بیضہ فروش

بیضہ فروش

محمد آصف عزیز
ہزاری باغ، جھارکھنڈ
رابطہ: 9608356173

کوڈرما اسٹیشن پر ٹرین کھڑی تھی۔ شام ڈھل رہی تھی اور پلیٹ فارم پر زندگی اپنی پوری بے ترتیبی کے ساتھ رواں تھی۔ چائے والوں کی آوازیں، مسافروں کی جلدی، قلیوں کی صدائیں اور رخصت ہونے والوں کے ہاتھ ہلا ہلا کر الوداع کہنے کا منظر، سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔ میں کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا کہ ایک شخص ایک برقع پوش خاتون کے ساتھ ڈبے میں داخل ہوا۔ عمر کوئی چالیس برس کے قریب ہوگی، قد لمبا، رنگت سرخ و سفید، چہرے پر گھنی لمبی داڑھی اور بدن پر سفید کرتا پاجامہ تھا۔ اس کے ساتھ جو عورت تھی وہ بے حد دبلی پتلی تھی اور اس کی چال میں ایسی کمزوری تھی جیسے جسم کسی لمبی بیماری سے لڑتے لڑتے تھک چکا ہو۔ وہ شخص اپنی سیٹ تلاش کرتے ہوئے میرے پاس پہنچا تو معلوم ہوا کہ اس کی نشست میری ہی برابر والی تھی۔ اس نے اس خاتون کو بیٹھنے میں سہارا دیا اور خود میرے ساتھ بیٹھ گیا۔
ٹرین نے کچھ دیر بعد سیٹی دی اور کوڈرما اسٹیشن پیچھے چھوٹنے لگا۔ کچھ ہی دیر میں ٹرین کینٹین کا ایک ملازم آیا، اسے پانی کی بوتل دی اور آگے بڑھ گیا۔ اس شخص نے بوتل کھولی، دو گھونٹ پانی پیا اور پھر میری طرف بڑھاتے ہوئے پوچھا، "آپ پانی لیں گے؟"
میں نے مسکرا کر نفی میں سر ہلا دیا۔ بوتل بند کرکے اس نے اپنے سامنے رکھ لی۔ چند لمحے خاموشی رہی، پھر اس نے پوچھا، "آپ کہاں جا رہے ہیں؟" میں نے کہا، "ہاوڑہ۔" وہ خوش ہوکر بولا، "اوہ، میں بھی وہیں جا رہا ہوں۔ دراصل کلکتہ سٹی اسپتال جانا ہے۔ یہ میری اہلیہ ہیں، ان کا روٹین چیک اَپ ہے۔" میں نے اس کی بیوی کی طرف دیکھا۔ وہ خاموش تھی، جیسے ہماری گفتگو سے اس کا کوئی تعلق ہی نہ ہو۔
"آپ کا گھر کلکتہ ہے؟" اس نے دوبارہ سوال کیا "نہیں بھائی، میں گیا کا رہنے والا ہوں۔"
پھر اس نے پوچھا، "آپ کسی کام سے جا رہے ہیں؟" میں نے جواب دیا، "سسرال جا رہا ہوں۔"
بات آگے بڑھی تو میں نے اس سے پوچھا، "آپ کا تعلق کہاں سے ہے؟" اس نے بتایا کہ وہ چترا، جھارکھنڈ کا رہنے والا ہے۔
اس کا نام اعزاز تھا۔ وہ خاصا خوش مزاج اور ملنسار آدمی تھا۔ باتوں باتوں میں معلوم ہوا کہ حج بھی کر چکا ہے۔ شادی کو آٹھ سال ہو چکے تھے اور تین بچے تھے، دو لڑکے اور ایک لڑکی۔ بڑا بیٹا سات سال کا تھا اور سب سے چھوٹی بیٹی ساڑھے تین برس کی۔ بچوں کا ذکر کرتے ہوئے اس کے چہرے پر ایسی روشنی آجاتی تھی جیسے کسی نے اندر چراغ جلا دیا ہو۔ وہ ان کے اسکول، شرارتوں اور مستقبل کے خوابوں کی باتیں کرتا رہا اور میں خاموشی سے سنتا رہا۔ اور دل ہی دل میں یہ سوچتا رہا کہ بعض لوگوں کی زندگی کتنی مکمل ہوتی ہے، گھر میں بچے، ان کی معصوم شرارتیں، ان کی فرمائشیں، ان کے مستقبل کی فکر اور ان سب کے درمیان زندگی کا عجیب سا سکون. میں اس کی باتوں میں وہ زندگی تلاش کر رہا تھا جو میری اپنی زندگی سے کہیں دور جا چکی تھی۔
آسنسول تک پہنچتے پہنچتے ہم دونوں کے درمیان اجنبیت تقریباً ختم ہوچکی تھی۔ تین گھنٹے کی رفاقت نے ہمیں ایسا مانوس کردیا تھا جیسے ہم ایک دوسرے کو برسوں سے جانتے ہوں۔ شاید وہ شخص بہت ملنسار تھا یا پھر ایک ہی قوم سے تعلق رکھنے کی وجہ سے ہمارے درمیان ایک غیر محسوس قربت پیدا ہوگئی تھی. اسی دوران اس نے اچانک پوچھا، "آپ کے کتنے بچے ہیں؟"
سوال معمولی تھا، مگر میرے لیے نہیں۔ میرے اندر برسوں سے دفن ایک درد اچانک جاگ اٹھا۔ ایک لمحے کو خیال آیا کہ جھوٹ بول دوں، کہہ دوں ایک بچہ ہے، مگر نہ جانے کیوں زبان نے جھوٹ بولنے سے انکار کردیا. میں نے نظریں جھکا کر کہا،
"ایک بھی نہیں۔"
وہ کچھ لمحے میری طرف دیکھتا رہا۔ پھر پوچھا، "آپ کی شادی کو کتنے سال ہوگئے؟"
میں نے کہا، "دس سال۔"
اس نے حیرت سے کہا، "دس سال؟..
پھر ڈاکٹر کو دکھایا؟"
میں نے کہا، "جی۔"
وہ بولا، "کیا کہتا ہے ڈاکٹر؟"
میں نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے کہا، "کہتا ہے میری بیوی کا بیضہ نہیں بنتا، اسی وجہ سے وہ ماں نہیں بن سکتی۔"
میرے لہجے میں شاید کچھ ایسا تھا کہ وہ خاموش ہوگیا۔ پھر اس نے آہستہ سے پوچھا،
"آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ ہو؟"
میں نے اس کی طرف دیکھا اور کہا، "کون نہیں چاہتا بھائی کہ اسے اولاد کا سکھ نصیب ہو، کون زمانے کے طعنے سننا چاہتا ہے؟ آدمی لوگوں کے سوالوں سے بچ سکتا ہے، لیکن اپنے دل کے سوال سے کہاں بچتا ہے؟ ہم چاہے جتنا مضبوط بن جائیں لیکن کسی بچے کو اپنے باپ کے ساتھ چلتے دیکھتا ہوں تو دل کے اندر ایک خالی جگہ کا احساس ہوتا ہے. جب گھر کے آنگن میں دوسرے بچوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں تو اپنا گھر بہت بڑا ہوتے ہوئے بھی خالی لگتا ہے۔"
اعزاز نے غور سے میری بات سنی۔ پھر کچھ دیر سوچنے کے بعد بولا،” ایک طریقہ ہے “
” کیا طریقہ ہے “ میں نے تجسس بھری نظروں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا.
اس نے میری طرف جھک کر کہا، "اچھا، تو میں جو کہوں گا وہ کریں گے؟"
میں نے پوچھا، "کیا کرنا ہوگا؟"
اس نے ذرا توقف کے بعد کہا، "میں آپ کو بیضہ دے سکتا ہوں۔ اپنی بیوی کا۔"
میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔ "کیا ایسا ممکن ہے؟"
وہ بالکل مطمئن تھا۔ مجھے حیرت زدہ دیکھ کہ اطمینان سے بولا، "اپنی بیوی کا بیضہ، میں اب تک تیس لوگوں کو دے چکا ہوں۔ آج بھی اسی کام کے لیے اسپتال جا رہا ہوں."
مجھے اس کی بات سمجھنے میں چند لمحے لگے۔ پھر اس نے ایک اور جملہ کہا، "مفت میں نہیں دوں گا، اس کے لیے رقم لگے گی۔ میں بیضہ بیچتا ہوں۔ یہی میرا کاروبار ہے۔"
میرے ذہن میں سوالات کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ انسانی جسم کا ایک حصہ بھی کہیں بیچا جاسکتا ہے؟ کوئی عورت اپنا بیضہ بیچ سکتی ہے؟ کیا یہ جائز ہے؟ کیا یہ قانونی ہے؟
لیکن پھر میری نظر اس کی بیوی پر پڑی۔ مجھے لگا شاید میں ایک ایسے شخص کے سامنے بیٹھا ہوں جو دنیا کی نظروں میں عجیب سہی، مگر جانے کتنے بے اولاد گھروں کے لیے امید بن چکا ہے۔ شاید اس کے ذریعے کتنی عورتوں کی سونی گودیں بھری ہوں گی۔ شاید کتنے مردوں نے برسوں بعد اپنے بچے کو گود میں اٹھایا ہوگا۔ ایک لمحے کے لیے وہ شخص مجھے فرشتہ محسوس ہوا۔
"کیا سوچ رہے ہیں؟" اس نے پوچھا۔
"کچھ نہیں۔"
اس نے جیب سے ایک کارڈ نکالا اور میری طرف بڑھا دیا۔ "آپ اچھے سے سوچ سمجھ کر فیصلہ لیں اور مجھے فون کیجیے گا۔"
میں نے کارڈ لے لیا۔
ہاوڑہ اسٹیشن پر ہماری راہیں جدا ہوگئیں، مگر اس کا دیا ہوا کارڈ میری جیب میں رہ گیا۔
گھر پہنچ کر میں نے اپنی بیوی کو سارا واقعہ سنایا۔ وہ دیر تک خاموش بیٹھی رہی۔ پھر اس کی آنکھوں میں ایک ایسی چمک آئی جسے میں نے برسوں سے نہیں دیکھا تھا۔ ہم دونوں کئی مرتبہ آئی وی ایف کے بارے میں سوچ چکے تھے، مگر ایک سوال ہمیشہ ہمارے درمیان دیوار بن کر کھڑا ہوجاتا تھا – کیا یہ جائز ہے؟ کسی پرائی عورت کے اووسائٹ(Oocyte) اور میرے نطفے سے بنے Embryo سے جو بچہ جنم لیگا کیا وہ ہمارا بچہ ہوگا، اور اگر ڈونر کا بیضہ ہوگا تو وہ کس کا ہوگا؟ ہم اس بچے کو دل سے اپنا کیسے سمجھ پائیں گے؟ سوالات آج بھی جوں کے توں تھے مگر آج ہمیں لگا تھا کہ شاید قسمت نے ہماری مشکل کا عجیب سا حل تلاش کرلیا ہے۔ کم از کم ہم ڈونر کو جانتے تھے، اس سے بات کرچکے تھے، اس کا نام جانتے تھے، اس کا شہر جانتے تھے۔
ہم نے اعزاز سے رابطہ کیا اور کچھ ہی دنوں میں اسپتال کا چکر لگانے کا فیصلہ ہوگیا۔
اس دن جب ہم اسپتال پہنچے تو میرے دل کی دھڑکن معمول سے کہیں زیادہ تیز تھی۔ کاغذات مکمل ہوئے، ڈاکٹر سے بات ہوئی، ضروری ٹیسٹ کیے گئے۔ اعزاز کی بیوی کو پہلے ہی ہارمون کے انجکشن دیے جا چکے تھے تاکہ بیضے تیار ہوسکیں۔ آخرکار اسے آپریشن تھیٹر لے جایا گیا۔
میں باہر بیٹھا مستقبل کے خواب دیکھ رہا تھا تو کبھی ماضی کی تلخ یادوں میں کھویا ہوا تھا۔ دس برس سے ہمارے گھر میں ایک سوال سانس لیتا رہا تھا کہ کیا کبھی ہمارے بھی آنگن میں کسی بچے کی ہنسی گونجے گی؟ کئی بار امیدیں بندھیں، لیکن ایک رپورٹ جس میں لکھا تھا،
"Poor Ovarian Reserve"
اس رپورٹ کے ساتھ ہی ہماری سبھی امیدیں خاموشی سے دم توڑ گئی تھیں، وقت گزرتا گیا، رشتے داروں کے سوال چھبھتے رہے اور ہم دونوں میاں بیوی نے اپنے دل کے دکھ کو ایک دوسرے سے بھی چھپانا سیکھ لیا. 
مگر آج جیسے برسوں سے بند دروازہ کھل گیا ہو، مجھے تو یقین نہیں آ رہا تھا کہ جس لفظ ” باپ “ کو میں دوسروں کے لیے سنتا آیا ہوں آج وہ لفظ میرے نام کے ساتھ بھی جڑ سکتا ہے، دس برس کی خاموشی کے بعد پہلی بار مجھے اپنے گھر میں کسی بچے کے قدموں کی چاپ سنائی دے رہی تھی. میری بیوی بھی خاموش بیٹھی تھی، اس کے دل میں بھی عجیب سی ہلچل تھی. دس برس کی دعائیں، انتظار کی راتیں، دوسروں کے بچوں کو دیکھ کر دل میں اٹھنے والی کسک اور ہر ناکامی کے بعد خود کو سنبھالنے کی کوشش. سب ایک ساتھ یاد آ رہا تھا. میری بیوی نے میری طرف دیکھا تو اس کی نظروں میں ایک ہی سوال تھا. کیا واقعی ہمارے گھر میں بھی ننہا مہمان آئے گا؟ میں نے آہستہ سے اس کے ہاتھ دبا دئے. 
کچھ دیر بعد ڈاکٹر نے بتایا کہ بیضہ حاصل کرلیا گیا ہے۔ میرا سیمپل لیا گیا اور لیبارٹری میں ایمبریو بنانے کا عمل شروع ہوگیا۔ مجھے ایسا لگا جیسے میری زندگی کا سب سے بڑا خواب حقیقت بننے والا ہے۔ میں نے آنکھیں بند کیں اور دل ہی دل میں دعا کی۔ مگر تقدیر شاید میرے لیے ایک اور کہانی لکھ چکی تھی۔ اعزاز اچانک میرے سامنے آیا۔ اس کا چہرہ زرد تھا۔
"کیا ہوا؟" میں نے پوچھا۔
اس نے جواب دینے میں چند لمحے لگائے، پھر بولا، "ایک مسئلہ ہوگیا ہے۔"
میرے دل کی دھڑکن رک سی گئی۔
"کیا؟"
"میری بیوی کو ابھی تک ہوش نہیں آیا۔"
میں نے اسے دیکھا۔ "کیا مطلب؟"
"پروسیجر کے بعد اسے ہوش آنا تھا، لیکن نہیں آیا۔ ڈاکٹر دیکھ رہے ہیں۔"
میرے جسم میں جیسے جان نہیں رہی تھی۔ ابھی کچھ دیر پہلے تک میں ایک بچے کا خواب دیکھ رہا تھا، اب میرے سامنے ایک عورت کی زندگی کا سوال کھڑا تھا۔ وہ عورت جس کے جسم سے میرے خواب کی تعبیر نکالا گیا تھا۔
میں نے پہلی مرتبہ اپنے آپ سے یہ سوال کیا کہ کیا میری خوشی کسی دوسرے انسان کی تکلیف پر قائم ہوسکتی ہے؟ کیا ایک بچے کی خواہش اتنی بڑی ہوسکتی ہے کہ اس کے سامنے کسی دوسرے انسان کا درد چھوٹا پڑ جائے؟ اور اگر کل کو ہمیں وہ بچہ مل بھی گیا تو کیا میں اس خوشی کے ساتھ اس عورت کی تکلیف کو بھلا سکوں گا؟
پھر ایک ڈاکٹر تیزی سے ہماری طرف آیا۔ اس نے اعزاز سے پوچھا، "مریضہ کے پچھلے میڈیکل ریکارڈ کہاں ہیں؟"
اعزاز نے کہا، "آپ لوگوں کے پاس ہی تو ہوں گے۔"
ڈاکٹر نے سر ہلایا، "نہیں۔ ہمیں مکمل ریکارڈ چاہیے۔ اس مریضہ کے جسم پر پہلے کی کئی پروسیجرز کے آثار ہیں۔ آپ نے ہمیں بتایا کیوں نہیں کہ اس کے پہلے بھی کئی مرتبہ بیضے نکالے جاچکے ہیں؟"
میں نے اعزاز کی طرف دیکھا۔
وہ خاموش تھا۔
میرے ذہن میں ٹرین کا وہ سفر، اس کے تیس لوگوں کو بیضہ دینے کا دعویٰ اور اس کی بیوی کا کمزور جسم ایک ساتھ گھومنے لگا۔
میں نے اس کا گریبان پکڑ لیا۔ "تم نے مجھ سے جھوٹ بولا ہے؟"
اس نے نظریں جھکا لیں۔
"یہ عورت تمہاری بیوی نہیں ہے، ہے نا؟"
اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔
میں نے غصے سے کہا، "جو پوچھ رہا ہوں، جواب دو!"
کافی دیر بعد اس نے آہستہ سے کہا، "نہیں۔"
میرا دماغ سن ہوگیا۔
"پھر کون ہے یہ؟"
اعزاز کی آنکھوں میں پہلی بار خوف نظر آیا۔ اس نے کہا، "وہ ایک غریب عورت ہے۔"
"اور تم؟"
وہ خاموش رہا۔
"تم کیا کرتے ہو؟"
” اس نے سر اٹھایا اور کہا، "میں بیضہ نہیں بیچتا … میں لوگوں کی مجبوری بیچتا ہوں۔"
اس ایک جملے نے میرے اندر جیسے پوری دنیا الٹ دی۔
اعزاز نے بتایا کہ وہ غریب عورتوں کو پیسوں کا لالچ دے کر اسپتال لاتا تھا۔ انھیں بتایا جاتا کہ چند دن کی تکلیف کے بدلے اچھی رقم ملے گی۔ ان کے بیضے نکال کر ایسے لوگوں کو دیے جاتے جو اولاد کی خواہش میں بڑی رقم خرچ کرنے کو تیار ہوتے۔ وہ کبھی شوہر بنتا، کبھی بھائی، کبھی رشتہ دار۔ دراصل وہ Oocyte donor نہیں تھا، بلکہ وہ انسانی مجبوری کا سوداگر تھا۔
میں خاموش کھڑا اسے دیکھتا رہا۔
جس شخص کو میں ٹرین میں بیٹھ کر فرشتہ سمجھ رہا تھا، وہ دراصل ایک ایسا آدمی نکلا تھا جو دوسروں کی بے بسی کو بازار میں لے جاتا تھا۔
اسی لمحے آپریشن تھیٹر کا دروازہ کھلا۔ ڈاکٹر باہر آیا اور بولا، "مریضہ کو ہوش آگیا ہے۔ فی الحال خطرے سے باہر ہے، لیکن اسے نگرانی میں رکھنا ہوگا۔"
میرے سینے سے جیسے ایک بوجھ اتر گیا۔
میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا۔ اعزاز کا دیا ہوا کارڈ اب بھی میرے پاس تھا۔ میں نے اسے نکالا، چند لمحے دیکھا اور پھر آہستہ آہستہ پھاڑ دیا۔
میری بیوی میرے برابر کھڑی تھی۔ اس کی آنکھوں میں اب بھی ماں بننے کی خواہش تھی، لیکن اس خواہش کے ساتھ ایک نئی سمجھ بھی پیدا ہوچکی تھی۔
میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور کہا، "ہمیں اولاد چاہیے، لیکن کسی مجبور عورت کے جسم کی قیمت دے کر نہیں۔"
ہم دونوں اسپتال سے باہر نکل آئے۔
***
آپ یہ بھی پڑھ سکتے ہیں :حسین الحق کا افسانہ ”زخمی زخمہ“ کا تجزیہ

شیئر کیجیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے