نام کتاب: مسلم اذہان کی تشکیل نو
مصنف: مصطفی آکیول
مترجم ڈاکٹر جلیس اختر نصیری
صفحات:344، قیمت: 600، ناشر: خسرو فاونڈیشن، ڈی 319، ڈیفینس کالونی، نئی دہلی، سن اشاعت: 2026ء
مبصر: شاہ عمران حسن
مدیر کتابی سلسلہ آپ بیتی ،اے 22، شاہ ہاوس،، مکی مسجد کالونی، مدن پور کھادر ایکسٹینش، پارٹ:3 نالہ روڈ، سریتا وہا ر، پن کوڈ õ110076 نئی دہلی
موبائل نمبر 9810862382
ای میل: sihasan83@gmail.com۔
…
مسلمانوں کو علمی، فکری، معاشی اور سماجی اعتبار سے ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے برسوں سے مختلف سطحوں پر کوششیں جاری ہیں۔ اہلِ علم اور اہلِ فکر کی ہمیشہ یہ خواہش رہی ہے کہ عام مسلمان بھی زندگی کے ہر شعبے میں ترقی کریں، زمانے کے تقاضوں کو سمجھیں اور بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ ہم آہنگ ہوکر آگے بڑھیں۔ اسی مقصد کے پیشِ نظر مختلف زبانوں میں نشر و اشاعت، تعلیم و تربیت اور افہام و تفہیم کا سلسلہ ماضی میں بھی جاری رہا ہے اور آج بھی مختلف صورتوں میں جاری و ساری ہے۔
مسلمانوں کو فکری اعتبار سے بیدار، بلند اور عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ماضی میں جن اصحابِ قلم اور مفکرین نے نمایاں کام کیا ہے، ان میں شاعرِ مشرق علامہ اقبالؔ کا نام سب سے اہم اور نمایاں ہے۔ علامہ اقبالؔ نے انگریزی زبان میں ایک سلسلۂ خطبات پیش کیا تھا، جس کا عنوان تھا:
Reconstruction Of Religious Thought In Islam
یعنی فکر ِ اسلامی کی تشکیلِ جدید۔
تقریباً ایک صدی قبل مسلمانوں کے محبوب فلسفی اور عظیم شاعر علامہ اقبالؔ نے جدید دور کے مسلمانوں کے فکری مسائل اور ان کے ممکنہ حل کے سلسلے میں اپنا نظریہ پیش کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ: ’’جدید مسلمان کے سامنے جو کام ہے، وہ بے حد عظیم ہے؛ اسے پورے نظامِ اسلام پر ازسرِنو غور کرنا ہے، مگر اس طرح کہ ماضی سے کامل قطعِ تعلق بھی نہ ہو۔‘‘
یہ باتیں مجھے اس وقت یاد آئیں جب میں ترکی نژاد امریکی مسلمان مصطفی آکیول کی کتاب ’’مسلم اذہان کی تشکیلِ نو‘‘ پر تبصرہ کر رہا تھا۔ اس کتاب میں بھی اُنھی بنیادی پہلوؤں پر گفتگو کی گئی ہے جن پر اپنے زمانے کے تقاضوں کے مطابق علامہ اقبالؔ نے تقریباً ایک صدی قبل کلام کیا تھا۔ تاہم، دورِ جدید کے مسائل، سوالات اور فکری ضرورتوں کے پیشِ نظر مصطفی آکیول نے انھی موضوعات کو ایک نئے زاویے، نئے اسلوب اور نئے فکری پس منظر میں پیش کیا ہے۔
مصطفی آکیول کی 344 صفحات پر مشتمل یہ کتاب خسرو فاؤنڈیشن، نئی دہلی، کی جانب سے 2026ء میں شائع ہوئی ہے۔ کتاب کا اردو ترجمہ ڈاکٹر جلیس اختر نصیری نے کیا ہے۔ یہ کتاب اصل انگریزی متن میں امریکہ سے 2021ء میں شائع ہوئی تھی۔ اردو میں اس کا ترجمہ منظرِ عام پر آنا اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ اس کے ذریعے جدید مسلم فکر سے متعلق ایک اہم بحث اردو خواں طبقے تک بہ آسانی پہنچ گئی ہے۔
’’فکرِ اسلامی کی تشکیلِ جدید‘‘ کے موضوع پر اردو زبان میں حالیہ دور میں کئی بڑے اہلِ قلم نے کام کیا ہے، جن میں ایک نمایاں نام پروفیسر مشیرالحق کا ہے۔ ان کے علاوہ مولانا وحیدالدین خاں، جاوید احمد غامدی اور مولانا وارث مظہری وغیرہ کے نام بھی قابلِ ذکر ہیں۔ اب اردو میں فکرِ اسلامی کے مباحث پر مصطفی آکیول کی زیرِ نظر کتاب ایک اہم اضافہ ہے۔
اس کتاب میں ان موضوعات اور سوالات پر دلائل کے ساتھ گفتگو کی گئی ہے جن پر عام طور پر مسلمانوں کے بڑے بڑے دانشور بھی بغلیں جھانکتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ لیکن مصطفی آکیول نے ان حساس اور پیچیدہ موضوعات پر اس انداز سے کلام کیا ہے کہ محسوس ہوتا ہے جیسے وہ بہت ہی ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ گرم اذہان سے مخاطب ہیں۔ وہ اپنی بات نہایت سادگی، متانت اور اعتماد کے ساتھ کہہ جاتے ہیں اور قاری پڑھنے کے بعد ٹھہر کر سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اس کتاب کو اپنے دو معصوم بچوں کے نام معنون کرتے ہوئے لکھا ہے: ’’میرے عزیز بیٹوں لیونت طٰہٰ اور ایفے رؤف کے نام، تاکہ وہ ایمان کی روشنی کے ساتھ ساتھ عالمی انسانی اقدار کی روشنی میں بھی پروان چڑھیں۔‘‘ یہ انتساب دراصل پوری کتاب کے بنیادی مزاج کی بھی عکاسی کرتا ہے، جس میں ایمان کے ساتھ عقل، انسانی وقار، اخلاق، آزادیِ فکر اور عالمی انسانی اقدار کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔
مصطفی آکیول کے انتساب والے صفحے سے گزر کر جب ہم پیش لفظ تک پہنچتے ہیں تو وہاں خسرو فاؤنڈیشن کے کنوینر ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن کتاب پر پُرمغز گفتگو کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: ’’بعض کتابیں محض مطالعے کے لیے نہیں ہوتیں، بلکہ وہ قاری کو سوچنے، سوال کرنے اور اپنے فکری زاویے پر نظرِ ثانی پر مجبور کرتی ہیں۔ مصطفی آکیول کی یہ کتاب بھی اسی قسم کی ایک سنجیدہ فکری کاوش ہے، جو مذہب، آزادیِ فکر، اخلاقیات اور انسانی شعور جیسے بنیادی موضوعات کو نہایت متوازن اور دیانت دارانہ انداز میں پیش کرتی ہے۔‘‘
وہ مزید لکھتے ہیں: ’’یہ کتاب مذہب اور عقل کے درمیان کسی تصادم کو تسلیم نہیں کرتی، بلکہ دونوں کو ایک دوسرے کا معاون قرار دیتی ہے۔ اس میں غیر مسلموں کے ساتھ مسلمانوں کے تعلقات کی نوعیت کو قرآن و حدیث کی روشنی میں واضح کیا گیا ہے۔ اسلام میں انسان سے تعلق کی بنیاد اس کا انسان ہونا ہے، نہ کہ اس کی مذہبی شناخت۔ یہ تصنیف صرف مسلمانوں کے لیے نہیں، بلکہ غیر مسلم قارئین کے لیے بھی یکساں طور پر اہم ہے، جو اسلام کو نعروں، خوف یا تعصبات کے بجائے فکری تناظر میں سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔‘‘
جدید دنیا اور اسلام کے موضوع پر مصطفی آکیول گذشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے تحریر و تقریر کے ذریعے اپنی بات لوگوں تک پہنچا رہے ہیں۔ اس دوران انھیں قدامت پسند مسلمانوں کی جانب سے زد و کوب کا بھی نشانہ بنایا گیا۔ 2017ء میں جب وہ امریکہ سے براہِ راست ملیشیا گئے تو انھیں حکومت ِ ملیشیا نے 18 گھنٹوں کے لیے حراست میں لے لیا۔ اس واقعے کی نہایت دل سوز روداد انھوں نے زیرِ تبصرہ کتاب کے ابتدائیے میں بیان کی ہے۔
وہ بتاتے ہیں کہ قرآن کی آیت ’’دین میں کوئی جبر نہیں‘‘ کی تشریح کرنے کی وجہ سے انھیں حراست میں لیا گیا اور ان سے سخت قسم کے سوالات کیے گئے۔ ایک صاحبِ فکر کے لیے محض ایک مذہبی آیت کی ایسی تعبیر پیش کرنا، جو روایتی تعبیرات سے مختلف ہو، کس طرح ایک بڑے مسئلے کا سبب بن سکتا ہے، اس واقعے سے اس کا اندازہ بخوبی ہوتا ہے۔
اگرچہ مصطفی آکیول یہ بھی کہتے ہیں کہ ملیشیا ایک بڑے دل والا ملک ہے، اس لیے وہاں انھیں نسبتاً کم پریشانی کا سامنا کرنا پڑا؛ اگر اس کی جگہ کوئی اور سخت گیر اسلامی ملک ہوتا تو شاید ان کے ساتھ اس سے کہیں زیادہ سفاکانہ رویہ اختیار کیا جاتا۔
مصطفی آکیول جہاں مسلم تہذیب کی شان دار روایات پر فخر کرتے ہیں، وہیں وہ اس امر پر بھی سوال اُٹھاتے ہیں کہ آخر ہم نے ان روایات کو ترک کیوں کردیا۔ ان کے ہاں ماضی محض فخر کا موضوع نہیں بلکہ غور و فکر کا سرچشمہ بھی ہے۔ وہ اسلامی تاریخ کے ان روشن اور کشادہ فکر کے حامل ادوار کی طرف توجہ دلاتے ہیں جن میں علمی اختلاف، فکری تنوع اور مختلف آرا کے لیے گنجائش موجود تھی۔
وہ سوال کرتے ہیں کہ جب خانہ کعبہ کے اندر مرد اور عورت ایک ساتھ اور یکساں انداز میں خدا کی عبادت کرتے ہیں تو باقی دوسری جگہوں پر یہ کیوں کر ممکن نہیں ہے۔ 2011ء میں انھوں نے TED Talk میں اس موضوع پر بطورِ خاص سولہ منٹ کا خطاب کیا تھا، جسے بہت زیادہ پسند کیا گیا۔ آج بھی اسے یوٹیوب پر سنا جاسکتا ہے۔
اسی طرح انھوں نے اس کتاب میں لکھا ہے کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا نے ساری دنیا کے نظام کو پوری طرح تبدیل کرکے رکھ دیا۔ بیماری سے بچاؤ کے لیے ماہرینِ امراض نے سماجی فاصلہ اختیار کرنے کی ہدایت کی، حتیٰ کہ پوری دنیا میں ہر قسم کی اجتماعی عبادات پر بھی پابندی عائد کردی گئی۔ مسلمانوں کی عالمی عبادت گاہوں، یعنی مسجدِ حرام اور مسجدِ نبویؐ میں بھی اجتماعی عبادات پر پابندی نافذ کردی گئی۔ سعودی حکام نے اس صورتِ حال کو بلا چون و چرا قبول کیا، مگر کچھ قدامت پسند اور شدت پسند مسلم ممالک سماجی فاصلے کی ضرورت کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھے۔
اس صورتِ حال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ وسعتِ نظر رکھنے والے مسلمان ایک نئی راہ کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں۔ ان کے نزدیک بدلتے ہوئے حالات سے آنکھیں بند کرلینا مسئلے کا حل نہیں، بلکہ عقل، تجربے اور حالات کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے نئی راہیں تلاش کرنا ضروری ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مصنف ایک باہمت انسان ہیں۔ وہ اپنی بات مضبوطی کے ساتھ پیش کرتے ہیں اور مشکل، حساس اور متنازع موضوعات سے بھی گریز نہیں کرتے۔ حتیٰ کہ انھوں نے ایک معروف مگر فراموش شدہ اسلامی روایت ’’ارجائی‘‘ پر بھی اظہارِ خیال کیا ہے۔
وہ بتاتے ہیں کہ تیسرے خلیفہ راشد حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت کے بعد اسلام کی پہلی صدی عیسوی میں ارجائی کا تصور ابھرا۔ خون آشام سیاسی کشمکش کے بعد اس کے حاملین نے حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ میں سے کسی ایک کے حق یا باطل ہونے کے بارے میں فیصلہ دینے سے انکار کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان دونوں میں سے کسی نے واقعی گناہِ کبیرہ کا ارتکاب کیا ہے تو اس کا فیصلہ اللہ ہی کرے گا۔ لہٰذا اس اختلاف کو قیامت تک کے لیے ’’موخر‘‘ کردینا چاہیے، جہاں اللہ خود حق و باطل کو واضح کرے گا۔ اسی وجہ سے وہ ’’مرجئہ‘‘ کہلائے، یعنی وہ لوگ جو فیصلے کو مؤخر کردیتے ہیں۔ بعض نے انھیں ’’شکّاک‘‘ بھی کہا، یعنی وہ لوگ جو فیصلہ دینے میں تامل کرتے ہیں۔ (ص 246-247:)
نام نہاد مسلمانوں کے ذریعے پیش کی گئی اسلام کی شدت پسندانہ تعبیرات نے اسلام کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ اس سلسلے میں مصنف کہتے ہیں کہ مسلم دنیا شدت پسند گروہوں، مثلاً آئی ایس آئی ایس، بوکوحرام اور القاعدہ، کو پسند نہیں کرتی اور ان کے لیے کوئی ہمدردی نہیں رکھتی، کیونکہ ان کا بے لگام تشدد عام مسلمانوں کو بھی نہیں بخشتا۔ (ص:9)
جیسے جیسے ہم کتاب کا مطالعہ کرتے جاتے ہیں، مصنف کی وسعتِ مطالعہ اور گہرائیِ فکر کا اندازہ بھی بڑھتا جاتا ہے۔ وہ خیالی یا محض جذباتی باتیں نہیں کرتے بلکہ اپنے نقطۂ نظر کے حق میں تاریخی شواہد، علمی حوالوں اور فکری دلائل پیش کرتے ہیں۔ خواہ وہ امام احمد بن حنبل کا ذکر ہو یا ابوالحسن اشعری کا، ابن خلدون کا مقدمہ ہو یا معتزلہ کا نظریہ، مصنف ہر موضوع کو اس کے تاریخی اور فکری پس منظر میں دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مصنف اگرچہ وسعتِ نظر اور فکری آزادی کی بات کرتے ہیں، تاہم اپنی تحریر میں وہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ اسلام میں ہر مسئلے کا اولین ماخذ قرآن ہے، جو کتاب اللہ ہے۔ (ص 48: ) اس طرح وہ فکری آزادی کو مذہبی ماخذ سے بے تعلق کرنے کے بجائے قرآن کو بنیادی رہنما حیثیت دیتے ہیں۔
مصطفی آکیول مسلمانوں کے اخلاقی رویے پر بھی شدت سے تنقید کرتے ہیں اور یہ سوال اُٹھاتے ہیں کہ آخر ہم اخلاقی اعتبار سے پست کیوں ہوگئے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ لبنانی نژاد فرانسیسی ادیب امین معلوف کا یہ قول نقل کرتے ہیں: ’’ان کے پاس دین ہے، وہ گمان کرتے ہیں کہ اب انھیں اخلاق کی حاجت نہیں۔‘‘ وہ اس قول کی تشریح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ غیر شعوری طور پر مسلم اذہان پر یہی رویہ چھایا ہوا ہے۔ یعنی مذہب کو محض شناخت یا ظاہری وابستگی تک محدود کردیا گیا ہے، جب کہ اس کا اصل مقصد انسانی کردار اور اخلاق کی تعمیر بھی ہے۔
اسی ضمن میں مصنف دارالافتاء سے جاری ہونے والے فتاویٰ پر بھی کلام کرتے ہیں اور اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ بعض فتاویٰ کی وجہ سے ملت کو کس قسم کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کی تنقید کا بنیادی مقصد مذہبی اداروں کی تضحیک نہیں، بلکہ اس امر کی نشان دہی ہے کہ بدلتے ہوئے زمانے میں مذہبی رہنمائی کے لیے حالات، زمانے کے تقاضوں اور انسانی زندگی کی پیچیدگیوں کو بھی پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔
علمِ کلام کے ذیل میں مصطفی آکیول نے روزمرہ کی زندگی سے متعلق متعدد مسائل پر بھی اظہارِ خیال کیا ہے۔ مثلاً وہ عورتوں کے تنہا سفر کرنے کے بارے میں بھی گفتگو کرتے ہیں۔ دورِ جدید کے معروف عالمِ دین اور محقق جاوید احمد غامدی بھی ’’عورتوں کو ضرورت کے پیشِ نظر تنہا سفر کے حق میں ہیں۔‘‘ (دیکھیے: مقامات، از جاوید احمد غامدی، ص 252:)
موجودہ زمانہ ہر لحاظ سے ایک نیا زمانہ ہے، جس نے زندگی کے تمام شعبہ جات کو پوری طرح بدل کر رکھ دیا ہے۔ قدامت پسند روش موجودہ دور کے ساتھ نہیں چل سکتی، اس لیے کہ جدید حالات اس بات کی دعوت دے رہے ہیں کہ نئے حالات کے مطابق قدم بڑھایا جائے اور زمانے کے ساتھ ساتھ چلنے کی کوشش کی جائے۔ پوری کتاب کا ماحصل بھی کسی نہ کسی درجے میں یہی ہے۔ تاہم، اخیر میں مصنف یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’فکری تنوع کو باقی رکھتے ہوئے ایک دوسرے سے سیکھا جائے تاکہ شعور و آگہی کی نئی قندیلیں روشن ہوں۔‘‘
اس ضمن میں ایک اہم بات مصطفی آکیول یہ کہتے ہیں کہ تنوع کو ختم کرنے والی اصل قوت ’’سیاسی طاقت‘‘ تھی۔ اقتدار نے جس فکر کو اپنے لیے مفید پایا، اسے فروغ دیا اور جسے غیر موزوں سمجھا، اسے دبا دیا۔ ان کے نزدیک یہی وہ تاریخی سانحہ تھا جسے ہم نے صدیوں تک رحمت سمجھا، حالاں کہ وہ درحقیقت ’’زوال‘‘ کا آغاز تھا۔
اسی لیے وہ کہتے ہیں کہ آج ہمیں جس علاج کی ضرورت ہے، وہ مذہب میں مزید سیاست داخل کرنا نہیں، بلکہ سیاست کو مذہب سے پیچھے ہٹانا ہے۔ نہ سلفیوں کو دبانا حل ہے، نہ اسلام پسندوں کو، نہ ہی ان قدامت پسندوں کو جن پر انھوں نے تنقید کی ہے۔ حل یہ ہے کہ کسی کو ’’دبایا‘‘ نہ جائے۔ (ص :263)
یہاں مصنف کا بنیادی تصور فکری تنوع اور آزادیِ اظہار سے جڑا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ ان کے نزدیک کسی ایک فکر کو طاقت کے ذریعے غالب کردینا وقتی طور پر نظم پیدا کرسکتا ہے، لیکن طویل مدت میں یہ علمی اور فکری ارتقا کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ اس کے برعکس مختلف آرا کے درمیان مکالمہ اور ایک دوسرے سے سیکھنے کا عمل معاشرے کو زیادہ متوازن اور باشعور بنا سکتا ہے۔
آخر میں مصنف مسلم اذہان سے ایک دردمندانہ اپیل کرتے ہیں کہ ہم باہر کی دنیا کو کوسنے کے بجائے اپنے باطن میں جھانکیں، اپنے فکری ورثے کو ازسرِنو دریافت کریں اور ایسے مستقبل کا خواب دیکھیں جو عقل کی روشنی، رحم کی حرارت، آزادی کے شعور اور انسانی وقار کی بنیاد پر استوار ہو۔ (ص :265)
زیرِ نظر کتاب کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس میں جو بھی دلائل دیے گئے ہیں یا جس نظریے پر گفتگو کی گئی ہے، اس کے ساتھ ساتھ ایک طویل ببلیوگرافی ( Bibliography) بھی دی گئی ہے، تاکہ قاری کو متعلقہ حوالوں اور ماخذ تک پہنچنے میں آسانی ہو۔ یہ چیز کتاب کی علمی اہمیت میں مزید اضافہ کرتی ہے اور قاری کو مصنف کے استدلال کے بنیادی مآخذ تک رسائی کا موقع فراہم کرتی ہے۔
’’مسلم اذہان کی تشکیلِ نو‘‘ ایک دل چسپ اور قابلِ مطالعہ کتاب ہے۔ دل چسپ اس معاملے میں کہ اس کا اندازِ بیان خشک اور بوجھل نہیں ہے۔ حالاں کہ یہ اصل میں انگریزی زبان میں لکھی گئی کتاب ہے اور اردو میں ترجمہ ہوئی ہے، مگر مترجم ڈاکٹر جلیس اختر نصیری نے نہایت سلیس، رواں اور شستہ انداز میں اسے اردو کے قالب میں ڈھالا ہے۔ ترجمے کی زبان اس قدر فطری اور رواں ہے کہ پڑھنے والا بعض مقامات پر یہ محسوس ہی نہیں کرتا کہ وہ کسی ترجمہ شدہ کتاب کا مطالعہ کر رہا ہے، بلکہ اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کتاب براہِ راست اردو میں لکھی گئی ہو۔ اس عمدہ ترجمے اور اہم کتاب کی اشاعت کے لیے مصنف مصطفی آکیول نے خاص طور پر خسرو فاؤنڈیشن اور اس کے کنوینر ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن کا شکریہ ادا کیا ہے۔ یقیناً ایسے موضوعات پر اہم اور معیاری کتابوں کی اشاعت اردو کے علمی و فکری سرمائے میں قابلِ قدر اضافہ ہے۔
آخر میں ہم بتاتے چلیں کہ خسرو فاؤنڈیشن کی کوششوں سے یہ اہم ترین کتاب منظرِ عام پر آئی ہے۔ خیال رہے کہ خسرو فاؤنڈیشن ہندوستان کا ایک ایسا ادارہ ہے جو انسان دوستی، امن، بھائی چارے اور محبت کو عام کرنے کے مقصد سے قائم کیا گیا ہے۔ اس ادارے کا مقصد قارئین کے سامنے بامعنی اور بامقصد کتابیں پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ایسی تحریریں اور تصانیف بھی پیش کرنا ہے جو لوگوں کو مثبت سوچ، تعمیری فکر اور انسانی اقدار کی طرف متوجہ کریں۔ اس ادارے کے تحت اب تک تین درجن سے زائد کتب اردو، ہندی اور انگریزی زبانوں میں شائع ہوچکی ہیں اور انھی موضوعات پر مزید اشاعت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ’’مسلم اذہان کی تشکیلِ نو‘‘ اسی اشاعتی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جو نہ صرف مسلم معاشرے کے فکری مسائل پر غور کی دعوت دیتی ہے بلکہ قاری کو اپنے فکری رویوں، مذہبی تصورات، اخلاقی ترجیحات اور بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے پر از سرِنو غور کرنے کی طرف بھی متوجہ کرتی ہے۔
***
شاہ عمران حسن کی یہ آپ بیتی بھی پڑھیں: الرسالہ سے اوراقِ حیات تک
کتاب : مسلم اذہان کی تشکیل نو
شیئر کیجیے