پانی

پانی

عبد الودود انصاری
کانکی نارہ, مغربی بنگال

یہ رب کا فرمان ہے بچو!
یہ درس قرآن ہے بچو!
یہ بھی رب کی شان ہے بچو!
پانی سب کی جان ہے بچو!
زندہ شے پانی سے بنی ہے
اللہ کی اک ذات غنی ہے
ہے پانی کا رنگ نہ خوشبو
اور حکومت اس کی ہر سو
پانی تیرا رنگ ہے کیسا
جس میں ملا دو اس کے جیسا
کیونڈش نے یہی تو بتایا
خوب سلیقے سے سمجھایا
پانی دو گیسوں کی صورت
اس کی ہم سب کو ہے ضرورت
پانی کے ہیں تینوں بھیس
یعنی ٹھوس، رقیق اور گیس
برف ہے اس کی جمتی صورت
بھاپ ہے اس کی اڑتی صورت
برسے تو کہلائے بارش
یہ بھی قدرت کی ہے نوازش
کہیں سمندر ، کہیں یہ چشمے
کہیں یہ جھرنے کے ہیں نغمے
کہیں یہ اولے ، کہیں یہ شبنم
اس کے بنا تو گھٹنے لگے دم
آگ بجھائیں ، کھانا پکائیں
آو ¿ مل کر پیاس بجھائیں
بچو! زم زم ہے پانی
کیا نعمت سے کم ہے پانی
***
آپ یہ بھی پڑھ سکتے ہیں :کتاب: ہندوستانی خواتین کی اردو سائنسی خدمات

شیئر کیجیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے