروپ کا چیرمین بنایا جس میں مجھے اردو، فارسی اور عربی زبانوں کے نصاب، درسیات اور نئی درسی کتاب تیار کرنے کی ذمے داری تفویض ہوئی۔ میں نے بہت سارے لوگوں کے ساتھ مولانا علی الیاس کو اس کام میں شامل کیا۔ انھوں نے اردو کے علاوہ فارسی اور عربی کی کتابوں میں بھی حسبِ ضرورت معاونت کی۔ مولانا ولی اللہ محمد آبادی (سیوان) جنھوں نے قواعد کی کتابیں بھی پہلے سے لکھ رکھی تھیں، انھیں بھی اس کام میں شامل کیا۔ دونوں مولانا حضرات کی خوب دوستی ہوگئی۔ مولانا ابوالکلام قاسمی شمسی جو اس زمانے میں مدرسۂ شمس الہدیٰ کے پرنسپل تھے، ان کی مہربانی سے مدرسے کے گیسٹ ہاؤس میں ورک شاپ کے دوران ان دونوں کے قیام کا انتظام ہوجاتا۔ ورک شاپ کے بعد سب کو گھر پر کام کرنے کے لیے ذمے داریاں دی جاتی تھیں۔ مولانا علی الیاس کو میں نے پہلی، دوسری اور تیسری جماعتوں کے لیے کتاب تیار کرنے کی صلاح دی۔ ان کے ذاتی تجربات بھی اس سلسلے سے تھے۔ میں نے انھیں گیارھویں بارھویں کے لیے قواعد کی ایک کتاب تیار کرنے کے لیے بھی کہا۔ جس انہماک سے مولانا علی الیاس نے کتابوں کے مسودات اپنی خوش خطی کی اضافی تزئین کے ساتھ پیش کیا، وہ حیرت انگیز تھا۔ قواعد کی کتاب کو مختصر کرنے کی ضرورت پڑی مگر کم و بیش بیس برسوں سے مولانا علی الیاس اور مولانا ولی اللہ کی مشترکہ کاوشوں سے تیار کردہ قواعد کی کتاب اب تک بہار کے اسکولی نصاب کا حصہ ہے۔ درجنوں پرائیویٹ پبلشرز اور مقابلہ جاتی امتحانات کی کتابیں شائع کرنے والے افراد نے قواعد کی اس مختصر کتاب کی خوب خوب نقلیں کیں۔ مولانا الیاس کا یہ صدقۂ جاریہ اب تک قائم و دائم ہے۔
درسی کتاب کی تیاری سے پہلے ہندستان کی اکثر و بیش تر اہم ریاستوں اور این سی ای آر ٹی کے نصاب کا موازنہ و مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ عمل درجۂ اول سے لے کر بارھویں جماعت کے نصاب تک کو محیط تھا۔ کس سطحِ علم کے لیے کس صوبے میں کون سی چیز شاملِ نصاب کی گئی ہے، اس کا موازنہ کرکے ہمیں صوبۂ بہار کا نیا نصاب تیار کرنا تھا۔ نصاب کے ہر حصے میں چھوٹی سے چھوٹی چیز شامل کرتے ہوئے اس کے جواز اور مرحلہ وار ارتقا کے امور پر خاص توجہ دینی تھی تاکہ سیڑھی نما نظامِ تعلیم کے سارے معاملات درست ہوسکیں۔ مولانا علی الیاس اس کام کو اتنی مستعدی اور صفائی سے کرتے تھے کہ بعد میں انھی کی تحریروں کی بنیاد پر تمام امور فائنل کیے جاتے۔ وہ باریک لکھاوٹ اور خوش خط لکھاوٹ دونوں کے ہنرور تھے، اس لیے کاغذ پر وہ پورا چارٹ کامیابی سے لکھ سکتے تھے۔ وہ اسکیل لے کر طرح طرح کی خانہ بندی کرتے اور اس طرح دوسروں کے لیے بھی مددگار ہوتے۔ مولانا نے ٹیکسٹ بک کے کاموں میں اپنی مہارت سوال و جواب اور مشقی مراحل میں بھی پیش کی۔ چھوٹے بڑے بچوں کی سطحِ علم کو دیکھتے ہوئے وہ متن کی بنیاد پر بڑے گہرے اور دل چسپ سوالات تیار کرتے۔ جہاں جہاں کسی تُک بندی کی ضرورت ہو تو وہاں وہ اس ہنر کا بھی استعمال کرتے۔
بہار میں مکمل طور پر درسی کتابیں بنانے کا کسی کو تجربہ نہیں تھا۔ بہ مشکل مجھے این سی ای آرٹی اور سی آئی آئی ایل کے لیے چند کتابیں تیار کرنے کا موقع ملا تھا۔ میں نے اسے چیلنج کے طور پر لیا تھا کہ بہار کی اپنی کتابیں ہونی چاہیے۔ نوجوان اساتذہ، اسکول کے اساتذہ اور ریسرچ اسکالرس کی ایک بڑی ٹیم اس کام کے لیے میں نے لگا رکھی تھی۔ ان میں سے ناتجربہ کار تو سب تھے، بہت سارے کچے بھی تھے۔ وہ مشقی سوالات تیار کرتے اور میں باری باری سے انھیں مولانا الیاس کو اصلاح کے لیے پیش کردیتا۔ وہ دن بھر ایسی چیزوں کی اصلاح میں لگے ہوتے اور وہ سب کچے مال پختہ بن جاتے۔ کسی کام میں دل و جان سے لگ جانا اور اپنی بساط سے بڑھ کر کارنامے پیش کردینا آسان نہیں ہوتا ہے۔ مولانا علی الیاس کی شخصیت میں ان کے ہمہ جہت علم کے ساتھ یکسوئی، حد درجہ محنت اور بساط بھر خوب سے خوب تر کی جو تلاش تھی، یہ ایسے اوصاف تھے جو بہت کم لوگوں کو میسر تھے۔ اس زمانے میں میرے ساتھ ظفر کمالی، واحد نظیر اور مولانا الیاس جیسے جی جان لگانے والے ہنرور نہ ہوتے تو گیارھویں بارھویں جماعت کے لیے اتنی معیاری کتابیں اور بہار کا نصابِ تعلیم اور درسیات ٢٠٠٨ جیسے کام پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔ مولانا علی الیاس ٹیکسٹ بک کے کاموں کی انجام دہی میں بہت خوش رہتے۔ ان کی جیسی صلاحیت تھی، وہ پرائمری اسکول میں بہت حد تک سڑ گل چکے تھے۔ زندگی میں انھیں پہلا ایسا موقع ملا جب وہ اپنی صلاحیت اور تخلیقی ہنرمندی کا مظاہرہ کرسکیں۔ ان کتابوں کو دیکھ کر وہ بھی اطمینان کرتے کہ ہم لوگوں نے مل جل کر کچھ اچھے کام کرلیے۔

[قسط۔٤]

٢٠٢٠ء میں وبا سے ٹھیک پہلے ٢٣ فروری کو میری بیٹی کی شادی تھی۔ دوستوں، رشتے داروں اور عزیزوں کو دعوت دی گئی۔ مولانا علی الیاس کے گائوں جاکر میں نے انھیں دعوت دی اور ان سے یہ کہا کہ سرپرست کی حیثیت سے آپ ذرا پہلے تشریف لے آئیں گے تو مجھے سہولت ہوگی۔ میں نے گھر کے قریب ایک ہوٹل میں تمام رشتے داروں کے ساتھ ان کے رہنے کا انتظام کیا اور رخصتی کے موقعے سے دوسروں کی طرح انھیں بھی کپڑوں کی سوغات کے ساتھ رخصت کیا۔ دیہات میں ان کی زندگی بسر ہوتی تھی، اس لیے شہری شادیوں کے انداز و اسالیب سے وہ پورے طور پر واقف نہیں تھے۔ نہیں چاہتے ہوئے بھی نیو پٹنہ کلب میں اچھے خاصے اہتمام کے ساتھ میں نے میزبانی کے فرائض انجام دیے تھے۔ صوبہ ہی نہیں، ہندستان کے دوسرے شہروں اور کچھ ملک سے باہر کے مہمان بھی شریک ہوئے۔ انھی مہمانوں کے لیے تکلفات اور اہتمامات تھے۔ مولانا نے ترتیب و تنظیم، انواع و اقسام کے کھانوں اور استقبال کے سلیقے کو نہ صرف یہ کہ پسند فرمایا بلکہ جب کوئی بات بعد کی ملاقاتوں میں نکلتی، اس کا تذکرہ چھیڑ دیتے اور دعائیں دیتے۔ یہ بھی کہتے کہ اگر وکیل صاحب (میرے والد) حیات ہوتے تو وہ بھی اسے دیکھ کر خوش ہوتے۔ یہ بات انھوں نے میرے دوستوں اور متعدد شاگردوں سے کئی بار کہی اور اس بیان سے وہ بار بار خوش ہوتے۔
٢٠٢٥ء میں ٢١ جون کو میرے بیٹے کی شادی کی تاریخ مقرر ہوئی۔ اس دوران مولانا کی صحت بگڑتی جارہی تھی۔ کئی بار پٹنہ میں بھی وہ زیرِ علاج رہے اور غالب کے لفظوں میں کہیں کہ "ایک مرگِ ناگہانی اور ہے" کا انتظار تھا۔ میں نے بھی ان کے گائوں جاکر ملنے کا دورانیہ مختصر کیا اور بار بار جاکر تھوڑی دیر ان کے پاس بیٹھ کر ان کی دل جوئی کرکے پٹنہ واپس آجاتا۔ بیٹے کی شادی کا کارڈ لے کر ان کے گائوں اپنے دوست ایس۔اے۔شکیل کے ساتھ پہنچا۔ وہ مئی کے اواخر کی گرمی تھی۔ بچوں نے ان کے کمرے میں اے سی لگا رکھی تھی۔ وہ بہ مشکل اٹھ پا رہے تھے۔ سہارے کی ضرورت تھی۔ جسم پہلے سے بھی نہایت دبلا پتلا تھا مگر سوئے ہوئے عالم میں ہڈی کا وہ ایک ڈھانچا معلوم ہورہے تھے۔ پھر انھوں نے کارڈ دیکھ کر بیٹی کی شادی کے پُرتکلف اہتمام کا تذکرہ کیا اور یہ بھی کہا کہ صحت ساتھ تو نہیں دے رہی ہے مگر میں ضرور چلوں گا۔ مجھ سے کہا کہ پیدل چلنے میں تکلیف ہونے لگی ہے تو کوشش کروگے کہ بیس قدم سے زیادہ مجھے چلنا نہیں پڑے۔ میں جب تک ان کے گھر موجود رہا، وہ بار بار پٹنہ آنے کے پروگرام پر کچھ نہ کچھ کہتے رہے۔ میں ان کے حالات دیکھ رہا تھا۔ میں نے کہا کہ آپ یہیں سے اپنی دعائیں دیں۔ آپ کو اتنا لمبا سفر طے نہیں کرنا ہے۔ شادی میں ان کے حصے کے کپڑے حسبِ روایت خریدے گئے۔ میں نے اپنے چھوٹے بھائی سے شادی کے فوراً بعد ان کے گھر بھجوادیے تھے۔ اس کے تھورے دنوں بعد جب میں ان کے گاؤں پہنچا تو انھوں نے خود بتایا کہ میں نے وہ کپڑے بنوالیے ہیں اور یہ بھی بتایا کہ دوسروں سے شادی کے بارے میں ضروری تفصیلات بھی معلوم کرلی ہیں۔ اللہ کی مہربانی سے سب کچھ اچھا رہا۔
ادھر دو تین برسوں سے جب اس بات کا احساس ہونے لگا تھا کہ اب ان کی زندگی کے دن محدود ہیں۔ میں بار بار انھیں دیکھنے کے لیے جانے لگا۔ کسی وجہ سے گھر پہنچا تو پہلے ہی منصوبہ بنالیا کہ ان کے گاؤں جائیں گے۔ ادھر دو رمضان میں ایسا ہوا کہ پٹنہ سے میں سیوان ظفر کمالی کے گھر پہنچا۔ پٹنہ سے کچھ باقرخوانیاں بنوا لی تھیں کہ احباب کو پیش کریں گے۔ سیوان سے پھر بتیا اپنے گھر کے بعد مولانا الیاس کے یہاں اپنے بڑے اور چھوٹے بھائی اور ایک شاگرد قمرالزماں چمپارنی کے ساتھ پہنچا۔ عید کے نئے کپڑوں کے ساتھ انھیں باقر خوانیاں بھی پیش کیں۔ بعد میں فون کرکے انھوں نے باقر خوانی کے لیے خصوصی طور سے پسندیدگی کا اظہار کیا اور یہ بھی کہا کہ تمھارے دیے ہوئے کپڑوں میں ہی عید کی نماز ادا کی۔ ان کا جسم اکہرا تھا۔ ظاہری طور پر دیکھ کر آسانی سے یہ طے نہیں کیا جاسکتا کہ وہ اگر بیمار ہیں تو کتنے ہیں۔ مجھے ایسا لگتا تھا کہ جسم سے گوشت کم ہوتا جارہا ہے مگر یہ التباس بھی ہوتا کہ وہ تو ایسے ہی ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ کبھی کبھار وہ ہمارے گھر سے اپنے گائوں دس کیلومیٹر پیدل بھی چلے جاتے۔ اس کے علاوہ سائیکل سے کہیں بھی ان کا آناجانا مدت تک رہا۔ بعد میں موپڈ خرید لی تو اس سے بھی دس بیس کیلو میٹر کی دوری طے کر لیتے۔ بیٹوں نے بائیک لے لی تو گاؤں سے بتیا آنے جانے اور عمومی علاج کے مسائل میں مدد ملنے لگی۔
ادھرچند برسوں کے دوران اچانک ان کی صحت کے مسائل پیدا ہوجاتے اور انھیں گاڑی سے لے کر جانا ہوتا۔ مولانا نے ایسے مسئلوں سے الجھنے کے لیے کار بھی خرید لی تھی۔ کئی بار پٹنہ ایمس میں وہ اپنی کار سے ہی آئے اور کچھ دنوں کے بعد صحت یا ب ہوکر واپس ہوئے۔ چھوٹے بڑے ڈاکٹروں کے یہاں اپنے گائوں سے بتیا بھی اسی طرح وہ لے جائے جاتے۔ ان کا چھوٹا بیٹا محمد وسیم ان کے ساتھ رہتا۔ ایک ٹرم وہ مکھیا بھی رہ چکا تھا۔ بعد میں مولانا نے اسے درس و تدریس میں لگا دیا اور سرکاری اسکول کی ملازمت میں شامل ہونے کا مشورہ دیا۔ بڑا بیٹا بتیا میں درس و تدریس کے شعبے میں پہلے ہی شامل ہوچکا تھا۔ ان کی صحت ڈھلان پر تو تھی مگر اس سے لڑنا اور چاق و چوبند رہتے ہوئے مذہبی اور ادبی کاموں میں مشغول ہوجانا ان کی خاص ادا تھی۔ گائوں اور گھر کے افراد بھی ان کا یہ انداز جانتے تھے۔ ابھی صاحبِ فراش ہیں اور چار دن کے بعد زندگی کے معمولات میں شامل نظر آئیں گے۔
ایک بار جب مجھے معلوم ہوا کہ مولانا بہت بیمار ہیں تو گھبراہٹ میں انھیں دیکھنے کی غرض سے میں پٹنہ سے روانہ ہوا۔ ایک دو بار فون کیا تو کسی نے فون نہیں اٹھایا۔ یہ مزید تشویش کی بات تھی۔ میں نے چپ چاپ اپنے گھر گئے بغیر باہر ہی باہر مولانا کے احاطے کے باہر جب گاڑی لگوائی تو دیکھتا کیا ہوں کہ مولانا مستری مزدوروں کے ساتھ گھر کے باہری حصے کو درست کرانے کے لیے مشورہ دے رہے ہیں۔ دیکھ کر وہ حیرت زدہ ہوئے مگر میں نے کہا کہ یوں ہی آپ کو دیکھنے کے لیے چلا آیا۔ ان کا آخری سفر بھی کچھ اسی طرح کا رہا۔ رات تک بالکل ٹھیک تھے۔ جو مسلسل بیماری تھی، وہی تھی۔ علی الصباح اٹھتے تھے، اسی طرح اٹھے۔ بیٹے سے تھوڑی بات چیت بھی ہوئی۔ کچھ چائے ناشتے کے لیے انھوں نے بچے سے کہا۔ ایک کمرے سے دوسرے کمرے تک بچہ پہنچ کر جب واپس آتا ہے تو ان کی کیفیت بدلتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ ایک پل میں مالکِ حقیقی کے بلاوے پر وہ لبیک کہتے ہیں۔ تشفی کے لیے ڈاکٹر آئے مگر انھوں نے آخری سفر کی تصدیق ہی کی۔ چھے بجے صبح ١٣دسمبر ٢٠٢٥ء کو وہ ہمیشہ کے لیے ہم سب سے دور ہوگئے۔
پٹنہ سے میں جب اپنے دو بھائیوں کے ساتھ تجہیز و تکفین میں شامل ہونے کے لیے ان کے گائوں پہنچا تو بچوں نے کفن کھول کر ان کے چہرے کو دکھایا۔ صبر آزما مرحلہ تھا مگر میں نے دو چند تصویریں کھینچ لیں۔ سَو بار غور کیا مگر ایسا محسوس ہوا کہ کچھ دنوں پہلے جیسے انھیں بستر پر لیٹے ہوئے چھوڑ کر گیا تھا، ٹھیک ویسے ہی نظر آرہے تھے۔ وہ مردہ تو معلوم نہیں ہورہے تھے۔ چہرے مہرے بھی وہی تھے، لگتا تھا کہ پھر سے بول پڑیں گے۔ وہ یوں بھی ہمیشہ سفید لباس پہنتے تھے، اس لیے بھی کفن میں کوئی اجنبیت نہیں معلوم ہوئی۔ جب تک نماز کا وقت نہ ہوگیا، اس وقت تک ان کے سرہانے کرسی لگا کر بیٹھا رہا۔ ظہر کی نماز میں جمِ غفیر دیکھ کر میں حیران ہوا۔ چھوٹا سا گائوں اور مسلمانوں کی محدود آبادی کے باوجود اتنی بڑی تعداد میں لوگ جمع ہیں۔ ہر گلی کوچے میں بائیک لگی ہوئی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دور دراز سے بھی لوگ تجہیز و تکفین میں شامل ہونے کے لیے آئے ہوئے ہیں۔ کئی کاریں بھی آنے والوں کا پتا دے رہی تھیں۔ جنازہ اٹھتے ہی میں نے استاد کو کاندھا لگایا۔ تھوڑی دیر کے بعد تابوت بھیڑ کے حلقے میں پہنچ گئی۔ عید گاہ اور قبرستان تک جانے کا پتلا راستہ تھا۔ کوئی آدھ کیلو میٹر سے لمبا یہ آخری سفر کا کارواں تھا۔ عید گاہ میں نمازِ جنازہ کی صف بندی ہوتے وقت یہ اور بھی واضح ہوا کہ پانچ سات ہزار لوگ ضرور مولانا کی نمازِ جنازہ میں شریک ہیں۔ اسی قبرستان میں اپنی اہلیہ کی قبر کے پاس ہی وہ دفنائے گئے ہیں۔ قبر تیار ہونے کے بہت دیر بعد تک ایصالِ ثواب کے لیے میں فاتحہ پڑھتا رہا اور اپنے استاد کو خدا کے سپرد کرکے وہاں سے رخصت ہوا۔ ان کے بچوں نے اپنی عمر سے بڑھ کر بوقتِ رخصت یہ بات کہی کہ ابّا تو گزر گئے لیکن ہم لوگوں سے یہ رشتہ قائم رہنا چاہیے۔
ابھی ١٦ اپریل کو ظفر کمالی حج کے لیے روانہ ہورہے تھے۔ میں انھیں چھوڑنے کے لیے سیوان جانے والا ہوں، یہ سن کر میرے شاگرد تسلیم عارف بھاگل پور سے پٹنہ چلے آئے۔ ١٥ اپریل کو ظفر کمالی کے یہاں پہنچ کر ان کے ساتھ چند گھنٹے گزارلینے کے بعد میں نے ان سے کہا کہ رات سیوان نہ رُک کر میں بتیا چلا جاتا ہوں، گھر کے لوگوں سے ملاقات ہوجائے گی اور استاد کی قبر پر فاتحہ پڑھ کر پھر سیوان آکر آپ کو ٹرین میں بٹھا کر میں پٹنہ واپس چلا جاؤں گا۔ ظفر کمالی نے میری یہ گزارش قبول کرلی۔ رات میں بتیا پہنچ کر ہم سب سو گئے۔ تسلیم عارف کو مولانا الیاس بہت عزیز رکھتے تھے۔ فون سے بھی مختلف معاملات میں اس سے تبادلۂ خیالات کا سلسلہ رہتا تھا۔ میرے شاگردوں میں سب سے زیادہ اسے ہی وہ پسند کرتے تھے۔ میں نے تسلیم عارف سے کہا کہ صبح سویرے فجر کی نماز کے بعد ہم لوگ مولانا الیاس کے گائوں چلیں گے۔ وہ بھی خوش ہوا اور پھر انھی معلوم راستوں سے میں ان کے گھر پہنچا۔ بیٹے نے قبرستان کی چابی حاصل کر لی تھی۔ ہم دونوں استاد شاگرد پھر اسی قبر کے پاس کھڑے ہوکر مولانا الیاس کی مغفرت کی دعائیں کرتے رہے۔ ان کا گھر، گائوں کے راستے اور متعلقین سب اسی طرح سے ہیں مگر وہی نہیں، جس کی وجہ سے میرے جیسا شہر میں پیدا ہوا آدمی بار بار گاؤں کی نرم مٹی میں کچھ پانے کے لیے چلا آتا تھا۔ آنے جانے کا یہ سلسلہ اسکول کے زمانے سے تھا۔ وہ کبھی سائیکل پر اور کبھی ٹم ٹم پر بٹھا کر ساتھ لے آتے۔ کئی بار اصرار کرکے اپنے گھر پر رہنے کے لیے موقع دیتے۔ اِدھر جب کئی بار ایسا ہوا کہ میں ان کے گھر پہنچا، چند گھنٹے رکنے اور کچھ چائے ناشتہ کرنے کے بعد واپس ہونا چاہتا تو مولانا کہتے کہ کچھ اور دیر رُک جاؤ۔ یہ بھی کہتے کہ پلان کرکے آؤ اور ایک روز میرے بھی مہمان بنو۔ کبھی سوچا بھی مگر اس کا موقع نہیں آسکا ۔
مولانا بڑے اساتذہ کے سامنے زانوئے ادب تہہ کرکے آگے بڑھے تھے۔ مدارسِ اسلامیہ کی مناظراتی لَے بھی ان کی مذہبی شخصیت میں موجود تھی جو آخر آخر "فتنہ ہاے اہلِ حدیث" میں تصنیفی طور پر اجاگر ہوئی۔ کسی علمی مسئلے پر غور و فکر کرنے اور بحث و مباحثے میں مولانا کی شخصیت کا یہ رُخ کھلتا تھا۔ کوئی ترکیب کیسے ناقص ہے یا کسی لفظ کا تلفظ کیوں کر غلط رائج ہوگیا، ان معاملات پر جب وہ باتیں کرتے تھے تو لگتا تھا کہ زمین سے آسمان تک لغات اور مستند استعمالات کی ایک کہکشاں سجی ہوئی ہے۔ اردو، عربی اور فارسی زبانوں میں تلفظ کے جانے انجانے بہت سارے اختلافات ہیں۔ کچھ رائج ہوچلے اور کچھ اناڑی پَن کی وجہ سے بہت سارے لوگوں کی زبان پر ہیں۔ مولانا اس معاملے میں سختی کا مظاہرہ کرتے۔ ان کا معروضہ تھا کہ دلیلوں کی بنیاد پر مخصوص اصولوں کی روشنی میں ہی تصرفات کے لیے گنجائش رکھی گئی ہے۔ تجربات کے نام پر وہ علمی بے راہ روی یا بے علمی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ اس میں وہ راسخ العقیدہ مولویوں کی طرح ضدی بھی نہیں تھے۔ وہ خود حسبِ ضرورت اَن گڑھ الفاظ کا استعمال اپنی شاعری یا نثر میں کر لیتے تھے۔ کسی شاعر نے انوکھا لفظ استعمال کیا، اسے وہ پسند کرتے مگر ناتجربہ کاری میں بے علمی پھیلانے کے عمل کو پسند نہیں کرتے تھے۔ بحث کرنے کے معاملے میں کبھی یہ اندازہ ہی نہیں ہوگا کہ کب وہ اردو سے نکل کر فارسی اور پھر وہاں سے عربی میں چلے جائیں گے۔ اتنا ہی نہیں وہ علمِ حدیث اور قرآنیات کی مثالوں سے بھی اپنی باتوں کو پختہ کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ حالی اور شبلی یا محمد حسین آزاد کو انھوں نے خاص توجہ سے پڑھ رکھا تھا، ان کے یہاں سے وہ مثالیں فوراً پیش کردیتے تھے۔ ایسی علمی پختگی، تازہ کاری، preparedness اور تقابلی جہت سے مطابقت بٹھانے کی استعداد میں نے بہت کم لوگوں میں دیکھی ہے۔ کمال یہ کہ اس کے باوجود نہ کوئی علمی غرور اور نہ ہی یہ نقطۂ نظر ہے کہ سامنے والے کو زیر کردینا ہے اور اس کی بے علمی کو طشت از بام کردینا ہے۔ مدارسِ اسلامیہ کی علمی مشقت کے ساتھ ساتھ یہ بردباری اور انکسار کی دولت نے ان کی شخصیت کو داخل سے اتنا وقیع بنایا تھا۔
مولانا اولاً غربت اور ثانیاً مدارسِ اسلامیہ کی تربیت کے سبب سادگی اور شرافت کا پیکر تھے۔ لباس تو اور بھی سادہ اور معمولی ہوتا تھا۔ سفید کرتا پائجامہ اور گھر پر لنگی اور سلی ہوئی گنجی کے ساتھ ٹوپی پہنتے تھے۔ ٹوپی میں بھی کبھی سلی ہوئی ٹوپی یا کبھی دو پلّی بھی استعمال کرتے۔ دو تہائی عمر تو انھوں نے سائیکل پر ہی گزار دی۔ اپنے خاندان میں وہ پہلے آدمی تھے جسے سرکاری ملازمت ملی تھی مگر انھوں نے اپنی کوششوں اور ترغیب کی وجہ سے اپنی اہلیہ، دونوں بیٹوں، بیٹی اور داماد؛ سب کو اسکول ٹیچر کے طور پر الگ الگ وقتوں میں لگا دیا۔ کام بھر خوش حالی بھی گھر میں آگئی تھی مگر اس سے نہ ان کا مزاج بدلا اور نہ ہی رہن سہن کی سادگی۔ گائوں کے عام لوگوں سے تعلقات میں بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ تعلیم و تدریس کے زمانے میں تو ان کی زندگی بکھراو کا شکار رہی، ٹرانسفر پوسٹنگ میں الجھتے رہے مگر آخری دو دہائیوں میں وہ مستقلاً اپنے گائوں میں رہنے لگے۔ سبک دوشی کی زندگی تھی، وقت کی کمی نہیں تھی۔ گائوں اور آس پاس کے علما اور اساتذہ ان سے صلاح و مشورے کے لیے آتے جاتے اور علمی طور پر فیض یاب ہوتے۔ اسی دوران انھوںنے تصنیف و تالیف کی طرف بھی توجہ کی اور کتابیں لکھیں پھر چھپوائیں۔ دو کتابوں کے مسودے اب بھی غیر مطبوعہ ہیں۔ کتابوں کی تصنیف کے دوران کتبِ حوالہ کی تلاش میں مختلف مدارس سے لے کر پٹنہ تک کا سفر کرتے رہے۔ ساٹھ برس کے بعد مختلف طرح کی بیماریوں میں الجھے رہنے کے باوجود خود کو دو دہائیوں سے زیادہ وقت تک علمی کاموں میں لگائے رکھنا اور تصنیفات و تالیفات کے کام میں خود کو وقف کردینا ایک حیرت انگیز بات ہے۔ اپنی کتابوں کے مسودات کی ایک سے زیادہ نقلیں بھی تیار کرتے اور ان میں بیچ بیچ میں اضافے بھی کرتے رہتے۔ ان علمی کاموں میں وہ اس وقت تک لگے رہے جس وقت تک بسترِ مرگ نے ان کو اپنے قبضے میں نہیں لے لیا۔
ہر آدمی کی زندگی میں اسکول سے لے کر یونی ورسٹی تک بہت سارے اساتذہ ملتے ہیں اور سب اپنے اپنے حصے کی روشنی اپنے طلبہ میں بھرتے جاتے ہیں تب جاکر کوئی طالب علم کھڑا ہوتا ہے۔ مولانا علی الیاس میری زندگی کے ایک ایسے استاد تھے جنھوں نے اسکول کے درمیانی دنوں میں مجھے غیر رسمی طور پر چند اسباق پڑھائے۔ مگر علم و ادب کیا ہے، زبان کا شعور کیسے حاصل ہو اور کتابوں سے حیرت انگیز معلومات اخذ کرنا اور ان کی جانچ پڑتال کرکے اپنا نقطۂ نظر قائم کرنا؛ یہ باتیں اسکول کے ایک طالب علم کے ذہن میں آٹھویں نویں جماعت کے دوران مولانا علی الیاس نے ڈال دی تھیں۔ یہ بات بھی انھوں نے پہلی بار بتائی تھی کہ کتابوں میں بھی غلطیاں ہوتی ہیں، اس لیے متن کو پڑھتے ہوئے ایک تنقیدی نظر سے ہمیں اپنی توجہ رکھنی چاہیے۔ یہ تو میری زندگی میں تنقید کا پہلا سبق تھا۔ خدا کا فضل رہا کہ مجھے یونی ورسٹی میں بھی کئی اچھے اساتذہ میسر آئے۔ نامی گرامی افراد بھی ان میں تھے مگر حق بات یہ ہے کہ مولانا علی الیاس نے علم کا جو شوق اور مطالعے کے انہماک کے لیے جو اطوار میرے لیے مقرر کیے، ان پر ہی میری تعلیمی اور تصنیفی زندگی کی حقیقی بنیاد قائم ہوئی۔ مجھے اب بھی محسوس ہوتا ہے کہ ان سے بڑھ کر صاحب علم شاید ہی کوئی دوسرا استاد کسی کو میسر آئے۔ اللہ کا یہ بھی احسان ہے کہ آٹھویں جماعت کے طالب علم کی حیثیت سے جب ان سے سیکھنے کا ایک بار سلسلہ شروع ہوا تو ان کی آخری سانس تک میری طالب علمی کا وہ دور قائم رہا۔ یہ وقفہ نصف صدی کا قصہ ہے، دو چار برس کی بات نہیں۔ آج میں جہاں کچھ بھی ہوں، اس کی بنیاد کی ساری طاقت مولانا علی الیاس عاجز کی عطا کردہ ہے۔
***
پہلی اور دوسری قسط یہاں پڑھیں:مولانا علی الیاس: اوّل و آخر استاد

شیئر کیجیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے