” خیال آرائیاں" تخلیقی تہذیب کے پروردہ ناقد طیب فرقانی کا کارنامہ

” خیال آرائیاں" تخلیقی تہذیب کے پروردہ ناقد طیب فرقانی کا کارنامہ

رفیع حیدر انجم

” خیال آرائیاں" نئی نسل کے ایک جدت پسند مصنف طیب فرقانی کے گذشتہ پانچ برس میں مختلف اصناف ادب پر لکھے گئے مضامین کا مجموعہ ہے جو 2026 میں شائع ہوا ہے۔ طیب فرقانی نے بہت کم عرصے میں اپنی علمی استعداد و انفرادی فکر و نظر کو بروۓ کار لاکر ادبی وابستگان کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ اس کتاب کے ” پیشِ لفظ" میں وہ لکھتے ہیں:
"بدلتے ہوئے سیاسی، سماجی، تہذیبی اور فکری سیاق میں تنقید محض متن کی تشریح یا محض صاحب متن کی تعریف یا محض کسی تھیوری یا نظریے کی تعبیر نہیں رہی اور نہ رہ سکتی ہے بلکہ اسے ادب اور زندگی کے باہمی رشتوں کو نئے زاویے سے منکشف کرنے کا نیا وسیلہ بننا چاہیے۔ زیر نظر مضامین کا مجموعہ اسی شعوری تنقیدی رویے کا مظہر ہے۔"
طیب فرقانی بلاشبہ اس فکری زاویے کو شعوری طور پر اپنے انتقادی رویوں میں برقرار رکھتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں لیکن درون متن ان کا لاشعوری ادراک بھی فطری طور پر فکر و نظر کی لہروں میں سما کر ایک جمالیاتی کیفیت کا احساس قاری کو کراتا رہتا ہے کہ طیب فرقانی اصل میں تخلیقی ذہن کے ہی پروردہ ادیب ہیں جنھوں نے انشائیے، سفر نامے، افسانچے اور افسانے بھی لکھے ہوئے ہیں۔
"خیال آرائیاں" میں 22 مضامین ہیں جن میں شعری و نثری تصانیف کو اتنے گہرے انتقادی میزان پر پرکھا گیا ہے کہ یہ ناقد کی محض خیال آرائیاں نہ ہوکر بصیرت افروزی
کے مقام و مرتبہ تک پہنچتا ہوا محسوس ہوتا ہے اور بیشتر مقامات پر تخلیقی جہاں بینی بھی دکھائی دیتی ہے اور یہی طیب فرقانی کے اسلوب کی وہ مرکز کشش ہے جو ہمیں اپنی طرف کھینچتی ہے۔
اس کتاب کا پہلا مضمون "سوانحی تنقید: نظریہ، مباحث اور امکانات" عصری ادب کے حوالے سے ایک اہم مضمون ہے۔ ان دنوں سوانحی اشاریوں پر مبنی شعری و نثری تصانیف کافی لکھے جا رہے ہیں۔ آزادانہ سوانح حیات کے علاوہ افسانوں اور ناولوں میں بھی مصنف کے سوانحی عناصر کی نشاندہی کی جا رہی ہے اور اس سلسلے میں باقاعدہ ایک سوانحی تنقید کا دروازہ وا ہو چکا ہے۔ مصنف نے دلائل کے ساتھ اسے تخلیق کار کی نفسیات سے جوڑتے ہوئے باور کرایا ہے کہ سوانحی تنقید ہی سے تخلیقی فن پاروں کی اصلیت تک پہنچا جا سکتا ہے اور اس کی نفسیاتی کیفیات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
"شاد عظیم آبادی کی ناول نگاری پر وہاب اشرفی کی تنقید" میں ایک متنازع ناول "صورت الخیال" کو زیر بحث لایا گیا ہے لیکن یہ مسٔلہ ان سلجھا رہ جاتا ہے کہ اس کا اصل مصنف کون ہے؛ شاد یا محمد اعظم یا حسن علی مگر وہاب اشرفی کی توجیہات دل چسپ ہیں۔ "معرکۂ آزاد و دریابادی پر ایک نظر" ادبی معرکہ آرائی کی تاریخی و ادبی اہمیت سے بحث کرتا ہوا اس مضمون کا یہ اقتباس دل چسپی سے خالی نہیں:
"معرکہ آرائیوں میں بات یونہی بڑھتی جاتی ہے۔ مثلاً مولانا دریابادی نے جھوٹ، بہتان اور شرمناک جیسے الفاظ کا استعمال کیا تھا لیکن مولانا آزاد نے انھیں گالی پر محمول کیا اور اپنے زور بیان اور اشعار کی قوت سے مولانا دریابادی کو زیر کرنے کی کوشش کی۔ پھر مولانا آزاد کا لہجہ مدبرانہ اور ناصحانہ ہو جاتا ہے اور وہ مولانا دریا بادی کو صبر و سکون کرنے کی نصیحت بھی دیتے ہیں."
"طارق جمیلی کے انشائیوں کا فکری و فنی جائزہ" میں طیب فرقانی نے طارق جمیلی کے انشائیوں کے مجموعہ "آزاد شرارے" کا مفصل تنقیدی جائزہ پیش کیا ہے۔ طارق جمیلی ہمہ جہت تخلیق کار تھے۔ ایک بہت اچھے شاعر اور افسانہ نگار کے طور پر پروفیسر طارق جمیلی سے اردو ادب کا ہر سنجیدہ قاری اور تخلیق کار واقف ہے۔ ان کے انشائیوں کا یہ مجموعہ یونی ورسٹی کے نصاب میں شامل رہا ہے۔ طیب فرقانی نے "آزاد شرارے" کے حوالے سے طارق جمیلی کے فن انشائیہ نگاری کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے تخلیقی مسرت اور ناقدانہ بصیرت کے کئی جہات سے قاری کو روشناس کرایا ہے۔ آخر میں وہ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ "طارق جمیلی اپنے انشائیوں میں ایک ہمدرد، باخبر، خود آگاہ، بلند و اعلیٰ شخصیت کے طور پر ابھر کر ہمارے سامنے آتے ہیں۔"
"غضنفر کا ناول کہانی انکل اور وقت کا تصور" میں طیب فرقانی نے 1994 میں شائع غضنفر کے ناول ” کہانی انکل" میں غضنفر کی جدت طرازی کے ان نقوش پر بات کی ہے جن سے فکشن کی دنیا میں غضنفر جیسے فعال ادیب کی انفرادی روش کا پتہ چلتا ہے۔ شائع شدہ افسانوں کو ترتیب کے ایک خاص مرحلے سے گزار کر اور کہانی انکل کے طور پر خود کو ان افسانوں سے وابستہ کرتے ہوئے غضنفر نے جو ناول پیش کیا وہ آج بھی فکشن کی دنیا میں زیر بحث ہے۔
اردو ادب میں ڈراما نگاری کی شان دار روایت رہی ہے لیکن اب ڈراما نگاروں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے اور سارا زور ناول نگاری پر مرکوز ہونے لگا ہے۔ ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ یافتہ فکشن نگار صادقہ نواب سحر کے افسانوں اور ناولوں نے کافی شہرت حاصل کی ہے مگر انھوں نے عمدہ ڈرامے بھی لکھے ہیں، اس کی تفصیلات سے آگاہی طیب فرقانی کے مضمون "صادقہ نواب سحر کے ڈراموں کا فکری و فنی جائزہ" پڑھ کر ہوتا ہے۔
طیب فرقانی کے ناقدانہ جوہر بساطِ افسانہ پر کھل کر سامنے آتے ہیں اور وہ یہاں پہنچ کر فن اور فنکار کے فاصلے کو مٹانے کی سعی کرتے ہوئے ایک ہی تخلیقی پیکر میں ڈھال دینے کا معجزاتی کارنامہ انجام دیتے ہیں۔ انھوں نے افسانوں کی تنقید کے روایتی فارمولے سے احتراز برتتے ہوئے "قرأت متن سے تفاعل" کی نئی راہ نکالی ہے۔ اس نئی ڈگر کے مسافر نے افسانوں کے ہمراہ چلتے ہوئے اور ان افسانوں کے کرداروں سے اپنائیت کا رشتہ ہموار کرتے ہوئے ان کے داخلی کوائف کو آشکار کر کے تخلیق کار کے لیے مسرت و بصیرت کا سامان فراہم کیا ہے۔ افسانوں پر ان کا تجزیاتی مضمون "احسان قاسمی: اردو افسانے کا معتبر فن کار" پڑھیں یا "رفیع حیدر انجم کے افسانوں میں سلمہ ستارہ" یا پھر "ممتاز نیر کے افسانوں کی رنگا رنگی"، افسانوی انتقاد کی ایسی تازہ کار تفہیم طیب فرقانی کی جدت طرازی کا ہی کرشمہ ہو سکتا ہے۔
طیب فرقانی نے اردو کے ان اصناف ادب کو بھی تنقیدی جواز فراہم کیا ہے جنھیں اب خال خال ہی بساطِ ادب پر دیکھا جاتا ہے. مثلاً خطوط نگاری، مثنوی نگاری، توشیح نگاری یا رخصتی نامہ۔ رفتار زمانہ کے ساتھ ساتھ ادبی سمت و رفتار میں بھی حیرت انگیز تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں لیکن اردو کے ادبی اثاثہ کے طور پر ان اصناف کی کلاسیکی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ادبی تہذیب و تربیت میں ان کا رول آج بھی مقدم ہے۔ اس سلسلے میں طیب فرقانی کے مضامین "رضوان ندوی کی خطوط نگاری"، "ساقی نامۂ اقبال اور مثنوی آب و سراب کا تقابلی مطالعہ"، "میر و غضنفر کے عشقیہ کردار"، "توشیح نگاری کی روایت اور امان ذخیروی کی توشیح نگاری"، "رخصتی ناموں کی روایت اور گل پوش پالکی" دعوتِ خواندگی دیتے ہیں۔ ان مضامین کی فہرست میں "امام مظہر کی شاعری: مقامیت میں آفاقیت کی مثال" بھی قابل ذکر مضمون ہے جو خطۂ سیمانچل میں شعری اثاثہ کی بازیابی کی فخریہ پیش کش ہے۔ اس ضمن میں "دیوان غالب کا عروضی مطالعہ: ایک منفرد کتاب" کا ذکر کیا جانا بے حد ضروری ہے کہ یہ رضوان ندوی کا ایک بے نظیر کارنامہ ہے جس کے بارے میں طیب فرقانی نے لکھا ہے:
"یہ کتاب نہ صرف انتہائی اہم علمی کام ہے بلکہ مبتدیان عروض کے لیے غالب کی شاعری اور اس کے آہنگ و وزن سے روشناس بھی کراتی ہے اور عروض میں ان کے درک و دخل کو رہنمائی اور پختگی بھی عطا کرتی ہے۔"
خورشید طلب سینئر شاعر ہیں اور شاعری میں استاد کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان کی شاعری کے امتیازات و اختصاص کی نشان دہی طیب فرقانی نے اپنے مضمون "خورشید طلب کی غزل گوئی" میں بطریق احسن کی ہے۔
طیب فرقانی نے ایک باخبر ناقد ہونے کا مکمل ثبوت فراہم کیا ہے۔ وہ اپنے ہم عصروں میں موجود باصلاحیت اور باکمال قلم کاروں کے کارناموں میں نہ صرف یہ کہ شریک رہے ہیں بلکہ ان کے فکر و فن پر بے باک و بےلاگ مضمون بھی رقم کیا ہے۔ اس سلسلے میں ان کے مضامین "صنعت تضاد میں انسانی تضاد کا نوحہ گر: مستحسن عزم"، "خوشبو کولاژ: شعری کینوس پر رنگ و بو کی تجرید"، "جہانگیر نایاب کی غزل گوئی"، اور "پیام صبا کا معنیاتی جہان" کے مطالعے سے تازہ واردانِ بساطِ شعر و ادب کے نمایاں تخلیق کار مستحسن عزم، شمس الہدیٰ معصوم، جہانگیر نایاب اور کامران غنی صبا کی تخلیقی ندرت و انفرادیت کا علم ہوتا ہے۔
مجموعی طور پر طیب فرقانی کی کتاب "خیال آرائیاں" موضوعاتی تنوع سے بھرپور مجموعۂ مضامین کی ایک ایسی کتاب ہے جو ہمیں ادبی ورثے کی واقفیت اور عصری ادب کی صورتحال سے مکمل طور پر آگاہ کراتی ہے۔ یہ کتاب ادبی تنقیدی جہان میں یقیناً اپنی اہمیت و افادیت ثابت کر کے رہے گی۔ طیب فرقانی کو دلی مبارکباد.
***
رفیع حیدر انجم کا افسانہ :سنڈاس بھی پڑھیں. 

شیئر کیجیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے