اقلیت آبادی سے متعلق حکومتِ بہار کے زیرِ انتظام بڑے تعلیمی اداروں کے احوال سرکاری بے رخی کی وجہ سے دگر گوں ہیں۔ اُن کا
مصنف: طیب فرقانی
پروفیسر، دانش مند اور بقول شخصے
ڈاکٹر جاوید عبدالعزیز(این سی ای آر ٹی ، نئی دہلی) آج سے تقریبا پچیس برس قبل لفظ ” شخصے“ کان میں پڑا تھا۔ محترم استاد
نیک اعمال کے درجوں کو بڑھا کر دیکھو
دلشاد دل سکندر پوری نیک اعمال کے درجوں کو بڑھا کر دیکھوایک گرتے ہوئے بچّے کو اٹھا کر دیکھو وحشتیں آ کے بچھا لیتی ہیں
سوچا تھا محبت میں کچھ آرام سا ہوگا
ریحان ارشد فاروقؔ اندرا نگر، لکھنؤ سوچا تھا محبت میں کچھ آرام سا ہوگاگر زخم ملے گا بھی تو گلفام سا ہوگا تُو نے جو
آفاقیت کا نور : انور آفاقی
احمد اشفاقدوحہ، قطر تو جوہری ہے تو زیبا نہیں تجھے یہ گریز مجھے پرکھ مری شہرت کا انتظار نہ کر حفیظ میرٹھی کا مندرجہ بالا
وادئ زیست مسکرائی ہے
🖋️ شعیب سراج وادئ زیست مسکرائی ہےآگ تم نے عجب لگائی ہے کلفتیں، آہ و زاریاں، سپنے زندگی بھر کی یہ کمائی ہے کرکے برباد
سفیر کرہ ارض
محمود الحسن عالمیگجرات، پاکستان "عالمی ادارہ خلائی تحقیق" کی بلند و بالا عمارت پر رات کا گہرا سناٹا یوں چھایا ہوا تھا جیسے کائنات کی
کتاب: "منتخب افسانے"
تبصرہ نگار: ممتاز شیریںدوحہ، قطر پریس فار پیس پبلی کیشنز کی طرف سے شائع ہونے والا شاہ کار "منتخب افسانے" کی اعزازیہ کاپی مجھے قطر
اعظم کریوی: حیات اور شخصیت
ڈاکٹر جہاں گیر حسن شاہ صفی اکیڈمی جامعہ عارفیہ، سید سراواں ضلع کو شامی ( یوپی ) ، پن کوڈ : 212213 نام تخلص اور