تاریخ جہانکشا میں درج چنگیزخانی حکمت عملی: چند معروضات

تاریخ جہانکشا میں درج چنگیزخانی حکمت عملی: چند معروضات

پروفیسر صالحہ رشید
سابق صدر شعبہ عربی و فارسی
الہ آباد یونیورسٹی
(ادارتی نوٹ: تاریخ جہانکشا علاؤالدین عطا ملک جوینی کی کتاب ہے جسے اس نے ١٢٦٢ء میں تالیف کیا. پروفیسر صالحہ رشید نے اس کتاب میں درج چنگیزخانی حکمت عملی پر اس طرح روشنی ڈالی ہے کہ وہ ہمارے لیے آئینے کا کام کرے. انھوں نے چنگیز خان کے عہد اس کے عروج، نسل، علاقہ کے علاوہ حکومتی حکمت عملی کے  تحت اپنی ذات کو اندھیرے سے روشنی کی طرف لانے پر روشنی ڈالی ہے.) 

جن دنوں ایران کے تخت پر سلطان محمد خوارزم شاہ (١٢٠٠ء تا ١٢٢٠ء) متمکن تھاا نھی دنوں تمرجین نام کا ایک شخص صحرائے گوبی کے منگولیہ سے جو شمالی چین میں واقع ہے، اٹھا اور اس نے تمام منتشر تاتاری اور منگول قبیلوں کو یکجا کر ١٢٠٦ء میں اپنی سلطنت قایم کر لی۔ تاتاریوں کے شورای ملی کے ایک بڑے مجمع یعنی قوریلتای COURILTAY نے اسی وقت تمرجین کو چنگیز خان کا لقب دے دیا جس کا معنی فرماں روائے جہان ہوتا ہے، جب کہ تمرجین کا معنی ہے لوہے کا کام کرنے والا. یہ وہی چنگیز خان ہے جس نے منگول سلطنت کو ایک مضبوط سلطنت کے طور پر دنیا میں متعارف کرایا۔ اس نے فوج کی تنظیم از سر نو کی اور حکومت کے دیگر اداروں کو بھی محکم و مضبوط کیا۔ چین کو دو مرتبہ تاراج کر اس کے بڑے علاقے پر قابض ہو گیا۔ اس مرد آہن نے ٦٥/برس کی عمر پائی۔ اس کی پیدائش ١٦/ اپریل ١١٦٢ء کو ہوئی۔ ١٨/اگست١٢٢٧ء میں جب اس کی وفات ہوئی تو وہ شمالی چین، وسطی ایشیا اور مشرقی فارس کے علاقے فتح کر چکا تھا۔ آگے چل کر منگول حکومت مشرقی یوروپ سے مغربی ایشیا تک پھیل گئی۔ حتیٰ کہ ١٣٦٨ء میں اس سلطنت کا زوال ہو گیا جسے ایلخانی سلطنت کے نام سے جانا گیا۔
ایلخانی سلطنت کا دوسرا بڑا بادشاہ ہلاکو خان ہے جو چنگیز خان کا پوتا ہے۔ اس کی پیدائش ١٥/ اکتوبر ١٢١٨ء اور وفات ۸ / فروری ١٢٦٥ء کو ہوئی۔ اس کے زمانے میں ایران میں ایک اسماعیلی گروہ حشاشین نے خونریزی برپا کر رکھی تھی۔ ١٢٥٦ء میں ہلاکو خان ایران کا حاکم بن کر آیا اور اسماعیلیوں کے آخری بادشاہ خور شاہ کو قتل کر قلعۂ الموت پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد اس نے بغداد کا رخ کیا جو اس وقت شیعہ سنّی فساد میں مبتلا تھا۔ اس نے خلیفہ المستعصم باللہ کا قتل کر ١٢٥٨ء میں خلافت عباسیہ کا خاتمہ کر دیا۔ بغداد کو بری طرح تاراج کیا۔ قتل و غارت کے ساتھ ہی سارے کتب خانے اور بیت الحکمت کو نذر آتش کر دیا، باقی کتابوں کو دریا بر د کردیا۔ یہاں سے وہ (١٢٦٠ء) فلسطین کے شہر نابلوس کی جانب بڑھ گیا جہاں اسے شکست ہوئی۔ ہلاکو کے بعد اس کا بیٹا اباقا آن تخت نشین ہوا۔ وہ بھی اپنے باپ کی مانند اسلام دشمن تھا۔ وہ پوپ اور یوروپ کے حکمرانوں سے قریبی تعلقات رکھتا تھا۔ اسی نے عیسائیوں کو بیت المقدس پر قبضہ کرنے کے لیے اکسایا۔ اس نے آرمینیوں اور غرجستانیوں کی مدد سے حمص پر حملہ بھی کیا مگر اسے شکست ہوئی۔
تاریخ جہاں کشا چنگیز خاں کی موت کے صرف ۳۳/ برس بعد یعنی ١٢٦٢ء میں لکھی گئی۔ اس کا مؤلف علاء الدین عطا ملک جوینی بن بہاء الدین محمد (١٢٢٦ء تا ١٢٨٣ء)  ہے۔ یہ چنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان (وفات ١٢٦٥ء)  اور اباقاآن کا درباری ملازم تھا۔ یہ ان کی جانب سے عراق عرب اور دوسرے صوبوں کی حکومت کے انتظام و انصرام کے لیے بھی بھیجا گیا۔ تاریخ جہاں کشا تین جلدوں پر مشتمل ہے جس میں منگولوں کے اخلاق و عادات، ان کی فتوحات، ان کے بادشاہوں بالخصوص چنگیز خان کی زندگی کی تفصیلات درج ہیں۔ یہ وہی چنگیز خاں ہے جسے ہم قتل و غارت کا استعارہ جانتے ہیں۔
تاریخ جہاں کشا کا ایک چھوٹا سا باب ”ذکر قواعدی کہ چنگیز خان بعد از خروج نہاد و یاساہا کہ فرمود“ عنوان سے ہے۔ یعنی چنگیزخان جب مہم پر نکلا تو کون سے قاعدے قانون اپنائے اور اس کے ذریعے جاری کیے گئے احکامات کا ذکر۔ اس عنوان میں ایک لفظ یاساہا آیا ہے جو چنگیز خان سے منسوب کیا جاتا ہے جیسے یاسای چنگیزی۔ اسے طرز و طریقہ، قاعدے قانون یا حکم و قرار داد کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ یہ لفظ پہلوی قدیم، اوستائی، سنسکرت اور چینی زبانوں میں بھی موجود ہے۔ اس وقت تاتاری قوم کے پاس لکھنے کا ذریعہ یعنی خط script نہیں تھا۔ اس لیے چنگیز خان نے حکم دیا کہ تاتاری لوگ ایغوریوں سے خط سیکھیں۔ اس نے اپنی عقل و فہم کے مطابق قانون اور مصلحت طے کی۔ ہر گناہ کی ایک حد مقرر کی۔ سرقہ اور زنا اس نے بڑے گناہ قرار دیے۔ اس نے اپنے تمام احکام اور قوانین ایغوری خط میں ایک رجسٹر میں درج کروائے۔ اس رجسٹر کو یاسانامۂ بزرگ کہا جاتا تھا۔ یاسانامہ معتبر شاہزادوں کی نگرانی میں رکھا جاتا تھا۔ جب کبھی کوئی خان تخت نشین ہوتا یا کوئی مہم در پیش ہوتی اور بڑا لشکر تیار کرنا ہوتا یا مملکت کے کسی معاملے پر غور و فکر کرنا ہوتا تو اس وقت سارے شاہزادے جمع ہوتے اور یاسانامۂ بزرگ سامنے رکھا جاتا۔ اس میں درج قوانین کی روشنی میں معاملات حل کیے جاتے یادشمن پر حملے کے منصوبے اور لشکر کشی کا خاکہ تیار کیا جاتا۔ شروعاتی دور میں تمام منگول قبیلے اسی یاسانامے کی بدولت منظم ہوئے۔ چنگیز خان نے ان تمام قبیلوں کی بری رسموں کو ترک کر اچھی رسموں کو اپنا لیا۔
تاریخ جہان کشا محض ایک سیاسی تاریخ نہیں بلکہ جوینی نے اس میں اس وقت کے اجتماعی اور اقتصادی حالات، شہری معاملات، ان کے قدیم نام اور جغرافیہ، وہاں کے لوگوں کی شناخت، منگولوں کی روحیات کی رسم، لشکر سازی، ہتھیاروں کی تقسیم، جنگ کے طریقے، شکار، ارتباط اداری جیسے یام کا نظام، مالیات، فتوحات، وراثت، عائلی نظام اور رعایا پر گرفت مضبوط رکھنے کے طریقوں پر روشنی ڈالی ہے۔ جوینی چنگیز خاں کی مہمات کے بارے میں لکھتا ہے کہ اس نے دشمن کو شکست دینے کے لیے جو ترکیبیں وضع کیں وہ اس کے اپنے دماغ کی اختراع تھیں۔ اس نے اس معاملے میں کسی کی پیروی نہیں کی تھی۔ ان تراکیب میں سب سے اہم دشمنوں کی شان و شوکت کو توڑنا اور دوستوں کے مرتبے کو بلند کرنا ہے۔ اس کے دشمنوں کی تعداد کثیر تھی مگر اپنی شجاعت و حکمت عملی کے بل بوتے پر اس نے نہ جانے کتنے سورماؤں کو نیست و نابود کر دیا تھا، بالخصوص ترکستان سے لے کر ملک شام تک کی حدود میں آنے والے اسلامی ممالک کے حکمرانوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔ ایسا قتل و غارت اور تباہی مچائی کہ جن بستیوں میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ بستے تھے وہاں دس بھی نہ باقی بچے۔
اپنی فتوحات کو یقینی بنانے کے لیے چنگیز خان نے ایک ایسا نظام وضع کیا جس کے تحت پوری رعایا لشکر ہوتی۔ دوسری حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اس نے ایک ایسا طریقۂ کار اپنایا جس سے اس رعایا یا لشکر کونہ کسی حاضری کے رجسٹر کی ضرورت پڑتی اور نہ ہی کسی حاضری لینے والے افسر کی۔ بلکہ اس نے یہ عہدہ ہی ختم کر دیا تھا۔ تیسرے یہ کہ دوران جنگ سارے لوگ جنگجو ہوتے اور فراغت کے دنوں میں شکار اور جانوروں سے نفع بخش تجارت کرتے۔ اس کی حکمت عملی اس طرح تھی کہ اس نے پوری رعایا کو دس دس کے گروہ میں تقسیم کر دیا۔ ان دس میں سے نو پر ایک سردار مقرر کر دیا۔ دس دس کے دس گروہ ملا کر امیر صد اور سو کے دس گروہ ملا کر اس پر امیر ہزار اور دس ہزار کا امیر تومان مقرر کیا۔ سب سے چھوٹی اکائی دس والے گروہ کے نو لوگ امیر دہ کے زیر فرمان ہوتے اور اسی طرح بتدریج اوپر پہنچتے ہوئے امیر تومان کے زیر فرمان ہو جاتے۔ کسی شخص کو کوئی ضرورت ہوتی تو وہ امیر دہ کو رجوع کرتا اور اس کی ضرورت کو متذکرہ ترتیب سے آگے پہنچا دیا جاتا۔ پھر وہ اسی ترتیب سے نیچے آتے ہوئے آخری شخص تک پہنچتی۔ اس طرح کسی بھی حاجت کو اوپر سے نیچے تک راست طریقے سے پورا کیا جاتا۔ ہر شخص دوسرے کو زحمت دیتا مگر کسی کو بڑائی کے اظہار کی اجازت نہیں تھی۔ سب کو صرف اپنی ذمہ داری نبھانی تھی۔ کوئی بھی شخص اپنا شمار دوسرے گروہ میں نہیں کرا سکتا تھا۔ جو جہاں درج ہوا وہیں سے اس کی شناخت ہوتی تھی۔ اگر کسی نے انحراف کی کوشش کی تو اسے مجمع میں قتل کر دیا جاتا تھا تاکہ دوسرے عبرت لیں اور نظم و نسق قایم رہے۔ چونکہ تمام رعایا لشکر تھی اس لیے ہر شخص آداب حرب سے واقف ہوتا تھا۔ چھوٹے بڑے شریف وضیع سب شمشیر زن، تیر انداز اور نیزہ گذار ہوتے۔ جس دم بادشاہ کو لشکر کشی کی ضرورت پڑتی، بس وہ ایک حکم نافذ کرتا کہ اتنے ہزار لشکر فلاں وقت اور فلاں جگہ اور سب لبیک کہتے۔ آن کی آن میں لشکر حاضر ہو جاتا۔ دفاع کا سارا سامان اسلحے، جانور، کھانا پینا اور دیگر ضروریات دس سو اور ہزار کے گروہ کی مناسبت سے ترتیب دے دی جاتیں۔ انھی میں سے ایک لشکر رعایا کی خدمت کے لیے جیسے تنخواہیں وقت پر پہنچانا، ٹیکس وصولنا، کھانے پینے کا انتظام، یام، جانور اور دیگر اخراجات کے لیے مامور کیا جاتا۔ جنگ کے دوران عورتیں، ضعیف یا بیمار جو گھر پر رہ جاتے وہ ضرورت پڑنے پر اپنا خیال خود رکھتے یا عورتیں باہر نکل کر انتظام کرتیں۔ یہ سب ایسی صورت میں انجام پاتا جب بادشاہ اور صد ہزار لشکر کے امیر کے درمیان مشرق اور مغرب کا فاصلہ ہوتا۔ اس دورا ن خان ایک سوار الگ سے بھیجتا جو سارے انتظامات کا معائنہ کرتا کہ سب کچھ بموجب حکم خان درست ہے یا نہیں۔ کسی طرح کی کمی ملنے پر سزا بھی دی جاتی۔ اس طرح کی ترتیب لشکر جو چنگیز خان کی اولاد میں دیکھنے کو ملی وہ کہیں اور نظر نہ آئی۔ ایسا لشکر جو شدت پر صابر اور فراخی پر شاکر رہتا۔ لشکر کا امیر حاضر ہو یا غائب، سب اس کے تابع ہوتے۔ نہ کسی کو زمین جائیداد کا لالچ اور نہ ترقی کی خواہش ہوتی۔یہی لشکر ایام جنگ میں پھاڑ کھانے والا چوپایہ ہوتا اور فراغت کے دنوں میں بھیڑوں اور بکریوں سے منافع کماتا۔ سب بے خوف اور آپسی اختلاف سے دور رہتے۔
جس طرح رعایا جنگ کی تربیت حاصل کرتی اسی طرح اسے شکار کے طور طریقے بھی سیکھنے پڑتے۔ جب کوئی مہم درپیش نہ ہوتی تو سب شکار میں مشغول ہوتے۔ یہ از راہ تفنن نہیں ہوتا بلکہ اس کا مقصد رعایا کو تیر و خنجر کی مشق کروانا تھا۔ شکار کی جزئیات پر بھی اتنی ہی شدت سے توجہ دی جاتی جتنی جنگی مشق پر۔ خان خود اس میں حصہ لیتا۔ شکار کے لیے جانوروں کی تلاش سے لے کر انھیں گھیر کر لانے کا فن، دست راست و چپ اور قلب کا تعین، نرکہ، خان کے لیے اونچائی پر تخت کا انتظام جہاں سے وہ اور دیگر شہزادے شکار کرتے، ان سب کا پورا انتظام و اہتمام ہوتا۔ غلطی ہونے پر مثلاً صف سے پاؤں باہر نکل گیا یا دائرے سے شکار کا جانور کود کر نکل گیا تو امیر ہزار، صد اور دہ کو سخت سزائیں دی جاتی تھیں۔ یہاں بھی سارے اصول و ضوابط جنگی مشق کی طرح ہی نافذ ہوتے تھے۔
جب منگولوں کی سلطنت وسیع ہوئی اور شرق سے غرب تک خبر گیری میں دشواری پیدا ہوئی تو انھوں نے یام قایم کیے۔ ہر دو تومان پر ایک یام بنایا گیا۔ یام کا طریقۂ کار اور اس کے اخراجات طے کیے گئے۔ اس میں قاصدوں اور جانوروں کے ٹھہرنے کا معقول انتظام کیا گیا۔ یہاں سے سامان کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی اور خبر رسانی کا کام انجام دیا جاتا تھا۔ یام کا ہر سال معاینہ ہوتا۔ جو بھی کمی یا خرابی پائی جاتی وہ رعایا کی جانب سے پوری کی جاتی۔ جتنا علاقہ ایک یام کے تحت ہوتا وہاں کے لوگوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کی بھی گنتی بالکل اسی طرح کی جاتی جس طرح لشکر کی ہوتی۔
یاسائے چنگیزی میں یہ بھی شامل تھا کہ تمام قبیلے ایک نظر سے دیکھے جائیں۔ ایک دوسرے میں فرق نہ کیا جائے اور نہ ایک دوسرے کی مخالفت کی جائے۔ چنگیز خاں کسی خاص مذہب و ملت کا تابع نہیں تھا اس لیے ایک کو دوسرے پر فوقیت بھی نہیں دیتا تھا بلکہ وہ ہر گروہ کے علما اور اہل تقویٰ کی تحریم کرتا تھا۔ جتنی عزت مسلمانوں کی کرتا اتنی ہی عیسائیوں اور بت پرستوں کی بھی توقیر کرتا تھا۔ سرقہ اور زنا کو سخت نا پسند کرتا تھا۔ کوئی مر جاتا تو اس کے مال سے کسی کو کوئی تعلق نہ ہوتا۔ وہ مال اس کے وارث، شاگرد یا غلام کو چلا جاتا۔ اسے کار نیک سمجھا جاتا۔ ایک مرتبہ چنگیز خاں کو دو لڑکوں نے شب خون کی اطلاع دے کر ہلاک ہونے سے بچا لیا تھا۔اس نے ان دونوں کی نو پشت کے لیے مراعات کا اعلان کر دیا۔ اس نے شاہی خاندان کے ساتھ لگنے والے طویل القاب و آداب کے سلسلے کو ختم کر دیا۔ صرف قاآن یا خان لفظ کا اضافہ شاہی خاندان کے نام کے ساتھ ہوتا تھا۔ آگے چل کر ان قبیلوں نے اپنی خواہش کے مطابق مذہب اختیار کر لیے۔ کچھ اپنی قدیم روش پر ہی قائم رہے۔ چنگیز خاں نے بعد کے دنوں میں آس پاس کے حکمرانوں کو اپنے پرچم تلے آنے کی دعوت دی۔ جن لوگوں نے قبول کیا تو ٹھیک ورنہ یہ کہہ کر چھوڑ دیا کہ اس معاملے کو اللہ سمجھے۔
یاسائے چنگیزی کی ہلکی سی جھلک میں حکومت سازی، مردم شماری، جانور شماری، فوجی نظام، مالیات، رعایا کی ہر ضرورت کا خیال، غلطی کی سزا بڑے امیر سے شروع ہو کر چھوٹے تک آنا، اچھی رسومات کا ماننا اور بری کو ترک کر دینا، دیگر مذاہب کا احترام، دکھاوے سے اجتناب، چوری اور زنا گناہ، جائیداد اور مرتبے کی خواہش نہ ہونا، قوانین کا تحریری شکل میں ہونا، معاملات کو یاسائے بزرگ کی مدد سے حل کرنا وغیرہ چند ایسے نکتے ہیں جو ہمیں آئینہ دکھانے کے لئے کافی ہیں۔
***
صالحہ رشید کی گذشتہ نگارش: الہ آباد کا دسہرا: چند معروضات
بانگ درا پر فارسی اثرات کا اجمالی جایزہ

شیئر کیجیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے