الرسالہ سے اوراقِ حیات تک

الرسالہ سے اوراقِ حیات تک

شاہ عمران حسن
(مدیرکتابی سلسلہ آپ بیتی ،نئی دہلی)

ماہنامہ الرسالہ تک رسائی:
یہ میری زندگی کا بڑا عجیب اتفاق ہے کہ ماہنامہ الرسالہ کے مطالعے کی کسی نے بھی ترغیب نہیں دی تھی بلکہ بذات خود میں نے اس کا مطالعہ شروع کردیا. میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی خصوصی عنایت تھی کہ میں نے کسی ترغیب کے بغیر الرسالہ سے استفادہ کرنا شروع کردیا۔
ماہنامہ الرسالہ اور مولانا وحیدالدین خاں سے میرا غائبانہ تعارف اس وقت ہوا جب کہ میں مونگیر (بہار) میں رہا کرتا تھا. حسن اتفاق سے میں نے آرہ (بہار) کے رہنے والے ایک شخص محمد محفوظ عالم کے پاس ماہنامہ الرسالہ دیکھا۔ اس پرچے کو دیکھ کر مجھے تجسس ہوا۔ میں نے ان سے عاریتاً لے کر پہلی بار الرسالہ پڑھا، یہ جون1999ء کا شمارہ تھا۔ اس کے بعد میں نے ماہنامہ الرسالہ کے کئی متفرق شماروں مثلاََ دینی مدارس نمبر (ستمبر2000ء) اور صوم و صلوٰۃ نمبر (دسمبر2000ء) اور ایک ہفتہ بہار میں (مارچ 2001ء) وغیرہ کا مطالعہ کیا اور پھر میں 12 جولائی2001ء سے مستقل طور پر الرسالہ پڑھنے لگا۔
عام اُردو پرچوں کے برعکس میں نے ماہنامہ الرسالہ کی فکر انگیز تحریروں کو قابلِ استفادہ پایا۔ اس لیے ہر ماہ اس کا مطالعہ پابندی سے کرنا میرے لیے ناگزیر ہوگیا۔ اور ایک وقت ایسا بھی آیاجب کہ میں نے اس کے تمام شماروں کو لمبی محنت و مشقت کے بعد حاصل کرکے اُس کی ایک ایک سطریں پڑھیں۔
سنہ1999ء سے 2014ء تک مسلسل الرسالہ اور مطبوعاتِ الرسالہ میرے مطالعے میں رہیں، اِس درمیان مولانا وحیدالدین خاں سے میری متعدد دفعہ خط و کتابت بھی ہوئی۔ خط و کتابت اور سوال و جواب کی مکمل تفصیلات ماہنامہ الرسالہ کے مختلف شماروں مثلاً فروری 2002ء، ستمبر 2002ء، مئی2004ء، اکتوبر2004ء، جولائی 2005ء، ستمبر2005ء، جولائی 2006ء، اکتوبر2006ء، دسمبر 2006ء، اپریل2008ء، ستمبر 2008ء، اپریل 2009ء، جولائی2010ء اور جنوری2011ء میں دیکھی جاسکتی ہے۔
اس کے علاوہ مولانا وحیدالدین خاں کے چھوٹے صاحبزادے ڈاکٹر ثانی اثنین خاں کے قائم کردہ ادارہ گڈورڈبکس (قائم شدہ: 1996ء) کے تحت کیے جانے والے میرے ملک و بیرون ملک کے کچھ اسفار کی خبریں میرے حوالے کے ساتھ ماہنامہ الرسالہ کے مختلف شماروں مثلاً اپریل 2008 (صفحہ: 46)، نومبر2008ء (صفحہ: 46)، مارچ2009ء (صفحہ: 45 )، اپریل2009ء (صفحہ:47 )، جون2009ء (صفحہ: 45 )، اپریل 2010ء (صفحہ: 42)، جو ن2010ء (صفحہ: 43)، جولائی2010ء (صفحہ:41)، دسمبر2010ء (صفحہ: 42)، مارچ2011ء (صفحہ: 43)، نومبر2011ء (صفحہ: 42) اور مئی2013ء ( صفحہ: 45)میں دیکھی جاسکتی ہیں۔
پہلی کتاب:
مولانا وحیدالدین خاں کی پہلی کتاب جو میرے مطالعے میں آئی، وہ پیغمبر انقلاب تھی، جسے میں نے 3 مارچ 2000ء کو خریدا تھا اور اپریل 2000ء میں اس کا مطالعہ کیا۔ یہ وہی کتاب ہے جس پر حکومتِ پاکستان نے 1983ء میں مولانا کوسندِامتیاز سے نوازا تھا۔ اس کتاب کے مطالعے نے میرے ذہن میں پیغمبر اسلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کو نئے انداز میں روشن کیا۔
خط و کتابت:
میں نے مولانا کے نام اپنا پہلا خط 10دسمبر2001ء کو مونگیر (بہار) سے تحریر کیا تھا۔ یہ خط ماہنامہ الرسالہ کے شمارہ فروری 2002ء میں اس کے مستقل کالم خبرنامہ اسلامی مرکز کے تحت شائع ہوا۔ یہ خط تین صفحات پر مشتمل تھا۔ اس کا ایک حصہ یہاں نقل کیا جاتا ہے:
"قابلِ احترام جناب مولانا وحید الدین خاں صاحب السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
خدا کرے مزاج گرامی بخیر ہوں! مولانا صاحب! مجھے کسی بھی آدمی نے ماہنامہ الرسالہ پڑھنے کی ترغیب نہیں دی۔ یہ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ کرم ہے کہ اُس نے مجھے سچی باتوں سے آگاہ کیا۔ تاہم میں نے الرسالہ پڑھنے کے سلسلے میں مختلف لوگوں سے مشورہ لینا شروع کیا، کسی نے اس کی تائید کی توکسی نے تنقید۔ اس درمیان میں نے 23 جون2001ء کو ماہنامہ الرسالہ کے بارے میں ایک استفتاء دارالعلوم ندوۃالعلماء (لکھنؤ) کو روانہ کیا۔ دارالافتاء کی جانب سے مورخہ25 ربیع الثانی 1422 ہجری کو مولانا محمد مستقیم ندوی نے جواب لکھا کہ الرسالہ پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے. (حوالہ نمبر: 14998/122651)۔
دسویں جماعت کی طالب علمی کے زمانہ میں دسمبر 1999ء میں، پہلی بار میں نے جون 1999ء کا الرسالہ پڑھا۔ پھر 12جولائی2001ء میں نیوز پیپر ایجنٹ نوراللہ سے لینے لگا۔ اور اب میں الرسالہ کا سالانہ خریدار (Urdu Subscription No.9837 ) بن گیا ہوں۔
میں مسلسل ماہنامہ الرسالہ اور مطبوعات الرسالہ کا مطالعہ کرتا رہا، یہاں تک کہ مجھ پر یہ حقیقت کھلی کہ میں دعوت الی اللہ کا کام شروع کروں. اور اب میں اپنے دوستوں اور دیگر تعلیم یافتہ لوگوں میں ماہنامہ الرسالہ اور آپ کی دیگر تصنیفات تقسیم کرنے لگا۔
بہت سارے حضرات آپ کی تحریریں پڑھ کر بہت خوش ہوئے. اور کچھ ایسے بھی ہیں جو زیادہ اہمیت نہیں دے رہے ہیں، جس کا مجھے شدید افسوس ہوا ہے. اس سلسلے میں، میں آپ کی مدد چاہتا ہوں. آپ مجھے کچھ نصیحت ضرور کریں تاکہ میں دعوت الی اللہ کا کام اچھی طرح سے انجام دے سکوں. 
10دسمبر2001ء، دعا گو
دلاور پور، کالی تعزیہ روڈ، مونگیر (بہار) شاہ عمران حسن"
اس خط کے جواب میں مولانا وحیدالدین خاں نے 20 دسمبر 2001ء کو میرے نام ایک خط تحریر کیا، مولانا کے اس تاریخی خط کو بطور سند یہاں نقل کیا جاتا ہے:
"برادرِ محترم جناب شاہ عمران حسن صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آپ کا خط ملا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اُس نے آپ کو صراطِ مستقیم کی توفیق دی۔ اب آپ اس پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہوجائیے اور جو سچائی آپ کو ملی ہے اس کو دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کیجئے۔ یہ راستہ صبروتحمل کا راستہ ہے۔ اس راستہ میں آپ صرف صبروتحمل کے ذریعہ کامیاب ہوسکتے ہیں۔
اسلام کا اصول یہ ہے کہ بقدر استطاعت کام کیا جائے نہ کہ بقدر حوصلہ۔ آپ اپنے ممکن دائرے میں کام کیجئے اور جو چیز عملاََ ممکن نہیں ہے، اس کے لیے دعا کیجئے۔ اللہ تعالیٰ ہرطرح سے آپ کی مدد فرمائے۔
20دسمبر2001ء، دعاگو
نئی دہل،  وحیدالدین"
میں 5 جولائی2007ء سے مستقل طور پر نئی دہلی میں رہ رہا ہوں۔ نئی دہلی میں قیام کرنا میرے لیے بہت مفید ثابت ہوا کیوں کہ اسی قیام کی وجہ سے مجھے مولانا سے براہِ راست استفادہ کرنے کا موقع ملا اور میں سی پی ایس انٹرنیشنل کی ہفتہ وار کلاس میں پابندی سے شرکت کرنے لگا۔ اس اسپریچول کلاس میں مسلسل شرکت کرنے کی وجہ سے میرا زبردست ذہنی ارتقا ہوا۔
اس سلسلے میں، میں نے اپنا ایک تاثر مولانا کے نام 26 جون2008ء کو لکھا۔ میرا یہ تاثراتی خط ماہنامہ الرسالہ کے شمارہ ستمبر 2008ء میں شائع ہوا۔ الرسالہ کے صفحات سے لے کر اُسے یہاں نقل کیا جاتاہے:
"قابلِ احترام مولانا وحیدالدین خاں صاحب السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاۃ
خدا کرے مزاج بخیر ہوں۔
ہندوستان کے قومی دارالحکومت نئی دہلی کے معروف علاقہ نظام الدین میں واقع سینٹر فار پیس اینڈ اسپریچولٹی انٹر نیشنل (Center For Peace And Spirituality International) کے ہفتہ وار اسپریچول کلاس (spiritual class) میں شرکت کرنے کے بعد آج میں پہلی دفعہ یہ خط لکھ رہا ہوں۔ کلاس میں اس ایک سالہ شرکت کے دوران میرا زبردست ذہنی ارتقاء ہوا ہے۔ میں نے آپ کی کتابیں بھی خوب پڑھیں تھیں اور میں الرسالہ مشن سے صد فی صد اتفاق رکھتا تھا، لیکن جب حالات آتے تھے تو پھر میں ان کی رو میں بہہ جاتا تھا۔ اپناا یمان و یقین کھو بیٹھتا تھا۔ مگر جب میں آپ کی کلاسز میں شریک ہونے لگا تو، میرے ایمان و یقین میں زبردست تبدیلی آگئی اور میرے اندر سے مادیت کا مزاج پوری طرح سے نکل گیا اور اب میں مطمئن زندگی گزارنے لگا ہوں۔
مولانا صاحب! میں آپ کی تربیت میں رہنے سے قبل آپ کی عظمت میں جیتا تھا، لیکن آپ سے ملنے، آپ کا مشاہدہ کرنے اور آپ کے ساتھ مسلسل وقت گزارنے کے بعد اب میں خدا کی عظمت میں جینے لگا ہوں۔ میرے دینی جذبات میں ترقی ہونے لگی ہے۔ ہر واقعہ پر مجھے خدا نظر آنے لگا ہے۔ نئی دہلی کے اس ایک سالہ قیام کے دوران میرے اوپر مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ شروع کے دنوں میں تو لگتا ہی نہیں تھا کہ میرا وقت گزرے گا، لیکن میں نے جب خدا کا دامن تھام لیا تو میرا وقت اس طرح گزرگیا کہ مجھے کچھ پتہ ہی نہیں چلا۔ حسن اتفاق سے زندگی میں پہلی دفعہ مجھے اسم اعظم کے ساتھ دعا کرنے کا موقع اسی زمانے میں ملا۔
خدا نے میری مدد ان جگہوں سے کی، جہاں میرا وہم و گمان بھی نہ گیا تھا۔ اب میں اپنے رب پر پختہ یقین کرنے لگا ہوں۔ اور پوری طرح مطمئن ہوں۔ جب بھی کوئی پریشانی لاحق ہوتی ہے، ذہن میں یہ احساس ابھرتا ہے کہ خدا مجھے کیسے بے یار و مددگار چھوڑدے گا جب کہ میں اس کا بندہ ہوں، وہ میرا رب ہے۔
مولانا محترم ! میں نے آپ کے لٹریچر کا مطالعہ کرنے کے بعد آپ کے تئیں جو تصورات اپنے ذہن میں قائم کیے تھے، آپ اس سے بہت بلند نظر آئے۔ میں ہندوستان کے بڑے بڑے مذہبی رہنماؤں اور قائدین ملت سے ملا ہوں اور ان کی ذاتی زندگی میں جھانک کر بھی دیکھا ہے۔ مجھے آپ کے علاوہ، یہ لوگ تضاد بھری زندگی گزارتے ہوئے نظر آئے۔ ہر ایک کی پرسنل لائف (personal life) اور اسٹیج (stage) کی لائف الگ الگ نظر آئی۔ جب کہ آپ کی دونوں لائف کا بہت قریب سے مشاہدہ کرنے کے بعد دونوں کے درمیان مجھے کوئی فرق محسوس نہیں ہوا۔
آپ وہی کرتے ہیں جو کہتے ہیں۔ آپ کے کرنے اور کہنے میں کوئی فرق میں نے نہیں دیکھا۔ یہی وجہ ہے کہ4 اکتوبر2007ء کو میں نے اپنے والد شاہ شبیر حسن کو خط لکھتے وقت آپ کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا تھا کہ مولانا کے متعلق میں نے جو تصور اپنے ذہن میں بنایا تھا، مولانا اس سے کہیں زیادہ بلند نظر آئے۔ جو مولانا سے ملتا ہے، وہ خوش ہوجاتا ہے۔ ان کی مجلس میں لوگوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ ہر ایک یہ محسوس کرتا ہے کہ میں مولانا سے بہت قریب ہوں۔ مولانا ہر ایک سے یکساں انداز میں ملتے ہیں۔ بڑے سے بھی وہ اسی انداز میں ملتے ہیں جس طرح چھوٹے سے ملتے ہیں۔
مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں ہو رہی ہے کہ آپ اور صرف آپ اسلام کی بات پیش کرتے ہیں، بقیہ لوگ اسلام کی نہیں، بلکہ مسلمانوں کی بات کرتے ہیں۔ اس لیے ان کے یہاں خدا کا چرچا کرنے سے کسی کو خوشی نہیں ہوتی۔ جو لوگ خدا کے چرچے سے خوش نہ ہوں، وہ خدا کے بندے نہیں، وہ خدا کے مجرم ہیں۔ کاش وہ لوگ بھی اس بات پر غور کرتے جو سطحی لیڈری کو اپنی زندگی کا مقصد بنائے ہوئے ہیں۔
مولانا صاحب! میں نے اسلام کو وراثت میں پایا تھا، آپ کی کتابوں کو پڑھ کر میں نے اسلام کو شعور کی سطح پر دریافت کیا ہے۔بلا شبہہ مولانا صاحب! میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے اسلام کو جس طرح اس کی روح کی بلند سطح سے پایا ہے، وہ کہیں نظر نہیں آتا۔ اسلام کو نہ پانے کی وجہ سے کچھ لوگ آپ کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر وہ کامیاب ہوتے ہوئے نظر نہیں آتے. 
مولانا محترم ! آپ نے جو سچائی خود دریافت کی تھی، اس سے دنیا والوں کو آگاہ کردیا۔ بخدا، میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ اے داعی حق، تونے حق تبلیغ ادا کردیا۔ خدا آپ کو ضرور اجر عظیم عنایت کرے گا۔ میں اس دعا کے ساتھ اجازت چاہتا ہوں کہ میں نے جس ربانی مشن کو شعور کی سطح پر دریافت کیا ہے، اس پر خدا مجھے تازندگی ثابت قدم رکھے ۔آمین!
26جون2008، دعاگو
نئی دہلی، شاہ عمران حسن
(ماہنامہ الرسالہ، نئی دہلی، ستمبر2008ء، صفحہ: 46-47)
مذکورہ احساس صرف میراہی نہیںہے بلکہ اُن تمام سنجیدہ لوگوں کا ہے جن لوگوں نے مولاناکی تحریروںکا مطالعہ گہرائی کے ساتھ کیاہے ، یہاں پر میرانام آنا محض ایک اتفاق ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ مذکورہ خط کو دیکھ کر ماہنامہ الرسالہ کے مستقل قاری مہتاب احمد (دھامپور،بجنور، اترپردیش) نے کہا تھاکہ آپ نے قارئین الرسالہ کی جانب سے حق ادا کردیا ہے،آپ نے الرسالہ کے قارئین کی ترجمانی کی ہے۔
پہلی ملاقات:
مولانا وحیدالدین خاں سے ٹیلی فون پر میری پہلی گفتگو مورخہ20 اگست 2002ء کو ہوئی جب کہ اُن سے میری پہلی براہِ راست ملاقات نئی دہلی میں مورخہ 20 مارچ 2005ء کو اُن کی قیام گاہ پر ہوئی۔ میں اُن دنوں ہندوستان کے مشہورومعروف مسلم رہنمااور آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کے بانی مولانا منت اللہ رحمانی کی حیات و خدمات پر ہونے والے یک روزہ قومی سیمینار میں شرکت کرنے کے لیے مونگیر سے نئی دہلی آیا ہوا تھا اور مورخہ19مارچ 2005ئ کو میں نے سیمینار میں اپنا مقالہمولانا منت اللہ رحمانی اور عالم ِ اسلام پڑھا تھا۔ یہ مقالہ مولانا منت اللہ رحمانی کی حیات و خدمات پر لکھی گئی240صفحات پر مشتمل میری کتاب حیاتِ رحمانی (شائع شدہ:2012ئ) میں شامل ہے۔
مولانا وحیدالدین خاں کی طبیعت اُن دنوں ناساز تھی، اس لیے مولانا کے سیکیورٹی گارڈ نے راقم الحروف سے کہا کہ مولاناصاحب اِن دنوں کسی سے نہیں مل رہے ہیں۔ میں نے اصرار کیا اور کہا کہ میں ایک ہزار کلومیٹر دور سے آیا ہوں، اس لیے مولانا سے میرے لیے آج ملاقات کرنا انتہائی ضروری ہے ،کیوں کہ کل میں واپس اپنے وطن لوٹ جاؤں گا۔ سیکیورٹی گارڈ کو مجھ پر رحم آگیا پھر اس نے انٹر کام کے ذریعہ میری بات مولاناسے کروائی. مولانانے مجھے فوراََ پہچان لیا، کیوں کہ میں مسلسل مولانا کو خط لکھتا رہتا تھا، اس لیے مولانا کو میر انام ازبر ہوگیا تھا اور پھر مولانا کشمیری لباس (فیرن) میں ملبوس سرپر سفید امامہ باندھے مجھ سے ملنے کے لیے ملاقات کے کمرہ میں آئے۔ابتدا میں مولانا سے میرا حسب ذیل مکالمہ ہوا۔
السلام علیکم ! میں نے مولاناسے مصافحہ کرتے ہوئے کہا۔
وعلیکم السلام ! مولانا نے مختصر سا جواب دیا۔
میں شاہ عمران حسن ہوں۔ میں مونگیر (بہار) سے آیاہوں۔ میں نے مولانا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
کیا آپ شاہ عمران حسن کو جانتے ہیں، جو مونگیر میں رہتے ہیں؟مولانا نے سوال کیا۔
مولاناصاحب! میں ہی شاہ عمران حسن ہوں۔ میں نے جواباً عرض کیا۔
وہ توبہت سینئر آدمی معلوم ہوتے ہیں۔ ان کی تحریروں سے ایساہی لگتاہے۔ مولانانے کہا۔
مولانا کو میری کافی وضاحت کے بعد یقین ہوا کہ یہ وہی شاہ عمران حسن ہے جو برسوں سے انھیں خطوط لکھتا رہا ہے۔ بات دراصل یہ تھی کہ میں جب بھی مولانا کو خطوط لکھتا تھا تو معیاری زبان استعمال کرنے کی کوشش کرتا اور خط کے آخرمیں طالبِ دعا کے بجائے دعاگو لکھاکرتا تھا۔ اس لیے مولانا کو شبہ ہوا کہ میں ان سے بھی سینئر ہوں۔ واضح ہو کہ ان پانچ سال (2001 تا2005 )ء کے دوران میں نے مولانا کے نام جو خطوط لکھے، ان کی تعداد تقریباََ 250 ہے، شاید کسی اور نے مولانا کو اتنے خطوط نہ لکھے ہوں۔ افسوس کہ میرے سارے خطوط ضائع ہوگئے، اب ان میں سے کسی خط کی نقل میرے پاس موجود نہیں ہے۔
میں نے مولانا وحیدالدین خاں کے ساتھ ایک گھنٹہ سے زائد وقت گزارا اور مولانا موصوف سے تبادلہ خیال کیا۔ مولانا محترم نے ملاقات کے دوران ایک اہم بات یہ کہی کہ تواضع علم کا دروازہ ہے جس آدمی کے اندر تواضع نہ ہو، وہ سچا عالم نہیں بن سکتا۔ علم اور احساسِ برتری دونوں ایک سینہ میں جمع نہیں ہوسکتے۔ تواضع کی پہچان یہ ہے کہ جب بھی آدمی کو اُس کی غلطی بتائی جائے تو وہ فوراََ اُس کو مان لے اور کہہ دے کہ میں غلطی پر تھا:
. I was wrong
مولانا محترم نے مزید کہا کہ اپنی غلطی کو ماننا کسی شخص کے آگے جھکنا نہیں ہے بلکہ وہ سچائی کے آگے جھکنا ہے، جس آدمی کے اندر اعتراف کا یہ مزاج ہو، اُس کا ذہنی ارتقا مسلسل جاری رہے گا اور جس آدمی کے اندر اعتراف کا مادہ نہ ہو اُس کا ذہنی ارتقا رک جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ ایک اصولی بات یہ ہے کہ اگر کسی کی تعریف کرنا ہو تو اُس کے لیے کوئی شرط نہیں ہے۔ لیکن اگر کسی پر تنقید کرنا ہو تو اُس کے لیے دو کڑی شرطیں ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی زیر تنقید مسئلہ کو پوری طرح اور آخری حد تک سمجھے۔ جوکچھ کہے وہ بھرپور معلومات کی بنیاد پر کہے نہ کہ ناقص معلومات کی بنیاد پر۔ دوسری شرط یہ ہے کہ جب آدمی کسی کے اُوپر تنقید کرے تو وہ یہ سوچے کہ جو کچھ میں آج کسی کے بارے میں کہہ رہا ہوں کیا وہ خدا کے علم کے مطابق بھی درست ہے۔ ایسا تو نہیں کہ خدا کے یہاں یہ کہہ دیا جائے کہ تمہاری تنقید جھوٹی تھی۔ اِن دوشرطوں کو پورا کیے بغیر کسی کے لیے تنقید کرنا جائز نہیں۔
میں نے مولانا سے خط و کتابت کے دوران اُن پر نہایت سخت تنقید کی تھی، لیکن مولانا سے ملاقات کے بعد میری ساری غلط فہمی دور ہوگئی۔
اس ملاقات کے دوران میں نے مولانا موصوف کے سامنے خدا کو گواہ بنا کر حسب ذیل باتیں اپنی ڈائری میں لکھیں، جن کو من وعن یہاں نقل کیا جاتا ہے:
"آج نئی دہلی میں میری ملاقات مشہورعالم دین اور مفکر مولانا وحید الدین خاں سے ان کی قیام گاہ (سی۔29،نظام الدین ویسٹ، نئی دہلی۔110013) پر ہوئی۔ میں نے ان کے ساتھ ایک گھنٹہ سے زائد وقت گزارا۔ مولانا سے مل کر مجھے از حد خوشی محسوس ہوئی، کیوں کہ مولانا نے مجھ سے بہت ساری نصیحت آموز باتیں کہیں۔ انھوں نے کہا کہ کسی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی بات کافی ہے کہ وہ کسی سے سنی ہوئی باتوں کو دہرانے لگے۔ انسان کو پہلے تحقیق کرنی چاہئے۔ انھوں نے مزید کہا کہ انسان کو کسی بھی آدمی کی نیت پر حملہ نہیں کرنا چاہئے، بلکہ کسی ثابت شدہ چیز پر بات کرنی چاہئے، کیوں کی کسی کی نیت پر حملہ کرنا خنزیر کا گوشت کھانے کے برابر ہے، اس لیے کہ دل کاحال تو خدا کو معلوم ہے۔
میں نے بھی مولانا وحیدالدین خاں کی ذات کو مجروح کرنے کی کوشش کی تھی۔ اور غلط فہمی کی بنا پر مدلّل تنقید کے بجائے ان پر میں نے تنقیص کی، جس کا احساس مجھ کو آج ہورہا ہے۔
مولانا موصوف نے اپنی گفتگو میں مجھ سے کہا کہ اب آپ آئندہ ایسی باتوں سے توبہ کریں کہ کسی کی نیت پر حملہ کریں، کیوں کہ نیت پر حملہ کرنا ایک جرم عظیم ہے۔
مولانا نے مزید کہا کہ آپ نے میری نیت پر حملہ کر کے مجھے ایک طرح سے ہلاک کردیا۔ میں یہ بات تحریر کرتا ہوں کہ اب میں آئندہ مولانا وحیدالدین خاں یا کسی بھی شخص کی نیت پر حملہ نہیں کروں گا بلکہ کسی ثابت شدہ بات پر پورے دلائل کے ساتھ اصلاح کی نیت سے تنقید کروں گا۔ آج بتاریخ 20 مارچ2005ء کو مولانا موصوف کے سامنے اس بات کا عہد کرتا ہوں، اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے ہمیشہ اس عہد پر قائم رہنے کی توفیق دے۔آمین!"
اِس ملاقات کا تذکرہ مولانا وحیدالدین خاں نے اپنی ڈائری میں اس طرح لکھا ہے: "20 مارچ 2005ء کو مونگیر(بہار)کے شاہ عمران حسن ملاقات کے لیے آئے۔ 19مارچ 2005ء کو نئی دہلی میں مولانا منت اللہ رحمانی پر سیمینار ہوا، اس میں شرکت کے لیے وہ نئی دہلی آئے تھے۔
شاہ عمران حسن مجھے 5 سال سے زیادہ مدت سے مسلسل خطوط لکھتے رہے ہیں۔ اُن کے اکثر خطوط سخت تنقیدی ہوتے تھے۔ حتیٰ کہ وہ میری نیت پر بھی سخت حملے کرتے تھے۔ میں اُن کے خطوط کا جواب نہیں دیتا تھا۔
ملاقات کے وقت میں نے اُن کو سمجھایا کہ گفتگو سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ ابھی تک ایک ناپختہ نوجوان ہیں۔ اور آپ کا مطالعہ بھی محدود ہے. آپ کی یہ لیاقت تنقید نگاری کے لیے ناکافی ہے۔ مزید یہ کہ آپ میری نیت پر سخت حملے کرتے ہیں۔ حالاں کہ نیت پر حملہ کرنا سرے سے جائزہی نہیں۔ اُن باتوں کو میں نے مثالوں کے ذریعہ سمجھایا۔
شاہ عمران حسن اپنی روش پر نادم ہوئے۔ انھوں نے اقرار کیا کہ میں غلطی پر تھا۔ اب میں ایسا نہیں کروں گا۔ میں نے اُن کو مشورہ دیا کہ فی الحال آپ صرف اپنے مطالعہ کو بڑھائیے۔ اپنے اندر تعلیمی لیاقت پیدا کیجئے۔ جب آپ پختہ عمر کو پہنچ جائیں اور آپ کا مطالعہ بھی زیادہ ہوجائے، اس وقت آپ تنقید کرسکتے ہیں۔ ابھی آپ کے لیے تنقید نگاری کا وقت نہیں آیا ہے۔ انھوں نے میری بات کو مکمل طور پر مان لیا۔"
مولانا وحیدالدین خاں ابتداً مجھ سے اپنے ملاقات کے کمرے میں ملے، پھر مجھے وہ اپنے مطالعہ کے کمرے میں لے گئے۔ مجھے پیاس لگ رہی تھی۔ میں نے کہا کہ مجھے پیاس لگ رہی ہے، مولانا خود اُٹھ کر دوسرے کمرے میں گئے اور میرے لیے پانی لے کرآئے اور پانی کا گلاس میری طرف بڑھایا۔ میں نے شکریے کے ساتھ پانی پی لیا۔
جب میری واپسی کاوقت ہوا تو مولانا محترم نے میرے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا کہ آج سے آپ ایک نئی زندگی کی شروعات کریں، خدا آپ کو کامیاب کرے۔
میں جہاں مولانا وحیدالدین خاں کی تحریروں کا تقابلی مطالعہ کرتا رہاہوں وہیں مولانا موصوف کے افکار پر میں ہمیشہ انتہائی سخت تنقید کرتا رہا ہوں۔ میں یہ اعتراف کرتا ہوں کہ 2005ء تک میں نے مولانا پر جو تنقیدیں کی ہیں، وہ دراصل تنقیص کے دائرے میں آتی ہیں، جیسا کہ اکثر و بیشتر مولانا موصوف پر نام نہاد ناقدین کرتے ہیں۔ مگر نام نہاد ناقدین کی طرح میں نے مولانا کی مخالفت میں کبھی کوئی تحریر اخبارورسائل کے لیے نہیں لکھی، جب بھی مجھے مولانا کی کسی بات سے اختلاف ہوا میں نے براہِ راست مولانا پر تنقید کی۔ میری بعض تنقیدیں ماہنامہ الرسالہ کے مستقل کالم سوال و جواب میں شائع ہوچکی ہیں۔
مثلاً فروری 2002ء، ستمبر 2003ء، مئی 2004ء اور اکتوبر 2004ء وغیرہ کے الرسالہ کے شماروں میں میری تنقیدیں دیکھی جاسکتی ہیں اور الرسالہ کے مستقل قاری اس بات سے بخوبی واقف ہوں گے کہ میں نے مولانا پر تنقید کرتے ہوئے کبھی بھی مولانا کے منصب، عزت، شہرت، علمی لیاقت، معاملہ فہمی کا کوئی خیال نہیں رکھا اور ہمیشہ مولانا موصوف پر ایک عام انسان کی طرح تنقید کی۔
میں نے مولانا پر اتنی زیادہ تنقید کی ہے کہ ایک زمانہ میں، میں ناقدین الرسالہ کی حیثیت سے جانا گیا۔ مولانا کی مخالفت میں لکھنے والے مصنف محمداشفاق حسین (حیدرآباد ) نے اپنی کتاب مولانا وحیدالدین خاں اور مسئلہ بابری مسجد میں میرا نام ناقدین الرسالہ کے طور پر پیش کیا ہے۔ (مولانا وحیدالدین خاں اور مسئلہ بابری مسجد، صفحہ:160-161، سنہ اشاعت: 2004ء )
ریاست بہار کے دارالحکومت پٹنہ سے شائع ہونے والے معروف روزنامہ قومی تنظیم کے شمارہ 27 مارچ 2004ء میں مولانا وحیدالدین خاں کے خلاف ایک اداریہ شائع ہوا۔ جس کے رد میں، میں نے ایک مراسلہ لکھا، جو کہ 6 اپریل 2004ء کو شائع ہوا۔ پھر اس کی مخالفت میں سراج اللہ حشمت (مظفرپور) نے میرے خلاف لکھا جو کہ 29 اپریل 2004ء کو روزنامہ میں شائع ہوا۔ میں نے ان کا کوئی جواب نہیں دیا بلکہ خاموشی اختیار کرلی۔
مولانا محترم کی جو باتیں میری سمجھ میں نہیں آتی تھیں میں اُن کو تنقید کا موضوع بناتا تھا۔ میں نے اگرچہ تنقید کرتے ہوئے شدت اختیار کی تھی مگر اس کے باوجود میں مولانا سے کبھی بدظن نہیں ہوا، شاید یہی سبب ہے کہ میں نے اس وقت سے ہی ماہنامہ الرسالہ کی ایجنسی10 کاپیوں سے شروع کردی تھی جب کہ ماہنامہ الرسالہ کے مطالعہ کا میرا ابتدائی سال تھا۔
مولانا وحیدالدین خاں سے ملاقات کے بعد مجھے دعوت الی اللہ کے کام کرنے کے سلسلے میں مزید تقویت ملی اور پھر میں نے ارادہ کیا کہ مونگیر میں مولانا کی کتابوں پر مشتمل ایک لائبریری قائم کی جائے۔اس سلسلے میں نے ساری تیاریاں مکمل کرلی تھیں اور مولانا کی تقریباََ ساری اُردو، ہندی اور انگریزی کی مطبوعات بھی منگوالی تھیں، مگر اپنے تعلیمی سلسلہ کو برقرار رکھنے کے لیے2007ء میں مجھے مونگیر شہر چھوڑ کرحصولِ تعلیم کے لیے نئی دہلی منتقل ہونا پڑا اور اِس طرح میرا منصوبہ پورا نہ ہوسکا، شاید اس میں خدا کی کچھ مصلحت رہی ہوگی۔
اسفار:
میں عالم اسلام کے معروف اِسلامی اشاعتی ادارہ گڈورڈبُکس(نئی دہلی) کے ساتھ مسلسل 7 برسوں (2007-2014)ء تک بالواسطہ طور پر وابستہ رہا۔ اِس دوران مجھے گڈورڈ کے سربراہ ڈاکٹر ثانی اثنین خان کی رفاقت و تربیت میں رہ کر بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے ان کی رفاقت میں رہ کر نہ صرف علمی اور عملی زندگی کا تجربہ حاصل کیا بلکہ ملک و بیرون ملک کے بے شمار اسفار کرکے، دنیا دیکھی۔ اس کے لیے میں ہمیشہ ڈاکٹر ثانی اثنین خان کا شکرگزار رہوں گا کہ انھوں نے مجھ کو اپنے ساتھ کام کرنے کے مواقع دیے۔
گڈورڈ کے سربراہ ڈاکٹر ثانی اثنین خان کے مشورہ پر میں نے مولانا وحید الدین خاں کے ماہنامہ الرسالہ کی فروغ و اشاعت کے لیے ہندوستان کی مختلف ریاستوں کے اسفار کیے۔ یہ سارے سفر اس لیے بھی خاص رہے کہ سفر پر روانگی سے قبل میں مولانا وحیدالدین خاں سے ضرور ملاقات کیا کرتا تھا۔ یہاں مختصراً کچھ باتیں عرض کر رہا ہوں۔
ریاست گجرات کے لیے میرا ایک سفر2008ء میں پیش آیا۔ نئی دہلی سے 28جون 2008ء کو روانگی ہوئی اور تین ہفتوں کے بعد گجرات کے دو تاریخی شہر وں احمد آباد اور سورت سے 20 جولائی2008ء کو واپسی ہوئی۔ اس سفر میں بڑی تعداد میں ماہنامہ الرسالہ کی خریداری لوگوں نے قبول کی تھی۔ میرے علم کی حد تک یہ پہلا اتفاق تھا جب کہ الرسالہ کی ترویج و اشاعت کے لیے ادارہ کی جانب سے کسی نے سفر کیا تھا۔ 24جولائی 2008ء کو میں نے مولانا وحیدالدین خاں سے ملاقات کی اور ان کو سفری تجربات سنائے۔ اس کو سن کر انھوں نے خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ آپ تو فاتحِ گجرات ہیں، کیوں کہ آپ نے وہاں جاکر ایک بہت بڑا کام کیا ہے۔
خیال رہے کہ سورت کے زمانہ قیام میں میری ملاقات الطاف ایم رفعت سے ہوئی۔ وہ الطاف بھائی کے نام سے جانے جاتے تھے۔ اس کے علاوہ وہ گجراتی زبان میں لکھتے پڑھتے بھی تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ کے علاقے میں گجراتی زبان بولی جاتی ہے، اس لیے اگر آپ مولانا وحیدالدین خاں کی کتابوں کا ترجمہ گجراتی زبان میں کریں گے تو مولانا کی باتیں اور فکر آسانی سے اس علاقے کے لوگوں تک پہنچ سکتی ہیں۔
الطاف بھائی نے میرے مشورے پر مولانا وحیدالدین خاں کی1960ء میں شائع ہونے والی کتاب انسان اپنے آپ کو پہچان کا ترجمہ ایک ہفتہ کے اندر گجراتی زبان میں کر دیا۔ اس کا گجراتی نام مانو آلوکھ تاری جات نی (Manav Olakh Tari Jaat Ni) ہے۔ اس کی تفصیل ماہنامہ الرسالہ نومبر 2008ء کے مستقل کالم خبرنامہ اسلامی مرکز میں صفحہ46 شائع ہوچکی ہے۔ کتاب کا یہ ترجمہ اسی زمانے میں سورت سے تعلق رکھنے والے ماہنامہ الرسالہ کے مستقل قاری سلیم بھائی (وفات:2009ء) کے مالی تعاون سے شائع ہوا۔
اسی طرح جموں و کشمیر کے دارالحکومت سری نگر کے لیے میرا سفر ہوا۔ 30 جولائی 2008ء کو نئی دہلی سے بذریعہ ٹرین روانگی ہوئی اور ایک ماہ بعد31 اگست 2008ء کو بذریعہ ہوائی جہاز میری واپسی ہوئی۔ ایک ماہ مسلسل میرا قیام ماہنامہ الرسالہ کے مستقل قاری و سماجی کارکن حمیداللہ حمیدؔ کے یہاں رہا، انھوں نے میرا زبردست تعاون کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ انھیں جزائے خیر عطا فرمائے۔
یکم ستمبر 2008ء کو نئی دہلی میں مولانا وحیدالدین خاں سے ملاقات ہوئی۔ میں نے ان کو سفر کے حالات سے آگاہ کیا۔ انھوں نے میرے تجربات کو دل چسپی سے سنا اور کہا کہ آپ تو مجاہدِ کشمیر ہیں، کیوں کہ آپ نے وہاں جاکر اَمن کی بات کی ہے۔ وہیں ڈاکٹر فریدہ خانم نے کہا کہ شاہ عمران حسن نے کشمیر میں بہت بڑا کام کیا ہے۔
4 ستمبر 2008ء کو مولانا وحیدالدین خاں سے دوبارہ ملاقات ہوئی۔ اس بار بھی کشمیر کے سفر پر گفتگو ہوئی۔ انھوں نے مجھ کو 500 روپے دیتے ہوئے کہا کہ یہ میری طرف سے آپ کے لیے ہدیہ ہے۔ مولانا عام طور پر کسی کو بھی میرے علم کی حدتک پیسے نہیں دیتے تھے، تاہم انھوں نے مجھ کو دیے، جو میرے تئیں مولانا کی شفقت کو الگ انداز میں اُجاگر کرتی ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ میں یکم جولائی 2008ء کو کشمیر پہنچا اور اسی دن سے وہاں کے حالات خراب ہوگئے۔ ہندوؤں کے مقدس مقام امرناتھ کو لے کر کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔
خیال رہے کہ جموں و کشمیر کا ضلع پہلگام جہاں ایک طرف سیاحوں کا مرکز ہے، وہیں یہاں ہندوؤں کا مقدس مندر بھی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں ہندوؤں کے دیوتا شیو (Shiva) کو نروان پراپت ہوا تھا۔ یہاں پر امر ناتھ نامی ایک غار ہے، جو دو فٹ چوڑا، 55 فٹ لمبا اور 50 فٹ گہرا ہے۔ ہندؤں کے مطابق یہاں شیو ارادھنا کیا کرتے تھے۔ ہر برس 25 لاکھ ہندو اس کی پوجا کرنے ملک و بیرون ملک سے آتے ہیں۔
2008ء میں امرناتھ کی زمین کے سلسلے میں حالات انتہائی ناگفتہ بہ ہوگئے۔ ہندو اور مسلمان کے درمیان تنازع ہوگیا، جس کی وجہ سے پورے علاقے میں کشیدگی پھیل گئی ۔اس لیے اس ماحول میں، میں پھنس کر رہ گیا۔
اس دوران ایک دفعہ جب 16 اگست 2008ء کو ٹیلی فون پر مولانا وحید الدین خاں سے میری گفتگو ہوئی، انھوں نے کہا کہ میں صبح و شام آپ کے لیے دعا کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کی مدد فرمائے۔
24 اگست 2008ء کو میں بیروہ میں حمیداللہ حمید کی قیام گاہ پر بیٹھا ہوا تھا۔ اس دن علاقے میں کرفیو لگا ہوا تھا۔ سیکیورٹی اہلکار اور عوام کے درمیان پتھراؤ چل رہا تھا۔ سیکیورٹی والے گولیاں چلا رہے تھے اور عوام پتھر مار رہی تھی۔ مجھے ایسا لگا کہ سیکیورٹی اہلکار دیوار توڑ کر گھر میں گھس جائیں گے اور میرا خاتمہ ہوجائے گا۔ مجھے میرے اہلِ خانہ یاد آنے لگے۔ میں بُری طرح کانپنے لگا۔ میرا بلڈ پریشر بڑھ گیا تھا، مجھ کو میری موت سامنے نظر آنے لگی۔ میں دعا کرنے لگا۔ تاہم کچھ دیر کے بعد حالات قابو میں آگئے اور زندگی معمول پر چلنے لگی۔
میں نے اس زمانہ قیام میں تعلیمی ادارہ اپنا گھر کے بچوں کو ہندی لکھنا پڑھنا سکھایا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں ہندی زبان نہیں پڑھائی جاتی ہے۔ مقامی افراد کشمیری میں گفتگو کرتے ہیں جب کہ سرکاری زبان اُردو اور انگریزی ہے۔ میرے کشمیر کے سفر کی روداد مولانا نے ماہنامہ الرسالہ میں اپنے ایک مضمون کشمیر کا خواب میں بیان کی ہے، مولانا کا وہ مضمون یہاں نقل کیا جارہا ہے:
شاہ عمران حسن اگست 2008ء میں نئی دہلی سے کشمیر (جموں و کشمیر) گئے. وہاں وہ ایک ماہ رہے. ان کی عادت ہے کہ وہ روزانہ اپنی ڈائری لکھتے ہیں۔ وہ کشمیر سے واپس آئے تو اُنھوں نے مجھ کو اپنی ڈائری دکھائی۔ ان کی اس ڈائری کا ایک اندراج یہ تھا:
4 اگست 2008ء کی رات کو میرا قیام کشمیر کے ایک تعلیمی ادارہ اپنا گھر میں تھا۔ وہاں اںادارے کے ایک طالبِ علم جاوید احمد تیلی (19سال) بھی موجود تھے۔ صبح کو میں بیدار ہوا جاوید احمد نے ماہنامہ الرسالہ سے متعلق اپنا ایک خواب بیان کیا، جو انھیں کے الفاظ میں اِس طرح تھا: میں نے دیکھا کہ ایک بوڑھا شخص ہے. اس کے چہرے پر ہلکی ہلکی سفید داڑھی ہے۔ وہ ان پڑھ ہے۔ وہ چیخ چیخ کرکہہ رہا ہے کہ… مجھے الرسالہ کا ممبر بناؤ، مجھے الرسالہ کا ممبر بناؤ۔
اس خواب میں مذکورہ بوڑھا آدمی گویا کشمیر کی روح ہے۔ کشمیر کی روح چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے جو منفی افکار میرے درمیان پھیلائے جارہے ہیں، ان سے میں بے زارہوں، ان کو بند کرو۔ میرے درمیان الرسالہ کو پھیلاؤ، میرے درمیان الرسالہ والے مثبت افکار کو عام کرو۔ کشمیر میں اکتوبر1989ء میں متشددانہ تحریک کا آغاز ہوا۔ اس متشددانہ تحریک کے دوران کشمیر میں جان و مال کا بے حساب نقصان ہوا ہے۔ اس خود ساختہ جہاد نے کشمیر کو تباہی کے سوا اور کچھ نہیں دیا۔
اب کشمیر کی سلامتی کی صرف ایک صورت ہے اور وہ یہ ہے کہ کشمیر میں ان افکار کو زیادہ سے زیادہ پھیلایا جائے، جس کا پیغام ماہنامہ الرسالہ میں مسلسل طور پر دیا جا رہا ہے۔ اسی میں کشمیر کے لیے زندگی ہے. اس کے سوا جو کچھ ہے، وہ موت اور تباہی کے سوا کچھ اور نہیں۔ نام نہاد کشمیری تحریک سے کچھ لیڈروں کو فائدہ ہوسکتا ہے، لیکن خود کشمیر یا کشمیری عوام کا اس میں کچھ فائدہ نہیں… اب آخری وقت آگیا ہے کہ اِس معاملے میں نظرثانی کی جائے اور جذباتیت کو چھوڑ کر حقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کیاجائے۔ (ماہنامہ الرسالہ، نومبر 2008ء، صفحہ: 28، صبح کشمیر، صفحہ: 46)
جموں و کشمیر کے دارالحکومت جموں میں ایک قومی کتاب میلہ منعقد ہوا۔ اس موقع پر گڈورڈ نے بھی اپنا اسٹال لگایا۔ اس اسٹال کا انتظام میں نے سنبھالا تھا۔ کتاب میلہ کے دوران 23 دسمبر 2008ء کو میرا اکسیڈنٹ ہوگیا۔ ایک شیڈ سے میرا سر ٹکرا گیا اور پھٹ گیا۔ میرے سر سے خون بہنے لگا۔ سر پر میں نے فوراً اپنا رومال باندھا۔ حمیداللہ حمید (بڈگام، جموں و کشمیر) اس وقت میرے پاس ہی تھے۔وہ مجھ کو فوراً جموں اسپتال لے گئے، اس اسپتال کا نام کچھ اس طرح تھا:
Jammu & Kashmir Health Department, Jammu
مجھے اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں داخل کیا گیا۔ آدھا گھنٹہ کے اندر میرا فرسٹ ایڈ مکمل ہوا۔ مجھے کئی ٹانکے لگائے گئے۔ ڈاکٹر نے مجھے انجکشن بھی لگایا۔ کھانے کے لیے دوائیاں دی گئیں اور میں واپس اپنے بک اسٹال پر آکر کام کرنے لگا۔ سر پھٹنے اور خون بہنے کی وجہ سے مجھے تکلیف ہو رہی تھی اور مجھے کام کرنے میں دشواری ہو رہی تھی، اس کے باوجود میں نے اسی دن ماہنامہ الرسالہ کے مستقل قاری محمد فاروق مضطر سے ملنے کے لیے راجوری کا سفر کیا جو کہ وہاں سے 150 کلو میٹر دور واقع تھا۔ جب محمد فاروق مضطر نے مجھ کو زخمی حالت میں دیکھا تو کہا کہ الرسالہ مشن میں آپ کا بھی خون شامل ہوگیا۔
اس کتاب میلہ کی تفصیلی خبر ماہنامہ الرسالہ میں شائع ہوچکی ہے، کتاب میلہ کے دوران بڑی تعداد میں غیر مسلم آئے، انھوں نے اسلام سے متعلق مختلف قسم کی کتابیں خریدیں، سب کے ساتھ الحمد للہ میں نے بہتر برتاؤ کیا۔ تقریباً تمام لوگ خوش ہوکر گئے۔ ایک تعلیم یافتہ سردار میری باتوں سے بہت زیادہ متاثر ہوئے۔ انھوں نے میرے متعلق جو تعریفی کلمات کہے تھے، وہ ماہنامہ الرسالہ، اپریل2009ء نئی دہلی کے صفحہ 47 سے من و عن بلا تبصرہ نقل کیا جاتا ہے:



I am highly influenced with the Islam and the Quran, and at the same time the honesty and humble attitude of Shah Imran Hasan. I wish for their success by their noble deed of spreading the Islam along with message of peace.
Dr. Surinder Singh Sodhi, Jammu (J&K)



جہاں میں جسمانی اعتبار سے زخمی ہوا وہیں مالی اعتبار سے بھی میرا نقصان  ہوا تھا۔ جن دنوں ماہنامہ الرسالہ کے شمارے جمع کر رہا تھا، میری ایک سائیکل چوری ہوگئی۔ مونگیر (بہار) کے زمانہ قیام میں میرے لیے سب سے بڑا سہارا میری سائیکل ہوا کرتی تھی، مگر اتفاق سے وہ بھی چوری ہوگئی۔ 20 اکتوبر 2005ء کو مونگیر کے مرکزی ڈاک خانہ ( Head Post Office) سے میری وہ سائیکل چوری ہوگئی جو میرے والد نے ساتویں جماعت پاس کرنے کے بعد 1997ء میں دلائی تھی۔ میں اپنی ڈاک معلوم کرنے کے لیے ڈاک خانہ گیا ہوا تھا۔میں غلطی سے سائیکل میں تالا لگانا بھول گیا تھا۔ میں پوسٹ آفس کے اندر سے ڈاک معلوم کرکے واپس آیا تب تک میری سائیکل چوری ہوچکی تھی۔ سائیکل کے چوری ہونے کا بے حد افسوس ہوا کیوں کہ اس سے بہت ساری ضرورتیں پوری ہوتی تھیں۔
سائیکل کی چوری ہونے سے بے حد تکلیف ہوئی۔ میں نے بہت تلاش کیا، مگر میری وہ یادگار سائیکل نہ مل سکی۔ اس سائیکل کی یاد ہمیشہ ستاتی رہی، کیوں کہ اس سے بہت ساری یادیں جڑی ہوئیں تھیں۔ اسی سائیکل کے کیریر (carrier) پر رکھ میں بے شمار مرتبہ الرسالہ اور مولانا کی کتابیں پوسٹ آفس سے لایا کرتا تھا اور اسی سائیکل پر سوار ہو کر میں الرسالہ اور مولانا کی کتابیں تقسیم کیا کرتا تھا۔
ایک سفر کے دوران بالکل مختلف قسم کا تجربہ ہوا۔ یہ سفر ممبئی کا تھا۔ قومی کونسل برائے فروغِ اُردو زبان کی جانب سے ریاست مہاراشٹر کے درالحکومت ممبئی میں 10 / واں کل ہند کتاب میلہ منعقد ہوا۔ اس میں ادارہ گڈورڈ نے بھی حصہ لیا تھا۔ ادارہ گڈورڈ کے تعاون سے میرا ممبئی کے لیے سفر ہوا۔ 14جنوری 2009ء کو نئی دہلی سے ممبئی کے لیے روانگی ہوئی. 28 جنوری 2009ء کو میں واپس لوٹ آیا۔
اس سفر میں بڑی تعداد میں مولانا وحیدالدین خاں کی اُردو کتابیں فروخت ہوئیں۔ یہاں، ایک اور واقعے کا ذکر مناسب ہوگا جو مولانا کی کتابوں سے متعلق ہے۔21 جنوری 2009ء کو ماہنامہ الرسالہ کے مستقل قاری عبدالرؤف میرے بُک اسٹال پر آئے۔ ان کی عمر 57 برس تھی۔ انھوں نے میری دکان سے مولانا وحیدالدین خاں کی متعدد کتابیں خریدنے کے لیے پسند کیں، تاہم ان کے پاس پیسے کم تھے، اس لیے میں نے ان کو خصوصی رعایت کر دی۔ اس رعایت سے وہ بے حد خوش ہوئے، حتیٰ کہ ان کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔
انھوں نے کتاب لینے کے بعد کہا کہ شاہ عمران حسن! میں بہت دنوں بعد خوش ہوا ہوں۔ آپ نے اتنی زیادہ رعایت دے کر مجھ کو خوش کر دیا ہے۔
میں نے اُن سے کہا کہ آپ سے میری صرف ایک درخواست ہے۔ آپ میرے لیے دعا کریں، مجھ کو آپ سے مزید کچھ نہیں چاہئے۔ دریں اثنا انھوں نے میرے تعلق سے ایک خط مولانا وحید الدین خاں کے نام تحریر کیا۔ اس قدیم خط کو یہاں بطور سند نقل کیا جاتا ہے:
"جناب مولانا وحیدالدین خاں صاحب السلام علیکم
برادرم شاہ عمران حسن سے ادارہ گڈورڈ بُکس کے اسٹال پر صابو صدیق پالی ٹیکنک کالج، بائی کلہ (ممبئی) کے کیمپس میں آج بتاریخ 21 جنوری 2009ء کو ملاقات ہوئی۔ ان کے حسن سلوک نے کتابوں سے متعلق جو رعایت فرمایا ہے، دل بہت دنوں بعد باغ باغ ہوگیا۔ آج آپ کی کامیابی کا راز پوری طرح سمجھ میں آیا، جو رعایت شاہ عمران حسن نے کی ہے، اُن کے اس رویہ سے دل کی گہرائیوں سے آپ کے لیے دعا نکلی۔
ان شاء اللہ آپ کا ادارہ کامیابی حاصل کرے گا۔ میں آپ کے ادارہ سے بے حد متاثر ہو کر جا رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ شاہ عمران حسن کو جزائے خیر دے۔ جزاک اللہ!
21 جنوری 2009ء آپ کا دیرینہ نیازمند
ممبئی، مہاراشٹر عبدالرؤف"
قومی کونسل برائے فروغ اُردو زبان (نئی دہلی) کی طرف سے 17-25 جنوری 2009ء کو ممبئی کے صابو صدیق اسکول (بائی کلا) میں ہونے والے اس قومی کتاب میلہ کے دوران میں نے ایک انعامی مقابلے کا بھی انعقاد کروایا تھا۔ اُردو نیوز (ممبئی) کے ایڈیٹر و معروف صحافی شکیل رشید نے اِس سلسلے میں تعاون دیا۔ اِس انعامی مقابلے میں مختلف موضوعات پر 10 سولات کیے گئے تھے۔
مقابلے میں کامیاب ہونے والے طلبا کو مولانا وحیدالدین خاں کی کچھ منتخب کتابوں کا ایک سیٹ دیا گیا اور ایک سال کے لیے ماہنامہ الرسالہ ان کے نام مفت جاری کیا گیا۔ اس کی خبر روزنامہ اُردو ٹائمز کے شمارہ 29 جنوری 2009ء میں شائع ہوئی۔ جب کہ اس کی تفصیلات ماہنامہ الرسالہ جون 2009ء کے صفحہ45 پر دیکھی جا سکتی ہے۔
اظہارِ تشکر:
مولانا وحیدالدین خاں دراصل بے پناہ صلاحیتوں اور گونا گوں خصوصیات کا نام ہے۔ جن کی زندگی کے باب بے شمار ہیں، اور ہر باب اپنے آپ میں مستقل اہمیت کا حامل ہے۔ جس پر بہت کچھ لکھا اور بولا جاسکتا ہے۔ مگر یہ عجیب اتفاق ہے کہ تادمِ تحریر مولانا موصوف کی زندگی اور اُن کے مشن سے متعلق کوئی مستقل کتاب منظرعام پر نہیں آئی ہے۔ البتہ کچھ مضامین، مقالے اور مراسلے ضرور شائع ہوئے اور کچھ لوگوں نے مولانا کی علمی اور دینی خدمات پر پی. ایچ. ڈی بھی کی ہے۔ مگر کوئی ایسی کتاب میری نظر سے نہیں گزری جس میں مولانا کی زندگی اور مشن کا مکمل احاطہ کیا گیا ہو۔ جس کا راقم الحروف کو شدت سے احساس ہوا اور پھر میں نے فیصلہ کیا کہ ان شاء اللہ یہ کام میں سر انجام دوں گا اور اللہ کی توفیق سے میں نے نہایت ہی صبر کے ساتھ اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔
ادبی ذوق ہونے کے سبب میں کافی لمبے عرصے سے سوچ رہا تھا اور منصوبہ بنا رہا تھا کہ مولانا موصوف کی زندگی اور الرسالہ مشن کے بارے میں ایک تحقیقی کتاب تیار کروں، جو عوام و خواص دونوں کے لیے مفید ہو۔ مگر اپنی پہلی کتاب حیاتِ رحمانی کی تیاری میں میرا بہت زیادہ وقت صرف ہوگیا. اس کتاب میں اظہارِ تشکر کے باب میں، میں نے مولانا کے تعلق سے لکھا کہ عالم اسلام کے عظیم دانشور اور اسلامک اسکالر مولانا وحید الدین خاں کا شکریہ کہ جن کی فکر انگیز تحریروں کے مسلسل مطالعہ کے سبب میں نے اسلام کو شعور کی سطح پر دریافت کیا۔ (حیاتِ رحمانی،صفحہ:7،سال اشاعت: 2012ء) تاہم اس دوران بھی میں نے مولانا موصوف اور الرسالہ مشن سے متعلق تلاش و تحقیق کا کام مسلسل جاری رکھا اور میں کچھ نہ کچھ مواد اپنی ڈائری میں اکٹھا کرتا رہا۔
ماہنامہ الرسالہ کے قدیم شمارے:
میں نے ماہنامہ الرسالہ کے قدیم شماروں کو اکٹھا کرنے کے لیے تقریباً ایک ہزار کے قریب خطوط لکھے۔ اللہ کا شکر ہے کہ مجھ کو الرسالہ کے تقریباً تمام شمارے مونگیر کے زمانہ قیام میں مل گئے تھے۔ اس کو حاصل کرنے میں میرے بہت سے پیسے ضائع بھی ہوئے۔ کچھ لوگوں نے پیسے منی آرڈر کے ذریعہ منگوا لیے مگر الرسالہ کے شمارے نہیں بھیجے۔ میں نے نہ صرف اپنے ملک ہندوستان کے اندر بلکہ انگلینڈ اور امیریکہ اور سعودی عرب وغیرہ میں بھی الرسالہ کے شماروں کو حاصل کرنے کے لیے خطوط لکھے کیوں کہ دفتر الرسالہ میں الرسالہ کے قدیم شمارے برائے فروخت موجود نہیں تھے۔
الرسالہ کے قدیم شماروں کے لیے مولانا وحیدالدین خاں نے ماہنامہ الرسالہ میں دو مرتبہ میرے اعلانات شائع کیے۔ ماہنامہ الرسالہ جولائی 2005ء (صفحہ: 45) اور ماہنامہ الرسالہ جولائی 2006ء (صفحہ: 46-47) میں اس کی تفصیل دیکھی جا سکتی ہے۔
الحمد للہ مجھ کو الرسالہ کے تمام قدیم شمارے دستیاب ہوگئے۔ میں نے اس کی ایک ایک سطریں پڑھیں۔ میں نے الرسالہ کے تمام شماروں کی جلد بندی کروائی۔ اوراقِ حیات تیار کرنے میں ان شماروں سے بہت زیادہ مدد ملی۔ پھر میں نے ایک سفر کے دوران الرسالہ کے تمام شمارے 2 اگست2017ء کو محمد فاروق مضطر (راجوری، جموں و کشمیر) کو تحفتاًدے دیے۔ انھوں نے اسے اپنے ادارے ہمالین ڈگری کالج کی لائبریری میں محفوظ کرادیا تاکہ ان شماروں سے زیادہ سے زیادہ لوگ استفادہ کرسکیں۔
مولانا وحید الدین خاں کی وفات کے دو برس بعد سنہ 2023ء میں مجھے ماہنامہ الرسالہ کے پرانے شماروں کی دوبارہ ضرورت پڑی۔ اور پھر میں نے الرسالہ کے قدیم شماروں کو حاصل کرنے کے لیے ہندوستان بھر میں موجود قارئین الرسالہ سے روابط کیے. الرسالہ کے قدیم شماروں کے لیے پہلی مرتبہ میں نے خطوط کا سہارا لیا تھا مگر اس بار منظرنامہ بدل چکا تھا۔ اس بارمیں نے فون اور واٹس اپ کے ذریعہ لوگوں سے رابطے کیے۔
ایک ایک شمارے کو حاصل کرنے کے لیے میں نے سنہ 2023 میں بے شمار مرتبہ لوگوں کو فون کیا اور میسجز (messages) کیے۔ یہ اللہ کا شکر ہے کہ لوگوں نے خندہ پیشانی کے ساتھ میری گزارشات سنیں اور میری معاونت کی۔ میری رات دن کی کوششوں کا مثبت نتیجہ نکلا اور الحمدللہ دوبارہ مجھے الرسالہ کے تقریباً تمام شمارے مل گئے۔
یہ میرے ساتھ دوسرا حسن اتفاق ہے کہ دو مرتبہ مجھ کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ میں نے الرسالہ کے تقریباً تمام شمارے حاصل کرلیے، یہ معجزہ سے کم نہیں ہے۔ کسی ماہنامہ کے قدیم شماروں کو ترتیب وار اکٹھا کرنا اور وہ بھی اس کی اصل، انتہائی دشوار گزار کام تھا لیکن اللہ کی مدد شامل رہی اور لوگوں کا پُرخلوص تعاون ملتارہا؛ جس کے سبب یہ ناممکن کام بھی ممکن بن گیا۔
جن حضرات نے میری بطور خاص عملی طور پر مدد کی ان میں عبدالرحمٰن (نئی دہلی)، حکیم انور عباس (نئی دہلی)، شکیل الرحمٰن (نئی دہلی)، ڈاکٹرحمیداللہ ندوی(بھوپال) حکیم بلال الدین (بھوپال)، انور جمال (بھوپال)، مولانا محمد اختر قاسمی (بھوپال)، عبدالصمد (پونہ)، شیخ اعجاز علی (نانڈیر)، محمد ساجد (حیدرآباد)، ایاز احمد (جمشیدپور)، ڈاکٹر قیصر زماں (ہزاری باغ)، سمیر شاہ (اننت ناگ) اور مفتی ریاض احمد ڈار (راجوری) وغیرہ کے نام اہمیت کے حامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ انھیں اس کا بہتر اجر قیامت میں عطا کرے، آمین!
دو نایاب کتب کی اشاعت:
میں نے مولانا وحیدالدین خاں کی دو نایاب کتابوں کو از سر نو شائع کیا۔ 15مئی 2014ء کو اسلام اور خدمت خلق، اور نئے عہد کے دروازہ پر شائع ہوئی۔
مولانا وحیدالدین خاں کی کتاب نئے عہد کے دروازہ پر بالکل نایاب تھی۔ مولانا بھی مجھ کو فراہم نہ کرسکے۔ اس کے بعد میں نے اس کو تلاش کر خود سے شائع کرنے کا فیصلہ کیا۔ مولانا نے اس کتاب کو تحریر کیا تھا اور جماعت اسلامی ہند کے ایک اجتماع بمقام امین الدّولہ پارک، لکھنؤ میں18فروری1955ء کو پڑھا تھا۔ یہ کتاب دراصل ایک مقالہ پر مشتمل تھی۔  یہ مقالہ ابتداً اسلامی پبلشنگ ہاؤس، باقی منزل، اعظم گڑھ (اترپردیش) کی جانب سے شائع ہوا. اس کے تقریباً 50 برس بعد میری کوششوں سے یہ مقالہ اشاعتی ادارہ رہبر ُبک سروس (نئی دہلی ) کی جانب سے 2014ء میں شائع ہوا۔
اس کے بعد یہ کتاب پورے ہندوستان میں پہنچ گئی۔ سی پی ایس انٹرنیشنل کی ویب سائٹ پر بھی یہ کتاب موجود ہے۔ کتاب کی اشاعت کے چھ برسوں کے بعد مولانا وحیدالدین خاں نے اپریل 2020ء کے ماہنامہ الرسالہ (دیکھیے صفحہ: 28-42) کے شمارہ میں نئے عہد کے دروازہ پر کا منتخب حصہ شائع کیا، مولانا نے وہی کاپی شائع کی جس کو میں نے از سر نو ترتیب دیا تھا؛ تاہم الرسالہ میں اس کی وضاحت نہیں کی گئی۔
اسی طرح ایک دوسری کتاب اسلام اور خدمتِ خلق کا معاملہ ہے۔واضح رہے کہ جموں و کشمیر کے دارالحکومت سری نگرکی ایک فلاحی تنظیم انجمن مظہرالحق کی دعوت پر مولانا وحیدالدین خاں نے سری نگر کا سفر کیا۔ 29 جون 1989ء کو وہ بذریعہ ہوائی جہاز کشمیر پہنچے اور 3 جولائی 1989ء کو واپس نئی دہلی آئے. مولانا اپنی بعض مصروفیات کی وجہ سے اُس سفر کا سفرنامہ نہ لکھ سکے۔اُس سفر کے دوران مولانا موصوف نے سری نگر اور دوسرے کئی مقامات پر خطاب کیا تھا۔ اُس سفر کا سب سے اہم خطاب وہ تھا جو  سری نگر کے سب سے بڑے اجتماع گاہ ٹیگور ہال (Tagore Hall) میں 30 جون1989ء کو ہوا۔ اُس کا عنوان تھا: اسلام اور خدمت خلق
30 جون1989ء کو ایک بلڈ ڈونیشن کیمپ (Blood Donation Camp) کا افتتاح مولانا نے اپنے دست مبارک سے کیا۔ افتتاحی تقریب میں مولانا بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے اور اسلام اور خدمت خلق کے موضوع پر ایک لمبی تقریر کی۔ اُس تقریر کی ریکارڈنگ حمید اللہ حمید ایم. اے (جموں وکشمیر) نے کی تھی۔ میری درخواست پر انھوں نے مجھے اُس کا آڈیو کیسٹ فراہم کیا۔
یہاں میں اِس بات کی وضاحت کرتا چلوں کہ اِس تاریخی تقریر کو میں نے آڈیو کیسٹ کی مدد سے مارچ 2009ء کی18 تاریخ کو ہی مکمل کر کے اِسے مولانا موصوف کے پاس بھیج دیا تھا۔ مولانا صاحب نے اِسے پڑھنے کے بعد 20 مارچ 2009ء کی شام کو مجھے ٹیلی فون کیا اور میری ہمت افزائی کرتے ہوئے کہا: میں نے تو سمجھا تھا کہ اِس تقریر کو لکھا نہ جاسکے گا لیکن آپ نے یہ کام کردیا۔ خدا آپ کو اِس کا اجر ضرور دے گا۔
یہ کتاب سی پی ایس انٹرنیشنل کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ اس کا انگریزی ترجمہ محمد مسلم وانی (راجوری، جموں و کشمیر) نے اسلام اینڈ ہیومن ویلفیئر (Islam & Human Welfare) کے نام سے 2021ء میں کیا۔ انگریزی ترجمہ کا ایک حصہ سہ ماہی رسالہ دبستان ہمالیہ (راجوری) کے شمارہ مئی۔ جون 2021ء (52-53) میں شائع ہوچکا۔ وہیں کتاب کی رونمائی ڈاکٹر ثانی اثنین خان نے مورخہ 18 جولائی 2021ء کو رابطہ عامہ (social media) کی ویب سائٹ فیس بک (facebook) پر کی۔ رسم اجرا کی خبر بھی سہ ماہی دبستان ہمالہ(راجوری) کے شمارہ جولائی تاستمبر 2021ء کے صفحہ 26  پر شائع ہوچکی ہے۔ اس ترجمے میں بھی میرا کہیں ذکر نہیں کیا گیا، حالاں کہ میں نے اسے مرتب کیا تھا۔
اوراقِ حیات کی اشاعت:
مولانا وحیدالدین خاں کی خودنوشت تحریروں پر مبنی سوانح حیات اوراقِ حیات کس طرح معرضِ وجود میں آئی، یہ ایک لمبی کہانی ہے۔اس کا مختصر تذکرہ یہاں کیا جا رہا ہے تاکہ قارئین کرام بھی اس سے واقفیت حاصل کرسکیں۔
اوراقِ حیات کی اشاعت سے قبل، مسودہ کی پروف ریڈینگ (proofreading) اور تلاش و تحقیق کے دوران مختلف مراحل پیش آئے، یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اوراقِ حیات لمبی مشقت و جدوجہد کے بعد وجود میں آئی ہے. اس کو معرضِ وجود میں لانے میں میری زندگی کے بہت سے سال صرف ہوئے۔
مولانا وحیدالدین خاں کی زندگی پر کام کرنے کا خیال اُس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب مجھے معلوم ہوا کہ کوئی ایسی کتاب مولانا موصوف کی زندگی پر لکھی نہیں گئی ہے جس میں سلسلہ وار انداز میں اُن کی سوانحی، علمی اور تحریکی زندگی کا احاطہ کیا گیا ہو۔پھر میں نے اُس کے لیے تلاش و جستجو شروع کردی۔ 13 جون 2007ء کو مولانا سے میری دوسری ملاقات ہوئی اور 22 جولائی2007ء کو تیسری ملاقات. اِن ملاقاتوں نے میرے ذہن میں مولانا پر کام کرنے کا خاکہ واضح کردیا۔
13 جون 2007ء کی ملاقات میں مولانا وحیدالدین خاں نے اپنے رفیقِ خاص مولانا محمد ذکوان ندوی سے میری ملاقات کروائی۔مولانا محمد ذکوان ندوی نے مجھ سے مصافحہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ سے ملنے کا اشتیاق تھا۔
یہ ملاقات بعد کے دنوں میں میرے لیے اس اعتبار سے تاریخی ثابت ہوئی کہ اوراقِ حیات کی تیار ی میں مولانا محمد ذکوان ندوی کا مجھ کو زبردست تعاون ملا۔
22 جولائی2007ء میرے لیے ایک یادگار دن تھا۔ شا م کو میں گھر واپس آیا اور زیر نظر کتاب لکھنے کی ابتداء کردی۔ کتاب کی تیاری کے دوران، میں سب سے پہلے مولانا محمد ذکوان ندوی سے ملا۔ اور انھیں میں نے جب یہ بتایا کہ میں مولانا وحیدالدین خاں کی زندگی پر کام کررہا ہوں تو انھوں نے نہایت خوشی کا اظہار کیا اور مجھ کو کافی حوصلہ دیا۔
مولانا محمد ذکوان ندوی نے مولانا کی سوانح عمری کے سلسلے میں مجھ کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ میری رائے یہ ہے کہ آپ خود سے مولانا وحیدالدین خاں کی سوانح عمری نہ لکھیں۔ بلکہ آپ یہ کریں کہ مولانا کی مطبوعہ اور غیر مطبوعہ تحریروں میں مولانا کی زندگی اور مشن کے متعلق خود مولانا کی لکھی ہوئی جو چیزیں موجود ہیں، ان کو ایک خاص ترتیب کے ساتھ جمع کردیں۔ ان شاء اللہ یہ خود ایک بہت بڑا کام ہوگا۔
میرے لیے مولانا محمد ذکوان ندوی کا مشورہ بہت مفید ثابت ہوا۔میں نے اسی انداز میں کتاب تیار کرنے کی کوشش کی ہے اور یہی مولانا وحیدالدین خاں کی بھی خواہش تھی۔ جیسا کہ مولانا نے لکھا ہے: "میری زندگی واقعات سے بھری ہوئی ہے اور اس میں اتنے زیادہ متنوع قسم کے واقعات ہیں کہ اگر ان کو صحیح طور پر لکھ دیا جائے تو ناول سے بھی زیادہ دل چسپ ایک کتاب تیار ہوجائے، مگر بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میں اپنی زندگی کی کتاب نہ لکھ سکوں گا۔ تاہم اگر کوئی شخص میری زندگی کی کتاب لکھنا چاہے گا تو وہ ڈائری، خبرنامہ، سفرنامہ، خطوط کے جوابات اور آڈیو اور ویڈیو کی مدد سے کافی حد تک پیغام دے سکتا ہے۔" (ڈائری: 199-1992ء، صفحہ: 253)
جب انسان کسی ادارے میں یا کسی کے ساتھ مل کر رضاکارانہ طور پر کام کرتا ہے تو اختلافات ہو جایا کرتے ہیں، میں بھی مولانا وحید الدین خاں کی خودنوشت سوانح کو مرتب کرنے کا کام رضاکارانہ طور پر کر رہا تھا۔ اس سلسلے میں اُنھی دنوں مجھ کو مولانا محمد ذکوان ندوی نے ایک اہم ترین مشورہ دیا، اس کے لیے میں ہمیشہ ان کا ممنون و مشکور رہوں گا۔
انھوں نے کہا کہ ایک ساتھ کام کرتے ہوئے اختلافات ہوجاتے ہیں۔ اس لیے اختلافات کے باوجود حدادب کو ہر حالت میں باقی رکھیں۔ مولانا وحید الدین خاں، ڈاکٹر فریدہ خانم اور ڈاکٹر ثانی اثنین خاں کا جو احترام ہے، اس کو آپ ہر حال میں ملحوظ رکھیں۔ کسی بھی حال میں ایسی باتیں نہ ہوں جو گستاخی کے دائرے میں آتی ہیں۔
اللہ کا شکر ہے کہ میں نے کبھی بھی اپنی جانب سے ایسی بات سرزد نہ ہونے دی، جو گستاخی کے دائرے میں آتی ہے۔ میں نے کام اس طرح انجام دیا کہ کبھی کوئی مسئلہ پیدا ہی نہیں ہوا۔
اُردو ادب کی مشہور ناول نگارقرۃ العین حیدر (1927-2007)ء کی شہرہ آفاق کتاب آگ کا دریا کی طرح میں نے کتاب کا ایک بڑا حصہ تیار کر لیا، اور کتاب کے نام کا تعین نہ کرسکا۔ میں نے کتاب کے نام کے سلسلے میں کافی غور و فکر کیا اور متعدد اہلِ علم سے مشورے بھی کیے؛ مگر کوئی مثبت نتیجہ نہ نکلا۔ یہاں تک کہ 16 ستمبر 2012ء کی تاریخ آگئی۔ اُسی دن مولانا محمد ذکوان ندوی مجھ سے ظہر کے نماز کی امامت کرنے کے بعد اچانک ملے اور کہا کہ آپ اپنی کتاب کا نام اوراقِ حیات رکھیں۔ مجھے یہ نام بہت پسند آیا اور میں نے کتاب کا نام اوراقِ حیات رکھ لیا۔
میں اِس کے لیے مولانا محمد ذکوان ندوی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کیوں کہ یہ ایک ایسا نام ہے جس میں مولانا وحیدالدین خاں کی زندگی پر تیار کردہ اس کتاب کی نوعیت اُبھر کر سامنے آرہی ہے یعنی مولانا کی تحریروں پر مبنی خودنوشت سوانحِ حیات۔
میں نے کتاب کے سلسلے میں متعدد اسفار کیے، ہندوستان کے اندر بھی اور ہندوستان کے باہر بھی ۔بہت سارے لوگوں سے تبادلہ خیال کیا۔ بہت سے اُن مقامات پر بھی گیا جہاں مولانا نے اسفار کیے ہیں۔
ہندوستان میں حیدرآباد، سکندرآباد، محبوب نگر، احمدآباد، سورت، پٹنہ، گلبرگہ، بنگلور، سہارنپور، سری نگر، جموں، راجوری، میرٹھ، اندور، ناگپور، اورنگ آباد، ممبئی وغیرہ اور بیرون ہند میں دوبئی، ابوظہبی، شارجہ، قطر اور ایران، وغیرہ کے لیے جب میرا سفر پیش آیا تو میں نے الرسالہ مشن سے وابستہ وہاں کے مقامی افراد سے ملاقاتیں کیں اور مولانا سے متعلق معلومات یکجا کرنے کی بھی کوشش کی۔بعض اہم باتیں مجھے معلوم ہوئیں اور اس سے کتاب کی ترتیب میں کافی مدد ملی. 
وہیں اوراقِ حیات کی تیاری کے دوران میں نے مولانا کی زندگی کے تقریباََ تمام پہلوؤں کا مطالعہ کیا ہے، اور مولانا کو قریب سے جاننے اور سمجھنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ میں اُن کی رسمی اورغیر رسمی مجالس میں شریک ہوا، میں نے اُن کے ساتھ کھانا کھایا، میں نے اُن کے ساتھ چائے پی، میںنے اُن کے ساتھ چہل قدمی کی،میںاُن کے ٹی وی کے پروگراموں اور مختلف کانفرنسوں میں شریک ہوا، میں اُن سے تنہائی میں بھی ملا اور میں نے اُن کے ساتھ اجتماعی ملاقات کا بھی مشاہدہ کیا، حتیٰ کہ مزید مشاہدے کی غرض سے میں نے مولانا کے ساتھ سفر کیا، وغیرہ، وغیرہ۔ اِن تمام مراحل سے گزرنے کے بعد میں نے اپنے قلم کو جنبش دی ہے۔ میں اپنی اِس کاوش میں کس حد تک کامیاب ہوا ہوں، آنے والا وقت اور مستقبل کے مورخین ہی اس کا فیصلہ کریں گے۔
یہاں میں یہ عرض کرتا چلوں کہ مولانا موصوف کو مجھ پر بے پناہ اعتماد تھا، شاید یہی سبب ہے کہ انھوں نے مجھ کو اپنی نیابت میں بھی ایک پروگرام میں شرکت کے لیے بھیجا۔
میں نے مولانا وحیدالدین خاں کی نیابت میں ہمددر یونی ورسٹی کے ایک پروگرام میں 25 اکتوبر2009ء کو شرکت کی۔ یہ پروگرام معروف عالم دین مولانا محمد رابع حسنی ندوی کی صدارت میں منعقد ہوا، جس کا عنوان تھا: ہندوستانی مسلمان کی معاشی ترقی اور امکانات۔
مولانا وحیدالدین خاں خود نہیں گئے، بلکہ انھوں نے مجھ کو اپنی نیابت میں پروگرام میں بھیج دیا۔ مولانا موصوف نے فون کر کے مجھ سے کہا کہ ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی اپنی تقریر میں جو کچھ کہیں، اس کو آپ ضرور نوٹ کرکے لائیں۔ ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی نے اس دن زبانی تقریر کرنے کے بجائے پیشگی طور پر چھپا ہوا مقالہ پڑھا، جو سیمینار کے شرکا میں تقسیم کیا گیا۔ میں نے وہ مقالہ مولانا کی خدمت میں پیش کیا، انھوں نے میرا شکریہ ادا کیا۔
مولانا وحیدالدین خاں کے ہمرا ہ ذی سلام اسٹوڈیو، نوئیڈا (گوتم بدھ نگر، اترپردیش) میں ہونے والے پانچ روزہ پروگرام میں شرکت کے لیے جانے کا موقع ملا۔ ذی سلام اسٹڈیو کی میزبان شگفتہ یاسمین تھیں، انھوں نے مجھ کو اُردو میں لکھتا ہوا دیکھ کر بہت خوشی کا اظہار کیا۔
یہ پروگرا م 27 جولائی 2010ء کو شروع ہوا اور اس کا آخری پروگرام 31 جولائی 2010ء کو ریکارڈ کیا گیا۔ یہاں مولانا نے مجھ سے کہا کہ آپ وقت کے بہت پابند ہیں، آپ مسٹر پنکچوئل (Mr. Punctual) ہیں۔
ایک دن اسٹوڈیو میں جاتے ہوئے انھوں نے میرا سہار ا لیا۔ میرے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا کہ شاہ عمران حسن میں تیز قدموں سے چل سکتا ہوں، مگر میں نہیں چلوں گا، کیوں کہ میں گرجاؤں گا اور مجھ کو چوٹ لگ جائے گی۔
ہر روز کچھ دیر مولانا کا خطاب ہوتا، اس کے بعد سوال و جواب کا دور چلتا۔ میں بھی روزانہ کوئی نہ کوئی سوال کرتا تھا۔ ایک دن جب شگفتہ یاسمین نے مولانا سے کہا کہ آپ سے کون کون سے سوالات پوچھے جائیں تو اس پر مولانا برہم ہوگئے اور انھوں نے کہا کہ آپ کی جو مرضی ہے وہ سوال کریں، میں ہر سوال کا جواب دوں گا۔
میں نے سوال کیا کہ 10 صحابیوں کو جنت کی بشارت دی گئی ہے، اس کا کیا مطلب ہے؟ مولانا نے کہا کہ 10 پر مختص نہ کیجئے ہر صحابی کو جنت کی بشارت دی گئی ہے۔
میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میری نظر سے مولانا موصوف کی تقریباََ تمام مطبوعہ اور غیرمطبوعہ تحریریں گزرچکی ہیں اور میں نے مولانا کی تقریباََ تمام تحریروں کا مطالعہ براہِ راست طور پر کیا اور اُس کے اصل معنیٰ اور مفہوم تک پہنچنے کی حتی المقدور کوشش کی۔ مولانا کی تحریروں کے مطالعہ کے علاوہ میں نے مولانا محترم کے تقریباََ 1000 سے زیادہ مختلف موضوعات پر ہونے والے خطبات کو انتہائی گہرائی اور توجہ سے سنا ہے۔ اور ان میں 200 سے زیادہ ایسے خطبات ہیں جن سے میں نے مولانا کی مجالس میںےبراہِ راست استفادہ کیا ہے۔
میں نے اوراقِ حیات کی تیاری کے سلسلے میں مولانا کی تصنیفات کے علاوہ بہت سی دیگر کتب و رسائل کا بھی مطالعہ کیا اور اس کے حوالے کتاب میں جگہ جگہ درج کردیے، اس لیے میں نے اوراقِ حیات کے اندر علاحدہ طور پر معاون کتب و رسائل کا باب قائم کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ نیز میں نے مولانا کے افکارونظریات کے خلاف لکھی جانے والی کتابوں کا بھی مطالعہ کرکے اس پر جو تجزیاتی باتیں تحریر کیں ہیں، اس کا تذکرہ بھی اوراقِ حیات میں موجود ہے۔
مولانا وحیدالدین خاں اپنی ایک کتاب میں اپنی سوانح عمری سے متعلق لکھتے ہیں: "جن لوگوں نے میری تحریریں پڑھی ہیں۔ وہ اکثر مجھ سے کہتے ہیں کہ آپ اپنے حالاتِ زندگی لکھیے یعنی خودنوشت سوانحِ عمری۔ بظاہر مجھے یقین نہیں ہے کہ میں خود اپنی سوانحِ حیات لکھ سکوں گا تاہم میری سوانح حیات تیارکرنا کوئی مشکل کام نہیں۔ اُس کی وجہ یہ ہے کہ اپنی زندگی کے ابتدائی حالات میں لکھ چکا ہوں۔ اور وہ غیرمطبوعہ حالت میں موجود ہیں۔ اگر کوئی ایسا شخص مل جائے جس کے اندر شوق اور محنت کا مادّہ ہو تو وہ بعد کے حالات مرتب کرکے میری پوری لائف (life) لکھ سکتا ہے۔
شوق اور محنت والا ایک آدمی اگر میری ڈائری، خبر نامہ، سفر نامہ، خطوط کے جوابات وغیرہ پڑھے تو وہ اُن کے اندر وہ سارے مواد پالے گا جو کسی آدمی کی سوانحِ عمری لکھنے کے لیے درکار ہوتے ہیں۔(تفصیل کے لیے ملاحظہ کریں؛ اوراقِ حیات، شاہ عمران حسن، صفحہ: 25)
خوش قسمتی سے مولانا موصوف کی سوانحِ حیات مرتب کرنے کا موقع میرے حصے میں آیا اور میں نے مولانا کی مذکورہ نشان دہی کے مطابق انھیں چیزوں سے مدد لے کر اس کتاب کو مرتب کیا جس کا اشارہ اُوپر کی سطروں میں مولانا نے کیا ہے۔ اس کتاب کی تیاری کے دوران میں نے یہ پایا کہ مولانا موصوف نے اپنی زندگی کے واقعات کے بیشتر حصے کو کسی نہ کسی شکل میں بیان کر رکھا ہے۔ جسے میں بالترتیب قارئین کے سامنے پیش کررہا ہوں۔
میں نے اِس بات کی بھی پوری کوشش کی ہے کہ مولانا موصوف نے اپنی زندگی کے جو مختلف اوراق مختلف شکلوں میں پیش کیے ہیں، وہ مولانا کے اپنے الفاظ میں مرتب ہوتے چلے جائیں۔ میں نے اپنی حد تک اس سوانحِ حیات کو اِس انداز میں ترتیب دیا ہے کہ وہ خود نوشت سوانحِ حیات معلوم ہو۔
میں نے اسے ترتیب دیتے وقت مولانا کے خطبات، الرسالہ کے شمارے، اخبار و رسائل میں شائع ہونے والے انٹرویوز، مولانا کی کتابوں کے مختلف حصوں میں بکھری ہوئی اُن کی آپ بیتی کے جستہ جستہ اوراق کو سوانحی انداز میں جمع کیا ہے. مولانا موصوف کی تحریروں کے جو اقتباسات اوراقِ حیات میں نقل کیے گئے ہیں، ساتھ ساتھ ان کا حوالہ بھی درج کردیا گیا ہے، اور جہاں کہیں کسی اقتباس کے ساتھ اس کا حوالہ موجود نہیں ہے، وہ مولانا کی غیر مطبوعہ تحریریں ہیں۔ نیز ڈائری کے جو حوالے بار بار اوراقِ حیات میں آئے ہیں، اس سے مُراد مولانا کی وہ ذاتی ڈائریاں ہیں جو وہ روزانہ تحریر کرتے ہیں۔
میں شاید پہلا شخص ہوں، جس نے مولانا کی ذاتی لائبریری تک رسائی پائی، نیز مولانا کی غیر مطبوعہ تحریروں کو بھی دیکھنے کا موقع ملا۔ اس سلسلے میں مولانا نے خود 25 مئی 2013ء کو راقم الحروف سے کہا کہ اس قسم کی چیزیں میں کسی کو دیکھنے یا پڑھنے نہیں دیتا ہوں، مگر میں آپ کو دے رہا ہوں۔ آپ سے کوئی چیز ضائع نہ ہونے پائے، مجھے امید ہے کہ آپ اس سلسلے میں کھرے اُتریں گے۔
بیسویں صدی عیسوی کا زمانہ ہر اعتبار سے ایک نیا زمانہ تھا۔ اس صدی نے دُنیا کو ایک عالمی گاؤں (global village) میں تبدیل کردیا اور دنیا سمٹ کر مٹھی میں آگئی. نئے زمانہ نے عالمی سماج کا منظرنامہ بھی پوری طرح سے بدل دیا تھا۔ ہرسطح پر اس کے اثرات دیکھے جارہے تھے۔ عالم اسلام پر بھی اس صدی کے اثرات مرتب ہورہے تھے۔ عالمی سماج میں پہلی بار اس نوعیت کے مسائل پیش آئے تھے جن کا مقابلہ کرنے کے لیے صرف روایتی علم کافی نہ تھا بلکہ ان کو سمجھنے کے لیے اجتہادی نظر اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے اجتہادی رہنمائی کی ضرورت تھی۔ مگر کہیں سے ایسی صدا بلند ہوتی نظر نہیں آرہی تھی۔
میں خود بھی اسی صدی میں پیدا ہوا۔ یہاں بے شمار مسلم تحریکیں اور تنظیمیں سرگرم تھیں۔ میں بھی متعدد مسلم تحریکوں اور تنظیموں سے وابستہ ہوا۔ تنظیموں اور تحریکوں کی وابستگی نے میرے ذہن کو غیر مطمئن کردیا۔ حتیٰ کہ میں منفی ذہن اور کنفیوژن کا شکار ہوگیا۔ یہاں تک کہ میں، مسلمان اور غیر مسلمان، مسلمان اور کافر کی اصطلاح میں سوچنے لگا۔ میرے ذہن میں بے شمار سوالات اُبھرنے لگے کہ موجودہ زمانہ کے اعتبار سے اسلام کی رہنمائی کیا ہے؟ اسلام عالم انسانیت کے اعتبار سے مسلمانوں کو کس قسم کی تعلیم دیتاہے؟ اگر اسلام بھائی چارے کی تعلیم دیتا ہے تو پھر عملی صورتِ حال برعکس کیوں ہے؟ مسلم اور غیر مسلم کے درمیان کیا رشتہ ہونا چاہئے؟ اگر اسلام ابدی دین ہے تو عملی طور پر یہ مغلوب دین کیوں نظر آتا ہے؟ اسلام بنیادی طور پر ایک امن پسند دین ہے اور قرآن میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمت للعالمین (الانبیاء:107) کہا گیا ہے تو پھر اسلام کی امن پسندی کیوں نظر نہیں آرہی ہے؟کیوں ایسا ہے کہ مسلم اور غیر مسلم برسرجنگ ہیں؟ وغیرہ، وغیرہ سوالات نے میرے ذہن کو متزلزل کردیا۔
میں اپنے ذہن میں اُبھرنے والے سوالات کا جواب دورِ جدید کی نسبت سے پانا چاہتا تھا، مگر معاصر علماے کرام کی تحریروں میں مجھے میرے سوالات کا جواب نہ ملا۔ کسی تحریر میں اپنے مسلک کو مقدم کیا جارہا تھا تو کسی تحریر میں رفع الیدین، آمین بالجہر، نذرونیاز، چلہ کشی اور اسلاف پروری کے چرچے زمین و آسمان کو ایک کیے ہوئے تھے، کسی تحریر میں فقہ کو حدیث پر اور حدیث کو قرآن پر مقدم کیا جارہا تھا تو کسی تحریر میں جزوی اور فقہی مسئلہ کو ہی دین کاحصہ بتایا گیا تھا، کسی تحریر میں یہود و نصاریٰ کو اسلام کا دشمن بتایا گیا تھا تو کوئی تحریر مسلمانوں کو مظلوم اور غیر مسلموں کو ظالم بتارہی تھی۔
مسلم تحریکوں اور تنظیموں کا بھی یہی حال تھا، کوئی مجھے اہلِ حدیث بنانا چاہ رہا تھا تو کوئی بریلوی، کوئی تبلیغی جماعت کا ممبر بنانا چاہ رہا تھا تو کوئی جماعت اسلامی کا، کوئی سیاسی نظام کے پیچ و خم میں میرے دماغ کو اُلجھارہا تھا، کوئی قتل و قتال کے فلسفے سمجھا رہا تھا۔ کوئی استشہاد کے نام پر خودکش بمباری کو جائز بتارہا تھا، کوئی عقیدت اورشخصیت پرستی کاسبق پڑھا رہا تھا۔ کوئی ملی مسائل کو ملت اسلامیہ کا سب سے بڑاطوفان بتا رہا تھا تو کوئی فضائل کی داستان سنانے پر مصر تھا۔ غرض کہ میرے مطالعہ میں جتنی تحریریں آئیں یا میں جن اداروں سے وابستہ ہوا وہاں موجودہ زمانے کے انسان کے لیے کوئی ایسی چیز نہ تھی جو ذہن کو مطمئن کردے۔ افسوس کے ساتھ میں یہ باتیں تحریر کر رہا ہوں کہ امت مسلمہ کی ایک بہت بڑی تعداد آج بھی اُنھی جزوقتی اور غیر اساسی مسائل میں اُلجھی ہوئی ہے۔
مذکورہ صورتِ حال صرف میری نہیں ہے بلکہ میرے جیسے لاکھوں انسان اپنے ذہن میں اُبھرنے والے سوالات کا جواب پانا چاہتے ہیں مگر انھیں تشفی بخش جواب کہیں نہیں ملتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آج علم کا ارتقا، تحقیق کی انتہا کو پہنچ چکا ہے، آج کا انسان کسی بات کو وقت کے فکری مستویٰ کی سطح پر سمجھنا چاہتا ہے۔ اور تادم تحریر علماے کرام اس کا جواب دینے سے قاصر ہیں۔ پھر میرے مطالعہ میں مولانا وحیدالدین خاں کی تحریریں آئیں، مولانا کی تحریروں کے مطالعہ نے پہلی دفعہ میرے ذہن کو اسلام، مسلمان اور دورِ جدید کے لحاظ سے ایک اطمینان بخش جواب دیا۔ نیز مجھے مولانا کی تحریروں میں ذہنی اطمینان کے سامان کے ساتھ ساتھ ایسی واضح رہنمائی ملی جس سے راستے روشن ہوں اور عمل کے مواقع نظر آئیں۔ حتیٰ کہ اسلام کی صداقت پر میرا یقین مزید پختہ ہوگیا اور میں نے اسلام کو شعور کی سطح پر دریافت کرلیا۔
میرے مطالعے کے مطابق اسلامی تاریخ میں بے شمار دُعاۃ ومبلغین پیدا ہوئے۔ لیکن مولانا وحیدالدین خاں اپنی نوعیت کے پہلے داعی ہیں جنھوں نے اسلام کے دعوتی پہلو کو نمایاں کیا ہے۔ مولانا نے نہ صرف دین کو بے آمیز شکل میں پیش کیا بلکہ موافق اسباب کی نشان دہی کے ساتھ ساتھ ان کو پھر سے استعمال کرنے کی کوشش کی تاکہ فکرِ اسلامی کو دنیا کے اندر غالب فکر کا مقام عطا ہوسکے. مولانا کے لٹریچر کے تفصیلی مطالعے کی روشنی میں، میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ مولانا کا لٹریچر واحد اسلامی لٹریچر ہے جو عصری اسلوب میں خطاب کرتا ہے۔ اسی کے ساتھ یہ بات بھی کہی جاسکتی ہے کہ موجودہ زمانے کے معاصر علماے کرام امت مسلمہ کے مشن کا تعین نہ کرسکے. یہ کام مولانا وحیدالدین خاں نے کیا، یعنی امت مسلمہ کو اس کے اصل مشن پر شعوری اور عملی سطح پر متحرک کرنے کی کوشش کی کہ وہ داعی ہیں اور بقیہ اقوام مدعو کادرجہ رکھتی ہیں۔یہی ان کا مشن بھی ہے اور اسی میں ان کے مسائل کا حل بھی۔ میرے نزدیک یہی مولانا موصوف کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ مولانا کی اسی بات نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا۔ حتیٰ کہ میرے اندر بھی دعوتی شعور مولانا کی تحریروں کے مطالعے سے پیدا ہوا۔ اور میں بھی اپنی وسعت کی حدتک دعوتی کام کرنے لگا۔
مولانا وحیدالدین خاں کو پڑھنے سے قبل مجھے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ امت مسلمہ کا سفر ایک بندگلی میں پہنچ کر رک گیا ہے۔ دوسرے اخبارات و رسائل اور جلسوں کی تقریروں سے یہی سب ملتا تھا۔ مگر جب میں نے مولانا کو پڑھنا شروع کیا تو ایسا محسوس ہوا کہ میں کھلی شاہراہ پر آگیا ہوں۔ اب ہرطرف تاریکی کے بجائے روشنی اور تنگی کے بجائے کشادگی نظر آنے لگی۔
میرے خیال میں مولانا وحیدالدین خاں کے افکاروخیالات سمجھنے کے لیے اُن کی کتابوں کا مطالعہ ضروری ہے، جو 200 سے زیادہ اعداد پر مشتمل ہے۔ بیک وقت ہر آدمی کے لیے ان تمام کتابوں کا مطالعہ آسان نہیں ہے۔ اور اسی کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عالم اسلام کی بہت بڑی تعداد تک مولانا کی فکر ابھی تک نہیں پہنچ سکی ہے۔ اس لیے میں نے یہ مناسب سمجھا کہ مولانا کی اپنی تحریروں کی روشنی میں ایک ایسی کتاب تیار کروں، جو مولانا کی شخصیت اور افکار کو سمجھنے میں معاون ہوسکے اور میری طرح عام قارئین بھی مولانا موصوف کی تحریروں سے استفادہ کرسکیں. اگر میری مرتب کردہ کتاب اوراقِ حیات قارئین کے اندر مولانا محترم کے افکار و خیالات کے مطالعے کا جذبہ پیدا کرسکے تو یہی بات میری کامیابی کے لیے کافی ہوگی۔
الرسالہ مشن سے وابستہ افراد کی ایک بہت بڑی تعداد بھی اس قسم کی کتاب کی ضرورت محسوس کر رہی تھی مگر کسی نے اس سلسلے میں پہل نہیں کی۔ میں بھی عرصہ دراز سے ذاتی انداز میں اس پہلو پر سوچ رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ توفیق دی اور میں نے یہ کام سر انجام دیا، تا ہم میں یہی کہوں گا کہ میری یہ ایک چھوٹی سی پہل ہے جس پر آگے چل کر بہت سارا کام کیا جاسکتا ہے۔ میری یہ تمنا بھی ہے اور گزارش بھی کہ اہلِ علم و دانش اس کتاب کی تخلیقی اہمیت، انتخابی اہمیت اور عصری اہمیت کو دیکھیں اور سمجھیں اور مزید کام کریں۔
جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں وہ یہ کہ الرسالہ مشن کا مقصد مسلمانوں کی اصلاح اور ذہنی تعمیر کے ساتھ ساتھ اسلام کی بے آمیز دعوت کو عام انسانوں تک پہنچانا ہے۔ جس کے لیے مولانا ہمہ تن مشغول رہے۔ آج بھلے اُن کی بات قبول نہ کی جائے، لیکن بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے جب کہ مولانا کا اعتراف کرنے کے لیے لوگ مجبور ہوجائیں گے۔
تاریخ اِس بات کی شہادت دیتی ہے کہ وقت کے تمام مصلحین کو لوگوں نے رد کردیا۔ مذہبی اور سماجی دونوں سطح پر ایسا ہی ہوا ہے۔ خود ہندوستان کے تقریباً تمام علماے دین و مصلحین کے ساتھ ایسا ہی ہوا۔ شاہ ولی اللہ دہلوی سے لے کر مولانا علی میاں تک، لوگوں نے کسی کو نہیں بخشا۔ مولانا کے ساتھ جو ظلم و ستم ہو رہا ہے وہ کوئی نئی بات نہیں ہے، یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ بھی عالم اسلام کی سابقہ شخصیتوں کی طرح تسلیم کیے جائیں گے۔ پاکستانی شاعر منیرنیازی (2006-1928)ء نے قوم کی اس روش کوسادہ الفاظ میں یوں بیان کیا ہے:
ابتدا ہی سے ہے شہر والوں کا مزاج
اپنے اعلیٰ آدمی کو قتل کرنے کا رواج
قتل کرکے اس کے غم میں دیر تک روتے ہیں وہ
اپنے کردہ جرم سے ایسے رہا ہوتے ہیں وہ
اسی کے ساتھ میں قارئین کے سامنے اس بات کی بھی وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ مولانا وحیدالدین خاں کو میں کوئی نبی یا معصوم پیغمبر نہیں سمجھتا۔ میں ان کوصرف ایک انسان سمجھتا ہوں، جس سے خطا وصواب دونوں ممکن ہے۔ میرے نزدیک مولانا وحیدالدین خاں بھی، دوسرے علما کی طرح، ایک داعی اور تخلیقی مفکر ہیں، نہ کہ معصوم عن الخطا پیغمبر یا دورِ آخر میں ظاہر ہونے والی کوئی پراسرارشخصیت. الرسالہ کے صفحات میں مجھ کو یہی تعلیم نظرآتی ہے۔
ایک ایسی شخصیت جس کو عالمی سطح پر کسی نے سفیر امن کہا، کسی نے مجتہد، کسی نے متکلم اورکسی نے مفسر کہا، کسی نے تجدید احیاے دین کے حوالے سے ان کا اعتراف کیا تو کسی نے اُنھیں ملی تعمیر واستحکام کا چمپئن (champion) مانا اور آخر میں حقیقی معنوں میں جدید قوموں کے درمیان ایک بیدار، حساس اور مخلص داعی کی حیثیت میں پہچانا گیا؛ اور خود مولانا موصوف کی ایک صدی پر پھیلی ہوئی شخصیت اور پل پل کو علم و تحقیق کی نسبت سے نچوڑ لینے کے عزم کے نتیجے میں ہزارہا صفحات پر پھیلے ہوئے افکار و احساسات، تجربات و مشاہدات، واقعات و حوادث پر مشتمل تحریروں کے درمیان ان کے قدوقامت کی معرفت حاصل کرنا اور اسے ان کی شایان شان ترتیب اور تدوین کے ساتھ پیش کرنے کا چیلنج کوئی سادہ معاملہ نہ تھا۔ پھر بھی اللہ نے غیب سے سرپرستی فرمائی اور مجھے یہ سعادت نصیب ہوئی کہ میں اُن کی تحریروں کی مدد سے ایک ہلکا ساخاکہ بنانے میں کامیاب ہوگیا۔ اس امید کے ساتھ کہ میرے بعد اس نسبت سے کام کرنے والوں کے لیے یہ کاوش ایک طرف سنگِ میل اور دوسری طرف مہمیز کا کام کرے گی، ان شاء اللہ۔
مجھے اعتراف ہے کہ میں اپنی تمام تر کوششوں کے باوجو مولانا وحیدالدین خاں کی زندگی کے ہر پہلو پر روشنی نہ ڈال سکا۔ مگر یہ بات میرے اطمینان کے لیے کافی ہے کہ میرے بعد مولانا پر کام کرنے والوں کو اتنی مشقت نہیں اُٹھانی پڑے گی جتنی میں نے اُٹھائی ہے۔مولانا کے بقول میرے بعد آنے والے کو پچھلی سیڑھیاں نہیں بنانی پڑیں گی۔ (الاسلام، مولاناوحیدالدین خاں،صفحہ:5)
میں نے اوراقِ حیات کی ترتیب و تدوین میں حددرجہ احتیاط برتی ہے۔ اور بالکل غیر جانب دارانہ انداز میں کام کیا ہے۔
اوراقِ حیات کی آخری سطریں13جولائی 2014ء کو لکھی گئیں۔ اس میں، میں نے کتاب کے تعلق سے حسب ذیل باتیں تحریر کیں:
اللہ رب العزت کا شکر ہے کہ زیرنظر کتاب لمبی مشقت کے بعد اپنے تکمیل کے مرحلے میں پہنچی ۔اس کتاب کے لکھنے کا آغاز7سال قبل 22 جولائی2007ء کو ہوا تھا اور آج بتاریخ13 جولائی2014ء کو اِس کی آخری سطریں نئی دہلی میں لکھی گئیں۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ اس کو لکھنے کی ابتدا اتوار کو شروع ہوئی تھی اور اتوار کو ہی اس کی تکمیل ہوئی ۔ نیز یہ کام ماہ جولائی میںشروع ہوا اور ماہ جولائی میں ہی پوراہوا۔
آج جب میں اوراقِ حیات کا حرفِ آخر لکھ رہا ہوں، مجھے بہت سی باتیں اد آرہی ہیں۔ ایک طرف خوشی سے میری آنکھیں اشک بار ہیں تو دوسری طرف میرا دل اللہ رب العزت کے تئیں شکر کے جذبات سے لبریز ہورہا ہے کہ اس نے میرے ناتواں قلم سے یہ انتہائی مشکل کام لیا۔
اِس کتاب پر میں نے ابتداءً بہت خاموشی سے کام کیا۔ حتیٰ کہ کتاب کے ایک بہت بڑے حصے پر میں نے کام کرلیا اور کتاب جب آخری مرحلے میں پہنچنے کو تھی، اس وقت میں نے اس بات کی اطلاع مولانا کو دی۔ کتاب کے سلسلے میں، میں نے 9 فروری2013ء کو مولانا موصوف سے ایک اجتماعی ملاقات کی۔ اس اجتماعی ملاقات میں محمد فاروق مضطر (راجوری، جموں و کشمیر) کے علاوہ شہریار، سید اعظم شاہ اور مولاناغلام مصطفی قاسمی وغیرہ شریک ہوئے۔
اِس موقع پر مولاناوحیدالدین خاں نے نہ صرف میرے کام کی تائید کی بلکہ انھوں نے میرے کام کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے کہا: جناب شاہ عمران حسن صاحب اتنا بڑاکام کررہے ہیں جو میں بھی پوری زندگی میں نہ کرسکا۔ میں نے کئی دفعہ اپنی سوانح عمری لکھنی چاہی مگر نہ لکھ سکا۔ اب یہ مشکل ترین کام شاہ عمران حسن صاحب کررہے ہیں۔ اللہ انھیں جزائے خیر دے۔
مولانا وحیدالدین خاں نے اس ملاقات کے دوران اپنی سوانح عمری کے سلسلے میں مجھ سے مزید فرمایا کہ میری سوانح عمری کے معاملے میں آپ مولانا محمد ذکوان ندوی سے مدد لیں، کیوں کہ میں ایک بوڑھا آدمی ہوں، میں آپ کو بہت زیادہ وقت نہیں دے پاؤں گا۔ مولانا محمد ذکوان ندوی نے میری تمام مطبوعہ اورغیر مطبوعہ تحریریں پڑھی ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے تقریباً 10سال کے طویل عرصے تک مجھ کو بہت قریب سے دیکھا ہے، اس لیے وہ میری فکر اور میرے مزاج سے سب سے زیادہ واقف ہیں۔ اِسی طرح ان کو میری زندگی کے اکثر و بیشتر واقعات معلوم ہیں۔
میں نے مولانا وحیدالدین خاں کے کہنے پر عمل کیا اور مختلف امور کے سلسلے میں مولانا محمد ذکوان ندوی سے مشورے کئے۔میں اِس بات کا اعتراف کرتاہوں کہ کتاب کے ضروری موادا وراُس کی تیاری کے سلسلے میںمجھ کو سب سے زیادہ علمی تعاون مولانا محمدذکوان ندوی سے ملا ہے۔اللہ تعالیٰ اُن کو جزائے خیر عطافرمائے۔
مولاناوحید الدین خاں نے کتاب کے مواد کے سلسلے میں مولانا محمدذکوان ندوی سے تعاون لینے کے لیے کہا تھا،ٹھیک یہی بات کئی مرتبہ مجھ سے مولانا محترم کے چھوٹے صاحبزادے ڈاکٹر ثانی اثنین خاں نے کہی تھی۔ اور یہ بھی کہا تھا کہ مولاناکی تحریروں کو مولانامحمد ذکوان ندوی نے تقریباً حفظ کر لیا ہے۔ نیز25 مئی2014 ئ کو میرے سامنے ہی مولانامحمد ذکوان ندوی سے کہا تھا کہ شاہ عمران حسن کی کتاب مکمل ہوگئی ہے، آپ مولاناکے خطوط کا عکس اور تحریر کا عکس انہیں فراہم کریں۔
اس کتاب پر جس رفتار سے کام ہورہا تھا، اس کے مطابق میرا اندازہ تھا کہ کتاب 2014ء کے پہلے ماہ میں مکمل ہوجائے گئی، مگر بعض وجوہ سے بر وقت اس کی تکمیل ممکن نہ ہوسکی۔ اب مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ تاخیر بھی اللہ تعالیٰ کی مصلحت سے خالی نہ تھی۔ کیوںکہ اسی تاخیر کی وجہ سے یہ ممکن ہوسکا کہ مجھے مولانا کی تازہ تصنیف اظہارِ دین اور ماہنامہ الرسالہ کے تازہ شمارہ جولائی 2014ء سے استفادہ کرنے کا موقع بھی ملا اور کتاب کے لیے ضروری مواد بھی۔
اس لمبے عرصہ کے دوران میری زندگی میں بہت سے اُتار چڑھاؤ آئے، بہت سی مشکلات پیش آئیں اور میں مختلف قسم کے حادثات سے گزرا، لیکن کتاب تیار کرنے کے سلسلے میں جو عزم میں نے کررکھا تھا، اس سے کبھی پیچھے نہیں ہٹا۔ میری مشکلات اور میری پریشانیاں میرے عزم مستقل کو متزلزل نہ کرسکیں۔ حتیٰ کہ میری معاشی ترقی کے کئی بہترین مواقع بھی آئے، مگر میں نے کتاب کی وجہ سے ان سب کو نظر انداز کردیا، تاکہ میں کتاب کا کام یکسوئی کے ساتھ کرسکوں۔
اس کتاب کی تیاری کے دوران مالی مشکلات بھی پیش آئیں، مگر کسی شخص یا ادارے کی جانب سے مجھے مالی تعاون حاصل نہیں ہوا۔ اس کا مطلب ہرگز ہرگز یہ نہیں ہے کہ میں کسی کے مالی تعاون کا متمنی تھا، یا کسی سے میں نے مالی تعاون کی اپیل کی تھی اور اس نے مجھے مایوس کیا۔ میں نے اس بات کی وضاحت کرنا ضروری اس لیے سمجھا کہ کسی کو بھی یہ غلط فہمی نہ ہو کہ کتاب کے سلسلے میں مجھے کسی فرد یا ادارے کی جانب سے کسی قسم کی مالی مدد حاصل ہوئی ہے۔ اوراقِ حیات کی اشاعت میرے ذاتی خرچ سے ہوئی۔
اوراقِ حیات کو تیار کرنے کے لیے جو میرے بس میں تھا وہ سب میں نے کیا، جہاں تک ممکن ہو سکا زیادہ سے زیادہ مواد اکٹھا کرنے کی کوشش کی اور اس کے حوالہ جات بھی کتاب میں درج کیے۔ اس کے علاوہ میں کمپیوٹر آپریٹ (computer operate) کرنا نہیں جانتا تھا، میں نے کمپیوٹر درست طریقے سے آپریٹ کرنا سیکھا۔ میں کمپیوٹر پر اُردو ٹائپنگ کرنا نہیں جانتا تھا، میں نے طویل محنت صرف کرکے کمپیوٹر پر اُردو ٹائپنگ سیکھی اور پوری کتاب خود سے ٹائپ کی۔ اگر میں اُردو ٹائپنگ نہ جانتا تو میرے لیے اتنی ضخیم کتاب تیار کرنا شاید ممکن نہ تھا۔ اِسی کے ساتھ میں نے ڈرائیونگ بھی سیکھی تاکہ میرا وقت آمد ورفت میں کم سے کم صرف ہو اور زیادہ سے زیادہ وقت میں اس کتاب کی تیاری میں صرف کرسکوں۔ یہ اس وجہ سے کہ مجھے مولانا وحید الدین خاں کی غیر مطبوعہ تحریروں کو دیکھنے کے لیے مولانا کی قیام گاہ پر جانا پڑتا تھا کیوںکہ ان غیرمطبوعہ تحریروں کو گھر لا کر دیکھنے کی اجازت مولانا نے نہیں دی تھی۔ مولانا کے پاس بس (bus) سے آنے جانے میں میرا وقت گھنٹوں کے حساب سے صرف ہوجاتا اور میں جسمانی طور پر تھک جاتا تھا۔ تاہم جب میں نے ڈرائیونگ سیکھ لی تو میرا مولانا کی قیام گاہ پر دن کے اوقات میں کسی بھی وقت جانا آسان ہوگیا۔ میں اپنی بائک (bike) سے مولانا کی قیام گاہ پر جاتا اور گھنٹوں مولانا محترم کی غیر مطبوعہ اور قدیم تحریروں کا مطالعہ کر کے اس سے منتخب اجزا اپنی کتاب کے لیے جمع کرتا۔ الحمد للہ! اس سے میرا وقت برباد ہونے سے بچ گیا اور میں نے منصوبے کے مطابق اپنے کام کو پورا کیا۔
میں یہاں اس بات کا بھی اقرار کرتا ہوں کہ یہ انتہائی مشکل کام تھا کیوں کہ مجھ کو مولانا وحیدالدین خاں کی تحریروں کے ہزارہا صفحات میں سے کچھ ہی صفحات منتخب کرنے تھے اور ترتیب دے کر انھیں سوانحی شکل دینا تھا۔ یہ کام کتاب لکھنے سے زیادہ مشکل تھا، کیوں کہ جب انسان کوئی کتاب لکھتا ہے، تو اس میں وہ اپنے نظریات پیش کرتاہے، اپنے مشاہدات و تجربات کی روشنی میں اپنے خیالات کو صفحہ قرطاس پر بکھیرتا ہے اور یہ ایک آسان کام ہوتا ہے۔
جب میں نے کتاب کی جمع و تدوین کا کام شروع کیا تو مجھے امید نہیں تھی کہ اتنی ضخیم کتاب تیار ہوجائے گی، مگر خدا کی مدد اور مخلص انسانوں کا تعاون حاصل رہا، جن کی مسلسل ہمت افزائیوں کے سبب میں نے اس کام کو پورا کرلیا۔ اس کے باوجود مجھے کافی مسائل و مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن اللہ کی مدد سے میں کتاب کا ایک باب لکھنے کے بعد ایک نئے عزم کے ساتھ دوسرے باب کو تیار کرنے کی ہمت اپنے اندر جٹاتا رہا۔ اللہ کا شکر ہے کہ میرے عزم اور میرے ارادے نے میرا ساتھ دیا یہاں تک کہ میں آج اس کی آخری سطریں تحریر کر رہا ہوں۔
یہاں میں مولانا وحیدالدین خاں کے ساتھ ہونے والی اس خاص ملاقات کا ذکر کرنا چاہوں گا جو نئی دہلی میں 26 جنوری 2014ء کو ہوئی۔ میں نے اس ملاقات کے دوران مولانا محترم سے کہا تھا کہ آپ کی سوانحِ عمری پر کام کرتے ہوئے مجھے آپ کی کامیابی کاراز معلوم ہوا۔ اور وہ یہ کہ آپ نے اپنی زندگی میں اپنے مشن کو ہمیشہ پرائمری درجے میں رکھا، ایک سکنڈ کے لیے بھی اُسے سکنڈری بننے نہ دیا، اِس لیے آپ کامیاب ہوئے۔ مولانانے میری بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے صحیح تجزیہ کیاہے، جزاک اللہ!
حرف آخر کے طور پر میں اپنا ایک احساس بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ میرا یہ احساس اوراقِ حیات کی تکمیل سے ہی تعلق رکھتا ہے، جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ بیسویں صدی عیسوی مسلم دُنیا کے لیے ایک تاریخی صدی تھی۔ اِس صدی میں مسلم دُنیا میں تجدید دین اور احیائے اسلام کے لیے کئی مفکرین اُٹھے۔ برصغیر ہند میں علامہ اقبال (وفات:1938ء)، مصر میں سید قطب (وفات:1966ء)، الجزائر میں مالک بن نبی (وفات:1973ء)، پاکستان میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی (وفات:1979ء)، ایران میں آیت اللہ خمینی (وفات:1989ء)، ہندوستان میں مولانا سید ابوالحسن علی ندوی (وفات :1999ء) اور اِسی فہرست میں مولانا وحیدالدین خاں کا بھی نام شمارکیا جاتا ہے۔ بیسویں صدی عیسوی میں اُبھرنے والے اُن تمام افراد کی وفات مولانا کی زندگی میں ہی ہوئی، جب کہ اِس فہرست کے آخری فرد مولانا وحیدالدین خاں کی وفات 2021ء میں ہوئی۔
میرا یہ احساس ہے کہ مجھے یہ عظیم سعادت نصیب ہو رہی ہے کہ میں بیسویں صدی عیسوی میں مسلم دُنیا میں احیائے دین کی نسبت سے کام کرنے والے اُن اصحابِ سبع میں سے ایک عظیم مفکر، دانشور، متکلم اور داعی مولانا وحیدالدین خاں کے کوائف حیات کو بنیاد بناکر نئے انداز کی ایک سوانحی کتاب پیش کررہا ہوں۔ اور اسی کے ساتھ میرا یہ بھی احساس ہے کہ مولانا وحیدالدین خاں کی مفکرانہ بصیرتیں نہ صرف عہدساز ہیں بلکہ صدیوں تک کے لیے اُن کی معنویت باقی رہے گی۔
اوراقِ حیات کا مقدمہ یوم آزادی کے موقع پر تحریر کیا گیا تھا۔ میں نے مقدمہ کا آخری پیراگراف ان الفاظ پر ختم کیا: یہ بڑا ہی عجیب حسن اتفاق ہے کہ آج مجھے ایک ساتھ تین تین خوشیاں مل رہی ہیں۔ ایک طرف تو مجھے اپنے وطن ہندوستان کی آزادی کی خوشی مل رہی ہے کیوں کہ آج ہی کی تاریخ کو میرا عظیم الشان وطن ہندوستان انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہوا تھا تو دوسری طرف مذہبی اعتبار سے میرے لیے آج ایک مبارک دن جمعہ ہے جس کی حدیث میں بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ اور تیسری طرف مجھے اِس بات کی بھی ازحد خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ میری کتاب سارے مراحل سے گزر کر اب پریس میں جارہی ہے اور آج میں اِس کا مقدمہ تحریر کررہا ہوں۔ الحمدللہ!
مجھے یہ لکھتے ہوئے ازحد خوشی ہو رہی ہے کہ اللہ کی مدد اور مخلص انسانوں کے تعاون کے سبب آج میں 983 صفحات پر مشتمل زیر نظر کتاب اوراقِ حیات قارئین کے سامنے پیش کررہا ہوں۔ زیر نظر کتاب ابتداً اردو میں شائع کی جارہی ہے۔ اس کے بعد ان شاء اللہ انگریزی، ہندی اور دیگر زبانوں میں شائع کی جائے گی۔ و باللّٰہ التوفیق!
اوراقِ حیات کا مسودہ:
اوراقِ حیات کا مسودہ جب تیار ہوا، میں نے بذات خود اس کی اصلاح تقریباً 20 بار کی، اس کے علاوہ اس مسودہ کو ایک درجن سے زائد افراد نے مطالعہ کیا اور اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ ان میں بطور خاص فاروق مضطر (راجوری، جموں و کشمیر)، پروفیسر سلیم وانی (راجوری، جموں و کشمیر)، سید اکبرالزماں (سری نگر، جموں و کشمیر)، مشفق سلطان (سری نگر، جموں و کشمیر)، شکیل الرحمٰن (کشن گنج، بہار) ، پروفیسر ظہیرالدین خواجہ (رائے چور، کرناٹک)، مولانا محمد ذکوان ندوی (لکھنؤ، اترپردیش)، ڈاکٹر ظفرالاسلام خان (نئی دہلی)، حافظ سلمان نوری (لکھنؤ، اترپردیش)، محمد اشرف یاسین (بستی، اترپردیش)، محمد دانش فضل (لکھنؤ، اترپردیش) اور مولاناعمران احمد اصلاحی (نئی دہلی) وغیرہ کا نام میں بطور خاص لینا چاہوں گا۔
اوراقِ حیات کے مسودہ کے سلسلے میں، مجھ کو کس قسم کے تاثرات مختلف لوگوں سے ملے، اس کو میں یہاں اختصار کے ساتھ اشتراک کرنا مناسب رہے گا۔
lبرادرم شکیل الرحمٰن (کشن گنج، بہار) نے اوراقِ حیات کا مطالعہ دل چسپی سے کیا اور اس بات کے لیے میرا شکریہ ادا کیا کہ میں نے انھیں مسودہ پڑھنے کا موقع عنایت کیا ہے۔ انھوں نے مجھ کو انگریزی میں ایس ایم ایس کیا:



Thank you brother Shah Imran Hasan for giving the opportunity and trust for reading your manuscript on our spiritual guru Maulana Wahiduddin Khan.



  23 اپریل 2013ء کو جب اوراقِ حیات آخری مرحلے کو پہنچ رہی تھی، میں مولانا وحیدالدین خاں کی قیام گاہ پر ان کی ذاتی تحریریں اور مسودات دیکھ رہا تھا، اس وقت مولانا محمد ذکوان ندوی میرے پاس آئے اور انھوں نے کہا کہ یہ لمحہ جو آپ کو یہاں آنے کا مل رہا ہے، اس کو غنیمت جانئے، یہ ایک تاریخی لمحہ ہے، ایسا لمحہ دوبارہ نہیں آئے گا اور یہ موقع کسی اور کو نہیں ملے گا۔
  9 فروری 2014ء کو محمد فاروق مضطر نے مولانا وحیدالدین خاں سے ایک اجتماعی ملاقات کی، اس میں اوراقِ حیات کے مسودہ پر بھی گفتگو ہوئی۔ اس ملاقات میں، میں بھی شامل تھا۔ ایک سوال کے جواب میں مولانا نے سب کے سامنے مجھ کو مخاطب کرکے کہا کہ شاہ عمران حسن صاحب ماہنامہ الرسالہ میں جو سائنسی مضامین شائع ہوئے ہیں، آپ انھیں ترتیب دیجئے، ایک نئی مذہب اور جدید چیلنج تیار ہوجائے گی۔
23  جنوری 2014ء کو مولانا وحیدالد ین خاں سے انٹرویو لینے لیے کے لیے ڈاکٹر عبدالحق الترکمانی ( لندن، برطانیہ) آئے ہوئے تھے۔ اس وقت میں بھی حاضر تھا وہاں۔ ڈاکٹر ثانی اثنین خاں نے ڈاکٹر عبدالحق الترکمانی سے انگریزی زبان میں میرا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ یہ جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کے طالب علم ہیں۔ ان کا نام شاہ عمران حسن ہے، یہ مولانا وحیدالدین خاں کی سوانحِ حیات پر کام کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالحق الترکمانی نے مجھ سے مل کر خوشی کا اظہار کیا۔
16 فروری 2014ء کو جب کہ مولانا وحیدالدین خاں سی پی ایس کلاس میں شرکت کے لیے رجت ملہوترا کے ساتھ جا رہے تھے، میں بھی مولانا کے ساتھ تھا۔
میں نے ان کو جب یہ خبردی کہ اوراقِ حیات مکمل ہوچکی ہے تو انھوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا جزاک اللہ۔
اس کے بعد انھوں نے کہا کہ میری زندگی کا وقت تو قریب آگیا ہے، آپ لوگوں کو اب مشن کا کام کرنا ہے، اس موقع پر مولانا نے مشہور مجاہد آزادی شہید اشفاق اللہ خان کا شعر سنایا:
کیے تھے کام ہم نے بھی جو کچھ بھی ہم سے بن پائے
یہ باتیں تب کی ہیں آزاد تھے اور تھا شباب اپنا
مگر اب جو کچھ بھی امیدیں ہیں وہ تم سے ہیں
جواں تم ہو لبِ بام آچکا ہے آفتاب اپنا
  محمد فاروق مضطر نے اوراقِ حیات کے مسودہ کو باربار پڑھا اور مختلف مشوروں سے بھی نوازا، ان کے مشورے کے بعد میں نے علامہ اقبال کا ایک شعر کتاب کے بالکل شروع میں شامل کیا کیوں کہ اس میں مولانا وحیدالدین خاں کی زندگی کی تقریباً ترجمانی ہو رہی تھی:
اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں بے گانے بھی ناخوش
میں زہرِہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند
22 فروری 2014ء کو فاروق مضطر نے اوراقِ حیات پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فریدہ خانم سے کہا کہ شاہ عمران حسن نے مولانا پر جو کام کیا ہے وہ 15-20 پی ۔ایچ۔ ڈی کا مقالہ لکھنے کے برابر ہے۔
  23 مئی 2014ء کو میں کتاب کے سلسلے میں ڈاکٹر ثانی اثنین خاں سے ان کے دفتر گڈورڈ (نمبر1، نظام الدین وسیٹ مارکیٹ، نئی دہلی) میں ملا۔ انھوں نے اوراقِ حیات کا مسودہ دیکھنے کے بعد کہا کہ ماشاء اللہ یہ تو بہت ہی جامع (comprehensive )کتاب تیار ہوگئی ہے۔
پروفیسر ظہیر الدین خواجہ کے تاثرات:
ماہنامہ الرسالہ کے مستقل قاری اور وی ایل کالج آف فارمیسی، رائچور(کرناٹک) کے پروفیسر ظہیر الدین خواجہ نے اوراقِ حیات کا مسودہ از اول تا آخر مطالعہ کرنے کے بعد 17جولائی 2014ء مطابق 18 رمضان 1435 ہجری کو اپنے جو تاثرات لکھے، اب و ہ کتاب کے پشت پر آویزاں ہیں۔
میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ پروفیسرظہیرالدین خواجہ نے اوراقِ حیات کا تنقیدی جائزہ لے کر مجھے یہ موقع دیا کہ میں کتاب کو مزید بہتر بنا سکوں۔ یہاں ان کے تاثرات ان کے اپنے الفاظ میں نقل کئے جاتے ہیں:
نئی نسل کے معتبر قلم کاروں کی صف میں شاہ عمران حسن کا نام بھی شامل ہے۔ اُنھوں نے بہت کم عرصہ میں ادبی حلقوں میں اپنی ایک منفرد پہچان بنا لی ہے ۔اُن کی متعدد تحریریں ہندوستان کے معیاری اخبار و جرائد میں شائع ہوکر دادِ تحسین حاصل کر چکی ہیں۔ اُن کا اسلوب بیان سادہ اور دل نشیں ہے۔
شاہ عمران حسن کی پیدائش شمالی بہار کے ایک دور اُفتادہ گاؤں سعدپور (ضلع بیگوسرائے، بہار) میں 5 فروری 1986ء کو ہوئی۔ گاؤں میں اپنی زندگی کے ابتدائی 11 سال گزارنے کے بعد 1994ء میں وہ مونگیر منتقل ہوگئے۔مونگیر میں اُنھوں نے مستقل 13 سال قیام کیا، اس دوران اُنھوں نے اپنی ابتدائی اور ثانوی درجات کی تعلیم مکمل کی۔2005ء میں آر ڈی اینڈ ڈی جے کالج، مونگیر (R.D.& D.J.College) سے اُنھوں نے پولیٹیکل سائنس (political Science) میں گریجویشن (graduation) کیا۔ پھر2007ء میں وہ نئی دہلی منتقل ہوگئے اور یہاں کے مشہور تعلیمی ادارہ جامعہ ملیہ اسلامہ (نئی دہلی) سے بی ایڈکیا۔ وسیع پیمانے پر دین و ملت اور اُردو زبان و ادب کی خدمت انجام دینے کے لیے 2011ء میں اُنھوں نے نئی دہلی میں ایک اشاعتی ادارہ رہبر بُک سروس (Rahbar Book Service) قائم کیا۔ اِس ادارے کے تحت اسلامی اور ادبی موضوعات پر مختلف کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔
شاہ عمران حسن نے مختلف موضوعات پر مضامین و مقالے لکھنے کے علاوہ، متعدد سمینار اور کانفرنس میں بھی شرکت کی ہے۔ 2012ء میں اُنھوں نے ہندوستان کے مشہور عالم دین اور مجاہد آزادی مولانا منت اللہ رحمانی (1912-1991)ء کی حیات و خدمات پر مشتمل ایک مفصل سوانحی کتاب حیاتِ رحمانی لکھی، جس کو اہلِ علم نے کافی پسند کیا اور بہار اُردو اکادمی کی جانب سے اس کتاب پر 2014ء میں اُنھیں قاضی عبدالودود ایوارڈ سے نوازا گیا۔
اوراقِ حیات شاہ عمران حسن کی بے پناہ مشقت اور تحقیق و تفتیش کا ثمرہ ہے۔ میرے علم کے مطابق، اُنھوں نے اس کتاب کی تیاری میں تنہا ایک ٹیم کے برابر کام کیا ہے۔ واضح ہو کہ اس کی تیاری میں شاہ عمران حسن نے عالم اسلام کے معروف داعی اور مفکر مولانا وحیدالدین خاں کی تحریروں کے 50 ہزار سے زائد صفحات کا مطالعہ کیا۔
پھر اس کتاب کو انھوں نے سوانحی انداز میں ترتیب دیا، جس میں مولانا کی زندگی اور اُن کی دعوتی خدمات سے متعلق معلومات کو خود مولانا محترم کی مطبوعہ اور غیر مطبوعہ تحریروں کی روشنی میں جمع کیا۔ اس کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ پوری کتاب پُر از واقعات ہے، جس میں مولانا کی زندگی کے متنوع تجربات و احساسات کا احاطہ کیا گیا ہے۔
زیر نظر کتاب مولانا وحیدالدین خاں کی دینی و علمی خدمات کا تقریباََ مکمل احاطہ کرتی ہے۔ یہ کتاب سوانحی لٹریچر میں بلاشبہ ایک قیمتی اضافے کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ کتاب اگرچہ مولانا کی سوانحِ عمری ہے، مگر اِس میں آپ بیتی کا انداز غالب ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ کتاب خود مولانا موصوف کی خودنوشت تحریروں کی بنیاد پرتیارکی گئی ہے۔ امید ہے کہ علمی حلقوں میں اس کو پسندیدگی کی نظرسے دیکھا جائے گا اور یہ کتاب مولانا وحیدالدین خاں کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں اوران کے مشن کو سمجھنے میںممدومعاون ثابت ہوگی۔
مولانا وحیدالدین خاں کی سوانح حیات لکھنے کا کام الرسالہ مشن کے تمام ساتھیوںپر ایک قرض تھا، جس کو شاہ عمران حسن نے بحد مقدور ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔
اِس کام کے لیے الرسالہ مشن کے تمام لوگوں کو اُن کا شکرگزار ہونا چاہئے۔ اور الرسالہ مشن کے لوگ اب اِس سلسلے کا مزیدکام انجام دے سکتے ہیں۔ اوراقِ حیات کا یہ نقشِ اوّل، ان شاء اللہ، اِس کی نقشِ ثانی کے لیے بنیادی دستاویز ثابت ہوگا۔
میں اس اہم ترین تحقیقی کام کرنے پر شاہ عمران حسن کو مبارک باد دیتا ہوں، اور ان کے لیے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اُنھیں ثابت قدم رکھے، اور جو قلمی صلاحیت اللہ تعالیٰ نے اُنھیں عطا کی ہے، اس سے وہ مثبت کام لیتے رہیں۔ آمین!
خیال رہے کہ پروفیسر ظہیرالدین خواجہ نے اوراقِ حیات کا مسودہ دیکھ کر کہا تھا کہ پوری کتاب عبرت اور سبق کے انداز میں لکھی گئی ہے، اس قسم کی سوانح عمری تاریخ میں نہیں لکھی گئی ہے۔
یہ بات میں 18 مئی 2014ء کو مولانا وحیدالدین خاں کو بتا چکا تھا، جب انھوں نے پوچھا تھا کہ ظہیر الدین خواجہ کا تاثر اس کتاب پر کیا ہے۔
جاوید احمد غامدی:
میں نے اوراقِ حیات پر پیغام لکھنے کے سلسلے میں معروف عالم دین جاوید احمد غامدی کو یکم اگست 2014ء کو ایک خط لکھا، اس خط کی عبارت یہاں نقل کی جاتی ہے:
قابلِ احترام جاوید احمد غامدی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاۃ
خداکرے آپ بخیر ہوں۔
آپ کو یہ اطلاح دیتے ہوئے میں ازحد خوشی محسوس کررہا ہوں کہ میں نے ہندوستان کے عظیم مفکر اور صاحب ِبصیرت عالم دین مولانا وحیدالدین خاں کی سوانح عمری مرتب کی ہے۔ واضح ہو کہ یہ کتاب مولانا موصوف کی خودنوشت تحریروں کی مددسے تیار کی گئی ہے، جس کا نام اوراقِ حیات ہے۔ کتاب تقریباََ ایک ہزار صفحات پر مشتمل ہے اور ان شاء اللہ یہ کتاب ستمبر 2014ء کے پہلے ہفتے میں شائع ہوگی۔ مگر اس سے قبل میں چاہتا ہوں کہ اس کتاب پر کوئی ایسی شخصیت اپنا پیغام یا اپنے تاثرات لکھے جو مولانا وحیدالدین خاں کے علمی کارناموں اور بصیرتوں سے بخوبی واقف ہو۔ چوں کہ آپ مولانا موصوف کے علمی کارناموں سے نہ صرف بخوبی واقف ہیں بلکہ بارہا آپ نے اپنی تقریروں اور تحریروں میں مولانا کا حوالہ دیا ہے، اس لیے میں چاہتا ہوں کہ آپ میری اس کتاب پر اپنا تاثر ضرور پیش کریں۔
آپ سے میرا غائبانہ تعارف المورد ہند کے فعال رکن برادرم اکبرالزماں سے ہوا، واضح ہو کہ اکبرالزماں ہندوستان میں المورد کی مجلسِ شوریٰ کے رکن ہیں، اُنھوں نے آپ کی کتاب میزان مجھے ہدیتاََ دی تھی، جس سے میں برابر استفادہ کررہا ہوں۔ اس کے بعد میں نے انٹرنیٹ پر آپ کی کئی چیزیں پڑھیں اور آپ کے لیکچر بھی سننے کا اتفاق ہوا۔ حال میں، میں نے آپ کی کتاب مقامات پڑھی۔ اس کے مطالعے نے آپ کے تعلق سے میرے دل میں عقیدت و احترام کا جذبہ پیدا کیا۔ نیز آپ کے ذریعہ کی گئی قرآن کی تفسیر البیان بھی میرے مطالعہ کی فہرست میں ہے۔ ان شاء اللہ جلد ہی اس کا مطالعہ بھی شروع ہوگا۔
آپ سے میری مؤدبانہ درخواست ہے کہ آپ میری کتاب کے لیے کوئی پیغام تحریر کردیں۔ حالاں کہ آپ جیسی بلند و بالا شخصیت سے تو یہ درخواست کی جانی چاہئے تھی کہ آپ مقدمہ تحریر کریں، مگر مجھے آپ کے کاموں اور آپ کی مصروفیت کا اندازہ ہے، اس لیے یہ کام آپ سے کرانا آپ کو زحمت دینے کے مترادف ہوگا۔ اس لیے میں چاہتا ہوں، میری کتاب اور مولانا وحیدالدین خاں کے تعلق سے ایک مختصر سا پیغام اپنے دستخط کے ساتھ مجھے بھیج دیں تاکہ میں اس پیغام کو بطور سند اپنی کتاب میں شامل کرسکوں۔
میں یہاں یہ بات بھی عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ میں نے یہ کام اپنی ذاتی ذمہ داری پر کیا ہے اور مولانا محترم نے میرے اس کام کی تائید کی ہے۔ تاہم اس کا مولانا موصوف کے ادارے یعنی سی پی ایس انٹرنیشنل، القرآن مشن، الرسالہ مشن یا گڈورڈبکس وغیرہ سے کوئی انتظامی تعلق نہیں ہے اور یہ کتاب میرے ذاتی اشاعتی ادارے رہبربُک سروس سے شائع کی جائے گئی۔ انشاء اللہ!
یکم اگست 2014ء، دعاگو
نئی دہلی، شاہ عمران حسن
اُن دنوں جاوید احمد غامدی ملیشیا کے شہر شاہ عالم میں مقیم تھے، میرے خط کے صرف پانچ دنوں کے بعد 6 اگست 2014ء کو انھوں نے اپنے لیٹر ہیڈ پر اپنے دستخط کے ساتھ حسب ذیل عبارت لکھ کر بھیجی، جو کہ اب اوراقِ حیات(صفحہ:10) میں شامل ہے:
مولانا وحیدالدین خاں نے دین کی سیاسی تعبیر کی غلطی ایسے محکم استدلال کے ساتھ واضح کردی ہے کہ اب کسی سلیم الطبع آدمی کے لیے اُس سے اختلاف کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ دورِ حاضر میں جینے کے لیے امت مسلمہ کو جو رہنمائی اُنھوں نے دی ہے، اس میں بھی بیسویں صدی عیسوی کے زعما و مفکرین میں اُن کا کوئی مثیل تلاش نہیں کیا جاسکتا۔ یہ اُن کے وہ عظیم کارنامے ہیں جن پر اُن کو جتنا خراجِ تحسین پیش کیا جائے،کم ہے۔ اقبال، ابوالکلام، ابوالاعلیٰ اور مدرسہ فراہی کے ائمہ و اکابرکے مابین، میں اُن کو ایک برزخ کی حیثیت سے دیکھتا ہوں۔ آپ نے اُن کے حالات و سوانح لکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اِس پر آپ، ہم سب کی طرف سے شکریے کے مستحْْق ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی اِس کاوش کو شرفِ قبولیت عطا فرمائیں۔
یہ بڑا عجیب حسن اتفاق ہے کہ اوراقِ حیات کی اشاعت کے بعد جاوید احمد غامدی نے اس کتاب کا اجرا بھی اپنے دست مبارک سے کوالالمپور (ملیشیا) میں اپنے رفقاء کے درمیان پیغام لکھنے کے ایک برس کے بعد 15 اگست 2015ء کو کیا۔ الحمدللہ! ان کے رفیق خاص محمدحسن الیاس نے بتایا کہ اجرا کے دوران جاوید احمد غامدی نے کہا: یہ مولفِ کتاب شاہ عمران حسن کی بہت اچھی کوشش ہے جس سے مولانا وحیدالدین خاں کی شخصیت کے بارے میں بہت معلومات ملتی ہیں۔
مولانا عہد ساز شخصیت ہیں اِس لیے ان کو جاننا، سمجھنا اور پڑھنا چاہئے۔ مرتب کتاب نے بھی بہت کمال کیا ہے کہ مولانا کی اپنی لکھی ہوئی ساری چیزوں کو تلاش کرکے زندگی کے حالات و واقعات کی شکل میں قلم بند کیا، اس کے لیے وہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔ (حیاتِ غامدی، از شاہ عمران حسن، صفحہ:15، سال اشاعت: 2017ء، ناشر: رہبر بُک سروس، نئی دہلی)
ایک طرف جہاں جاوید احمد غامدی نے مولانا وحیدالدین خاں کے بارے میں ایک مثبت تاثر پیش کیا تھا، وہیں دوسرا ایک عجیب اتفاق اور بھی ہوا، جب مولانا نے جاوید احمد غامدی کے کام کو عمدہ الفاظ میں سراہا۔
اوراقِ حیات کی اشاعت کے دو برس بعد یکم اکتوبر2017ء کو مولانا وحیدالدین خاں نے جاوید احمد غامدی کے بارے میں ایک ویڈیو رابطہ عامہ کی ویب سائٹ فیس بکپر نشرکیا اور اس میں انھوں نے غامدی صاحب کا غیر معمولی اعتراف کیا ہے، 3 اکتوبر2017ء کو یہ ویڈیو یوٹیوب پر اپلوڈ (Upload) کیا گیا، اس کا لنک حسب ذیل ہے:
https://www.youtube.com/watch?v=b3jGE0fxJdU&feature=youtu.be
اس ویڈیو میں مولانا نے کہا کہ میں جاوید احمد غامدی کو بہت قریب سے جانتا ہوں۔ اُن سے میری ملاقات بھی ہوئی ہے۔ اُن کی کتابیں بھی میں نے پڑھی ہیں۔ اُن کے میگزین برابر میرے مطالعہ میں رہتے ہیں۔ میں نے یہ پایا ہے کہ جاوید احمد غامدی سے مجھ کو بہت زیادہ قربت ہے۔ اگر میں یہ کہوں تو شاید درست ہوگا کہ میں اور جاوید احمد غامدی گویا اِس معاملے میں تَوأم برادر (twin brothers) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ دونوں میں بہت زیادہ مشابہت ہے۔ دونوں کا کنسرن (concern) ایک ہے، وے آف تھنکنگ (way of thinking) ایک ہے۔
اِس زمانے میں مسلم امہ کے ریوایول (revival) کے لیے جو کام انجام دینا ہے، اُس کے لیے جاوید احمد غامدی صاحب ایک امید کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اُنھوں نے بہت حکمت کے ساتھ اور بہت مستعدی کے ساتھ اپنے کام کو مشکلات کے باوجود جاری رکھا ہے۔ میری دعا ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اُن کے ساتھی بنیں اور اُن کے کام کو تقویت پہنچائیں۔
جاوید احمد غامدی اگرچہ عمر میں مجھ سے چھوٹے ہیں، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ علم میں اور عقل میں وہ مجھ سے زیادہ ہیں۔ عمر میں وہ مجھ سے چھوٹے ہوسکتے ہیں، لیکن عقل میں اور علم میں وہ مجھ سے زیادہ ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ میں اپنے آپ کو ان کا فالوور (follower) کہنے میں اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہوں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالی جاوید احمد غامدی کے مشن کو خوب خوب فروغ عطا فرمائے۔ اُن کو زیادہ سے زیادہ ساتھی ملیں، ساری دُنیا میں اُن کا کام زیادہ سے زیادہ پھیلے اور لوگوں کے لیے نافع بنے۔ جب بھی ڈاک میں اُن کی کوئی چیز آتی ہے تو میں اُس کو ضرور پڑھتا ہوں اور اُس سے فائدہ اُٹھاتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ مجھ کو اور جاویداحمد غامدی کو جنت میں یکجا فرمائے۔ آمین! یارب العالمین! (ماہنامہ اشراق، لاہور، بابت جنوری 2018ء، صفحہ:55-56)
کچھ اور باتیں:
 8 اگست 2014ء کو مختلف اُردو اخبارات میں اوراقِ حیات کی اشاعت سے متعلق خبریں شائع ہوئیں۔ مثلاً روزنامہ ہندوستان اکسپریس اور روزنامہ ہمارا سماج نے حسب ذیل سرخی لگائی:
مولانا وحیدالدین خاں کی سوانح عمری اوراقِ حیات جلد منظرعام پر
2 اکتوبر 2014ء کو صبح کے 6 بج کر 55 منٹ پر مولانا وحیدالدین خاں کا فون آیا۔ انھوں نے کہا کہ آپ نے جو کتاب تیار کی ہے، اس کو پڑھوا کر سن رہا ہوں۔ ماشاء اللہ آپ نے قابل قدر کام کیا ہے۔ اس کے لیے آپ نے بہت زیادہ محنت کی ہے۔ میں نے نہیں سمجھا تھا کہ آپ نے اتنی محنت کی ہوگی اور جب مولانا سے 5 اکتوبر2014ء کو براہ راست ملااقات ہوئی تو مولانا نے کہا کہ آپ نے وہ محنت کی ہے، جس کو اردو میں عرق ریزی کہتے ہیں۔ آپ کی کتاب الرسالہ مشن کی درست نمائندگی کرے گی، ان شاء اللہ!
25  جنوری 2015ء کو میں نے مولانا وحیدالدین خاں سے ان کے گھر سے متصل پارک میں ملاقات کی اور اپنے اورنگ آباد (مہاراشٹر) کے سفر ی تجربات ان کو سنائے اس کو سن کر انھوں نے خوشی کا اظہار کیا۔
lسی پی ایس انٹرنیشنل کی قومی دعوہ میٹ 2 اپریل 2015ء کو انڈیا انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) میں ہوئی۔ اس خاص موقع پر مولانا وحیدا لدین خاں نے مجھ کو یہاں اپنی انگریزی کتاب اسلام اینڈ ورلڈ پیس (Islam & World Peace) اپنے دستخط کے ساتھ دی۔ میں نے اس پروگرام میں رجت ملہوترا سے اجازت لے کر کچھ گفتگو کرنی چاہی تھی تاہم انہوں نے معذرت پیش کردی۔ اس پروگرام میں پروفیسر سلیم وانی کی خصوصی درخواست پر شریک ہوا تھا کیوں کہ میں ان دنوں بے حد مصروف تھا۔
27  جون 2015ء کو کتاب او راقِ حیات چھپ کر آگئی، میں نے اس کے لیے دو رکعت نماز کے ساتھ اللہ کا شکر ادا کیا اور دعا کرتے ہوئے کہا کہ خدایا تو اس کتاب کو خیر کا ذریعہ بنا۔
30 جون 2015ء  کو نئی دہلی سے شائع ہونے والے اُردو کے تمام روزناموں میں اوراقِ حیات کی اشاعت کی خبریں شائع ہوئیں۔ مثلاً ہمارا سماج، روزنامہ خبریں، روزنامہ پرتاپ وغیرہ۔
10lجولائی2015ئ کو میں نے مولاناوحیدالدین خاں کے بڑے صاحبزادے ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو اوراقِ حیات کا دو عدد نسخہ دیا۔ انھوں نے زبردستی میری جیب میں 700 روپہ ڈال دیا اور کہا اس کو شائع کرنے میں آپ کا بہت پیسہ لگا ہوگا۔
الرسالہ ریڈرس فورم:
3 جون 2015ء کو میں نے واٹس اپ پر الرسالہ ریڈرس فورم کے نام سے ایک گروپ بنایا، یہ مفید گروپ تھا جس کے دور رس نتائج نکل سکتے تھے۔
اس میں، میں نے لکھا تھا کہ ہمارے درمیان آپسی تبادلہ خیال کی کمی ہے۔ رابطے نہ ہو نے کے سبب ہم ایک دوسرے کو سمجھ نہیں پاتے ہیں۔ اس کا سب سے آسان ذریعہ علمی تبادلہ خیال ہے۔ واٹس اپ اس کا ایک بہتر متبادل ہے۔
اس گروپ سے بہت سے لوگ جڑے اور ان کو فائدہ بھی ہوا۔ انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اس سے ان کا ذہنی ارتقا ہوا ہے۔ تاہم یہاں بھی انانیت کا جذبہ غالب آیا اور مجھ کو ایک برس کے بعد اس گروپ کو ختم کردینا پڑا۔
اس گروپ میں ڈاکٹر ثانی اثنین خان اور ڈاکٹر فریدہ خانم وغیرہ سب شامل ہوئے۔ اس گروپ کو بنانے پر شاہ نواز ظفر (نئی دہلی)، حافظ یعقوب عمری (کرناٹک)، ڈاکٹر ثانی اثنین خان (نئی دہلی)، حافظ محمد دانیال (پٹنہ) شکیل الرحمٰن (کشن گنج)، مولانا عبدالباسط عمری (قطر)، ڈاکٹر اویس صدیقی (نئی دہلی)، پروفیسر ظہرالدین خواجہ، مولانا سید اقبال احمد عمری (تمل ناڈو)، رفیع چوغلے (ممبئی) وغیرہ نے دادو تحسین سے نوازا۔
میں نے گروپ میں 30 جون 2015ء کو اس اکی اطلاع دی کہ اوراقِ حیات شائع ہوگئی ہے۔ گروپ کے بیشتر افراد نے خوشی کا اظہار کیا اور کہا یہ بڑا کام ہے۔
اس موقع پربلال الدین (بھوپال) نے 31 جولائی 2015ء کو لکھا: اورقِ حیات مولانا وحیدالدین خاں کی سرگزشت حیات کے طور پر برادرم شاہ عمران حسن کی دس بارہ سالوں کی محنت کے نتیجے میں سامنے آ ئی ہے۔
میرا احساس یہ ہے کہ شاہ عمران حسن نے کتاب کو ترتیب دینے میں نہ یہ کہ ایمانداری سے کام لیا ہے بلکہ اوراق حیات کو ایک داعی اور مشنری اسپرٹ کے ساتھ تکمیل کو پہنچایا ہے۔ اس میں الرسالہ کی خوشبو دعوتی عزم اور فکر آخرت ہر صفحہ پر دیکھی جاسکتی ہے۔ قارئین الرسالہ اور ہر وہ شخص جو دعوتی کام سے د ل چسپی رکھتا ہو، اس کے لیے اس میں قیمتی مواد یکجا کردیا گیا ہے۔ میں مولانا وحیدالدین خاں سے 1976ء سے جڑا ہوا ہوں جب کہ الرسالہ کی قیمت صرف دو روپے ہوا کرتی تھی۔
اوراقِ حیات کے کچھ حصے وہ ہیں جن سے میرا ذاتی تعلق رہا ہے۔ اس کو پڑھ کر ایسا لگا کہ میں واپس اُس دور میں پہنچ گیا ہوں۔ مثلاً الرسالہ کا پہلا اجتماع، حیدرآباد میں مرکز اسلامی کی شاخ کا قیام اور اس کے بعد مولانا محمد ہاشم القاسمی کا اس پر ناجائز قبضہ کرلینا، بھوپال سے وکیل پریم نارائن گپتا کو لے کر قانونی کاروائی کے لیے میرا حیدراباد کا سفر کرنا، وغیرہ۔ شاہ عمران حسن اگر مولانا وحید الدین خاں پر پی۔ ایچ۔ ڈی کرتے تو اوراقِ حیات کے مقابلہ وہ کام زیادہ آسان ہوتا۔
اس کے بعد اگرچہ الرسالہ ریڈرس فورم فعال رہا، اس میں متعدد افرد کچھ نہ کچھ اشتراک کرتے رہے، تاہم بحث و مباحثہ کے بعد گروپ کی افادیت ختم ہوگئی۔ بالآخر میں نے گروپ بننے کے ایک برس بعد اس کو ختم کردیا۔ میں نے اپنی آخری عبارت (3جون2016ء) میں حسب ذیل باتیں کہیں:
میں نے الرسالہ ریڈرس فورم گروپ کو آج سے ایک سال قبل 3 جون 2015ء کو بنایا تھا۔ میرا ارادہ تھا کہ اس گروپ کے ذریعے الرسالہ مشن کے ساتھی آپس میں جڑیں گے اور ان کا ذہنی ارتقا ہوگا۔ میں نے یہ کام نیک نیتی سے شروع کیا۔ مگر الرسالہ مشن کے برعکس یہاں بھی مسلمانوں کا عمومی مزاج غالب آیا اور لوگ آپس میں اُلجھ گئے اور پھر اس کا فائدہ نہیں ہو پایا۔
اس لیے مولانا وحید الدین خاں نے کوئی گروپ نہیں بنایا ہے ورنہ یہاں بھی ممبر شپ کی جنگ جاری ہو جاتی، رہا سوال سی پی ایس کا تو یہ صرف ایک نام ہے جو مولانا وحید الدین خاں کے بقول تالیف قلب کے لیے شروع کیا گیا ہے اور اسی لیے یہاں ممبر شپ کا کوئی جھگڑا نہیں ہے، سب لوگ جو مولانا کی تحریر کا مطالعہ کرتے ہیں اپنی سطح پر اس کی تبلیغ و اشاعت کرتے ہیں۔
الرسالہ ریڈرس فورم میں میری یہ آخری پوسٹ ہے۔ اسی کے ساتھ اس گروپ کو اب بند کیا جاتا ہے. ماہنامہ الرسالہ ہندی اور انگریزی بھی بند ہوئے، اس میں کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے۔ کوئی بھی کام شروع ہوتا ہے اور ختم ہو جاتا ہے، جب کسی کام کا کوئی نتیجہ نہ نکل رہا ہو تو اس کام کو بند کرکے دوسرا کام شروع کرنا چاہئے، اسی میں سب کی بھلائی اور بہتری ہے۔ اگر میری وجہ سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہو تو میں معذرت خواہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب پر رحم فرمائے ۔آمین!
مشن سے تعلق:
الرسالہ مشن کے تعلق سے میرے دل میں تعاون اورخدمت کا جو جذبہ موجود تھا، اس کو میں نے کتاب کی شکل میں پورا کرکے دکھادیا۔ میری جیسی وسعت تھی، اس کے مطابق، میں نے کتاب پرکام کیا اور ہر آدمی کو اپنی وسعت اور صلاحیت کے مطابق ہی کام کرنا چاہئے۔ میں نے یہ کام خلوص دل، نیک نیتی اور بے غرضانہ طور پر فی سبیل اللہ کیا ہے۔ میں نے یہ کتاب اپنی ذاتی ذمہ داری پر تیار کی ہے۔ میں نے یہ کام خود سے کیا ہے، مجھے اس کام کو کرنے کی مولانا وحیدالدین خاں یا کسی نے بھی ہدایت نہیں دی تھی۔ بے شمار قربانیاں دینے کے بعد میں نے یہ کام اللہ رب العزت کی خصوصی توفیق سے پورا کیا ہے۔ تاہم اُن قربانیوں کی تفصیلات درج کرنا یہاں ممکن نہیں ہے۔
خیال رہے کہ کتاب کی تیاری کے دوران مولانا نے بارہا مجھ سے کہا تھا کہ کتاب کے تعلق سے جو بھی مواد چاہئے وہ مولانا محمد ذکوان ندوی سے لیں، یہی بات ڈاکٹر ثانی اثنین خاں نے بھی کہی تھی۔ انھوں نے یہاں تک کہا کہ مولانا محمد ذکوان ندوی نے الرسالہ پورا کا پورا یاد کرلیا ہے۔ اسی طرح مولانا وحیدالدین خاں کی صاحبزادی ڈاکٹر فریدہ خانم نے بھی مجھ سے بارہا کہا کہ مولانا محمد ذکوان ندوی سے آپ تعاون لے لیں۔
مولانا وحیدالدین خاں کی سوانح عمری مرتب کرنے کی ضمن میں کسی سے میرا کوئی تحریری معاہدہ نہیں ہوا تھا کہ میں ہی مولانا کی سوانح عمری تیارکروں، یہ کام تو میں نے بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی خصوصی توفیق سے خود اپنی استطاعت پر کیا ہے۔
جب میں نے مولانا کی کتاب ڈائری ۔1991-1992ء کا مطالعہ کرتے وقت مولانا کی اپنی سوانح عمری مرتب کرنے سے متعلق ہدایت ( ڈائری۔ 1991-1992ء، صفحہ: 253) دیکھی تو اسی وقت میں نے فیصلہ کیا کہ یہ کام میں انجام دوں گا اور اللہ کی توفیق سے میں نے یہ کام انجام دے دیا۔
مولانا وحیدالدین خاں کے مثبت پہلوؤں سے لوگوں کو آگاہ کرنے کے لیے میں نے اوراقِ حیات تیار کی۔ مجھے مولانا سے جذباتی محبت اور لگاؤ نہ ہوتا تو کیوں میں اپنی جوانی کے بہترین سال صرف کر کے مولانا کے مشن کو مستحکم کرنے کے لیے کتاب تیارکرتا۔
اللہ رب العزت کا احسان ہے کہ اس کتاب کے ذریعہ مولانا کے بارے میں مسلمانوں میں پھیلی ہوئی غلط فہمیاں دور ہو رہی ہیں اور مسلسل میرے پاس پیغامات آئے اور آرہے ہیں کہ مولانا وحیدالدین خاں کو پہلی مرتبہ اوراقِ حیات کے ذریعہ جانا ہے ۔
رسم اجرا:
عام طورپر اہل علم نے اِس بات کو تسلیم کیا ہے کہ اوراقِ حیات ایک ایسی کتاب ہے، جس کے بغیر مولانا وحیدالدین خاں کے فکر و افکار اور کام کو سمجھنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ اس لیے کہ اِس وقت دُنیا میں مولانا موصوف کی حیات و خدمات کو جاننے کا واحد ذریعہ ہے۔ اِس کتاب کا امتیاز یہ ہے کہ یہ خود مولانا موصوف کی اپنی تحریروں پر مبنی ہے۔ اِس اعتبار سے، یہ کہنا درست ہوگا کہ کتاب اوراقِ حیات مولانا وحیدالدین خاں کی ایک خودنوشت سوانح حیات کی حیثیت رکھتی ہے۔
اس کتاب کا اجرا کتاب کی اشاعت کے ایک سال بعد7 جون 2016ء کو مشہور ادیب اور بہار اُردو اکادمی کے سکریٹری مشتاق احمد نوری کے دست مبارک سے اکادمی کے احاطے میں پٹنہ (بہار) میں ہوا۔ جس میں پٹنہ کے ممتاز قلم کار مثلاً قاسم خورشید، صفدر امام قادری اور خورشید اکبر وغیرہ نے شرکت کی، اُس سے متعلق خبریں 8 جون 2016ء کو ہندوستان کے تقریباً تمام اُردو روزنامے میں شائع ہوئیں، روزنامہ فاروقی تنظیم (پٹنہ) نے رسمِ اجرا کی سُرخی یہ لگائی: اوراقِ حیات مولانا وحیدالدین خاں کی حیات و خدمات کو جاننے کا واحدذریعہ۔
اوراقِ حیات پر ہندوستان کے اخبار و رسائل میں بڑی تعداد میں تبصرے ہوئے، ان تمام تبصروں کو یہاں نقل کرنا ممکن نہیں ہے۔ کتاب سے متعلق یہاں دو مفصل تبصرے نقل کیے جارہے ہیں:
شکیل رشید کا تبصرہ:
تقریباً ایک ہزار صفحات کی کتاب اوراقِ حیات جب مجھے ملی تو یہ سوچ کر ڈر بھی لگا کہ اتنی ضخیم کتاب کیسے پڑھی جائے گی اور کیسے اس پر تبصرہ کیا جائے گا اورحیرت و تعجب بھی ہوا کہ شاہ عمران حسن نے اس کتاب کو قارئین تک پہنچانے کے لیے کیسی زبردست محنت کی ہوگی اور کتنی ہی کتابوں کا باریک بینی سے مطالعہ کیا ہوگا! باریک بینی سے بہت ساری کتابوں کے مطالعے کے بغیر اس کتاب کا منظر پر آنا ممکن نہیں تھا۔
ناممکن ہونے کا سبب اس کتاب کی ہیئت یا انداز پیش کش ہے۔ کتاب کا موضوع مولانا وحید الدین خاں کی حیات ہے، شا ہ عمران حسن نے کتاب کے عنوان کا جو ضمنی عنوان لگایا ہے اس سے موضوع کی مزید وضاحت ہوتی ہے مولانا وحید الدین خاں کی خودنوشت تحریروں پر مبنی سبق آموز اورجامع سوانحی کتاب یعنی مولانا وحید الدین خاں نے جو کچھ لکھا ہے اس میں سے ان کی اپنے، اپنے خاندان، اپنے احبا ب و متعلقین وغیرہ کے تعلق سے جو کچھ تحریر ہے؛ انھیں چھانٹ کر اس طرح سے ترتیب دینا کہ مولانا موصوف کی خود کی زبان میں ایک سوانحی کتاب سامنے آجائے! اور یہ کام آسان نہیں ہے، مگر شاہ عمران حسن نے یہ کام بلکہ کارنامہ کر دکھایا ہے۔ جی ہاں یہ کتاب بلاشک و شبہ ایک کارنامہ کہلانے کی مستحق ہے۔
کارنامے اسی وقت ہوتے ہیں جب انھیں انجام دینے والے خود سے بھی بے خبر ہو کر اس کام میں لگ جائیں جو انجام تک پہنچ کر کارنامہ کہلائیں۔ شاہ عمران حسن مولانا وحید الدین خاں کی سوانحی کتاب قارئین تک پہنچانے میں اس لیے کامیاب رہے کہ انھیں مولانا سے بے انتہا لگاؤ ہے اور اسی لگاؤ اور چاہت نے انھیں اس کام کے لیے اُکسایا۔
وہ چاہتے تھے کہ مولانا کی ایک ایسی سوانح لوگوں کے سامنے آجائے، جو خود ان کی اپنی تحریر میں ہو اور جو انھیں لکھنا بھی نہ پڑے۔ آغاز کلام کے عنوان سے شاہ عمران حسن اس کتاب کو پیش کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے لکھتے ہیں: کوئی ایسی کتاب میری نظر سے نہیں گذری جس میں مولانا کی زندگی اور مشن کا مکمل احاطہ کیا گیا ہو، جس کا راقم الحروف کو شدت سے احساس ہوا اور پھر میں نے فیصلہ کیا کہ ان شاء اللہ یہ کام میں سر انجام دوں گا اور اللہ کی توفیق سے میں نے نہایت ہی صبر کے ساتھ اس کام کوپایہء تکمیل تک پہنچایا اور پھر زیرنظر کتاب، اوراقِ حیات، لمبی مشقت و جدوجہد کے بعد وجود میں آئی۔
شاہ عمران حسن اور مولانا وحید الدین خاں کے درمیان رشتہ جو شروع ہوا وہ تنقید سے ہوا لیکن تنقیدی ذہن ہی شاہ عمران حسن کو مولانا موصوف کے پاس لے گیا اوربقول شاہ عمران حسن مولانا سے ملاقات کے بعد میرے اندر دعوت الیٰ اللہ کے کام کرنے کے سلسلے میں مزید تقویت ملی اور پھر میں نے ارادہ کیا کہ مونگیر میں مولانا کی کتابوں پر مشتمل ایک لائبریری قائم کی جائے اس سلسلے میں میں نے ساری تیاریاں مکمل کرلی تھیں اور مولانا کی تقریباً ساری اردو، ہندی اور انگریزی کی مطبوعات بھی منگوالی تھیں مگر مجھے مونگیر چھوڑ کر نئی دہلی منتقل ہونا پڑا اور اس طرح میرا منصوبہ پورا نہ ہو سکا۔
شاہ عمران حسن بتاتے ہیں کہ اُنھوں نے 22 جولائی 2007ء کو کتاب لکھنے کی ابتداکر دی تھی لیکن مولانا محمد ذکوان ندوی سے ملنے اور ان کے مشورے کے بعد کہ آپ خود سے مولانا وحید الدین خاں کی سوانح عمری نہ لکھیں بلکہ آپ یہ کریں کہ مولانا کہ مطبوعہ اور غیر مطبوعہ تحریروں میں مولانا کی زندگی اورمشن کے متعلق خود مولانا کی لکھی ہوئی جو چیزیں موجود ہیں ان کو ایک خاص ترتیب کے ساتھ جمع کردیں انشاء اللہ یہ خود ایک بڑا کام ہوگا۔
اس طرح اوراق حیات کا وجود ہوا۔ کتاب کی تیاری میں شاہ عمران حسن نے بہت سارے لوگوں سے تبادلہ خیال بھی کیا، بہت سے افراد سے مل کر مولانا سے متعلق معلومات بھی یکجا کیں اور انھیں کتاب میں شامل بھی کیا، مولانا موصوف کی غیر مطبوعہ تحریروں سے بھی استفادہ کیا، ڈائری بھی حوالے کے لیے استعمال کی اس طرح بقول شاہ عمران حسن میں نے اپنی حد تک اس سوانحِ حیات کو اس انداز میں ترتیب دیا ہے کہ وہ خود نوشت سوانح حیات معلوم ہو۔ اور وہ اس میں کامیاب رہے ہیں۔
کتاب دس حصوں پر مشتمل ہے۔ حصہ اول میں مولانا وحید الدین خاں کے شہر، ابتدائی حالات اور خاندانی واقعات سے لے کر ان کے اہل خانہ تک کے حالات شامل ہیں۔ اس حصے میں الرسالہ مشن کے قیام کا اور مولانا کے مشن کا تفصیلی تذکرہ ہے۔ حصہ دوم میں ہندوستان میں مدارس کی ایک مختصر تاریخ کے ساتھ مولانا موصوف کے تعلیمی تجربات بیان کیے گئے ہیں۔ حصہ سوم میں مولانا موصوف کے مشن پر بھرپور روشنی ڈالی گئی ہے، اس حصے میں پانچ مضامین شامل کیے گئے ہیں: تلاشِ حق کے مراحل، اسلامی مرکز، الرسالہ۔ ایک تحریک، سی پی ایس انٹرنیشنل اور القرآن مشن۔ حصہ چہارم میں قلمی تجربات بیان کیے گئے ہیں یہ حصہ کافی طویل ہے۔ حصہ پنجم میں مولانا موصوف کے دعوتی مشن کا تذکرہ ہے۔ حصہ ششم مولانا کے تجرباتِ سفر پر مشتمل ہے۔ حصہ ہفتم میں عہدِ حاضر کی چند شخصیات کا بالخصوص مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ اور مولانا سید ابوالحسن ندویؒ کا تذکرہ ہے۔ حصہ ہشتم میں حضرت مولانا کے سیاسی اور غیر سیاسی، مذہبی و سماجی نظریات پیش کیے گئے ہیں جیسے کہ مسئلہ کشمیر، بابری مسجد اور مسلم سیاست، شاہ بانو کیس وغیرہ۔ حصہ نہم تین ابواب اوراقِ حیات، ربانی تجربات اور اسباقِ حیات پر مشتمل ہیں۔ اور حصہ دہم حضرت مولانا کے مختلف مواقع کے بیانات پر۔ اس میں حرفِ آخر کے عنوان سے شاہ عمران حسن کے احساسات پر مشتمل تحریر ہے جس میں وہ لکھتے ہیں مولانا وحید الدین خاں کی مفکرانہ بصیرتیں نہ صرف عہد ساز ہیں بلکہ صدیوں تک کے لیے ان کی معنویت باقی رہے گی۔شاہ عمران حسن یقیناً اس کارنامے کے لیے مبارکباد اور ایوارڈ کے مستحق ہیں۔ سب سے بڑا ایوارڈ یہی ہوگا کہ اس کتاب کو خوب خوب پڑھا جائے۔ (روزنامہ اُردو نیوز، ممبئی، 22 جولائی 2018)۔
ڈاکٹر رضاء الرحمن عاکف کا تبصرہ:
اُردو میں سوانحی ادب شاید اتنا ہی قدیم ہے جتنی خود اردوز بان۔ صوفیا ہوں یا علما، ادبا ہوں یا شعرا، واعظین ہوں یا مبلغین اردو میں تقر بیاً ہر ایک زمرے کے تعلق سے اہلِ قلم کے سوانحی ذخائر موجود ہیں۔ ان میں کچھ خودنوشت ہیں تو کچھ ایسے بھی ہیں جو دوسرے قلم کاروں کے ذریعہ تحریر کیے گئے ہیں۔
موجودہ عہد میں اُردو کے صاحب طرز ادیب و عالم مولانا وحید الدین خاں کے سوانحی کوائف پر مشتمل ضخیم کتاب اوراق حیات تبصرے کی غرض سے راقم الحروف کے پیشِ نظر ہے۔ یہ کتاب شاہ عمران حسن کی محنت کا ثمرہ ہے۔
اس کتاب کا ماخذ مولانا وحیدالدین خاں کی خود نوشت تحریروں کو بنایا گیا ہے جو کہ خود ان کی ڈائریوں اور مجلہ الرسالہ سے لی گئی ہیں۔ اس وجہ سے اس کاپایہء استناد بہت ہی مضبوط و بلند ہے۔
یہ کتاب دس حصوں پر منقسم ہے۔ جس کے پہلے حصے میں پیغام، اظہارِتشکر اور آغاز کلام کے بعد مولانا کے خاندانی پس منظر اور ان کے خاندانی و خانگی حالات قلم بند کیے گئے ہیں۔ جس میں مولانا کی جائے پیدائش کا مکمل جغرافیائی و تاریخی اور علمی و ادبی تعارف دیا گیا ہے۔
مولانا کے آباء واجداد سوات جو اس وقت افغانستان کا ایک حصہ تھا کے رہنے والے تھے۔ جہاں سے ان کے مورث اعلی حسن خاں مشرق ہندوستان کے شہر جونپور میں بعہد سلطان خاں آ کر سکونت پذیر ہوئے اور پھر ہندوستان کے ہور ہے۔
کتاب کے دوسرے حصے میں اعظم گڑھ کا علمی تعارف اور وہاں کے مدارس اور مولانا کے تعلیمی تجربات اور مدارس اسلامی میں اصلاحی ضروریات کا بھر پور جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ اس طرح یہ حصہ بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ کتاب کے تیسرے حصے میں مولانا کی فکر و تدبر اور تلاشِ حق کے لیے ان کی محنت و تگ و دو کا مکمل تعارف کرایا گیا ہے۔ اس حصے میں مولانا کے ذریعہ قائم کیے گئے اسلامی مرکز، الرسالہ، سی پی ایس انٹرنیشنل اور القرآن مشن کا تعارف پیش کیا گیا ہے۔
کتاب کے چوتھے حصے میں مولانا کے قلمی سفر کا تعارف ہے جس میں ابتدائی تحریریں، الجمعیۃ کی ادارت، الرسالہ کا اجرا، تذکیر القرآن، مولانا کی کتابوں، نشری تقریروں کا مکمل و مبسوط تعارف ہے۔ اس میں مولانا کی 131 اردو، 20 ہندی، 68 انگریزی اور 38 عربی کتابوں کی فہرست دی گئی۔ جن سے مولانا کے کثیر التصانیف ہونے کا پتہ چلتا ہے۔
پانچواں حصہ دعوتی سرگرمیوں پرمشتمل ہے جس میں دعوتی مشن، دعوتی آئیڈیالوجی، دعوتی فکر و اضطراب، دعوت الی اللہ کا اسلوب اور دعوتی جد و جہد وغیرہ کے عنوانات سے مولانا وحید الدین خاں کے دعوتی عمل کو پیش کیا گیا ہے۔ کتاب کا یہ حصہ اس لیے اہمیت کا حامل ہے کہ اس سے مولانا کے دعوتی انداز اور طریقہء کار کا علم ہوتا ہے اور اس کام کی اہمیت و افادیت بھی اجا گر ہوتی ہے۔ کتاب کے چھٹے حصے میں مولانا کے اسفار کا ذکر ہے جس میں تجربات سفر، مشاہدات سفر، حج کا تجر بہ، سفر نامہ اسپین فلسطین کے عنوان سے مذکورہ اسفار کا تفصیلی ذکر اور اس کے حصہء آخر میں فہرست اسفار کے عنوان سے 240 اندرون ہند اور 70 بیرون ہند کے اسفار کا ذکر کیا گیا ہے۔
ساتویں حصے میں ملت کی اہم شخصیات کا تعارف اور موصوف کے ان سے تعلقات کو آشکار کیا گیا ہے۔ اس حصے میں اورنگ زیب عالمگیر، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور علامہ اقبال کے ساتھ ہی مولانا سید ابوالاعلی مودودی اور مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کا مکمل تعارف اور مولانا وحید الدین خاں سے ان کے روابط کا تفصیلی ذکر ہے۔ آٹھویں حضے میں حب الوطنی، مسئلہ کشمیر، بابری مسجد اور مسلم سیاست، فرقہ وارانہ فسادات، شاہ بانو کیس، شتم رسول کا مسئلہ اور عالمی سیاست کے عناوین کے تحت ملک و ملت کے حساس مسائل اور ان کے سلجھانے میں مولانا کے کردار کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
مولانا چوںکہ بڑے محتاط، میانہ روی اور صلح کل کے قائل ہیں۔ اِس لیے ان کے عمل سے مسلمانوں کے کچھ حضرات کو اختلاف بھی رہا ہے۔ اس لیے کتاب کا یہ حصہ بڑی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس میں ایسے بھی کچھ مسائل نظر آئیں گے جو قدرے اختلافی ہیں۔
نویں حصہ میں اوراق حیات، ربانی تجربات اور اسباق حیات کے عنوانات سے مولانا کی زندگی پر مجموعی حیثیت سے نظر ڈالی گئی ہے اور ان کی زندگی کے تجربات، تغیرات اور مشاہدات کو پیش کیا گیا ہے۔ اس طرح یہ حصہ کتاب کا نچوڑ یا ماحصل قرار دیا جاسکتا ہے۔
کتاب کا آخری یعنی دسواں حصہ مولانا وحیدالدین خاں کی جد و جہد، مجاہدانہ کارناموں اور اس میں پیش آنے والی دشواریوں کا تعارف ہے۔ جیسا کہ ان کے عنوانات سے واضح ہوتا ہے۔ کتاب کے آخر میں حرف آخر کے عنوان سے مصنف کتاب کے خیالات و جذبات تحریر کیے گئے ہیں، جن سے کتاب کے لکھنے کا مقصد اور اس کی اہمیت و افادیت کا پتہ چلتا ہے۔
یہ کتاب بظاہر تو ایک سوانحی کتاب ہے مگر مختلف ابواب میں اپنے اپنے موضوعات کے ضمن میں افکار و نظریات، تحقیقات و مشاہدات کے ایسے ایسے گوہر آبدار سجے ہوئے ہیں، جو مولانا کی ڈائری کے سینکڑوں اور الرسالہ کے ہزاروں صفحات پر بکھرے ہوئے تھے۔ شاہ عمران حسن نے ان کو اس کتاب کے صفحات پر آویزاں کر کے اردو قارئین پر احسانِ عظیم کیا ہے۔ (ماخوذ ماہنامہ ایوان اُردو، نومبر 2016ء، نئی دہلی، صفحہ: 65-66)
دیگر تبصرے:
اوراقِ حیات سے متعلق شکیل رشید اور ڈاکٹر رضاء الرحمن عاکف کے تبصرے اوپر نقل کیے۔ ان دو تبصروں کے علاوہ بڑی تعداد میں ہندوستان کے مختلف اخبار و رسائل میں تبصرے شائع ہوئے۔ سبھی کو یہاں نقل کرنا ممکن نہیں، علاوہ ازیں کچھ مختصرحسب ذیل ہیں:
 پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی: اوراقِ حیات میں مولانا وحیدالدین خاں کی زندگی کے تمام پہلو سمٹ کر آگئے ہیں۔ اس میں مولانا کی دعوتی خدمات کے ساتھ دینی، علمی اور صحافتی مژدہ کا مکمل احاطہ کیا گیا ہے اور ان کے مشن تک رسائی کو ایمان دارانہ استحکام بخشا گیا ہے۔ شاہ عمران حسن نے تقریبا  ایک صدی پر پھیلے ہوئے جوکھم بھرے کام کو سنگ میل بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اسلام اور دور جدید سے واقفیت کے لیے بھی یہ کتاب مشعل راہ ہے۔ (ماہنامہ تمثیل نو، دربھنگہ، سالنامہ، خصوصی شمارہ بابت، جولائی 2016ء تا جون 2017، صفحہ: 307-308)
  ڈاکٹر شہاب الدین ثاقب قاسمی (سینئر سب ایڈیٹر، روزنامہ انقلاب، نئی دہلی): شاہ عمران حسن اور ان کے علمی کارناموں کو دیکھنے کے بعد میرے دل میں سب سے پہلے یہ حسین احساس جاگزیں ہوا کہ اے کاش ہم بھی علم و فضل کے شاہ ہوتے اور بچپن کی عمر میں کام پچپن کے کرجاتے، مگر ذٰلِکَ فَضلُ اللہ یُؤتِیہ، مَن یّشَآ (الجمعہ: 62، آیت :4)
اوراقِ حیات شاہ عمران حسن کا وہ عظیم علمی و تصنیفی کارنامہ ہے، جسے وہ کئی سالوں کی انتھک کوششوں کے بعد بحسن خوبی انجام دینے میں کامیاب ہوئے۔ مولانا وحیدالدین خاں جیسی متنوع اور کسی حد تک متنازع شخصیت کی حیات و خدمات پر جس محققانہ انداز میں انھوں نے کام کیا ہے اس کی صاحب قلم اور اہل علم حضرات نے خوب ستائش کی ہے اور ملک بھر کی معزز شخصیات نے اس کتاب کو بہ نظر استحسان دیکھا ہے۔ اوراق حیات مولا نا وحید الدین خاں کا زندگی نامہ ہے، جسے پڑھتے جائیے اور ان کی زندگی کو سمجھتے جائیے۔ بہت ہی دیانت داری سے مصنف موصوف نے اس اہم کام کو انجام دیا ہے۔
کتاب کی ضحامت اور بہتر طباعت سے یہ اندازہ بخوبی ہو جاتا ہے کہ شاہ عمران حسن صاحب جتنی جدوجہد کر سکتے تھے انھوں نے کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اوراق حیات کا فونٹ (font) عام کتابوں کے فونٹ سے بہت کم ہے اس کے باوجود تقریبا ایک ہزار صفحات پر مشتمل ہے، اگر اسے عام کتابوں کے فونٹ میں سیٹ کیا جاتا تو یقینا کل صفحات کی تعداد دو ہزار سے متجاوز ہو جاتی۔
 منصور آغا (معروف صحافی): مولانا وحیدالدین خاں کی جامع شخصیت پر شاہ عمران حسن نے کتاب بھی جامع تیار کردی ہے، اس کے لیے وہ مبارک باد کے مستحْق ہیں۔
 مولانا محمد فاروق خاں (مفسرقرآن): جب میں نے 18 اپریل 2016ء کو اوراقِ حیات مولانا کی خدمت میں پیش کیا تو اس کو دیکھ کر وہ بہت زیادہ متاثر ہوئے، حتیٰ کہ اسی دن انھوں نے عصر کے نماز کی امامت مجھ سے کروائی تھی اور کتاب کے تعلق سے کہا تھا کہ آپ نے سمندر کو کوزہ میں بند کردیا ہے۔
 شموئل احمد (معروف ادیب): مولانا وحید الدین خاں، ان کی زندگی، ان کے فلسفہء حیات اور اسلام کی عظمت کو سمجھنے کے لیے اوراقِ حیات کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ اسے آپ ناول کی طرح نہیں پڑھ سکتے، اِس سے استفادہ کے لیے یکسوئی قلب ضروری ہے۔ (24 جون 2016ء)
شاہ نواز ظفر (ٹرولر، نئی دہلی) نے 14ستمبر2015ء کو اوراق حیات کے بارے میں انگریزی میں حسب ذیل عبارت تحریر کی:
A must read book to know what exactly Maulana Wahiduddin Khan is. It will help to clear the doubts of those who make their opinion from rumours floated by narrow minded Muslims.
اس طرح سے میری انتہائی ضخیم کتاب کی کہانی کا اختتام ہوتا ہے، خیال رہے کہ عام کتابوں میں ایک صفحے پر 20 سے 23 سطریں ہوتی ہیں اور ایک سطر میں حد سے حد 20 الفاظ، اس کے مقابلے میں اس کتاب کا ہر صفحہ 29 سطور پر مشتمل ہے اور ہر سطر میں 24 الفاظ ہیں۔ اس سے بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کتاب میں کتنا زیادہ مواد جمع کیا گیا ہے۔
الحمداللہ اب مولانا وحیدالدین خاں پر مضمون یا مقالہ لکھتے ہوئے لوگ اوراقِ حیات کا استعمال کر رہے ہیں، مولانا کی وفات کے بعد اردو اور انگریزی مضامین لکھنے کے دوران بہت سے لوگوں نے اوراقِ حیات کا استعمال کیا ہے۔ ماہنامہ الرسالہ کے خصوصی و مشترکہ شمارہ ( بابت اگست، ستمبر2021ء) داعی اسلام مولانا وحیدالدین خاں کی یاد کے کئی مضامین میں اوراق حیات کا حوالہ دیا گیا ہے۔ (ملاحظہ کریں ماہنامہ الرسالہ اگست۔ستمبر2021ء، صفحہ: 179، 268) اس کے ساتھ ہی مذکورہ خاص شمارے میں میرا نام بھی متعدد جگہ مذکور ہے۔ اس خاص نوازش کے لیے میں ماہنامہ الرسالہ کے مدیر اور سی پی ایس کے اہم رکن ڈاکٹر ثانی اثین خان کے تئیں اپنے اظہارِ تشکر کی سعادت حاصل کرتا ہوں۔
اسی طرح جموں و کشمیر کے دارالحکومت سری نگر سے تعلق رکھنے والے انگریزی زبان کے کالم نگار ڈاکٹر محمد یونس کمار نے انگریزی روزنامہ رائزنگ کشمیر (Rising Kashmir) کے شمارہ 6 مئی 2021ء میں ایک تفصیلی مضمون تحریر کرتے ہوئے اوراقِ حیات کا نہ صرف حوالہ دیا بلکہ متعدد اقتباسات بھی انھوں نے نقل کیے ہیں۔ اس مضمون کا نام ہے:
Introducing Maulana Wahiduddin Khan
میرا یہ احساس ہے کہ میں نے اپنے حصہ کا کام کردیا ہے، علمی حلقوں میں اس کتاب کو کسی بھی اعتبار سے رد نہیں کیا جاسکتا ہے، بس اتنی سی ہی بات میری کتاب کی کامیابی کے لیے کافی ہے۔
میں آخر میں اس نظم کو درج کرنا چاہوں گا جس نے کتاب کے حوالہ سے عوامی حلقہ میں کافی شہرت حاصل کی۔ اس نظم کو صدر جمہوریہ انعام یافتہ ممتاز شاعر پروفیسر عبدالمنان طرزی (دربھنگہ، بہار) نے لکھا ہے۔ یہ دراصل اوراقِ حیات پر منظوم تبصرہ ہے، جو کہ یکم اکتوبر 2016ء کو لکھا گیا اور سہ ماہی دربھنگہ ٹائمز کے شمارہ اگست 2016ء تا دسمبر 2016ء کے صفحہ نمبر 336 پر شائع ہوا۔
اس منظوم تبصرہ میں مولانا وحید الدین خاں سمیت راقم الحرو ف کے بارے میں سیر حاصل گفتگو کی گئی؛ اسے علاحدہ صفحہ پر نقل کیا جارہا ہے:
اوراقِ حیات ( تالیف منیف شاہ عمران حسن)
پروفیسر عبدالمنان طرزی، دربھنگہ (بہار)

شاہ عمرانِ حسن لائے ہیں اوراقِ حیات
ہیں وحید الدین جلوہ بار جس میں با صفات

اِس کا گرچہ ہے سوانحی کتابوں میں شمار
رکھتی ہے برتاؤ کی رو سے الگ ہی افتخار

یہ ضخامت کے لیے بھی یاد رکھی جائے گی
سولہ صفحوں کی کمی ہزار میں ہے رہ گئی

خود نوشت تحریروں پہ مبنی ہے اْن کی یہ کتاب
تو حوالے اور شواہد معتبر ہیں لاجواب

یہ اثر کی رو سے گر ہے کچھ سبق آموز بھی
تو متاعِ دیدہء نم کی طرح جاں سوز بھی

مقتدر اور منفرد پہلو تھے جن کی ذات کے
داعیئ حق، ایسے اک عالم وحیدالدین تھے

ہو علوم عصری سے اسلام کی تزئین بھی
غایتِ ہستی تھی مولانا وحید الدین کی

ایک مثبت اجتہادِ دیں تھا مقصد آپ کا
اِس لئے کچھ منفرد تھے آپ دینی رہ نما

تھے جو افکار و عقائد آپ کے اقوال بھی
اس سوانح میں اساسی حیثیت اْن کی رہی

دعوتی پہلو کا ہے اْن کے یہاں اعلیٰ مقام
تو علوم عصریہ سے آشنا فکری نظام

فکرِ اسلامی وہ آفاقی بلندی پائے بھی
عالمی افکار پر قائم ہو اس کی برتری

نیت، اخلاصِ عمل پر اْن کو تھا ایسا یقیں
ظلمتوں پہ ہوگا غالب ایک دن نورِ جبیں

ایک مخلص مجتہد تھا اور سفیر امن بھی
وہ مفسر، متکلم، دین کا معمار بھی

کر گیا احیائے دیں کی اس طرح تجدید بھی
ہر نگہ اْس ذات کی تمہید یا تسوید بھی

زندگی کا اک معلم اور بڑا دانائے راز
وہ نظریہ سازِ اسلامی، عظیم اک عقدہ باز

شاہ عمرانِ حسن کا کارنامہ یہ عظیم
داستانِ زندگیئ درد مندے بے گلیم

کام جوئے شیر سے بھی گرچہ تھا دشوار تر
کر لیا ہے معرکہ عمران نے لیکن یہ سر


جو جماعت کرتی وہ تنہا کیا عمران نے
اک جنوں پرور کا اندازِ جنوں بھی دیکھئے

ہے بیاں میں دلکشی، اظہار میں شائستگی
صفحے صفحے سے عیاں ہے راستی کی طرفگی

ہر بیاں سے ہوتی ہے تہذیبِ علمی آشکار
آپ کے اسلوب میں وہ عالمانہ ہے وقار

یہ جناب عمران کی بیشک ہے اک ایسی سعی
علم و دانش آگہی اْن کی مؤقر ہوگئی

ہوگیا بابِ فضیلت اِس طرح کچھ ان پہ وا
گویا اوروں کے لیے کچھ بھی نہیں باقی رہا

پاگئے علمی ولایت، شاہ عمرانِ حسن
سر ہے دستارِ فراغت شاہ عمرانِ حسن

ایسا اقلیمِ ادب میں آج حاصل ہے مقام
ہوگئے ہیں آہوانِ صحرا جیسے زیر دام

سہل و سادہ و رواں ہے طرز لیکن دلکشا
ہو جمالِ یار جیسے بے نیازِ آئینہ

یہ سعی اْن کی کچھ ایسی معتبر ثابت ہوئی
پاگئے ہیں جیسے شہرِ آگہی کی سَروَری


سرعتِ ترسیل خوبی ہے نگارش کی بڑی
اقتباسوں سے ہے پیدا وہ جمالِ معنوی

رہتے اظہارِ حقائق میں غلو سے دور ہی
اس سے ظاہر ہوتی ہے اْن کی صداقت باطنی

آپ کے اسلوب میں الفاظ کی پاکیزگی
ہر قدم پر دامنِ قلب و نظر کو کھینچتی

یہ عروجِ علم و دانش ہو مبارک اے حسن
گلشنِ ہستی میں کھِلئے مثلِ نرگس، نسترن

زندگی کے ساتھ بھی زندگی کے بعد بھی:
میں نے تفصیل سے مولانا وحیدالدین خاں کی زندگی پر ایک ہزار صفحات پر مشتمل ایک ضخیم کتاب اوراقِ حیات تیار کی ہے، مولانا کی زندگی کو سمجھنے کے لیے؛ اس کتاب کا مطالعہ بے حد مفید ہوگا۔
اوراقِ حیات دراصل مولانا وحید الدین خاں کی خودنوشت تحریروں پر مبنی فکر انگیز سوانح عمری ہے؛ جو ایک ہزار صفحات (983) پر مشتمل ہے۔ اس کتاب میں مولانا کی زندگی اور مشن کو بہت تفصیل سے خود مولانا کی تحریروں کی روشنی میں جمع کیا گیا ہے۔ 10 سال کی محنت و مشقت کے بعد یہ کتاب سنہ 2015ء میں شائع ہوئی۔ اس کتاب کے بارے میں ایک اجتماعی مجلس میں خود مولانا وحیدالدین خاں نے کہا تھا کہ جو کام میں زندگی بھر نہیں کر سکا وہ کام شاہ عمران حسن نے کر دکھایا۔
جب کہ مولانا وحیدالدین خاں کی وفات کے بعد میں نے 496 صفحات پر مشتمل ایک کتاب سنہ 2022 میں مرتب کی جس کا نام ہے  مولانا وحید الدین خاں: اہلِ قلم کی تحریروں کے آئینے میں۔
یہ دراصل مولانا وحیدالدین خاں کی حیات و خدمات پر تحریر کیے گئے مختلف مضامین و تاثرات کا مجموعہ ہے۔ اس کتاب کا انتخاب سینکڑوں مضامین سے یکجا کیا گیا ہے تاہم اس بات کی پوری کوشش کی گئی ہے کہ ایسے مضامین قارئین کے پاس پہنچیں جو مطالعہ کی غرض سے بہترین ہوں۔ رسمی مضامین کو کتاب میں شامل کرنے سے گریز کیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ اس کتاب میں شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادری، استاذ محترم جاوید احمد غامدی، پروفیسر اخترالواسع، سید سعادت اللہ حسینی، ڈاکٹر ظفرالاسلام خان، مولانا محمد ذکوان ندوی، پروفیسر ظہیرالدین خواجہ، ڈاکٹر محی الدین غازی، فاروق ارگلی، نایاب حسن، حقانی القاسمی، ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، مولانا رضی الاسلام ندوی، سید منصور آغا، مالک اشتر، شیخ محمد سلیمان القائد، ڈاکٹر وارث مظہری، عبدالسلام عاصم، مراق مرزا، مولانا عبیداللہ چترویدی، مولانا سلطان احمد اصلاحی، محمد عارف اقبال، پروفیسر محسن عثمانی ندوی، مولانا اخلاق حسین قاسمی دہلوی وغیرہ کے مضامین و تاثرات شامل ہیں۔
خیال رہے کہ مولانا کے انتقال سے قبل اور پدم وِبھوشن انعام کے اعلان کے بعد میں نے ایک تعارفی مضمون مولانا وحیدالدین خاں: ایک عہد ساز شخصیت تحریر کیا، جو پہلی مرتبہ 5 فروری 2021ء کو روزنامہ اخبارِ مشرق کے تمام ایڈیشن میں شائع ہوا۔ پھر یہ اہم مضمون حیدرآباد کے روزنامہ صحافی  دکن کے کالم قرطاس قلم کے شمارہ 5 اپریل 2021ء صفحہ 9 پر خصوصی طور پر شائع ہوا۔ اس کے بعد یہ مضمون مولانا کے انتقال کے بعد ہندوستان کے مختلف اخبارات مثلاً روزنامہ قومی آواز (نئی دہلی)، روزنامہ سالار ( بنگلور)، روزنامہ چٹان، اُڑان (جموں و کشمیر) اور روزنامہ آزاد (رائچور) وغیرہ میں شائع ہوا۔ عام طورپر بیشتر اردو اخبارات نے اس مضمون کے ساتھ یہ نوٹ لگایا کہ مولانا وحیدالدین خاں کے سانحہء ارتحال پر پیش خدمت ہے شاہ عمران حسن کا مضمون جس میں مولانا کی زندگی، ان کی خدمات اور نظریات پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔
میرا مذکورہ مضمون اس کے علاوہ سہ ماہی دبستان ہمالہ کے شمارہ اکتوبر تا دسمبر 2021ء کے صفحہ (30-32) پر شائع ہوا ہے۔ اس مضمون کا عنوان ہے: مولاناوحیدالدین خاں اور دعوت و تعمیر۔
سنہ 2021ء کے دوسرے ماہ میں ہندوستان کے مشہور نیوز پورٹل ای ٹی وی بھارت (اُردو) کے ایڈیٹر خورشید احمد وانی کی نگرانی میں مولانا پر ایک خصوصی پیکج (اسٹوری) 10 فروری 2021ء کو شائع کیا گیا۔ اس کو لوگوں نے بہت زیادہ پسند کیا اور سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں اشتراک کیا گیا۔ جس کا عنوا ن تھا: امن و آشتی اور روحانیت کے علمبردار مولانا وحیدالدین خاں پر خصوصی رپورٹ۔
میں یہ عرض کرتا چلوں کہ مولانا وحیدالدین خاں کو 25 جنوری 2021ء کو حکومت ہند کی جانب سے پدم وِبھوشن دینے کا اعلان کیا گیا، مگر مشیت ایزدی کو کچھ اور ہی منظور تھا، انعام وصول کرنے سے قبل ہی 21 اپریل 2021ء کو مولانا اِس دارفانی سے رخصت ہوگئے۔
مولانا کے انتقال کے بعد ان کے چھوٹے صاحبزادے ڈاکٹر ثانی اثنین خان نے 9 نومبر 2021ء کو قومی دارالحکومت نئی دہلی میں واقع راشٹرپتی بھون (Rashtrapati Bhawan) کی ایک پروقار تقریب کے دوارن صدر جمہوریہ ہند رام ناتھ کووند کے مبارک ہاتھوں سے یہ ایوارڈ وصول کیا۔
مولانا کو پدم وِبھوشن ملنے پر علمی و سماجی حلقوں میں خوشی کی لہردوڑ گئی۔ مختلف زبانوں میں اس تعلق سے خبریں پوری دنیا میں نشر کی گئیں۔ ہندوستان کے معروف نیوز پورٹل آواز دی وائس (Awaz The Voice) نے 12 نومبر 2021ء کو اس تعلق سے ایک بڑی خبر شائع کی۔ اس خبر کا ایک حصہ یہاں نقل کیا جاتا ہے:
نئی دہلی کی معروف تنظیم مرکز برائے امن اور روحانیت (سی پی ایس انٹرنیشنل) کی جانب سے 11 نومبر 2021ء کو شام کے چار بجے پریس بیانیہ جاری کیا گیا۔ سی پی ایس انٹرنیشنل کے ترجمان نے اس موقع پر کہا ہے کہ ادارے کے بانی مولانا وحید الدین خاں کو دوسرا سب سے بڑا شہری اعزاز پدم وِبھوشن 2021ء عطا کرنے پر مسرور ہیں اور حکومت ہند کے بے حد شکر گزار ہیں۔
سی پی ایس نے یہ بھی کہا کہ انتہائی عاجزی کے ساتھ ہم امن اور روحانیت کے شعبے میں ان کے تاحیات کام کے اعتراف میں یہ باوقار ایوارڈ قبول کرتے ہیں۔
اس موقع ڈاکٹرثانی اثنین خان نے اپنے اہل خانہ اور دنیا بھر میں سی پی ایس کے اراکین کی جانب سے ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ اُنھوں نے کہا کہ اس ایوارڈ نے مولانا وحیدالدین خاں کے عالمی امن اور روحانیت کے تئیں ساتھ کام کرنے والے نیز تمام پیروکاروں میں ایک نیا جوش اور جذبہ پیدا کیا ہے۔ بین المذاہب ہم آہنگی اور قومی تعمیر کا کام پہلے سے زیادہ جوش و خروش اور ٹیم ورک کے ساتھ جاری رہے گا۔
مولانا وحیدالدین خاں کا سپنا تھا ہندوستان کو روحانی سپر پاور کے طور پر دیکھنا، اس سمت میں ادارہ کام کرتا رہے گا۔ ذرائع کے مطابق مولانا کے آبائی گاوں بڈہریا میں ایوارڈ تقسیم کرنے کی تقریب کا براہ راست ٹیلی کاسٹ دیکھنے کے لیے لوگ اپنے ٹی وی سیٹوں سے چپکے ہوئے تھے۔ (بشکریہ آواز دی وائس، 12 نومبر 2021ء)
اس خبر کے تعلق سے میں ایک پس منظر بھی بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں تاکہ سند رہے۔ جب 9 نومبر 2021ء کو مولانا وحیدالدین خاں کو بعد از مرگ پدم وِبھوشن سے نوازا گیا تو ویب پورٹل آواز دی وائس کے ایڈیٹر انچیف عاطر خان نے مجھ سے کہا کہ ایوارڈ ملنے پر مولانا مرحوم کے اہلِ خانہ کے کیا تاثرات ہیں، آپ معلوم کریں؟
میں نے اس سلسلے میں سی پی ایس کے کو آرڈینٹر ڈاکٹر رجت ملہوترا سے رابطہ کیا۔ میں نے 11 نومبر 2021ء کو دن میں گیارہ بجے اُنھیں واٹس اپ پر میسج کیا کہ اگر آپ کی تنظیم کی جانب سے کوئی پریس ریلیز جاری کی گئی ہو تو فراہم کریں، کیوں کہ آواز دی وائس میں مولانا وحیدالدین خاں پر ایک خبر بنائی جا رہی ہے۔
میرے علم کی حد تک، دن کے گیارہ بجے تک سی پی ایس کی جانب سے کوئی پریس ریلز تیار نہیں کی گئی تھی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر رجت ملہوترا نے کہا کہ پریس ریلیز نہیں بنائی گئی ہے، آپ کو یہ کب درکار ہے، ابھی میں باہر ہوں۔ اس پر ہم لوگ کام کریں گے اور پریس ریلز جاری کرنے کے بعد آپ کو اطلاع کردی جائے گی۔
یہ حسن اتفاق ہے اور اللہ رب العزت کا احسان عظیم ہے کہ میری کوششوں کے بعد پریس ریلیز بنائی گئی اور شام کو چار بجے سی پی ایس انٹرنیشنل کی جانب سے سوشل میڈیا (ٹیوٹر اور فیس بک) پر اسے اشتراک (share) کیا گیا۔ پریس ریلیز جاری ہونے کے بعد ڈاکٹر رجت ملہوترا نے مجھ کو اس کی اطلاع دی اور میری اس چھوٹی سی پہل کا شکریہ ادا کیا۔
قارئین کی سہولت کے پیش نظر مذکورہ پریس ریلیز کا انگریزی متن نقل کیا جا رہا ہے:



Press Release
Centre for Peace and Spirituality (CPS International) is extremely delighted and thankful to the Government of India for conferring the second highest civilian award, Padma Vibhushan 2021 on our founder Maulana Wahiduddin Khan. With great humility we accept the prestigious award in recognition of his lifelong work in the area of Peace and Spirituality.
Dr. Saniyasnain Khan, his son received the award and conveyed his heartfelt thanks on behalf of his entire family and CPS members worldwide. He said that the award has instilled renewed enthusiasm and passion among all the followers of Maulana Sahab and that his work towards Global Peace, Spirituality, Interfaith Harmony and Nation Building will continue with greater vigour and teamwork than before.
Further, he added that the dream of Maulana Sahab to see India as a spiritual superpower will be one of the important tasks of the Centre.
CPS International
November 11,2021



اس پریس ریلیز کے جاری ہونے کے بعد آواز دی وائس نے 12 نومبر 2021ء کو وہ خبر شائع ہوئی، جس کا ایک حصہ اوپر نقل کیا گیا۔ خبر کی اشاعت کے بعد میں نے ڈاکٹر رجت ملہوترا کو پیغام بھیج دیا کہ خبر دیکھ لیں۔ انھوں نے اس خبر کو ایک بہترین رپورٹنگ قرار دیتے ہوئے مزید ایک بار میرا شکریہ ادا کیا۔ جزاک اللہ خیر!
مولانا وحیدالدین خاں کی وفات کے ساتھ ایک عہد کا خاتمہ ہوگیا۔ یہ اللہ کا احسانِ عظیم ہے کہ میں نے مولانا کی زندگی میں ایک کتاب مرتب کی اور زندگی کے بعد بھی ایک کتاب مرتب کی۔ میری یہ دونوں کتابیں مولانا کے افکار و خیالات کو جاننے کا واحد اور مستند ذریعہ ہیں۔ ان کتابوں کو پڑھ کر کوئی بھی شخص مولانا کے افکار و خیالات سمجھ سکتا ہے۔ یہ صرف میرا دعویٰ نہیں ہے بلکہ اہلِ علم نے اس کو تسلیم کیا ہے۔
مولانا وحیدالدین خاں کا انتقال بھی اسی طرح دنیا سے چلے جانے کا ایک واقعہ ہے، جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔وراثت کے طور پر چھوڑی گئی بے جوڑ رہنمائی کے زیر فیضان ملک و ملت کی فلاح کے لیے کیا گیا ہمارا ہر سنجیدہ عمل مولانا کے حق میں بہترین خراجِ تحسین ہوگا۔
اِنتقال کی سب سے زیادہ تکلیف دہ چیز یہ ہے کہ وہ انسان آپ کی زندگی سے ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے دور چلا جاتا ہے جس کے ساتھ آپ نے اپنی زندگی کے لمحات بتائے ہیں، اور اب ان سے کبھی ملنا نہیں ہوگا۔ اردو زبان کے معروف شاعرحیدر علی آتش نے شاید ایسے موقع کے لیے اپنا ایک شعر کہا تھا:
اُٹھ گئی ہیں سامنے سے کیسی کیسی صورتیں
روئیے کس کے لیے، کس کس کا ماتم کیجئے

Shah Imran Hasan
Editor Kitabi Silsila Aapbeeti
Sarita Vihar, New Delhi: 110076,
Moblie No. 9810862382
E-mail: sihasan83@gmail.com
****
شاہ عمران حسن کی گذشتہ نگارش:بیگوسرائے کا سفر

شیئر کیجیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے