حامد مقتدر: دس سالہ خاموشی، دس سالہ فراموشی

حامد مقتدر: دس سالہ خاموشی، دس سالہ فراموشی

فارسی تحریر: استاد پرتو نادری، افغانستان
ترجمہ: خان حسنین عاقب، انڈیا

ہر بار جب سورج پہاڑوں، پانیوں اور میدانوں کے اس پار غروب ہوتا ہے تو ہم نہیں جانتے کہ ایک لمبی اور تاریک رات میں کیا تباہ کن واقعات جنم لیتے ہیں، کس طرح انسانوں کی پیٹھ میں خنجر گھونپا جاتا ہے اور کیسے ایک خاندان خاک اور دھویں میں تبدیل ہوجاتا ہے۔
منگل کی رات ۲۰ اسد ۱۳۹۴ خورشیدی (افغان شمسی تقویم) کو مزار شریف شہر میں، ایک خاموش تہہ خانے کی تنہائی میں، ایک خاندان کا آفتاب غروب ہوگیا، اس وقت جب سارا شہر اور خود متوفی کا خاندان گہری نیند میں سوئے ہوئے تھے۔
ایک شاعر نے اپنی زندگی کی ڈوری کھینچ کر خودکشی کرلی۔ اس کے بعد ہم نے بڑی سرد مہری سے لکھا:
مزار شریف شہر میں ایک شاعر نے خودکشی کر لی!
کہتے ہیں کہ ہر صبح ایک نئی زندگی کا آغاز ہوتا ہے لیکن ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی صبحوں کی شروعات تاریکی، ویرانی، آگ اور خون کے ساتھ ہوتی ہے۔ کبھی صبحیں موت کا پیامبر ہوتی ہیں۔ سید اسرار حامد مقتدر کو ایک ایسی ہی تلخ صبح اس حالت میں پایا گیا، اس تاریک تہہ خانے میں، موت کے تنگ اور خون آلود افق پر ایک آفتاب کی طرح لٹکا ہوا، جس کے دروازے پر شاید اب ان کے خاندان نے ایک سیاہ اور بھاری قفل لٹکا دیا ہو۔
حسنک کے بارے میں ایک روایت میں آتا ہے کہ جب اسے دار پر لٹکایا گیا تو اس کی ماں کو لایا گیا تاکہ وہ دیکھے کہ اس کا بیٹا دار پر کیسے رقصاں ہوتا ہے، تاکہ وہ مزید غم زدہ ہو، درد سہے اور فریاد کرے، تاکہ کم ظرف اور سازشی دشمن دل ہی دل میں اس کے رونے پر ہنس سکیں۔ بیہقی روایت کرتا ہے کہ حسنک کی ایک نہایت باہمت ماں تھی، اس نے دوسری عورتوں کی طرح چیخ و پکار نہیں کی بلکہ درد برداشت کرتے ہوئی روئی۔
جب کبھی سید اسرار حامد مقتدر کی زندگی کے خاتمے کا واقعہ میرے ذہن میں بیدار ہوتا ہے، میں اس کی ماں کے بارے میں سوچتا ہوں کہ وہ آگاہی، شعر، شعور، ترانے اور مصوری کے اس مجسمے کو پھندے سے لٹکتا اور تڑپتا ہوا کیسے دیکھ سکی۔ شاید غم کے گھونٹ نے اس کے گلے کو اس طرح بھینچ لیا کہ وہ بے آواز زمین پر گرپڑی۔ ایسا رونا جو اب بھی اس کی روح کی تنہائی میں خاموشی سے جاری ہے۔
جب وہ موت بار صبح میرے ذہن سے گزرتی ہے، میں اس کی بڑی بہن اور شاعرہ رنا مقتدر اور اس کی شاعرہ بیوی ریحان کے بارے میں سوچتا ہوں کہ وہ اس جگر سوز واقعے سے کیسے نبرد آزما ہوئیں۔ اس کے بچوں کے بارے میں جو شاید اس دن تک موت کے تصور سے بیگانہ تھے۔
جہاں تک مجھے معلوم ہے، حامد مقتدر ایک شگفتہ شخصیت اور زبردست صلاحیت کے مالک تھے۔ اگرچہ ہم انھیں زیادہ تر ایک شاعر کے طور پر جانتے تھے؛ لیکن وہ ایک مکمل ثقافت کا مجموعہ تھے۔ وہ بیک وقت شاعر، مصنف، ناقد، ماہر مصور، کیمرہ مین، ریڈیو کے پروگرام ساز اور نامہ نگار تھے۔
وہ فارسی دری اور پشتو زبانوں میں لکھتے تھے۔ روسی، ترکی، عربی اور اردو زبانوں سے واقف تھے اور بولتے تھے۔
حامد مقتدر ۱۲ سرطان ۱۳۶۷ خورشیدی کو مزار شریف شہر کے گزر جغدک میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام سید ابراہیم تھا اور وہ ‘افسردہ’ تخلص کرتے تھے۔
انھوں نے ابتدائی اور ثانوی تعلیم مزار شریف کے بخدی اسکول سے مکمل کی۔ اس کے بعد وہ باختر ہائی اسکول گئے؛ لیکن ارضیات (جیولوجی) سے دل چسپی کی وجہ سے دسویں جماعت کے بعد اپنی تعلیم بلخ کے آئل اینڈ گیس انسٹی ٹیوٹ میں جیولوجی اور مائننگ کے شعبے میں حاصل کی اور ۱۳۹۱ خورشیدی میں اسے مکمل کیا۔
وہ بچپن ہی سے شعر و ادب سے لگاؤ رکھتے تھے۔ ابھی اسکول کی چھٹی جماعت میں ہی تھے کہ اپنے والد اور بڑی بہن کی مدد سے "افغانستان کے شاعروں کی سوانح عمری” نامی کتاب لکھی۔
اس کے بعد انھوں نے اپنی موزوں شاعری "مینائے حامد" کے نام سے بلخ میں شائع کی۔ اس وقت وہ اسکول کی دسویں جماعت کے طالب علم تھے۔
(شعر کا ترجمہ):
"اے میری مینا، میں اپنے دل کی طرح آوارہ اور دربدر ہوگیا
تیرے عشق کے تاروں میں، میں بکھر کر ٹوٹ گیا
ستاروں کی طرح ہر رات میری آنکھیں کھلی رہیں
میں اپنے وجود کی رگ رگ سے بے خبر ہو گیا
امید کا ہاتھ، شفقت کا ہاتھ مسافر ہے
میں تمھارے شہر اور تمھاری گلیوں سے سفر پر نکل گیا
سفید کبوتروں اور پاک غرور کی طرح
میں تمھارے عشق کی راہوں میں بے ہنر ہوگیا"
انھوں نے اپنا شعری سفر ایسے اشعار یعنی اپنے ابتدائی تجربات سے شروع کیا۔ درحقیقت شعر و شاعری کی مشکل اور لامتناہی راہ میں یہ ان کے پہلے اور کپکپاتے قدم تھے۔
شروعات ایسی ہی تھی، غزل کے ساتھ؛ لیکن جلد ہی وہ غزل اور دیگر کلاسیکی اصناف سے آگے نکل گئے اور شعر گوئی کے نئے اسالیب تلاش کیے جو اس دور کے بلخ کی ادبی فضا سے ہم آہنگ نہیں تھے۔ وہ اپنی راہ پر اس طرح آگے بڑھتے رہے کہ نیمائی اور سپید (آزاد) شاعری کی سر زمیں پر ذرا بھی نہ رکے۔
جہاں تک میں نے سنا ہے، مزار شریف شہر کے ادبی حلقے ان کے طرزِ سرائش اور اسلوب کو قبول نہ کر سکے اور وہ بھی ان کے ساتھ سمجھوتہ نہ کر سکے۔ وہ انھیں شاعر نہیں مانتے تھے۔ وہ بھی اکیلے ڈٹے ہوئے تھے اور دوسروں کو شاعر نہیں سمجھتے تھے۔ یہ تنقیدیں موجود تھیں اور شاید اب بھی موجود ہوں کہ مقتدر کی شاعری کو فارسی دری شاعری کی کسی بھی ہیئت اور سانچے میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔
چنانچہ وہ کبھی اپنے شہر کے ادبی حلقوں کے ساتھ تعلق اور فہم پیدا نہ کرسکے۔ ایسی فضا انھیں دن بہ دن تنہائی کی طرف دھکیلتی گئی۔ ان سالوں میں جب وہ تنہائی کی خاردار تاروں کے اس پار پہنچ چکے تھے، ابھی ان کا ذوق اور شاعرانہ تخیل اپنی پرواز کی بلندی تک نہیں پہنچا تھا۔ ابھی ان کے تجربات کے ابتدائی سال تھے۔ صرف یہ سیاست دان ہی نہیں ہیں جو رواداری اور باہمی قبولیت کو نہیں سمجھتے؛ بلکہ شاید اس مہلک کورونا نے ہمارے ثقافتی معاشرے کو بھی آلودہ کر دیا ہے۔ یہاں چھوٹے حوضوں میں جا گرنے والے چھوٹے چھوٹے نالے ایک دوسرے کے ساتھ بہہ رہے ہیں۔ ایک دوسرے میں ضم نہیں ہوتے اور جب تک ایسا ہے، وہ کبھی دریا نہیں بن سکتے اور بڑے سمندروں تک نہیں پہنچ سکتے۔
ہم نے اسی کابل میں کچھ ایسے بہ ظاہر دیدہ وروں کو دیکھا جنھوں نے اپنے کاری منصوبوں کے تحت بہت چیخ چیخ کر کہا کہ افغانستان میں نہ شاعری ہے، نہ افسانہ اور نہ ہی ناول کا وجود ہے۔ جو کچھ لکھا اور کہا جا رہا ہے، وہ شعر، افسانہ یا ناول نہیں ہے!
ایسی لغو اور باطل باتیں شاید پوری دنیا میں کہیں نہ ملیں۔
مجھے کوئی شک نہیں کہ ایسے لوگ اپنے ان پروگراموں کے فریم ورک میں یا اپنے تفویض کردہ مشن کے تحت، افغانستان کی نوجوان نسل کو اپنے شعر و ادب اور اپنی ثقافت کے بارے میں بدگمان اور برگشتہ بنانا چاہتے ہیں۔
ایسے لوگوں کے لیے سب سے مناسب نام "ثقافتی خودکش" ہے۔ بہ ظاہر ان کے خودکش دھماکے کی کوئی آواز نہیں ہوتی؛ لیکن اس کی آواز بعد میں بہت بلند ہوتی ہے۔ مثنوی کی اس روایت کے چور کی طرح جو رات کے وقت کسی کے گھر کی دیوار کھود رہا تھا، ایک راہ گیر نے پوچھا: اس آدھی رات کو لوگوں کے گھر کی دیوار کے پیچھے کیا کر رہے ہو؟
اس نے کہا: ڈھول بجا رہا ہوں۔
اس نے کہا: یہ کیسا ڈھول بجانا ہے جس کی آواز ہم میں سے کسی کو سنائی نہیں دے رہی؟
اس نے کہا: اس کی آواز تم کل سنو گے۔
ایسے ثقافتی انتحاریوں کے خودکش حملے کی آواز بھی کل اور آنے والے کل میں سنائی دے گی۔
کائنات کے بارے میں شاعروں کے نقطہ نظر کی وسعت اور تنوع اور بیان کا انداز ہی شاعری میں فرق پیدا کرتا ہے جو قابلِ تعریف ہے۔ اگر تمام لوگ کائنات کو ایک ہی زاویے، ایک ہی روزن سے دیکھتے اور اپنے اسلوب و بیان کو ایک جیسا کرلیتے، تو اب تک ادبی تاریخ کو اتنے سارے شاعروں کا بھاری بوجھ اٹھانے کی ضرورت نہ ہوتی۔ کائنات کے بارے میں شاعروں کے اس نوع بنوع نقطہ نظر اور بیان کے انداز ہی نے شاعروں کے کلام میں یہ وسعت اور تنوع پیدا کیا ہے۔
ایک بار حامد مقتدر نے کینیڈا کے "پگاہ" ریڈیو (جو اب افغان پناہ گزینوں کے لیے”ریڈیو بے صدایاں" کے نام سے نشریات کرتا ہے) کے ساتھ ایک انٹرویو میں اپنی شاعری کے اسلوب کے بارے میں کہا تھا: "ایک رات میں کھڑکی کے پاس بیٹھا تھا، ہوا ٹھنڈی تھی اور کھڑکی کے شیشوں پر دھند جمی ہوئی تھی۔ میں نے اپنی انگلیوں کے پوروں سے شیشے پر لکیریں کھینچیں۔ جب میں نے باہر دیکھا تو ہر چیز شفاف اور روشن نظر آئی۔ میں نے اپنے آپ سے کہا کہ دنیا اور زندگی کو اسی طرح دیکھنا چاہیے۔" انھوں نے اپنے اس نقطۂ نظر اور سوچ کا اظہار کیسے کیا، یہ ایک الگ بات ہے۔ وہ اپنی زندگی کی آخری رات تک نہ صرف ریڈیو پگاہ کے ساتھ تعاون کرتے رہے؛ بلکہ مجلہ "دیبورا" کی ادارت بھی کی جسے انھوں نے خود جاری کیا تھا۔ یہ مجلہ بچوں اور گلی محلوں کے لاوارث بچوں کے لیے شائع ہوتا تھا۔
وہ تنہا ہوتے ہوئے بھی ایک محنتی انسان تھے، شعر کہتے تھے، شاعروں کے کلام پر تنقید لکھتے تھے، ایک مجلے کی تدوین کرتے تھے، مصوری سے شغف رکھتے تھے، کیمرہ میننگ کے علاوہ بھی دیگر کام کرتے تھے۔ وہ خود کہتے تھے کہ وہ شعر اور نثر میں پوسٹ ماڈرن طرز پر لکھتے ہیں۔
حامد مقتدر ابھی محض ستائیس سال کے تھے جب انھوں نے اپنی حادثاتی زندگی کی کہانی پر ختمہ لگا دیا۔ انھوں نے تقریباً تیرہ سال کی عمر میں لکھنا شروع کیا اور اس مختصر سے عرصے میں کم وبیش ۳۰ کتابیں لکھیں۔ جتنے سال ان کی عمر تھی، اس سے بھی زیادہ۔ وہ اپنے شعری مجموعے "مینائے حامد" (جو ان کے کلاسیکی دور کا کلام ہے) کے بعد، ایک ناقابلِ یقین تیزی کے ساتھ فارسی دری شاعری کی تمام روایتی اقدار کو پیچھے چھوڑ گئے۔
اس دور میں کائنات، زندگی اور سماجی اقدار کے بارے میں ان کا نقطۂ نظر بدل جاتا ہے اور یہی تبدیلی ان کی شاعری میں بھی دکھائی دیتی ہے۔ چنانچہ ان کے ہم عصر ان کی تحریروں کو شعر نہیں مانتے تھے؛ لیکن ایسے فیصلوں سے وہ اپنی منتخبہ راہ سے کب باز رہتے؟
حقیقت یہ ہے کہ حامد مقتدر کا آج اور کل ان کی اسی دور کی شاعری سے جڑا ہوا ہے، نہ کہ ان کی لڑکپن کی ان کلاسیکی تخلیقات سے جن کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔
اس دور میں وہ شاعری کی زبان، اسلوبِ بیان اور فرسودہ شعری روایتوں کی شکست و ریخت کے عمل سے گزر رہے تھے جو ان کے لیے مسلسل تنازعات کا باعث بنتی رہی۔ دوسری طرف، وہ اپنے ماحول کے مسلط کردہ ادبی رشتوں اور اقدار سے بھی ناخوش تھے۔ وہ نہ صرف ایسی روایتوں کو قبول نہیں کرتے تھے بلکہ ان کے سامنے ڈٹ جاتے تھے۔ اس کے علاوہ، وہ اپنے ہم عصر شاعروں کے کلام پر جو تنقیدیں لکھتے تھے، اس سے ہر بار نئے تنازعات کھڑے ہوجاتے تھے۔
ابھی بھی میرے ذہن میں یہ سوال موجود ہے کہ جو شعرا ماڈرن یا پوسٹ ماڈرن کے نام سے ماضی کی ان ادبی اقدار کو چیلنج کرتے ہیں جو ایک مضبوط اور استوار دیوار کی طرح قائم ہیں، ساخت شکنی (ڈی کنسٹرکشن) کرتے ہیں اور انھیں ختم کرنا چاہتے ہیں؛ کیا وہ خود قائم شدہ سماجی روایتوں کی پابندی کر سکتے ہیں؟
یعنی جو شعرا اپنے رویے میں دورِ حاضر کے معاملات، جوڑ توڑ اور مسلط کردہ روایتوں کے پابند ہوں اور گویا پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہوں، کیا وہ بیک وقت ایک پوسٹ ماڈرن شاعر بھی ہو سکتے ہیں!
اگر ایسا ہے تو میرے خیال میں ایسے شعرا پوسٹ ماڈرن شعرا میں شمار ہونے کے بجائے جھوٹے اور بناوٹی شعرا ہیں، وہ بھی پوسٹ ماڈرن قسم کے! ایسے شاعروں کی تخلیقات ان کی زندگی اور اندرونی شخصیت سے ہم آہنگ نہیں ہوتیں۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں، حامد مقتدر کی شاعری، ان کے طرزِ زندگی اور ان کے نقطہ نظر میں گہری ہم آہنگی تھی۔ بلاشبہ جو راستہ انھوں نے منتخب کیا تھا، وہ تنہا نہیں تھے، ان کے ساتھ دیگر مسافر بھی تھے؛ لیکن یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ اس میدان میں دوسروں کے فیصلوں کی پروا کیے بغیر آگے بڑھتے رہے اور پوری طاقت و ایقان کے ساتھ قدم بڑھاتے رہے۔
وہ ایسے دور میں پوسٹ ماڈرن شاعری کی طرف مائل ہوئے جب بلخ اور ہرات میں غزل کی حاکمیت تھی، اور کابل میں بھی جوان شاعروں کے درمیان جدید غزل گوئی کی ایک لہر موجزن تھی۔
***
خان حسنین عاقب کی گذشتہ نگارش :درویش فنکار: شکیل اعجاز

شیئر کیجیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے