علقمہ شبلی
سابق وائس چیئر مین مغربی بنگال اردو اکاڈمی
کچھ دنوں قبل مولانا محمد رضوان ندوی کا فون آیا۔ میں ان سے واقف نہیں تھا۔ سلام و کلام کے بعد انھوں نے’ کلامِ قاضی جلال ہری پوری‘ کا ذکر کیا، جو انھوں نے از راہِ کرم ارسال کیا تھا، لیکن مجھے نہیں ملا تھا۔ دوبارہ انھوں نے رجسٹرڈ پوسٹ سے روانہ کیا جو اس وقت پیشِ نظر ہے۔
بدقسمتی سے قاضی جلال ہری پوری کا کلام میری نظروں سے نہیں گزرا تھا۔ اب جو مطالعہ کا موقع ملا تو اندازہ ہوا کہ ان کا تعلق شاعروں کے اس گروہ سے ہے جس نے اپنی شاعری کی عمارت کلاسیکی ادبی روایت کی بنیاد پر رکھی ہے اور ان کی شعری لفظیات اور علامتیں بھی وہی ہیں جو مستحکم روایت کی دین ہیں۔
قاضی جلال ہری پوری نے بیشتر اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی ہے. مجموعے میں غزلوں کے علاوہ نظمیں، حمد و مناجات، نعتیں اور قطعات ہیں. جو ان کے قدرتِ کلام اور روانیٔ طبع کا بین ثبوت ہیں۔ ان کی حمد و مناجات پرور دگارِ عالم کی الوہیّت اور اپنی عبدیّت کا شاعرانہ اظہار ہے۔ نعتوں میں رسولِ اکرم کے ساتھ ان کی محبت و عقیدت کی والہانہ کیفیت نمایاں ہے۔ اندازِ بیان روایتی ہوتے ہوئے بھی ذاتی احساسات کے اظہار نے اس کے تاثر کو بڑھادیا ہے:
جبینِ محبت کے سجدوں کا محور
ترا سنگِ در ہے ترا آستاں ہے
قبر کی ظلمت میں مشعل کی ہمیں حاجت نہیں
داغِ حبِّ مصطفی ہمراہ لے جائیں گے ہم
نہ جنت نہ حورِ ارم چاہتے ہیں
لقائے نبیؐ صرف ہم چاہتے ہیں
جلوۂ رویت ہمی بینم بہ ہرجا جلوہ گر
ایکہ در چشم و نظر ای تاجدارِ ما توئی
جہاں تک غزل کا تعلق ہے، یہ قاضی جلال ہری پوری کی بنیادی صنف ہے اور اس میں ان کے جوہر نمایاں ہوتے ہیں۔ غزل اردو شاعری کی مہذب ترین صنف ہے. ابتدا سے آج تک یہ ہماری ہم قدم ہے. شاعروں نے اپنے ظرف و ذوق کے مطابق اسے سنوارا نکھارا ہے اور اس کی زلفوں کی شانہ کشی کر تے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے غزل ایک توانا صنف ہے اور ہمارے جذبات و احساسات کے اظہار کا حسین اور مرغوب ذریعہ ہے۔ قاضی جلال کی غزلوں میں روایتی رنگِ سخن نمایاں ہے۔ جو اعلیٰ انسانی اقدار کا ضامن ہے۔تخلیقی وفور اور فنی مہارت نے اس میں جان ڈال ڈی ہے۔اظہار کی سطح پر ان کے احساسات کی شدت و صداقت ان کے ایوانِ غزل کو امتیازی حیثیت عطا کر دی ہے۔ اس میں قصہ ہائے پارینہ بھی ہیں، عہدِ حاضر کی شکست و ریخت کی داستانیں بھی ہیں اور مستقبلِ تابندہ کی بشارتیں بھی ہیں:
جو اپنی تیغ کو صیقل سے چمکاتا رہا شب بھر
سویرے معرکے میں سر اسی کا زیرِ خنجر تھا
خوشی میں تو اہلِ نِعَم یاد آئے
برا وقت آیا تو ہم یاد آئے
ایسے بھی نظر آئے احباب زمانے میں
شمشیر بہ کف پہنچے چھپ کر جو سرہانے میں
جلال ! اس دور میں افراط ہے ہر چیز کی لیکن
زمانے میں اگر کم یاب ہے تو جنسِ انساں ہے
ان کی نظموں میں بھی وہی لطف و اثر انگیزی ہے جو ان کی غزلوں کا طرۂ امتیازہے’عورت‘ ’زبانِ اردو‘ ’ ضمیر کی پکار‘ وغیرہ ایسی نظمیں ہیں جو خصوصی توجہ کی مستحق ہیں. مولانا محمد رضوان ندوی محبانِ اردو کے شکریے کے مستحق ہیں کہ انھوں نے اپنے دادا قاضی جلال ہری پوری کے بکھرے ہوئے کلام کو جمع کیا اور کتابی شکل میں شائع کر کے محفوظ کردیا۔
میں اپنی بات قاضی جلال ہری پوری کے ایک قطعہ پر ختم کر نا چاہتا ہوں :
متاعِ زندگانی لُٹ گئی ہے
اسی کو ڈھونڈنے نکلا ہوں گھر سے
الٰہی ! بھر دے دامن آرزو کا
تہی دامن نہ لوٹا اپنے در سے
قاضی صاحب کی اس دعا پر آئیے ہم سب آمین کہیں۔
***
اس سری کی دوسری تحریر یہاں پڑھیں: کلامِ قاضی جلال ہری پوری : ایک مطالعہ
کلامِ قاضی جلال ہری پوری پر ایک نظر
شیئر کیجیے