جہانگیر نایاب کی پچیس متخب غزلیں

جہانگیر نایاب کی پچیس متخب غزلیں

جہانگیر نایاب 
(ادارتی نوٹ : جہانگیر نایاب کی غزلوں کے دو مجموعے شایع ہو چکے ہیں. ان کو غزلیہ شاعری سے شغف ہے اور ان کا عرصۂ مشق سخن دراز ہوتا گیا ہے. ان کے کئی ایک شاگرد بھی نئے لہجے کا شعر نکالنے میں کام یاب ہوئے ہیں. نایاب نے دو درجن سے زیادہ مزاحیہ غزلیں بھی کہی ہیں جو ہند و پاک کے رسائل و جراید میں شایع شدہ ہیں. ان کی غزلیہ شاعری کو متعدد صاحبان قلم نے سراہا اور اعترافی کلمات لکھے ہیں. ان کی زیر نظر پچیس منتخب غزلوں میں ہم ایک نئے جہانگیر نایاب کو دریافت کرتے ہیں. نایاب کا شعری کردار حیرت کدۂ دنیا میں ایک طرف کھڑا ہوکر ان تماشوں پر ہنستا ہے، مسکراتا ہے اور طنز کرتا ہے جو اس کے ارد گر وقوع پذیر ہوتے ہیں. کبھی کبھی وہ تماشے کے درمیان میں آکر تماشے کے کرداروں کو اس کی غلطیوں سے اس طرح آگاہ کرتا ہے کہ کرداروں کے ساتھ تماش بینوں کی بھی آنکھیں کھل جائیں. مثلاً اس شعر میں : 

اپنی طرف سے تم نے تو کوشش ہزار کی

پھر بھی یہ قند زہرِ ہلاہل نہیں ہوا 

وہ کہتے ہیں کہ بگاڑ کی کوششیں خواہ کتنی ہی طاقت ور اور سلسلہ وار ہوں، حقیقت کے بدلے جانے کو حقیقی سمجھنا حماقت ہے. اسی حماقت پر نایاب ہنستا ہے، مسکراتا ہے اور لفظ و خیال چبھاتا ہے. ان کی شاعری میں چبھن کا یہ تیکھا پن سامع اور  قاری کا کتھارسس کرتا ہے اور شاعر کے پھپھولوں کو ٹھنڈک پہنچاتا ہے. اس قبیل کا یہ شعر دیکھیں : 

تم اپنی ذات سے باہر نہیں نکل سکتے

ہمارے گرد بھی اک دائرہ بنا ہوا ہے 

اس شعر میں تفاخر کے ضمن میں خودداری کو بڑی خوش اسلوبی سے پیش کیا گیا ہے. ذات کے گرد دائرہ بنانا بڑے حوصلے کا کام ہے. ایک ایسے وقت میں جب سیاسی، سماجی اور ادبی پیچیدگیوں نے مصلحت کو فروغ دیا ہو، نایاب اپنے اس دائرے پر اکتفا کرتا ہے جو اس کے نزدیک درست اور حقیقت کی تلاش کا وسیلہ بھی ہے. یہی وجہ ہے کہ وہ ہر طرح کے خوف سے مبرا ہوکر ایک قسم کا بغاوتی تیور اپناتا ہے. مثلاً یہ شعر دیکھیں : 

شوق سے آئے، مجھے آ کے گرفتار کرے

اب کرائے کے سپاہی سے نہیں ڈرتا میں

"کرائے کے سپاہی" کی ترکیب میں تحقیر کا پہلو بھی ہے، جب ذات میں بے خوفی پیدا ہوتی ہے تو تحقیر و تمسخر اور طنزیہ مسکراہٹیں پیدا ہونا بھی معمول کی بات ہے. نایاب کی شاعری کا ایک اہم پہلو ذات کا اظہار بھی ہے. یہی وجہ ہے کہ وہ میں، میرا اور مجھ جیسے الفاظ کے بار بار استعمال کے توسط سے اس کرب کو بھی بیان کرتے ہیں جو خود ان کے دل و جاں میں چبھن بن کر ابھرتا ہے. 

فنی اعتبار سے دیکھیں تو نایاب کی غزلوں میں پختگی اور اور تازگی کا  احساس ہوتا ہے. وہ اپنے ڈکشن، اسلوب، ردیف وقافیے کے برتاؤ اور اوزان و بحور کے انتخاب میں بڑی چابک دستی دکھاتے ہیں اور ہنر آزماتے ہیں. وہ غزلوں کی ایسی دنیا خلق کرتے ہیں جس میں صوت و رنگ اور لفظ و آہنگ موسیقیت لیے ہوئے ہوتی ہے. رواں مصرعوں کی تخلیق اور اظہار کا وفور سامع اور قاری کو جلد ان کے مدعا تک پہنچا دیتا ہے. جہانگیر نایاب کے لیے نیک خواہشات.) 

غزلیں
(1)
ٹوٹ کر اتنا برس مجھ پہ کہ پاگل کردے
خطۂ جسم نہیں روح بھی جل تھل کردے
جو ہیں درپیش مسائل انہیں اب حل کر دے
چارہ گر نظرِ کرم مجھ پہ مسلسل کر دے
اس سے پہلے کہ بگڑ جائے کہیں میرا خمیر
چاک پر ڈال مجھے اور مکمل کردے
میری نظروں میں نہیں تابِ نظارا باقی
ان مناظر کو مِری آنکھ سے اوجھل کردے
عمر بھر کے لیے ہوجاؤں میں تیرا، سو مجھے
اپنے دل کے کسی گوشے میں مقفل کردے
روکنے ٹوکنے والا ہے یہاں کون تجھے
حاکمِ وقت ہے تو شہر کو مقتل کردے
ان چراغوں پہ نہیں کوئی بھروسہ مجھ کو
جگنوؤں کو تو مرے واسطے مشعل کردے
بند آنکھوں سے بھروسہ ترا سب پر نایابؔ
مجھے ڈر ہے کہیں تجھ سے نہ کوئی چَھل کردے
(2)
درپیش تھا جو مسئلہ وہ حل نہیں ہوا
یعنی جنون شوق مسلسل نہیں ہوا
اک عمر ہم نے کل کے بھروسے گزار دی
لیکن نمو پذیر کبھی کل نہیں ہوا
اک راہ درگزر کی ابھی ہے کھلی ہوئی
دروازہ میرے دل کا مقفل نہیں ہوا
تیری نوازشات میں کوئی کمی نہ تھی
مجھ سے ہی عرض حال مفصل نہیں ہوا
رخنہ تو اس نے ڈالا ہے رستے میں بار بار
لیکن قدم کوئی مِرا بوجھل نہیں ہوا
جو مسئلہ انا کا تھا دونوں کے درمیاں
ہم نے جلایا خون مگر حل نہیں ہوا
اپنی طرف سے تم نے تو کوشش ہزار کی
پھر بھی یہ قند زہرِ ہلاہل نہیں ہوا
نایاب یہ نہیں ہے تری کاہلی اگر
کیوں ایک کام تجھ سے مکمل نہیں ہوا
(3)
عدل کی کور نگاہی سے نہیں ڈرتا میں
یعنی جھوٹوں کی گواہی سے نہیں ڈرتا میں
چاہتا ہوں کہ کوئی آنچ نہ آئے تجھ پہ
دوستا! اپنی تباہی سے نہیں ڈرتا میں
شوق سے آئے، مجھے آ کے گرفتار کرے
اب کرائے کے سپاہی سے نہیں ڈرتا میں
میرے باطن میں درخشاں ہے یقین کا سورج
ظلمتِ شب کی سیاہی سے نہیں ڈرتا میں
کھل کے اب کردیا اعلانِ بغاوت میں نے
جا تری سطوتِ شاہی سے نہیں ڈرتا میں میں
میرے دل میں ہے فقط خوف خدا کا نایاب
اور کسی ظلِ الٰہی سے نہیں ڈرتا میں
(4)
شکست و ریخت کا جو سلسلہ بنا ہوا ہے
درون ذات کہیں آئینہ بنا ہوا ہے
نہیں ملے گا گنہگار ڈھونڈنے پر بھی
جسے بھی دیکھو وہی پارسا بنا ہوا ہے
تم اپنی ذات سے باہر نہیں نکل سکتے
ہمارے گرد بھی اک دائرہ بنا ہوا ہے
تمام عمر اسے پاٹنا نہیں ممکن
جو درمیان ہمارے خلا بنا ہوا ہے
اسی سے پھوٹے گی امید کی کرن اک دن
جو تیرگی کا یہاں دائرہ بنا ہوا ہے
حقیقتاً جسے بین السطور ہونا تھا
عجب تو یہ ہے وہی حاشیہ بنا ہوا ہے
ہزار بار نکالا گیا ہے حل جس کا
ہنوز سب کے لیے مسئلہ بنا ہوا ہے
مزاج اس کا ابھی آسماں پہ ہے نایابؔ
وہ اپنے زعم میں کب سے خدا بنا ہوا ہے
(5)
ستم ڈھاکر ستمگر رو پڑا تھا
مِرے سینے سے لگ کر رو پڑا تھا
خطا جب میں نے اس کی درگزر کی
وہ رکھ کر ہاتھ دل پر رو پڑا تھا
کیا تھا ضبط میں نے خود پہ لیکن
مِرا ہمزاد اندر رو پڑا تھا
اتارا تھا اسے دیوار سے جب
وہ فرسودہ کلنڈر رو پڑا تھا
میں چپ تھا میرے سینے میں اتر کر
مِرے قاتل کا خنجر رو پڑا تھا
سبھی ڈوبے ہوئے تھے قہقہوں میں
ہنسا کے سب کو جوکر رو پڑا تھا
خموشی دیکھ کر دیدہ وروں کی
کوئی خوں ریز منظر رو پڑا تھا
اچانک آج اپنی بے بسی پر
کوئی مجھ میں پھپھک کر رو پڑا تھا
خوشی بیٹوں کے چہرے پر تھی لیکن
وصیت باپ لکھ کر رو پڑا تھا
تمہیں کچھ فرق پڑتا کیوں نہیں ہے
میں کھاکر ایک ٹھوکر رو پڑا تھا
کہ غم تو غم ہے میں فرطِ خوشی سے
میاں نایاب اکثر رو پڑا تھا
(6)
یقین کون کرے گا کہ محوِ یاس ہوں میں
اداس لگتا نہیں ہوں مگر اداس ہوں میں
ترا خیال ہے خالی پڑا، گلاس ہوں میں
کسی کی سوچ کا محور، کسی کی آس ہوں ہوں
بھٹک رہے ہو کہاں تم تلاش میں میری
نظر اٹھاکے تو دیکھو تمہارے پاس ہوں میں
تمہارے سامنے وقعت نہیں مِری کچھ بھی
کسی کے واسطے دنیا میں کل اساس ہوں میں
میں کب سے ڈھونڈ رہا ہوں سبب اداسی کا
مجھے پتا ہی نہیں کس لیے اداس ہوں میں
تمہارا لطف و کرم سب پہ عام ہے لیکن
نہ جانے کب سے کھڑا محوِ التماس ہوں میں
کئی دنوں سے طبیعت اچاٹ ہے میری
ترا قیاس غلط ہے کہ بد حواس ہوں میں
بھلا دیا جسے پڑھ کر زمانے والوں نے
کتابِ زیست کا وہ زریں اقتباس ہوں میں
مٹادوں پارو کی خاطر بھلا میں کیوں خود کو
نئے زمانے کا نایاب دیو داس ہوں میں
(7)
کبھی کبھی کی عنایات مستقل کردے
جو زخم تو نے لگائے ہیں مندمل کردے
ابھی نہیں ہے موافق مِری نمو کے لیے
ذرا یہ آب و ہوا اور معتدل کردے
میں حق پرستی سے ہرگز نہ باز آؤں گا
وہ تنگ مجھ پہ یہ دنیائے آب و گِل کردے
نہ آسمان سے آجائے تو زمیں پہ کہیں
ترا غرور ہی تجھ کو نہ منفعل کردے
ہر ایک شخص کو میں بانٹ دوں خوشی اپنی
مِرے خدا مجھے اتنا فراخ دل کردے
میں درد بانٹنے آیا ہوں تیرے پاس مگر
ترا سلوک طبیعت نہ مضمحل کردے
کہ ہو نہ جائیں کہیں خواب قرب کے لمحے
یہ حادثہ ہمیں پھرسے نہ منفصل کر دے
ہرایک سمت ہے ماحول خوف کا نایاب
تمہارا جھوٹ نہ لوگوں کو مشتعل کردے
(8)
بگاڑ دے نہ کہیں تیرا التفات مجھے
کہ راس آتی نہیں ہیں نوازشات مجھے
میں لامکاں کا مسافر مِری تلاش ہے اور
جکڑ سکے گی حدوں میں نہ کائنات مجھے
تِرے بغیر مسلسل بکھر رہا ہوں میں
سمیٹ سکتا ہےاب صرف تیرا ساتھ مجھے
ابھی الجھنا نہیں خارجی مسائل میں
درست کرنے ہیں اپنے معاملات مجھے
تو کیا خوشی کا، تصور بھی کر نہیں سکتا
میں جانتا ہوں کہ غم سےنہیں نجات مجھے
نہ جانے کتنی ہی عیدیں گزر گئیں اب تک
پر آج تک نہیں بھولی وہ چاند رات مجھے
قدم قدم پہ جہاں بےبسی کےسائے ہیں
اک ایسے موڑ پہ لے آئی ہےحیات مجھے
شکست و ریخت کا جو سلسلہ ہے یہ نایابؔ
کوئی جھنجھوڑ رہا ہے درونِ ذات مجھے
(9)
دل میں ارمان پاش پاش لیے
پھر رہا ہوں میں اپنی لاش لیے
مجھ سے اک بت بھی بن نہیں پایا
اور سب نے خدا تراش لیے
شہر در شہر پھر رہا ہوں میں
ہاتھ میں کاسۂ معاش لیے
زندگی ہار کے جوئے میں سب
جیب میں پھر رہے ہیں تاش لیے
کون اندر کے گھاؤ دیکھتا ہے
میں کہاں جاؤں یہ خراش لیے
زندگی سے نباہ کرنے کو
ہم نے بھی کچھ ہنر تلاش لیے
(10)
مجھ کو عزت تجھے ملی دنیا
وہ تری اور یہ مِری دنیا
ایک جادو کی ہے چھڑی دنیا
کس کو لگتی نہیں بھلی دنیا
ناز تھا تم کو اپنی طاقت پر
ہاتھ سے کیوں نکل گئی دنیا
اب تمہیں انتظار ہے کس کا
چھوڑ کر تم کو جاچکی دنیا
راس آئی نہیں کبھی ہم کو
ہے مگر تیرے کام کی دنیا
روند کر کل گزر گئی تھی مجھے
آج قدموں میں ہے پڑی دنیا
ساتھ تیرے میں چل نہیں سکتا
مجھ میں ہے بس یہی کمی دنیا
بات مانی نہیں کبھی میں نے
گرچہ ضد پر اڑی رہی دنیا
آج اعزاز دے رہی ہے مجھے
میری دشمن تھی کل یہی دنیا
کتنی صدیاں گزر گئیں نایاب
ہے مگر آج بھی نئی دنیا
(11)
کچھ بگاڑا تو نہیں یار ہمارا اس نے
کر لیا طیش میں خود اپنا خسارہ اس نے
چاہے! جبراً ہی کیا مجھ کو گوارا اس نے
اک زمانہ تو مِرے ساتھ گزارا اس نے
اب کھٹکتا ہوں کسی پھانس کی صورت اس کو
کبھی سمجھا تھا مجھے آنکھ کا تارا اس نے
کردیا خود کبھی طوفاں کے حوالے مجھ کو
اور کبھی خود ہی دیا بڑھ کے سہارا اس نے
وہ جو سائے کی طرح ساتھ رہا کرتا تھا
وقت بدلا تو کیا مجھ سے کنارا اس نے
آج پھر ہوں گے ہرے، زخم پرانے شاید
آج پھر کھولا ہے یادوں کا پٹارا اس نے
رنگ لائی ہے یقیناً یہاں محنت اس کی
کر لیا اپنی طرف وقت کا دھارا اس نے
مجھ سے انجانے میں اک بھول ہوئی کیا نایاب
کوئی موقع نہ دیا اور دوبارہ اس نے
(12)
سزا اپنے کیے کی پا گیا نا
کہ تیرا زعم تجھ کو کھا گیا نا
نہ چل پائی بھلے نفرت کی آندھی
وفا کا پھول تو مرجھا گیا نا
تھا کل تک زرد رو اب سرخرو ہے
ہمارا مشورہ کام آگیا نا
اجاگر ہو گیا کردار تیرا
جو دل میں چور تھا پکڑا گیا نا
دھکیلا تھا مجھے دریا میں تم نے
گہر آخر مِرے ہاتھ آ گیا نا
تمہیں تھی جس کے سائے سے بھی نفرت
تمہارے ساتھ وہ دیکھا گیا نا
تمہارا کون ہے اپنا یہاں پر
بُرا جو وقت تھا سمجھا گیا نا
ہوا میں اڑ رہے تھے جانے کب سے
میاں جی ! اب تمہیں ہوش آ گیا نا
نتیجہ جو بھی ہو ہم اس پہ خوش ہیں
ہمارا امتحاں اچھا گیا نا
مِری بے رونقی پر ہنس رہے تھے
تمہارا عکس بھی دھندلا گیا نا
جتن کتنے کیے نایاب ہم نے
مگر افواہ وہ پھیلا گیا نا
(13)
کور فہموں کو حق کا گیان دوں میں
یعنی صحراؤں میں اذان دوں میں
کب تلک خود کو میں کروں ثابت
اور اب کتنے امتحان دوں میں
قبل اس کے کوئی گرفت کرے
اپنی کمزوریوں پہ دھیان دوں میں
جس میں مرنے کا حوصلہ ہی نہیں
اس کے ہاتھوں میں کیوں کمان دوں میں
کب تلک خود سے بے نیاز رہوں
کب تلک دوسروں پہ جان دوں میں
میں کوئی پیشہ ور گواہ نہیں
تُو جو مجھ سے کہے بیان دوں میں
تم نے سمجھا ہے بے وقوف مجھے
فصل تُم کاٹو اور لگان دوں میں
رات بھر صبر کی ردائیں بُنوں
صبح ننگے سروں پہ تان دوں میں
خود ہی آئیں گے بال و پر نایاب
حوصلوں کو اگر اڑان دوں میں
(14)
میں جب بھی کوئی منظر دیکھتا ہوں
ذرا اوروں سے ہٹ کر دیکھتا ہوں
کبھی میں دیکھتا ہوں اس کی رحمت
کبھی میں اپنی چادر دیکھتا ہوں
نظر کا زاویہ بدلا ہے جب سے
میں کوزے میں سمندر دیکھتا ہوں
کبھی میرے لیے تھے پھول جن میں
اب ان ہاتھوں میں پتھر دیکھتا ہوں
سبھی ہیں مبتلائے خود فریبی
عجب دنیا کا منظر دیکھتا ہوں
نہیں بدلاؤ کے آثار کچھ بھی
وہی حالات ابتر دیکھتا ہوں
مقدر میں لکھی ویرانیوں میں
ذرا سا رنگ بھر کر دیکھتا ہوں
نظر آتا ہے مدفن خواہشوں کا
کبھی جب اپنے اندر دیکھتا ہوں
سنا ہے آگ ہے اس کا سراپا
چلو باہوں میں بھر کر دیکھتا ہوں
بصیرت مجھ میں ہے نایابؔ ایسی
میں ہر قطرے میں گوہر دیکھتا ہوں
(15)
جنون شوق یقیں ضابطے سے آئی ہے
اڑان مجھ میں مرے حوصلے سے آئی ہے
مجھے بھی تو کبھی بین السطور میں رکھتا
پھر آج ایک صدا حاشیے سے آئی ہے
بھلانا جب کبھی چاہا ہے میں نے ماضی کو
نکل کے یاد تری حافظے سے آئی ہے
جسے خیال کا مرکز کبھی بنایا تھا
سنہری دھوپ اسی دائرے سے آئی ہے
یقین کر لو تو آئیں گے سب نظر اپنے
تمہارے دل میں کجی واہمے سے آئی ہے
جو میں نے سوچ کا بدلا ہے زاویہ نایابؔ
ہر ایک چیز نظر قاعدے سے آئی ہے
(16)
گھیرے رکھتا ہے عبث نور کا ہالہ مجھ کو
راس آتا نہیں مانگے کا اجالا مجھ کو
میں گیا وقت تو واپس نہیں لا سکتا مگر
اپنی کوتا ہی کا کرنے دے ازالہ مجھ کو
جس کو ہوں دل سے مرے عیب و ہنر دونوں قبول
کوئی ایسا تو ملے چاہنے والا مجھ کو
کہکشاں چاند ستارے کی طلب کس کو ہے
چاہئے بس میرے حصے کا اجالا مجھ کو
کس کی دستک نے مِری نیند اڑا کر رکھ دی
آج کس نے مِری خلوت سے نکالا مجھ کو
منتشر کر دیے اوراق مِرے ماضی کے
آج پھر تم نے پریشانی میں ڈالا مجھ کو
اتنی آسانی سے خود پر بھی نہیں کھلتا میں
آپ نے جتنی سہولت سے کھنگالا مجھ کو
غرق کرنا کبھی چاہا جو بھنور نے نایاب
موج دریا نے اسی وقت اچھالا مجھ کو
(17)
مرکز میں تھا سو دھیان میں رکھا گیا مجھے
ہر وقت امتحان میں رکھا گیا مجھے
اس کے سوا نہیں ہے مسیحا مرا کوئی
اک عمر اس گمان میں رکھا گیا مجھے
اطراف میرے کھینچا گیا خوف کا حصار
ڈہتے ہوئے مکان میں رکھا گیا مجھے
میری زباں سے قوت گویائی چھین کر
گونگوں کی داستان میں رکھا گیا مجھے
جوہر شناس نظروں سے اوجھل نہیں تھا میں
کیوں کوئلے کی کان میں رکھا گیا مجھے
پہرے بٹھا دیے گئے ہر بات پر مری
دانتوں تلے زبان میں رکھا گیا مجھے
اچھا مذاق ہے یہ مری سادگی کے ساتھ
فیشن زدہ دکان میں رکھا گیا مجھے
کرنا ہی تھا سپرد جو قاتل کو ایک دن
اس درجہ کیوں امان میں رکھا گیا مجھے
چاروں طرف سے مجھ پہ زمیں تنگ کی گئی
کہنے کو آسمان میں رکھا گیا مجھے
تلوار کا سوال یہی جنگجو سے تھا
کیوں آج تک میان میں رکھا گیا مجھے
حرکت پہ ہے جمود تو اظہار پر سکوت
نایابؔ کس جہان میں رکھا گیا مجھے
(18)
میری نظر میں اس کی تب و تاب اور ہے
کہتے ہیں جس کو گوہر نایاب اور ہے
سرشار جس سے روح ہو وہ گیت ہے جدا
جو تار دل کا چھیڑے وہ مضراب اور ہے
مقصود جو مجھے ہے یہ تعبیر وہ نہیں
جو دیکھتی ہے آنکھ مری خواب اور ہے
کھلتے ہیں جس سے لوگوں پہ اسرار بے خودی
میری کتاب زیست کا وہ باب اور ہے
ہے ذہن زندگی کے مسائل سے منتشر
اور دل کسی کے عشق میں بیتاب اور ہے
اپنی جگہ پہ دونوں ہی خوش رنگ ہیں مگر
طاؤس ہے کچھ اور تو سرخاب اور ہے
یہ وار بھی ہدف سے کہیں دور جا گرا
ترکش میں تیر کیا کوئی نایابؔ اور ہے
(19)
باعث آسودگی ہے حشر سامانی مجھے
راس آتی ہے بڑی مشکل سے آسانی مجھے
دیکھ کر تیری عنایت اور ترا لطف و کرم
کھل رہی ہے یار اپنی تنگ دامانی مجھے
کر رہا ہے ذہن میں گردش کوئی دھندلا سا عکس
لگ رہی ہے اس کی صورت جانی پہچانی مجھے
سوچنے کا زاویہ میں نے بدل ڈالا ہے دوست
اب پریشانی نہیں لگتی پریشانی مجھے
سونپ دی اس نے مجھے اپنے بدن کی سلطنت
مل گئی ہو مفلسی میں جیسے سلطانی مجھے
لقمۂ گرداب ہونے ہی کو تھا میں اور پھر
دفعتاً آئی نظر اک موج امکانی مجھے
آج پھر کھلنے لگی ہے مجھ پہ رمز کائنات
آج پھر ہونے لگی ہے خود پہ حیرانی مجھے
سوچتا ہوں اولی مصرع جب کبھی نایابؔ میں
خود کو لکھواتا ہے بڑھ کر مصرع ثانی مجھے
(20)
بیان حال مفصل نہیں ہوا اب تک
جو مسئلہ تھا وہی حل نہیں ہوا اب تک
نہیں رہا کبھی میں اس کی دسترس سے دور
مری نظر سے وہ اوجھل نہیں ہوا اب تک
بچھڑ کے تجھ سے یہ لگتا تھا ٹوٹ جاؤں گا
خدا کا شکر ہے پاگل نہیں ہوا اب تک
جلائے رکھا ہے میں نے بھی اک چراغ امید
تمہارا در بھی مقفل نہیں ہوا اب تک
مجھے تراش رہا ہے یہ کون برسوں سے
مرا وجود مکمل نہیں ہوا اب تک
دراز دست تمنا نہیں کیا میں نے
کرم تمہارا مسلسل نہیں ہوا اب تک
برس کچھ اور مری جان ٹوٹ کے مجھ پر
یہ خطہ جسم کا جل تھل نہیں ہوا اب تک
نہ آیا باز وہ نایابؔ اپنی فطرت سے
وفا کا شہر بھی جنگل نہیں ہوا اب تک
(21)
ہر خطا اس کی ہمیشہ درگزر کرتی ہوئی
فاصلوں کو دل کی چاہت مختصر کرتی ہوئی
ذہن و دل کی روشنی کو تیز تر کرتی ہوئی
گفتگو سیدھے تری دل پر اثر کرتی ہوئی
میرے جذبوں کے فسوں میں قید وہ ہوتا ہوا
اس کے لہجے کی کھنک مجھ پر اثر کرتی ہوئی
زندگی کی تیز گامی اور دولت کی ہوس
آنے والے کل سے ہم کو بے خبر کرتی ہوئی
حوصلہ دیتا ہوا سا مجھ کو میرا اعتماد
بے یقینی دل میں پیدا ڈر پہ ڈر کرتی ہوئی
بھولا پن اور سادگی پر اس کی میں مٹتا ہوا
ایک صورت موہنی سی دل میں گھر کرتی ہوئی
کس کو یہ معلوم اے نایابؔ نسبت کس کی ہے
میرے ہر نقش قدم کو معتبر کرتی ہوئی
(22)
خود اپنے آپ سے روٹھا ہوا ہوں
سمجھتے ہیں وہ میں ان سے خفا ہوں
حقائق سے چرا کر آنکھ اپنی
میں کن سایوں کے پیچھے بھاگتا ہوں
کوئی تو راستہ ہوگا بتانا
ترے دل تک پہنچنا چاہتا ہوں
بظاہر ہے ہنسی ہونٹوں پہ میرے
مگر اندر سے میں ٹوٹا ہوا ہوں
جہاں خود کو مقفل کر رکھا تھا
میں اس کمرے کی چابی کھو چکا ہوں
یہ کس نے مجھ کو بس میں کر لیا ہے
اشاروں پر میں کس کے چل رہا ہوں
اگرچہ حال ہے تاریک میرا
ستارہ آنے والے وقت کا ہوں
تپا ہوں آتش دوراں میں نایابؔ
تو اب جا کر کہیں کندن بنا ہوں
(23)
میں نے کوشش کی بہت لیکن کہاں یکجا ہوا
صفحۂ ہستی کا شیرازہ رہا بکھرا ہوا
ذہن کی کھڑکی کھلی دل کا دریچہ وا ہوا
تب جہاں کے درد سے رشتہ مرا گہرا ہوا
کیا پتہ کب کون اس کی زد پہ آ جائے کہاں
وقت کی رفتار سے ہر شخص ہے سہما ہوا
کس کی یاد آئی معطر ہو رہے ہیں ذہن و دل
کس کی خوشبو سے ہے سارا پیرہن مہکا ہوا
پیڑ کے نیچے شکاری جال پھیلائے ہوئے
اور پرندہ شاخ پر بیٹھا ڈرا سہما ہوا
دو قدم بھی اب تمہارے ساتھ چلنا تھا محال
راہ تم نے خود الگ کر لی چلو اچھا ہوا
زندگی ہر زاویے سے دیکھتا ہوں میں تجھے
ہے مری فکر و نظر کا دائرہ پھیلا ہوا
چھپ گئی پانی میں اپنی چھب دکھا کر جل پری
آج پھر نایابؔ میرے ساتھ اک دھوکہ ہوا
(24)
اب اگر اور چپ رہوں گا میں
پھر یہ طے ہے کہ پھٹ پڑوں گا میں
ایک ایسا بھی وقت آئے گا
تم سنو گے فقط کہوں گا میں
ناز اٹھاؤں گا ناز اٹھانے تک
تیرے آگے نہیں بچھوں گا میں
دیکھنا تیری رہبری کے بغیر
اپنی منزل تلاش لوں گا میں
تم کو جانا ہے شوق سے جاؤ
اب خوشامد نہیں کروں گا میں
جب کبھی تجھ سے سامنا ہوگا
اجنبی کی طرح ملوں گا میں
کیا سبب ہے مری خموشی کا
شور تھمنے دو پھر کہوں گا میں
آئنہ رکھ کے سامنے نایابؔ
پاگلوں کی طرح ہنسوں گا میں
(25)
یہ کس نے کہہ دیا تجھ سے ڈرا ہوا ہوں میں
ترے خلاف تو اب بھی ڈٹا ہوا ہوں میں
مزاحمت مری جاری ہے اب بھی دریا سے
بھنور کے نرغے میں گرچہ پھنسا ہوا ہوں میں
یہ کس نے قوتِ گویائی چھین لی مجھ سے
یہ کیا ہوا ہے مجھے بُت بنا ہوا ہوں میں
بھٹک رہی ہے خلاؤں میں میری روح مگر
بدن کے ملبے میں اب بھی دبا ہوا ہوں میں
کہیں سنا ہے کبھی تو نے انکسار کا لفظ
میں تجھ سے چھوٹا نہیں ہوں جھکا ہوا ہوں میں
یہ حادثات مرا حوصلہ بڑھاتے ہیں
انہیں کے بیچ تو پل کر بڑا ہوا ہوں میں
تمہارے شر سے تو دنیا پناہ مانگتی ہے
خدا کا شکر ہے اب تک بچا ہوا ہوں میں
یہ تُو نے ترکِ تعلق کا کیسے سوچ لیا
ہزار بار تو تجھ پر خفا ہوا ہوں میں
یہ کم ہے کیا کسی اعزاز سے میاں نایاب
کسی کی سوچ کا محور بنا ہوا ہوں میں
***
جہانگیر نایاب کے بارے میں یہ مضمون بھی پڑھیں: شاخِ چشم میں کھلتا خواب: جہانگیر نایاب

شیئر کیجیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے