ڈاکٹر مجاہدلاسلام
ایسوسی ایٹ پروفیسر
شعبۂ اردو مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی
لکھنؤ کیمپس، لکھنؤ (یو۔پی)
ادب کی متنوع اصناف میں ایک نہایت فکرانگیز اور نازک صنف ’انانیتی ادب‘ بھی ہے، جسے انگریزی میں Egoistic Literature کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد وہ تخلیقات ہیں جن میں مصنف کی ’میں‘ یا ’انا‘ مرکزِ اظہار بن جاتی ہے۔ یعنی وہ ادب جس میں خارجی دنیا سے زیادہ مصنف کی داخلی کائنات جلوہ گر ہو، جہاں ہر منظر، جذبہ اور تجربہ اس کے شعور و احساس کے سانچے میں ڈھلتا ہے۔ اس نوع کے ادب میں موضوع نہیں، بلکہ خالقِ فن خود موضوع بن جاتا ہے۔
یوں انانیتی ادب دراصل وہ تخلیقی واردات ہے جس میں ’میں‘ کا اظہار محض خود پسندی نہیں بلکہ خود آگہی اور شعورِ ذات کی علامت بن جاتا ہے۔ یہی ’میں‘ جب تخلیق میں ضم ہوتی ہے تو ادب کو ایک مخصوص فکری اور جمالیاتی آہنگ عطا کرتی ہے۔ ایسے ادب کی مثالیں خودنوشت سوانح عمریوں، ڈائریوں، فکری انشائیوں اور یادداشتوں میں کثرت سے ملتی ہیں، جہاں مصنف اپنے تجرباتِ زیست کو براہِ راست قاری کے سامنے رکھتا ہے۔
یہاں ’میں‘ ایک متکلم روح بن کر قاری سے مخاطب ہوتی ہے، اپنی کمزوریوں اور عظمتوں کو بے نقاب کرتی ہے، اور اپنے داخلی جہان میں شریک کرتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انانیت ایک ادبی قدر بن جاتی ہے، وہ انانیت جو تخلیقی صداقت اور عرفانِ ذات سے جنم لیتی ہے، نہ کہ تفاخر یا رعونت سے۔ مولانا ابوالکلام آزاد کے یہاں یہی انانیت ایک فکری المیہ بن کر جلوہ گر ہوتی ہے۔ وہ اپنی دانش، وسعتِ علم، اور فکری عمق کے باوجود زمانے کی کوتاہ نظری پر شاکی نظر آتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں کئی جگہ یہ احساس شدت کے ساتھ ابھرتا ہے کہ دنیا نے ان کے ذہن کی گہرائیوں کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ وہ لکھتے ہیں:
”افسوس ہے کہ زمانہ میرے دماغ سے کام لینے کا کوئی سروسامان نہ کر سکا۔ غالب کو تو صرف اپنی شاعری کا ہی رونا تھا، نہیں معلوم میرے ساتھ قبر میں کیا کیا چیزیں جائیں گی…. بعض اوقات سوچتا ہوں تو طبیعت پر حسرت و الم کا ایک عجیب عالم طاری ہو جاتا ہے۔ مذہب، علوم و فنون، ادب، انشا، شاعری کوئی وادی ایسی نہیں جس کی بے شمار راہیں مبدا فیاض نے مجھ نامراد کے دماغ پر نہ کھول دی ہوں…. مگر افسوس جس ہاتھ نے فکر و نظر کی ان دولتوں سے گراں بار کیا، اس نے شاید سروسامانِ کار کے لحاظ سے تہی دست رکھنا چاہا۔ میری زندگی کا سارا ماتم یہ ہے کہ اس عہد و محل کا آدمی نہ تھا مگر اس کے حوالے کر دیا گیا۔“ (مولانا ابوالکلام آزاد: ایک سیاسی مطالعہ، ڈاکٹر ابو سلمان شاہ جہاں پوری۔ لاہور 2012ص، 120)
یہ تحریر محض فکری شکوہ نہیں بلکہ اس بات کا اظہار ہے کہ مولانا آزاد کے نزدیک انانیت تخلیقی زندگی کا وہ جوہر ہے جو فرد کو اپنی معنوی انفرادیت کا احساس دلاتا ہے۔ وہ دراصل اپنی اسی ’میں‘ کے جواز میں بات کرتے نظر آتے ہیں، جیسے ان کی فکری انانیت ہی ان کی روحانی پناہ گاہ ہو۔ انانیتی ادب کے بارے میں ان کا نظریہ بھی اسی داخلی احساسِ عظمت کا مظہر ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
”انانیتی ادبیات سے مقصود اس طرح کی خامہ فرسائیاں ہیں جن میں ایک مصنف کا ایغو یعنی ’میں‘ نمایاں طور پر سر اٹھاتا ہے۔ مثلا خود نوشتہ سوانح عمریاں، ذاتی واردات و تاثرات، مشاہدات و تجارب، شخصی اسلوبِ نظر و فکر۔ میں نے نمایاں طور کی قید اس لیے لگائی کہ اگر نہ لگائی جائے تو دائرہ بہت زیادہ وسیع ہو جائے گا، کیونکہ غیر نمایاں طور پر تو ہر طرح کی تصنیفات میں مصنف کی انانیت ابھر سکتی ہے۔“ (غبارِ خاطر: مولانا ابو اکلام آزاد، لاہور2005، ص 187)
یہ اقتباس مولانا آزاد کے ادبی خود شعور (literary self-consciousness ) کی اعلا مثال ہے۔ مگر دل چسپ پہلو یہ ہے کہ یہاں وہ انانیت کو صرف بیان نہیں کرتے، بلکہ اپنی انانیت کا فکری جواز بھی پیش کرتے ہیں یعنی وہ انانیت جسے وہ ’خود آگہی‘ کا درجہ دیتے ہیں، عملًا ان کے احساسِ فوقیت اور تخلیقی انا کا دفاع بن جاتی ہے۔ انانیت کی اس توجیہ میں ایک طرح کا روحانی و فکری تفاخر پوشیدہ ہے۔ مولانا آزاد اپنے لیے وہی مرکزیت پسند ہیں جو صوفی اپنے وجد میں، یا شاعر اپنے تخیل میں محسوس کرتا ہے۔ گویا کہ وہ حدیث ’خلق اللہ آدم علیٰ صورتہ‘ کو بہ طور استدلال پیش کرتے ہیں، جس کے مطابق انسان خدا کی صورت پر پیدا کیا گیا ہے۔
یہاں ’صورت‘ جسمانی نہیں، بلکہ معنوی جوہر ہے یعنی انسان کی وہ تخلیقی انفرادیت جو خالق کی صفتِ تخلیق سے نسبت رکھتی ہے۔ مولانا کے نزدیک یہی احساسِ انفرادیت ’انا‘ کو جنم دیتا ہے، اور یہی ’انا‘ اگر توازن کے ساتھ ظاہر ہو تو فن کی اساس بن جاتی ہے۔ ان کے نزدیک ’انانیت‘ خودنمائی نہیں، بلکہ عرفانِ ذات ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
”آیئے، آج تھوڑی دیر کے لیے رک کر اس معاملہ پر غور کر لیں۔ ایک ادیب، شاعر، مصور یا اہلِ قلم کی انانیت دراصل اس کے سوا کچھ نہیں کہ اس کی فکری انفرادیت کا ایک قدرتی سرجوش ہے جسے وہ دبا نہیں سکتا۔ اگر دبانا چاہتا ہے تو اور زیادہ ابھرنے لگتی ہے اور اپنی ہستی کا اثبات کرتی ہے۔“ (ایضا، ص: 188)
یہاں مولانا آزاد کی ’انانیت‘ تخلیقی خودآگہی کے ساتھ ساتھ خود اثبات کی ایک صورت بھی بن جاتی ہے۔ مگر اسی کے ساتھ یہ تاثر بھی ابھرتا ہے کہ وہ اپنی ذات کے غیر معمولی شعور کو محض بیان نہیں کر رہے، بلکہ اس کی تصدیق چاہتے ہیں۔ گویا وہ ادب میں انانیت کی تعریف کرتے کرتے خود اپنی فکری انانیت کو مشروعیت عطا کر رہے ہیں۔ یوں مولانا آزاد کا تصورِ انانیت دوہرا ہے ایک سطح پر یہ تخلیقی خود آگہی ہے، مگر دوسری سطح پر یہی خودآگہی اپنی ذات کے استحقاق اور فکری مرکزیت کا جواز بن جاتی ہے۔ یہی تضاد ان کے اسلوب کی دل کشی بھی ہے اور اس کی تنقیدی کمزوری بھی۔
مولانا آزاد کے نزدیک انانیت کسی مصنوعی تفاخر یا شاعرانہ خود ستائی کا نام نہیں، بلکہ انسانی انفرادیت کے جوشِ تخلیق کی قدرتی نمود ہے۔ وہ اسے تخلیق کے اس لمحے سے جوڑتے ہیں جب فنکار اپنے باطن میں جھانک کر اپنی ذات کے جوہر کو دریافت کرتا ہے۔ آزاد کے نزدیک انانیت دراصل وہ فکری ولولہ ہے جو فنکار کو عام انسانی سطح سے اٹھا کر اپنی داخلی سچائی کی طرف لے جاتا ہے۔ اس حقیقت کو واضح کرنے کے لیے وہ ابو العلاء معری، ابو فراس حمدانی، ابن سنا الملک، فردوسی، فیضی اور میر انیس جیسے شعرا کے اشعار پیش کرتے ہیں، اور ان کے حوالے سے وہ ثابت کرتے ہیں کہ فنکار کی خودی دراصل اس کی فکری صداقت اور اظہارِ وجود کا مظہر ہے۔ چنانچہ وہ خود لکھتے ہیں:
”یہ محض شاعرانہ تعلیاں نہ تھیں، یہ ان کی پرجوش انفرادیت تھی جو بے اختیار چیخ رہی تھی۔“ (ایضاً، ص : 189)
یہ جملہ مولانا آزاد کے تصورِ انانیت کی بنیاد ہے، جہاں ’میں‘ خود نمائی نہیں بلکہ تخلیقی اضطراب کی علامت ہے۔ ان کے نزدیک فنکار کی انانیت وہ آتشِ دروں ہے جو اسے جمود سے نکال کر تخلیق کے الوہی مقام تک لے جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا کی اپنی تحریروں میں بھی یہ ’پرجوش انفرادیت‘ نمایاں ہے، کبھی درد کی صورت، کبھی فخر کے پیرایے میں، اور کبھی ایک خاموش شکوے کے لہجے میں۔
مولانا آزاد کی شخصیت میں انانیت کا ایک اہم اور پیچیدہ پہلو ان کے خاندانی وقار اور مذہبی وجاہت سے جڑا ہے۔ وہ ایک ایسے خانوادے میں پیدا ہوئے جو علم و زہد، روحانیت اور مشیخیت کا امین سمجھا جاتا تھا۔ یہی خاندانی رتبہ ان کے شعور میں بچپن سے احترام ذات اور احساسِ امتیاز کی صورت میں رچ بس گیا۔ لیکن آزاد کی فکری عظمت کا راز یہی ہے کہ انھوں نے اس نسلی افتخار کو غرور میں نہیں، بلکہ خود احتساب کے ایک آئینے میں دیکھا۔ وہ اس حقیقت سے نظریں نہیں چراتے کہ خاندانی وجاہت انسان میں تفاخر پیدا کر سکتی ہے، بلکہ اسے اپنی کمزوری کے طور پر پہچانتے ہیں۔ وہ اعتراف کرتے ہیں:
”میری پیدائش ایسے خاندان میں ہوئی جو علم اور مشیخیت کی بزرگی اور مرجعیت رکھتا تھا… ممکن ہے اس کے کچھ نہ کچھ اثرات میرے حصے میں بھی آئے ہوں، کیونکہ اپنی چوریاں پکڑنے کے لئے خود اپنی کمین میں بیٹھنا آسان نہیں۔“ (ایضا، ص 106)
یہ جملہ مولانا کے اندر کے نقاد اور صوفی کے باہمی تصادم کو آشکار کرتا ہے۔ وہ اپنی ذات کی تہوں میں جھانک کر اعتراف کرتے ہیں کہ ان کی انا محض نسبی نہیں بلکہ فکری وراثت کی پیداوار بھی ہے۔ مگر یہی خود آگہی ان کی انانیت کو تقدیس بخش دیتی ہے یہ ’میں‘ غرور کی نہیں، عرفان کی ’میں‘ ہے۔ مرزا مسعود بیگ کے بیان کردہ واقعے میں مولانا آزاد کی یہی انانیت ایک وقار آمیز خاموشی میں بدل جاتی ہے:
”ہمارے ملک کی فضا اور وہ بھی سیاسی فضا بہت مکدر ہو گئی تھی… جب مولانا صاحب پر الزامات لگائے جاتے تھے یا حملے ہوتے تھے تو سوچتے تھے کہ انھوں نے تمام عمر اس ملک کی خدمت کی لیکن پھر بھی انہیں غلط سمجھا گیا“ (مولانا ابواکلام شخصیت اور کارنامے: (مرتب) خلیق انجم، اردو اکادمی، دلی۔ سنہ 1986، ص: 182)
یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ مولانا کی انانیت کسی جارحانہ انا کا مظہر نہیں بلکہ ایک زخمی وقار کی صورت ہے۔ وہ اپنی صفائی پیش کرنے کو اپنی بلندی کے خلاف سمجھتے ہیں ان کے لیے خاموشی ہی احتجاج کا اعلیا اسلوب تھی۔ مولانا آزاد کی انانیت دراصل ’خود آگہی‘ کا فکری پیکر ہے۔ وہ اس کے سایے میں خود کو جانچتے ہیں، اپنی کمزوریوں پر نظر ڈالتے ہیں، اور اپنی عظمت کے ساتھ اپنی محدودیت کا اعتراف بھی کرتے ہیں۔ یہی وصف انھیں عام رہنماؤں سے ممتاز کرتا ہے۔ ان کی ’میں‘ محض انا نہیں بلکہ ایک فکری اور روحانی کش مکش کا اظہار ہے، ایسی کش مکش جس میں وقار، صبر، اور احتجاج تینوں ایک ساتھ موجود ہیں۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ مولانا کی انانیت ان کے فکری مزاج کی اساس ہے۔ وہ اس کے ذریعے اپنی خاندانی وراثت پر تنقید بھی کرتے ہیں اور اپنے باطن کی تہذیب بھی۔ یہی انانیت جب خاموشی کے پیرایے میں ظاہر ہوتی ہے تو عزتِ نفس بن جاتی ہے، اور جب اظہار کے لمحے میں ابھرتی ہے تو تخلیقی آگہی میں ڈھل جاتی ہے۔ ان کے یہاں ’میں‘ کا مطلب خود پسندی نہیں بلکہ ’خود شناسی‘ ہے وہ عرفانی روشنی جو انسان کو اپنی فکری سچائی کے قریب لے آتی ہے۔
یہاں ہم صرف ایک مثال دینا مناسب سمجھیں گے۔ جیسا کہ ہر کوئی جانتا ہے، میاں بیوی کا رشتہ جہاں نہایت نازک ہوتا ہے، وہیں بے پناہ محبت اور جذباتی وابستگی سے بھی لبریز ہوتا ہے۔ مولانا آزاد کی تحریر کے قرائن سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی بیوی کی طبیعت ان کی گرفتاری سے قبل ہی خراب تھی۔ جیل میں یہ اطلاع ملی کہ اس نیک بخت خاتون کی حالت مزید بگڑ گئی ہے۔ اگر مولانا چاہتے تو حکام سے اپنی بیوی سے ملاقات کی اجازت حاصل کر سکتے تھے، مگر انھوں نے اس اجازت کو اپنے وقار کا مسئلہ بنا لیا اور بیوی سے ملنا گوارا نہ کیا۔ان کے دل کے نہاں خانوں میں کہیں نہ کہیں اس خبرِ بد یعنی بیوی کے انتقال کا دھڑکا لگا رہتا تھا، مگر اس کے باوجود جیل میں خبر رسانی کا جو واحد ذریعہ اخبار تھا، اس تک بھی مولانا کی رسائی دیدنی تھی۔ وہ اس سہولت کو بھی اپنے وقار کا مسئلہ سمجھتے تھے۔
مولانا ابوالکلام آزاد کی اس تحریر میں انسان کے باطن کی وہ کش مکش نمایاں ہوتی ہے جو وقار اور احساس کے تصادم سے جنم لیتی ہے۔ ایک طرف دل کی گہرائیوں میں محبت، بے قراری اور خوف کی لہریں ہیں، اور دوسری طرف ظاہری ضبط و سکون کا ایسا مصنوعی پردہ، جس کے پیچھے ایک عظیم انسان اپنی کمزوری کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔ جیل کی تنہائی، بیوی کی بیماری کی فکر، اور خبر کے انتظار کی اذیت ان سب کے باوجود مولانا اپنے وقارِ ذات کے اس حصار کو توڑنے پر آمادہ نہیں۔ ان کے لیے جذبات سے زیادہ اہم وہ صبر و استقلال تھا جو ان کی شخصیت کا بنیادی وصف بن چکا تھا۔ اس کیفیت کو وہ خود بڑی صداقت سے بیان کرتے ہیں:
”جیلر وہاں سے اخبار لے کر سیدھا میرے کمرے میں آتا ہے۔ جونہی اس کے دفتر سے نکلنے اور چلنے کی آہٹ آنا شروع ہوتی تھی، دل دھڑکنے لگتا تھا کہ نہیں معلوم آج کیسی خبر اخبار میں ملے گی، لیکن پھر فوراً چونک اٹھتا۔ میرے صوفے کی پیٹھ دروازے کی طرف ہے، اس لیے جب تک ایک آدمی اندر آکے سامنے کھڑا نہ ہو جائے، میرا چہرہ نہیں دیکھ سکتا۔ جب جیلر آتا ہے تو میں حسبِ معمول مسکراتے ہوئے اشارہ کرتا کہ اخبار ٹیبل پر رکھ دے اور پھر لکھنے میں مشغول ہو جاتا، گویا اخبار دیکھنے کی کوئی جلدی نہیں۔ میں اعتراف کرتا ہوں کہ تمام ظاہر داریاں دکھاوے کا ایک پارٹ تھیں، جس سے دماغ کا مغرورانہ احساس کھیلتا رہتا ہے کہ کہیں اس کے دامنِ صبر و قرار پر بے حالی اور پریشان خاطری کا کوئی دھبہ نہ لگ جائے۔“ (غبارِ خاطر: مولانا ابو اکلام آزاد، لاہور 2005، ص: 240)
یہ اقتباس مولانا آزاد کی داخلی عظمت اور انسانی کمزوری کے امتزاج کا نادر نمونہ ہے۔ ان کے دل میں اضطراب کی لہریں ضرور اٹھتی ہیں، مگر وہ اپنے باطن کے اس طوفان کو چہرے پر ظاہر ہونے نہیں دیتے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں مولانا کی انانیت اور استقامت ایک دوسرے سے ہم آغوش دکھائی دیتی ہیں، جہاں جذبات کی شدت بھی ان کے وقار کو نہیں توڑ پاتی۔ دراصل، یہ محض ایک قیدی کی کیفیت نہیں بلکہ ایک ایسے مردِ حق کی دروں بینی ہے جو دکھ کے عالم میں بھی اپنے صبر، وقار اور شخصیت کی سربلندی کو برقرار رکھتا ہے۔
اسی تناظر میں ہم کچھ مثالیں ظ۔ انصاری کی مشہور تصنیف ’ابوالکلام آزاد کا ذہنی سفر‘ سے اپنے لفظوں میں پیش کرتے ہیں، جو مولانا کے ذہنی رویے کو اور بھی واضح کر دیتی ہیں۔ پہلی مثال میں مشہور فرانسیسی مستشرق مسی نون (Louis Massignon) کا ذکر ہے، جس کی پنڈت نہرو اور مولانا دونوں سے شناسائی تھی۔ وہ چاہتا تھا کہ جب بھی یہ صاحبان پیرس آئیں تو ان سے ملاقات کریں۔ مگر ان دونوں کے رویے میں زمین و آسمان کا فرق تھا۔ پنڈت نہرو جب بھی پیرس آتے تو خود مسی نون سے ملنے جاتے، جب کہ مولانا آزاد پیرس پہنچ کر پیغام بھیجوا دیتے کہ’تشریف لائیے، مجھ سے ملاقات کیجیے‘۔ یہ طرزِ عمل محض رسمی تفاخر نہیں بلکہ اس ذہن کی نشانی ہے جو اپنے وقار اور مرتبت کا احساس رکھتا ہے۔
دوسری مثال جوش ملیح آبادی سے متعلق ہے۔ تقسیمِ ہند کے بعد جوش پاکستان گئے اور وہاں کی ترغیبات سے متاثر ہو کر وعدہ کیا کہ بھارت واپس جا کر اجازت لے کر دوبارہ پاکستان آئیں گے۔ انھیں دو مقامات سے اجازت لینی تھی وزیرِ اعظم جواہر لال نہرو سے اور وزیرِ تعلیم مولانا آزاد سے۔ نہرو جی نے نہ صرف ان کی دل جوئی کی بلکہ انہیں روکنے کی پوری کوشش کی۔ اس کے برعکس مولانا آزاد نے بقولِ جوش، بڑے منطقی اور سرد انداز میں کہا:
”غالباً آپ ہی وہ شاعر ہیں جس پر پاکستان ڈورے ڈال رہا ہے… میں ہر معاملے کو منطقی طور پر دیکھنے کا خوگر ہوں، لیکن جواہر جذباتی آدمی ہیں، وہ آپ کی ہجرت پر کسی طرح آمادہ نہیں ہوں گے۔“ (یادوں کی برات: جوش ملیح آبادی، ص:292)
تیسری مثال ظ۔ انصاری کی چشم دید ہے۔ 1956 کی عیدالفطر کے موقع پر وہ کرنل بشیر حسین زیدی کے بنگلے پر موجود تھے جب پنڈت نہرو کا فون آیا۔ نہرو نے انھیں اور ان کے اہلِ خانہ کو اگلے دن عید کے لنچ پر مدعو کیا۔ وہاں موجود لوگ آپس میں تبصرہ کرنے لگے، ایک نہرو ہیں جو عید کی مبارکباد دیتے اور کھانے پر بلاتے ہیں، اور ایک مولانا آزاد ہیں جو اپنے قریبی لوگوں کی بھی پروا نہیں کرتے۔ظ۔ انصاری ان واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”ان تینوں واقعات میں جواہر لال کی کسرِ نفسی، بے ریا برتاؤ اور بے تکلفانہ اپنے پن کا جو مظاہرہ ہے، وہ بظاہر مولانا کی انا، پرتکلف آمیز طرزِ عمل اور منطقی رویے کی ضد نظر آتا ہے۔ تاہم یہ واقعات دونوں ہستیوں کے پورے وجود کی جھلک دکھا دیتا ہے۔“ (ابوالکلام آزاد کا ذہنی سفر: ظ۔انصاری، نئی آواز، جامعہ نگر، نئی دہلی، سنہ: 1990ص: 79)
ان تینوں واقعات میں مولانا آزاد کی عملی وقار آمیز انانیت جھلکتی ہے، جس کا ثبوت ایک اور دل چسپ واقعہ بھی ہے:
”ایک دن کوئی ایسا ہوا کہ کوئی پانچ بجے گاندھی جی آ پہنچے، میں نے استقبال کیا اور دوڑ کے مولانا کو خبر کی، انھوں نے سنا تو مگر جیسے سنا نہیں، ٹس سے مس نہ ہوئے فرمانے لگے ’کہہ دیجئے اس وقت ملنے سے معذور ہوں کل نو بجے تشریف لائیں‘ عرض کیا غور فرما لیجئے کیا یہی پیغام پہنچا دوں؟ کسی قدر تیکھے تیوروں سے فرمایا’ اور کیا گاندھی جی میں سرخاب کے پر تو نہیں لگے ہوئے ہیں‘ ہیں نے گاندھی جی کو پیغام پہنچا دیا ٹھنڈے دل سے سنا ہشاش بشاش لوٹ گئے دوسرے دن نو بجے تشریف لائے۔“(ذکر آزاد: عبدالرزاق ملیح آبادی، ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، سنہ: 2006، ص: 69)
یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ مولانا آزاد کی انانیت جارحانہ انا نہیں بلکہ وقار، صبر اور منطقی غیر جانبداری کی علامت تھی۔ اسی وقار کی بدولت وہ اپنے فکری اور عملی اصولوں پر مستقل رہے۔
یہ مشاہدات مولانا آزاد کی اس ذہنی و فکری روش کو نمایاں کرتے ہیں جس نے ان کی پوری شخصیت کو عام روایت سے الگ کر دیا۔ ظ۔ انصاری نے بجا طور پر ان کی انانیت اور خوداعتمادی کی طرف اشارہ کیا ہے، مگر جب ہم خود مولانا کی تحریروں کا گہرائی سے مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی اسی انفرادیت کو نہ صرف تسلیم کرتے ہیں بلکہ اسے اپنے فکری وقار کا لازمی حصہ سمجھتے ہیں۔ وہ زمانے کے چلن سے الگ رہنے، عام ذوق کے برخلاف چلنے، اور رائج اقدار کے مقابل اپنی راہ خود متعین کرنے کو اپنی شناخت کا نشان مانتے ہیں۔ وہ خود اپنے اس رجحان کا اعتراف بڑی وضاحت سے کرتے ہیں:
”بازار میں ہمیشہ وہی جنس رکھی جاتی ہے جس کی مانگ ہوتی ہے، اس لئے ہر ہاتھ اس کی طرف بڑھتا ہے اور ہر آنکھ اسے قبول کرتی ہے مگر میرا معاملہ اس سے بالکل الٹا رہا۔ جس جنس کی بھی عام مانگ ہوئی میری دکان میں جگہ نہ پاسکی… میں نے ہمیشہ ایسی جنس ڈھونڈ ڈھونڈ کر جمع کی جس کا کہیں رواج نہ ہو ”(ایضا، ص: 115)
یہ بیان مولانا آزاد کی خود آگہی اور شعوری انفرادیت کا مظہر ہے۔ وہ اپنے راستے کو روایت کے برعکس اختیار کرتے ہیں، اور اسی ضد اور شعوری تنہائی کو اپنی فکری عظمت کا سرچشمہ بناتے ہیں۔ ان کی ’انانیت‘ دراصل خودنمائی نہیں بلکہ خودشناسی ہے وہ وقار جو اپنی راہ پر اکیلے چلنے کی ہمت دیتا ہے.
مولانا ابوالکلام آزاد کے اسلوبِ بیان میں جہاں فکری وسعت، فلسفیانہ توازن اور ادبی چمک نمایاں ہے، وہیں ایک گہری انانیت بھی جلوہ گر ہے۔ یہ انانیت عام خودپسندی نہیں بلکہ اپنی فکری برتری اور انفرادیت کے عرفان سے پھوٹتی ہے۔ مولانا کے نزدیک ’میں‘ کہنا تکبر نہیں بلکہ اپنی فکری حیثیت کا اعلان ہے۔ ان کی تحریروں میں، خصوصاً غبارِ خاطر اور تذکرہ میں، یہ ’میں‘ محض ضمیرِ متکلم نہیں بلکہ ضمیرِ متفکر ہے، وہ ضمیر جو اپنے زمانے، اپنی فکر اور اپنے تجربے کو ایک مخصوص شعوری مرتبہ عطا کرتا ہے۔ مولانا آزاد اپنی شخصیت کو عام ادبی پیمانوں سے ماورا قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک بعض افراد ایسے ہوتے ہیں جو فکر و نظر کے عام ترازوں میں نہیں تولے جا سکتے۔ وہ لکھتے ہیں:
”ایسے اخص الخواص افراد کو عام معیارِ نظر سے الگ رکھنا پڑے گا۔ ایسے لوگ فکر و نظر کے عام ترازوؤں میں نہیں تولے جا سکتے۔ ادب اور تصنیف کے عام قوانین انھیں اپنے کلیوں سے نہیں پکڑ سکتے۔ زمانے کو ان کا یہ حق تسلیم کرلینا پڑتا ہے کہ وہ جتنی مرتبہ بھی چاہیں ’میں‘ بولتے رہیں۔ ان کی ہر ’میں‘ ان کی ہر ’وہ‘ اور ’تم‘ سے کہیں زیادہ دلپذیر ہوتی ہے“ (ایضا، ص: 192)
یہ اقتباس دراصل مولانا آزاد کی شعوری انانیت کا بیانیہ ہے، ایک ایسی انانیت جو شخصیت کی خودپسندی نہیں بلکہ تخلیق کار کے شعورِ کائنات کی دلیل ہے۔ وہ ان ادیبوں میں سے نہیں جو اپنی ذات کو چھپانے میں فخر محسوس کرتے ہیں، بلکہ وہ اس حقیقت کے قائل ہیں کہ تخلیق کار کی ذات ہی اس کی تخلیق کا سرچشمہ ہے۔ ان کے نزدیک ہر ’میں‘ اس تخلیقی مرکز کی علامت ہے جہاں سے فکر اور وجدان پھوٹتا ہے۔ لہذا مولانا کی یہ انانیت ان کی خودنمائی نہیں بلکہ ان کے فکری وقار اور انفرادی شعور کا اعلان ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ان کی خودآگہی انانیت سے بلند ہو کر تخلیقی خودی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ تاہم، اگر اس انانیت کو ایک گہری تنقیدی نگاہ سے دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ مولانا آزاد انانیت کے نظریے کو محض فکری سطح پر بیان نہیں کرتے، بلکہ کہیں نہ کہیں وہ اپنی ہی شخصیت کے جواز کے لیے اسے فلسفیانہ بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ ’انانیت‘ کے نام پر اپنے اندر کے اس احساسِ فوقیت کو ایک فکری لباس پہنا دیتے ہیں جس سے وہ خود کو عام انسانوں سے ممتاز محسوس کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں ’میں‘ ایک ادبی علامت کم اور ایک نفسیاتی اقرار زیادہ بن جاتی ہے. ایسا اقرار جو اپنی تنہائی، اپنی عظمت اور اپنے داخلی جلال کو خود ہی تسلیم بھی کرتا ہے اور خود ہی اس کا جشن بھی مناتا ہے۔
مولانا آزاد کے نزدیک انانیت محض ایک نفسیاتی رجحان یا ذاتی کمزوری نہیں بلکہ ایک فکری و وجودی شعور کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ ان کے انانیتی ادب میں ذات اور کائنات کے رشتے کا ایک گہرا ادراک پوشیدہ ہے۔ وہ انسان کے باطن میں موجود اس طاقت کو پہچانتے ہیں جو ہر نقاب، ہر تہذیبی لبادے اور ہر اجتماعی شناخت کے پیچھے اپنی موجودگی کا اعلان کرتی ہے۔ آزاد کے نزدیک انانیت، خودشناسی کا دوسرا نام ہے۔ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ انسان اپنی تحریر و تقریر میں اپنی ذات کی جھلک سے کبھی مفر نہیں پا سکتا۔ یہی فکری بصیرت ان کے اس اقتباس میں نہایت پراثر انداز میں جلوہ گر ہے:
”ہم اپنے ذہنی آثار کو ہر چیز سے بچا لے جا سکتے ہیں مگر خود اپنے آپ سے بچا نہیں سکتے۔ ہم کتنا ہی ضمیرِ غائب اور ضمیرِ مخاطب کے پردوں میں چھپ کر چلیں، لیکن ضمیرِ متکلم کی پرچھائیں پڑتی ہی رہے گی۔ ہم جہاں جاتے ہیں، ہمارا سایہ ہمارے ساتھ جاتا ہے۔ ہماری کتنی ہی خود فراموشیاں ہیں جو دراصل ہماری خود پرستیوں سے ہی پیدا ہوتی ہیں…. لیکن ہر قانون کی طرح یہاں بھی مستثنیات ہیں۔ ہمیں تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ کبھی کبھی ایسی شخصیتیں بھی دنیا کے مسرح پر نمودار ہوجاتی ہیں جن کی انانیت کی مقدار اضافی نہیں ہوتی بلکہ مطلق نوعیت رکھتی ہے۔ یعنی خود انہیں ان کی انانیت جتنی بڑی دکھائی دیتی ہے، اتنی بڑی دوسرے بھی دیکھنے لگتے ہیں۔ ان کی انانیت کی پرچھائیں جب کبھی پڑے گی، تو خواہ اندر کا آئینہ ہو خواہ باہر کا، اس کے ابعادِ ثلاثہ یکساں طور پر نمودار ہوں گے۔“ (ایضاً، ص: 192)
یہ اقتباس مولانا آزاد کی خودآگہی، فکری بصیرت اور وجودی تنہائی کا مظہر ہے۔ وہ اس سچائی سے آگاہ ہیں کہ انسان اپنی ذات سے فرار اختیار نہیں کر سکتا؛ اس کا سایہ، اس کی انانیت، اس کی تحریر و تقریر میں ہمیشہ جھلکتا رہتا ہے۔ آزاد یہاں انانیت کو منفی معنوں میں نہیں بلکہ ایک تخلیقی توانائی کے طور پر دیکھتے ہیں، ایسا جوہر جو فرد کی شناخت اور اس کی تخلیق دونوں کو معنی بخشتا ہے۔تاہم، اس تخلیقی توانائی میں ایک ایسا پہلو بھی پوشیدہ ہے جو مولانا آزاد کی ذاتی شخصیت کو بے نقاب کرتا ہے۔ وہ اپنی فکری انفرادیت کو اس شدت سے پیش کرتے ہیں کہ بسا اوقات ان کی تحریر قاری سے مکالمہ کم اور خود سے گفتگو زیادہ محسوس ہوتی ہے۔
ان کی انانیت اس قدر مرکزی ہو جاتی ہے کہ وہ اپنے عہد، اپنے قاری اور اپنے فکری ہم عصروں سے ایک فاصلے پر کھڑے نظر آتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک ’میں‘ ہی کائنات کا محور ہے، اور وہ خود اس محور کے واحد ترجمان۔ اس طرح مولانا آزاد کے یہاں ’انانیت‘ ایک ایسا فکری نظام بن جاتی ہے جس کے ذریعے وہ اپنی ذات کے جلال، اپنی تنہائی اور اپنی فکری مطلقیت کا جواز تلاش کرتے ہیں۔ وہ انانیت کو خودغرضی نہیں مانتے، مگر دراصل یہی انانیت ان کے فکری وجود کی سب سے نمایاں علامت بن جاتی ہے۔ وہ اپنے ہی نظریے کے آئینے میں اپنے چہرے کو دیکھتے ہیں، اور یہی لمحہ ہے جہاں مولانا آزاد فلسفی سے زیادہ ایک خود آگاہ انانیت پسند نظر آتے ہیں۔(ختم شد)
mujahiddr@gmail.come
9628845713
***
صاحب مقالہ کی گذشتہ نگارش: ژاک دریدا کا فلسفہ "ردّ تشکیل" اور شارب ردولوی کی آپ بیتی
انانیتی ادب اور مولانا ابواالکلام آزاد
شیئر کیجیے