تحریر : پریتی اگیات
احمد آباد، گجرات
ہندی سے ترجمہ: خان حسنین عاقب
مہاراشٹر
آج خیال اچانک آیا کہ ہماری زندگی میں لذت اور چٹخارہ بھرنے والی من بھاون مرچ کو اس کے حصے کی واجب عزت و تکریم نہیں مل پائی ہے۔ اگر اسے کبھی یاد بھی کیا گیا تو برے نام سے۔ مثلاً "اس کی زبان تو مرچ سے بھی تیز ہے!" گویا تیز اور چٹ پٹا ہونا کوئی گناہ ہو۔ اتنی ہی ناپسند ہے تو نہ کھائیے چٹنی! مگر آپ تو سِل بٹے پر پسی چٹنی کو یاد کر کرکے ٹھنڈی آہیں بھرتے ہیں۔
گانا گائیں گے تو بھی کوستے ہوئے:
‘تیری لہر بری، تیرا زہر برا، لگ گئی دل پر
ہائے ہائے مرچی، اف اف مرچی، آہ آہ مرچی!’
یاد رکھیے! جس دن کھیتوں سے یہ مرچ غائب ہو گئی نا، اس دن آپ کے کھانے سے اس کی روح پرواز کر جائے گی۔
اس لیے مرچ کو تھوڑی تو عزت دیجیے! ہم تو فی الفور دے رہے ہیں۔
اوہ! میری پیاری، دلاری ہری مرچ!
تم مصالحوں کی دنیا کی تیکھی ملکہ، سبزیوں کی دنیا کی ڈراما کوئین اور سالن سماج کی "شکیرا" ہو۔ تم سائز میں بھلے ہی چھوٹی ہو، مگر معاملہ بالکل”دیکھن میں چھوٹی لگے، گھاؤ کرے گمبھیر" جیسا ہے۔ تم میں ڈیلی سوپ کی ساس بہو سے بھی زیادہ ایٹی ٹیوڈ ہے۔ اب یہ بات تو غیر متنازعہ ہے کہ کوئی بھی ہندوستانی یا پاکستانی باورچی خانہ تمھاری دھمک کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ روٹی کے ساتھ ایک نازک نوالہ ہو یا ٹکیا سموسے کے ساتھ ذرا سا لمس…
اور تم ماشاء اللہ! ڈنکے کی چوٹ پر اپنی موجودگی درج کرا دیتی ہو۔ چاہے تم کڑھائی کے تڑکے میں ناچ رہی ہو یا شان سے چٹنی میں شامل ہو رہی ہو، تمھارا جادو تو دیکھتے ہی بنتا ہے۔ آپ کمال ہو تم، بے مثال ہو تم!
ارے بھئی، تم زندگی میں مصالحہ ہی نہیں ڈالتی ہو بلکہ تم تو خود مجسم زندگی کا مصالحہ ہو!
مگر پھر بھی دیکھو نا! دنیا تمھارے ساتھ سبزی منڈی کے ولین جیسا سلوک کرتی ہے۔ آخر یہ تعصب کیوں؟
ہم بتائیں؟
سب سے بنیادی بات تو یہ کہ یہ کدو اور کٹھل جیسے دیوقامت تم سے جلتے ہیں، کیونکہ تم مقدار میں کم ہوکر بھی زیادہ ہو۔ اس پر طرہ یہ کہ تم مؤنث ہو، تو دھنیا مہاراج اور کٹے پٹے ادرک تمھارے خلاف گٹھ جوڑ میں لگے رہتے ہیں۔ تمھیں تو خبر ہی نہیں کہ تم ہمارے چغل خور سماج کی محفلوں میں صدیوں پہلے اپنی جگہ بنا چکی ہو۔
لوگ کہتے ہیں: "اس لڑکی سے کچھ نہ کہنا! ہری مرچ کی طرح تیز ہے!"
ہمم! اچھا!
جی ہاں، بول لیجیے! کیونکہ جب کسی کے افکار و خیالات میں دم ہوتا ہے نا، تو معاشرے کو اس کی زبان کڑوی اور تیکھی ہی لگنے لگتی ہے۔ تب تم ہی سب سے پسندیدہ استعارہ بن جاتی ہو۔
کچھ دہائیاں پہلے تو گووندا صاحب اور کرشمہ میڈم بھی تمھارا نام لے لے کر اچھل کود کرتے ہوئے دنیا کو چھیڑ رہے تھے، کہتے تھے:
"تجھ کو مرچی لگی تو میں کیا کروں؟"
بتائیے! تمھاری پیٹھ پیچھے یہ سب ہوتا رہا ہے۔
کیا جواب دوں ان بدطینتوں کو؟ یہی نا کہ: چاہے راستے سے جاؤ یا بھیل پوری کھاؤ، پر مرچ کا نام بدنام کر کے اسے نہ ستاؤ!.
دل کو سخت تکلیف ہوتی ہے جب لوگ تم پر یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ تم کھانے کو بہت زیادہ مصالحے دار بنا دیتی ہیں۔
کون سمجھائے ان احمقوں کو کہ برصغیر کے چٹخارے دار ذائقوں کو اسی سے تسکین ملتی ہے۔ اگر آپ کو یہ سب نہیں بھاتا تو یورپ چلے جائیے! اب اس بات پر پاکستان تو نہیں بھیج سکتے نا، وہ بھی تو اپنے جیسے ہی چٹخارے دار ہیں۔ (ہی ہی ہی!)
کوئی کہتا ہے کہ تم تیزابیت پیدا کرتی ہو۔
لو، کرلو بات! ورزش ان سے ہوتی نہیں، اپنی جگہ سے ایک انچ ہلنا نہیں ہے، ڈھائی من ٹھونس کر کنبھ کرن کی طرح پڑے رہیں گے، تو جسم سلفیورک ایسڈ نہیں تو کیا آبِ کوثر بنائے گا؟
کئی لوگوں کا ماننا ہے کہ تم لوگوں کو رلاتی ہو؟
معاف کیجیے گا! اردو اور ہندی فلموں میں جو آنسو بہا بہا کر سیٹ سے چپکے دیکھتے رہتے ہیں، تب تو کوئی شکایت نہیں ہوتی ان کو! ابھی فلموں میں جو باقاعدہ دہائیاں دے دے کر، بالٹی بھر بھر کے رویا جا رہا ہے، تب تو سینہ چوڑا ہو جاتا ہے ان کا! ارے! شیکسپیئر نے لوگوں کو رلایا، مناظرِ غم نے رلایا، غالب و میر نے رلایا… مگر وہ سب احترام کے ساتھ کتابوں میں محفوظ ہیں نا!
کم بخت دنیا کو تمام تکلیفیں بس تم ہی سے ہیں!
سچ تو یہ ہے کہ سب کو تمھاری خود اعتمادی سے جلن ہوتی ہے۔ ابھی ٹھیک کرتی ہوں انھیں!
ساتھیو! ہری مرچ توجہ کی بھیک نہیں مانگتی، بلکہ مانگتی ہے تھوڑا سا دھنیا اور ادرک… تاکہ آپ پکوڑوں کے ساتھ ایک نوالہ لیں اور بارش کی تعریف میں سرشار ہو جائیں۔ یہ چاہتی ہے کہ آپ دنیا بھر کے گلے شکوے بھول کر "باکاسر (بھیم) تھالی" پر ہاتھ صاف کر سکیں۔
جہاں تک مرچ کے طرزِ عمل کا تعلق ہے، تو یہ آپ کا سائنَس (Sinus) صاف کرتی ہے۔ گفتگو کا آغاز کرواتی ہے، جیسے: *یار! گول گپّے کا پانی تیکھا ہے کیا؟" ، ‘چٹنی اور دوں؟،" ” مرچ کا اچار زبردست تھا نا؟"
دراصل مرچ جب زیادہ لگے تو سمجھ لیجیے کہ آج آپ کے نظامِ انہضام کا اچانک معائنہ کیا جا رہا ہے۔
خلاصہ یہ کہ محترمہ مرچ صاحبہ ایک سند یافتہ طبیب ہیں، جم ٹرینر ہیں، محفلوں کی”آئس بریکر" ہیں، آنکھوں کا "ڈریینج کلیئرنس ٹول" ہیں اور کھانے کی ملکہ ہیں۔ اتنی خوبیاں! وہ بھی ایک ہی میں! یعنی کہ سرتاپا گوہرِ نایاب! ہمارے علاوہ اور کوئی ملا ہے ایسا کبھی؟ ارے! ہم کیوں جذبات میں بہے جا رہے ہیں!
اور جیسا کہ پہلے ہی عرض کر دیا تھا کہ مؤنث ہے تو جناب! اس پدرسری معاشرے میں اس کی بھی قربانیوں کی کئی داستانیں ہیں۔ یہ سچ مچ ہمارے لیے جلتی ہے۔ کھولتے ہوئے تیل میں تڑپتی ہے، آگ میں بھی کود جاتی ہے۔ لیکن اسے سچی محبت نہ مل سکی۔
اس ظالم جدید دنیا میں کیچپ کو دن دونی رات چوگنی شہرت ملتی ہے۔ یہ کل کی آئی مایونیز انسٹاگرام ریلز میں نت نئے رومانی قصے گھڑتی ہے۔
وہیں میری پیاری ہری مرچ کو بے رحمی سے کاٹا جاتا ہے، بھونا اور تلا جاتا ہے، کچلا جاتا ہے، اور کئی بار تو قیدی بنا کر مرتبان میں مہینوں بند رکھا جاتا ہے۔ تب یہ منافق معاشرہ اس کا نام بدل کر اسے اچار کہنے لگتا ہے۔
آپ عظیم ہیں مرچ جی! آپ کی شخصیت کو مکمل طور پر ختم کرنے کی اس سازش کے بعد بھی آپ کے منہ سے اف تک نہیں نکلتی۔
ہم جانتے ہیں کہ آپ یہ شدید تکلیفیں اس لیے سہتی ہیں تاکہ ہمارا آلو کا پراٹھا ایک بہترین زندگی جی سکے، کھچڑی اپنی بے نور دنیا میں تھوڑا اجالا بھر سکے، آپ کے پیار بھرے لمس سے سموسے اور آلو ٹکیا بلندیوں کو چھو سکیں۔ ہماری ٹفن سروس لوکل سے گلوبل ہوجائے۔
تو دنیا والو! جلو مت، کچھ سیکھو!
اور میری پیاری بہنو! اگلی بار جب کوئی کہے نا کہ "تیکھی مرچ ہو تم" ، تو فخر سے مسکرانا اور کہنا: "شکریہ! اس کا مطلب ہے کہ مجھ میں شعلہ، آنچ اور زندہ دلی برقرار ہے۔"
اگر مرچ جیسی ہونے کا مطلب مضبوط، بہادر اور ناقابلِ فراموش ہونا ہے، تو آئیے ہم سب ہری مرچ کی طرح تھوڑا اور نکھرجائیں۔ تم چاہو تو لال مرچ بھی بن سکتی ہو!
یہ لال مرچ والی بات اس لیے بھی جوڑ دی کہ زیادہ ہری ہری پڑھ کر کہیں میری جان کے دشمن مجھے ہی مصالحہ فرائی نہ بنا دیں۔ ہمیں ابھی بہت جینا ہے! ابھی مرچ اور لیموں کا ہار پہن لیتی ہوں… لو! یہ تو نظرِ بد سے بچانے کے کام بھی آتا ہے۔
***
خان حسنین عاقب کی گذشتہ نگارش:آکولہ شہر اور تحریک آزادی کا فراموش شدہ مجاہدِ آزادی محمد یعقوب (رح)
مرچ نامہ
شیئر کیجیے