ظہیر انور کا شعری جہان

ظہیر انور کا شعری جہان

قسیم اختر
اسسٹنٹ پروفیسر
شعبہ اردو، مارواڑی کالج، کشن گنج

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ بعض خاندانوں کو اپنے خصوصی فضل و کرم سے اس طرح نوازتا ہے کہ وہ نورٌ علیٰ نور کا مصداق بن جاتے ہیں۔ ایسے گھرانے صرف اپنی نسلوں ہی کو نہیں، بلکہ اپنے عہد اور معاشرے کو بھی علم، ادب، تہذیب اور کردار کی روشنی عطا کرتے ہیں۔ ان کی آئندہ نسلیں اسی تابناک روایت سے فیض یاب ہو کر اپنے علم و ادب کے چراغ کی لو کو مزید فروزاں کرتی رہتی ہیں۔
ماسٹر ظہیر انور کا خانوادہ بھی انھی سعادت مند اور بابرکت خانوادوں میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر خالد مبشر یقیناً اس اعتبار سے خوش نصیب ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ایسے علمی، ادبی اور روحانی ماحول میں پرورش پانے کا شرف عطا فرمایا۔ ان کے والدِ گرامی، مرحوم غلام محمد یحییٰ صاحب، نہ صرف ایک پاکیزہ طینت اور باکردار انسان تھے بلکہ روشن ضمیر عالمِ دین، سماجی بیداری کے علم بردار اور خوش فکر شاعر بھی تھے۔ ان کی شخصیت علم، دیانت، اخلاص اور ادب کا حسین امتزاج تھی۔
ماسٹر ظہیر انور صاحب نے اپنے خاندانی اوصاف کی حفاظت ہی نہیں کی بلکہ اپنے برادرِ بزرگ، غلام محمد یحییٰ صاحب کے حسنِ اخلاق، روحانی پاکیزگی، انکساری، ملنساری، انسان دوستی اور خدمتِ خلق کی درخشاں روایت کو بھی پوری دیانت داری سے آگے بڑھایا۔ وہ اپنے اسلاف کی اخلاقی میراث کے ساتھ ساتھ ان کی شعری اور علمی روایت کے بھی سچے امین اور باوقار پاسبان ہیں۔
میں نے اس خاندان کو نورٌ علیٰ نور اس لیے کہا ہے کہ اس کے افراد میں مرحوم مولانا اسحاق عادل، مرحوم ماسٹر امام مظہر، عبدالمنان ( مدیر، آجکل )، مبین اختر امنگ اور ابوالمفکر پیکر جیسی ممتاز علمی و ادبی شخصیات بھی شامل ہیں۔ یہ نام اس خاندان کی علمی عظمت، فکری رفعت اور ادبی سرمایہ داری کے روشن استعارے ہیں۔
خاندانی نجابت، شرافت، دیانت اور نیک خصلتی ہی کا فیضان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بیگنا جیسے نسبتاً چھوٹے سے گاؤں کو ایسی شخصیات عطا کیں جنھوں نے اس بستی کو عزت، وقار اور شہرت سے ہمکنار کر دیا۔ آج کشن گنج کا یہ سرسبز و شاداب گاؤں صرف اپنی فطری دل کشی اور زرخیزی کی وجہ سے ہی معروف نہیں، بلکہ اپنی مضبوط علمی، ادبی اور تہذیبی روایت کے باعث بھی احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
نیپال کی سرحد سے متصل یہ خوب صورت گاؤں دو تہذیبوں اور دو ثقافتوں کے سنگم کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں کی مشترکہ معاشرتی روایت، باہمی رواداری، کشادہ دلی، مہمان نوازی، انسان دوستی، لسانی ہم آہنگی اور تہذیبی میل جول نے ایک ایسا ماحول تشکیل دیا ہے جہاں شخصیتیں صرف پروان نہیں چڑھتیں بلکہ نکھر کر مثال بن جاتی ہیں۔ ماسٹر ظہیر انور کی شخصیت بھی اسی پاکیزہ اور زرخیز فضا کی آغوش میں نمو پاتی ہے۔ ان کی ذات شفقت، محبت، خدمت، اخلاق اور خلوص کی خوش بو سے معطر ایک ایسی شخصیت ہے جس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ شاعر اور فن کار کبھی اعلانیہ اور کبھی غیر اعلانیہ طور پر اپنی قوم کے اجتماعی ضمیر کا ترجمان اور معلم ہوتا ہے۔ ماسٹر ظہیر انور بھی ظاہری اعتبار سے نئی نسل کے معلم رہے، لیکن فکری اور باطنی سطح پر وہ سماج، قوم اور ملت کے ضمیر کی تربیت کا فریضہ بھی انجام دیتے رہے ہیں۔ ان کی معلمانہ بصیرت ہی نے ان کی شاعری کو ایک ایسا نرم، شگفتہ، بے تکلف اور مانوس لہجہ عطا کیا ہے جس کی مثال عصرِ حاضر میں کم کم دکھائی دیتی ہے۔
انھوں نے حمد، نعت، غزل، نظم اور قطعہ جیسی مختلف اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی اور اپنی سادہ مگر اثر آفریں شاعری سے ان میں ایک نئی روح پھونک دی۔ ان کا کلام لفظی تصنع، فکری پیچیدگی اور جذباتی کثافت سے پاک ہے۔ ان کی شاعری دل کی صداقت سے پھوٹنے والی وہ خوش آہنگ صدا ہے جو قاری کے دل میں اتر کر دیر تک اپنی بازگشت قائم رکھتی ہے۔
چونکہ ان کی شخصیت کی عملی تربیت ایمان و ایقان کی گرم مٹی میں ہوئی ہے، اس لیے ان کے کلام میں اسلامی فکر کی صداقت، دینی حمیت کی حرارت اور روحانی وابستگی کی روشنی قدم قدم پر محسوس ہوتی ہے۔ ان کی حمدیہ اور منقبتیہ شاعری اس روحانی احساس کی خوب صورت ترجمان ہے۔ ملاحظہ ہوں یہ اشعار:
اے میرے اللہ! تو ہر جا عیاں، ہر جا نہاں
میں کہ تیرا وصف لکھوں، مجھ میں وہ طاقت کہاں
قلب میں ہے روشنی، مولا! ترے ہی نور سے
جوڑ دے رشتہ ہمارا حضرتِ منصور سے
اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے اوصافِ کاملہ کا احاطہ انسانی عقل و ادراک سے ماورا ہے۔ اس کے اوصاف کو مکمل طور پر بیان کرنا تو درکنار، ان کا حقیقی تصور بھی انسانی ذہن کی رسائی سے باہر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب کسی بندۂ خدا پر صفاتِ الٰہی میں سے کسی ایک صفت کی بھی جھلک نمایاں ہوتی ہے تو وہ منصور کی طرح اہلِ دنیا کے لیے اجنبی بن جاتا ہے۔ دنیا اس کے عشق کی تپش کو برداشت نہیں کر پاتی اور اسے خاموش کر دینے کے ہر ممکن جتن کرتی ہے، مگر عشق کی آگ بجھانے سے نہیں بجھتی؛ وہ ذہن سے ذہن اور نسل سے نسل منتقل ہوتی ہوئی صدیوں تک اپنا سفر جاری رکھتی ہے۔ ماسٹر ظہیر انور اس رمزِ عشق سے بہ خوبی واقف ہیں، اسی لیے وہ حضرتِ منصور سے نسبت جوڑنے کی آرزو رکھتے ہیں۔
عشقِ الٰہی کی تکمیل، عشقِ رسول ﷺ کے بغیر ممکن نہیں۔ درحقیقت عشقِ خدا اور عشقِ رسول ﷺ ایک ہی حقیقت کے دو لازم و ملزوم پہلو ہیں۔ ظہیر صاحب اس روحانی رشتے سے پوری طرح آگاہ ہیں، اسی لیے وہ عقیدت و محبت کے والہانہ جذبے کے ساتھ کہتے ہیں:
تجھ سے ہی مجلّی ہے مری روح کی دنیا
واللہ! مری زیست کی قندیل تو ہی ہے
حمدیہ شعر میں ظہیر صاحب دل کی روشنی کو اللہ تعالیٰ کے نور سے تعبیر کرتے ہیں، جب کہ نعتیہ شعر میں اپنی زیست کی قندیل حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس کو قرار دیتے ہیں۔ یہی وہ نازک اور لطیف مقام ہے جہاں عشقِ الٰہی اور عشقِ رسول ﷺ اپنی اپنی حدود کے ساتھ ایک دوسرے سے مربوط دکھائی دیتے ہیں۔ عابد اور معبود کے درمیان قائم اس حدِّ فاصل کو اس قدر حسن، سلیقے اور فکری توازن کے ساتھ بیان کرنا ہر شاعر کے بس کی بات نہیں۔ یہ امتیاز انھی اہلِ نظر کو حاصل ہوتا ہے جن کی فکری بنیادیں دین کی صحیح تعلیمات پر استوار ہوں اور جن کی روح تربیتِ نبوی ﷺ کے فیضان سے منور ہو۔
ماسٹر ظہیر انور نے غزل، نظم، قطعہ، حمد اور نعت، سبھی اصنافِ سخن میں کامیاب طبع آزمائی کی ہے۔ اس اعتبار سے ان کی شخصیت ایک ایسے شاعر کی حیثیت اختیار کر لیتی ہے جس نے عملی معلم اور فکری رہنما، دونوں کرداروں کے درمیان نہایت خوش اسلوبی سے توازن قائم رکھا ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ عملی معلم کو زیادہ صراحت، وضاحت اور ابلاغ کی ضرورت پیش آتی ہے، اس لیے نظم اس کے لیے زیادہ موزوں صنف بن جاتی ہے، جب کہ فکری معلم اختصار میں معنی کی کائنات سمیٹنے کا ہنر رکھتا ہے، اور غزل اسی رمزیت، ایمائیت اور تہہ داری کی بہترین صورت ہے۔ ظہیر انور نے اپنی عملی زندگی کے تجربات اور فکری مشاہدات کو دونوں اصناف میں اس مہارت سے برتا ہے کہ ان کا ہر شعر بہ ظاہر سادہ مگر باطن میں گہری معنویت کا حامل دکھائی دیتا ہے۔ ملاحظہ ہوں یہ اشعار:
سر جھکاتا رہے ہر کسی کے لیے
شرم کی بات ہے آدمی کے لیے
ظلمتوں سے بھلا کیا گلہ کیجیے
اک دیا بن کے خود ہی جلا کیجیے
سہل ہیں راستے منزلوں کی قسم
شرط یہ ہے کہ بس حوصلہ کیجیے
پہلا شعر انسانی عظمت کا ایک نہایت بلیغ استعارہ ہے۔ حضرت آدمؑ وہ برگزیدہ ہستی ہیں جن کے احترام میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرشتوں نے سجدہ کیا۔ یہی نسبت انسان کو وہ شرف عطا کرتی ہے کہ اسے اپنے خالق کے سوا کسی کے سامنے سرِ نیاز خم نہیں کرنا چاہیے۔ ایسے میں اگر انسان غیرِ خدا کے آگے سر جھکاتا ہے تو یہ محض اس کی ذلت نہیں بلکہ اس عظیم منصب کی بھی ناقدری ہے جو اللہ تعالیٰ نے اسے عطا فرمایا۔ شعر بہ ظاہر نہایت سہل ہے، لیکن اس کے باطن میں معنی کی کئی تہیں پوشیدہ ہیں۔
دوسرا شعر بھی اسی فکری سلسلے کی توسیع ہے۔ حضرت آدمؑ کو دنیا میں اس لیے بھیجا گیا کہ وہ تاریکیوں کے درمیان ہدایت کا چراغ روشن کریں۔ گویا ہر انسان اپنے اندر خدائی نور کی ایک کرن لے کر دنیا میں آتا ہے۔ اس کا منصب یہ نہیں کہ اندھیروں کا شکوہ کرے بلکہ خود چراغ بن کر ظلمتوں کو شکست دے۔ جب روشنی کا سفیر ہی تاریکی سے خوف زدہ ہو جائے تو یہ اس کے منصب سے انحراف کے مترادف ہے۔
درحقیقت چراغ کی عظمت اندھیرے کی شدت سے نمایاں ہوتی ہے۔ ظلمت جتنی گہری ہوگی، روشنی اتنی ہی واضح اور مؤثر نظر آئے گی، بشرطیکہ انسان اپنے رب سے کیے ہوئے عہد کو یاد رکھے اور اپنے باطن میں اس نور کو زندہ رکھے جو اسے ودیعت کیا گیا ہے۔
تیسرے شعر پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی اسی فکری تسلسل کی ایک مضبوط کڑی ہے۔ منزلوں تک پہنچنے والوں نے کبھی راستوں کی دشواری کا شکوہ نہیں کیا۔ حضرت آدمؑ کی جنت سے جدائی، حضرت ابراہیمؑ کی آتشِ نمرود، حضرت یونسؑ کا شکمِ ماہی، حضرت زکریاؑ کی شہادت اور انبیائے کرام کی مسلسل آزمائشیں اس حقیقت کی شاہد ہیں کہ حق کا راستہ ہمیشہ قربانی، صبر اور استقامت کا راستہ رہا ہے۔ اسی لیے ظہیر انور کے یہاں حوصلہ صرف ایک اخلاقی وصف نہیں بلکہ ایمان کی عملی تعبیر بن کر سامنے آتا ہے۔
البتہ میری ان باتوں سے یہ گمان نہیں ہونا چاہیے کہ ظہیر انور صرف مذہبی مضامین کے شاعر ہیں اور غزل کی رنگا رنگ دنیا سے بے بہرہ ہیں۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ غزل اپنی فطرت میں ہزار رنگ رکھتی ہے اور ظہیر انور نے ان رنگوں سے بھی پورا استفادہ کیا ہے، اگرچہ ان کی فکر کا مرکزی محور اسلام ہی ہے۔
ان کی شخصیت صرف ایک صاحبِ فکر شاعر کی نہیں بلکہ ایک صاحبِ عمل انسان کی بھی ہے۔ جس طرح وہ روحانی ارتقا کے لیے باطنی سفر سے گریزاں نہیں ہیں، اسی طرح زندگی کی عملی صداقتوں اور سماجی حقائق کو بھی پوری بصیرت کے ساتھ دیکھتے ہیں۔
ملاحظہ ہوں یہ اشعار:
چلنے لگا تو راستہ خود بنتا چلا گیا
میں مثلِ موجِ دریا اچھلتا چلا گیا
وقت کے عفریت سے کہہ دو نہ چھیڑے وہ ہمیں
ورنہ پھر سارا جہاں کربلا ہو جائے گا
بے رنگ زندگی کے سفر میں تھا میں اداس
فصلِ خزاں نے پھر مجھے جینا سکھا دیا
فرقِ سود و زیاں نہ کر پایا
ہم نے ایسا بھی کاروبار کیا
یہ اشعار محض شعری اظہار نہیں بلکہ عصرِ حاضر کی زندگی کے فکری صحیفے ہیں۔ شاعر یہ باور کراتا ہے کہ راستے انھی کے لیے بنتے ہیں جو حوصلے کے ساتھ قدم بڑھاتے ہیں۔ بنی بنائی شاہراہوں پر چلنا آسان ہے، مگر نئی راہیں وہی لوگ متعین کرتے ہیں جو خطرات سے نبرد آزما ہونے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ اسی حقیقت کو ایک دوسرے شعر میں یوں سمیٹا گیا ہے:
اہلِ خرد کا راستہ ٹھہرا ہے اب وہی
دورِ جنوں میں گزرے تھے اک دن جدھر سے ہم
اور یہی فکر اس شعر میں اپنے عروج پر دکھائی دیتی ہے:
قدم راہِ حق میں بڑھاؤ گے، انور
تو بن جائے گی آگ گلزار اک دن
تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور میں انبیائے کرام کو دیوانہ، مجنون اور گمراہ کہا گیا، لیکن وقت نے ثابت کیا کہ عقل و دانش کی حقیقی منزل وہی راستے تھے جن پر وہ پاکیزہ ہستیاں چلیں۔ آج اہلِ خرد انہی راہوں کو انسانیت کی نجات کا راستہ قرار دیتے ہیں۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ماسٹر ظہیر انور کی شخصیت جدید فلسفیانہ مکاتبِ فکر کی پیداوار نہیں، بلکہ ان کی فکری اساس اسلام کی ابدی تعلیمات پر قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں ایک خاص قسم کی تازگی، روحانی حرارت اور اخلاقی روشنی مسلسل محسوس ہوتی ہے۔ تاہم ان کی شاعری صرف مذہبی یا اصلاحی مضامین تک محدود نہیں۔ انھوں نے انسانی جذبات، سماجی مسائل، قومی یکجہتی اور ذاتی احساسات کو بھی نہایت دل نشیں انداز میں بیان کیا ہے۔ ملاحظہ ہوں یہ اشعار:
سب دیکھتے ہیں چشمِ تمنا لیے ہوئے
ماں کی دعا نے مجھ کو وہ تارا بنا دیا
گرم جب فرقہ پرستی کی ہوا ہو جائے گی
آئے گی پھر سے بلا ہندوستان پر ایک دن
لب تو خاموش رہ گئے لیکن
اپنی آنکھوں سے بات کی تم نے
اک تو ہی آشنا تھا مرے حال سے مگر
اے چاند! تو بھی وقت سے پہلے ہی سو گیا
ان اشعار سے واضح ہوتا ہے کہ ظہیر انور کی شاعری موضوعات کے اعتبار سے نہایت متنوع ہے۔ بعض مقامات پر حالی اور چکبست کی شعری روایت کی ہلکی سی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے، لیکن یہ اثر تقلید کا نہیں بلکہ فکری ہم آہنگی کا ہے۔ بڑے فن کار ہمیشہ اپنے بعد آنے والوں کے لیے محرک اور مہمیز ثابت ہوتے ہیں۔ اگر اساتذۂ سخن نے ظہیر انور کے تخلیقی شعور کو جِلا بخشی ہے تو یقیناً ظہیر انور کی یہ شاعری بھی آنے والی نسلوں کے ذوقِ ادب کو مہمیز دے گی، ان کے فکری افق کو وسعت عطا کرے گی اور ان کے تخلیقی وجود میں نئے امکانات پیدا کرے گی۔ یہی کسی زندہ اور بااثر شاعر کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
***
قسیم اختر کی گذشتہ نگارش:لفافے کے مندر میں جشن

شیئر کیجیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے