ٹی۔ ایم۔ ضیاء الحق
رابطہ: 9971143174
برصغیر کی علمی اور روحانی تاریخ میں متعدد ایسی فارسی تصانیف موجود ہیں جو اپنے اندر تاریخ، تہذیب، تصوف اور سماجی زندگی کے بیش بہا خزانے سموئے ہوئے ہیں، لیکن فارسی زبان سے ناواقفیت کے باعث ان کا بڑا حصہ اردو قارئین کی دسترس سے باہر رہا۔ ایسے میں جب کوئی معتبر فارسی تصنیف پہلی مرتبہ اردو کے قالب میں سامنے آتی ہے تو وہ محض ایک ترجمہ نہیں رہتی بلکہ علمی ورثے کی بازیافت اور تہذیبی سرمایے کے تحفظ کا ایک اہم ذریعہ بن جاتی ہے۔ "آثارِ شرف" بھی اسی نوعیت کی ایک اہم کتاب ہے، جس کے مصنف خان بہادر قاضی سید محمد نور الحسین رحمۃ اللہ علیہ ہیں، جب کہ اس کا سلیس اور رواں اردو ترجمہ سید نسیم قادری رضوی پھلواروی نے کیا ہے۔ یہ ترجمہ اردو دنیا کے لیے ایک قابلِ قدر علمی تحفہ ہے۔
کتاب کا مطالعہ کرتے ہی اس کی تحقیقی وسعت اور موضوعاتی تنوع کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ مصنف نے صرف حضرت مخدوم جہاں شرف الدین احمد یحییٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ کی سوانح بیان کرنے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ ان کے عہد کے سیاسی، سماجی، تہذیبی اور فکری پس منظر کو بھی نہایت جامع انداز میں پیش کیا ہے۔ کتاب کا آغاز اجازت نامہ اور عرضِ مترجم کے بعد سلطنت، بادشاہت، نظمِ حکومت، انسانی معاشرہ، بہار کی تاریخی حیثیت، افغانستان اور برصغیر کے سیاسی حالات جیسے مباحث سے ہوتا ہے۔ اس پس منظر کی بدولت قاری اس عہد کی فکری اور سماجی فضا کو بہتر طور پر سمجھ سکتا ہے۔
مصنف نے بہار کو محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں، بلکہ علم، عرفان، تصوف اور تہذیب کے ایک عظیم مرکز کے طور پر پیش کیا ہے۔ یہی وہ سرزمین ہے جہاں حضرت مخدوم جہاں شرف الدین احمد یحییٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے علم، تقویٰ اور روحانی فیضان سے لاکھوں انسانوں کی فکری اور اخلاقی تربیت کی۔ ان کے مکتوبات، ملفوظات، خلفاء، مریدین اور روحانی اثرات کا جامع تذکرہ اس کتاب کو صرف سوانحی ادب تک محدود نہیں رکھتا بلکہ تصوف کی مستند تاریخ کا درجہ عطا کرتا ہے۔
کتاب کی اہم خصوصیت اس کا تحقیقی انداز ہے۔ مصنف نے واقعات کو محض روایتی انداز میں نقل نہیں کیا بلکہ تاریخی ترتیب، حوالہ جاتی اسلوب اور تحقیقی شعور کے ساتھ پیش کیا ہے۔ ضمیمے، اشاریہ اور دیگر معاون ابواب اس کی تحقیقی افادیت میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔ اسی بنا پر یہ کتاب عام قارئین کے ساتھ ساتھ محققین، اساتذہ اور طلبہ کے لیے بھی یکساں اہمیت رکھتی ہے۔
تقریباً ایک سو چھیاسٹھ برس قبل فارسی زبان میں تصنیف کی گئی یہ کتاب آج بھی اپنی علمی اور تاریخی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ موجودہ دور میں جب کہ فارسی زبان سے وابستگی مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے، ایسے میں اس کا اردو ترجمہ ایک بڑی علمی خدمت کی حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔ یہ ترجمہ نہ صرف ایک نادر تصنیف کو نئی نسل تک پہنچاتا ہے بلکہ ہمارے علمی اور تہذیبی ورثے کو بھی محفوظ بناتا ہے۔
ترجمہ نگاری ایک نہایت نازک اور ذمہ دارانہ فن ہے۔ مترجم کو زبان کے ساتھ ساتھ تہذیبی پس منظر، اصطلاحات اور مصنف کے اسلوب سے بھی مکمل آگاہی درکار ہوتی ہے۔ سید نسیم قادری رضوی پھلواروی نے فارسی متن کی روح کو برقرار رکھتے ہوئے اسے ایسی سلیس اردو میں منتقل کیا ہے کہ کہیں بھی ترجمے کا تصنع محسوس نہیں ہوتا۔ یہی ان کی مترجمانہ مہارت اور علمی بصیرت کا روشن ثبوت ہے۔
اس کتاب سے میرا تعلق بھی ایک تاریخی نسبت کے ذریعے قائم ہوا۔ ضلع گیا کا قدیم علاقہ شہر گھاٹی اپنی علمی روایت کے لیے معروف ہے۔ روایت ہے کہ اسے شیر شاہ سوری نے آباد کیا تھا۔ یہیں ایک دارالقضا قائم تھا، جہاں "آثارِ شرف" کے مصنف کے جدِ امجد قاضی علاءالدین پہلے قاضی مقرر ہوئے تھے۔ اسی نسبت سے یہاں قاضی محلہ اور قاضی ہاؤس آج بھی اس خاندان کی علمی خدمات کی یاد دلاتے ہیں۔
میرے لیے باعثِ مسرت ہے کہ اسی معزز خانوادے کے چشم و چراغ جناب سید افسر حسن صاحب کے توسط سے اس کتاب کا اردو ترجمہ میرے مطالعے میں آیا۔ میں ان کا شکر گزار ہوں کہ انھوں نے اس نادر علمی اور روحانی سرمایہ تک رسائی کا موقع فراہم کیا۔
اس خاندان کی علمی خدمات صرف "آثارِ شرف" تک محدود نہیں ہیں۔ ان کے اہلِ قلم نے صدیوں کے دوران متعدد اہم فارسی تصانیف یادگار کے طور پر چھوڑی ہیں، جن میں خلاصۃ الکلام فی اثباتِ بغیِ اہلِ شام (مولوی سید انوار احمد)، محضرِ نور (محمد حفیظ اللہ)، ملفوظِ رحمان المعروف بہ "تصوراتِ سید انور" (سید علی کریم ہاشمی)، زیبا شجرۂ طیبات (ارشد علی) اور ریاضِ رحمان (خواجہ محمد عبدالکریم) قابلِ ذکر ہیں۔ یہ کتابیں تاریخ، تصوف، سوانح اور دینی علوم کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انھیں بھی اردو اور دیگر زبانوں میں منتقل کیا جائے تاکہ یہ علمی ورثہ وسیع حلقۂ قارئین تک پہنچ سکے۔
یہ امر بھی خوش آئند ہے کہ اس خانوادے میں آج بھی علمی روایت پوری توانائی کے ساتھ زندہ ہے۔ ڈاکٹر سید مسعود حسن کی تحقیقی خدمات خصوصاً ان کا مقالہ "فرہنگِ لفظیاتِ مصحفی" اردو تحقیق میں اہم اضافہ ہے، جسے کتابی صورت میں ضرور شائع ہونا چاہیے۔ اسی طرح سید نیر حسن کی تصنیف "بہار کے چند ممتاز فارسی شعراء" اس روایت کے تسلسل کی ایک قابلِ قدر مثال ہے۔
آج جب کہ نئی نسل کا فارسی زبان سے تعلق تقریباً منقطع ہو چکا ہے، اس نوعیت کے تراجم کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ "آثارِ شرف" نہ صرف حضرت مخدوم جہاں شرف الدین احمد یحییٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ کی حیات و خدمات کو عام قارئین تک پہنچاتی ہے بلکہ بہار کی علمی، روحانی اور تہذیبی روایت کو بھی نئی زندگی عطا کرتی ہے۔ یقیناً یہ کتاب خانقاہی نظام، تصوف، تاریخِ بہار اور اسلامی تہذیب پر تحقیق کرنے والوں کے لیے ایک بنیادی ماخذ ثابت ہوگی۔
طباعت کے اعتبار سے بھی کتاب نہایت معیاری ہے۔ عمدہ کاغذ، واضح طباعت اور خوب صورت پیش کش اس کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ 126 صفحات پر مشتمل اس کتاب کو اِرم پبلی کیشن، پٹنہ نے شائع کیا ہے، جب کہ اس کی قیمت صرف 200 روپے رکھی گئی ہے، جو اس کے علمی معیار کے لحاظ سے نہایت مناسب ہے۔
مختصراً کہا جا سکتا ہے کہ خان بہادر قاضی سید محمد نور الحسین رحمۃ اللہ علیہ کی یہ تصنیف اور سید نسیم قادری رضوی پھلواروی کا یہ اردو ترجمہ علمی دنیا کی قابلِ قدر خدمات میں شمار کیے جانے کا مستحق ہے۔ "آثارِ شرف" ماضی کی درخشاں روحانی روایت اور موجودہ نسل کے درمیان ایک مضبوط پل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے مطالعے سے نہ صرف حضرت مخدوم جہاں کی عظمت کا صحیح ادراک ہوتا ہے بلکہ بہار کی اس تابندہ علمی روایت سے بھی آگاہی حاصل ہوتی ہے جس نے صدیوں تک برصغیر کی مذہبی، فکری اور روحانی زندگی کو مہمیز دی۔ ایسی کتابیں صرف مطالعے کے لیے نہیں ہوتیں بلکہ انہیں آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رکھنا بھی ہماری علمی اور تہذیبی ذمہ داری ہے۔
***
تبصرہ نگار کی گذشتہ نگارش:نئے دھان کا رنگ : ناول بھی حقیقت بھی
آثارِ شرف: تاریخ، تصوف اور تہذیب کا امتزاج
شیئر کیجیے