مجموعۂ خطوط ”اکبر بنام اقبال“ کے حوالے سے ایک خط

مجموعۂ خطوط ”اکبر بنام اقبال“ کے حوالے سے ایک خط

نزابت افشال
فیضان بک ڈپو، شہر و ڈاک خانہ تحصیل فتح جنگ، ضلع اٹک (پاکستان)
(ادارتی نوٹ: زاہد منیر نے "اکبر بنام اقبال” کے عنوان سے اکبر کے خطوط کو مرتب و مدون کیا ہے. اور تحشیہ نگاری کی ہے. نزابت افشال، جو اس میدان کے شہہ سوار ہیں، نے زیر نظر وقیع تحریر میں اس کتاب میں در آئی 40 غلطیوں اور تسامحات کی نشان دہی کی ہے. چوں کہ یہ خطوط کا معاملہ ہے اور نزابت افشال کو خطوط سے خاصا شغف ہے، اس لیے غلطیوں کی نشان دہی پر مبنی اس مضمون کو انھوں نے خط کی ہیئت میں لکھا ہے اس سے تحریر دل کش ہوگئی ہے.)

17 اگست 2024ء
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
مشفق من جناب ڈاکٹر زاہد منیر عامر صاحب
امید کہ آپ خیریت سے ہوں گے، اکبر کے خطوط کا یہ نادر و نایاب مجموعہ ”اکبر بنام اقبال“ سب سے پہلے آپ نے اس خاکسار کو ازراہ شفقت ارسال کیا۔ اس پر دل سے شکر گزار ہوں اور آپ کے لیے دعاگو ہوں۔ میں نے ان خطوط کو بہت گہرائی سے اور بہت دل چسپی سے پڑھا ہے۔ آپ نے بہت محنت کی ہے اور کتاب نہایت دیدہ زیب چھپی ہے، چونکہ آپ نے ازراہ کرم مجھ سے فرمایا تھا کہ بعد از مطالعہ اپنے تاثرات لکھیے گا، سو دورانِ مطالعہ میری ناقص سمجھ میں جو سہو آئے ہیں وہ تفصیلی آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں:
1- صفحہ نمبر 24 پر آپ نے اکبر اور اقبال کی تین ملاقاتوں کا جہاں ذکر کیا ہے وہاں آپ نے پہلی ملاقات کے متعلق فرمایا ہے کہ:
”پہلی ملاقات جنوری 1913 میں ہوئی جسے اکبر نے اقبال کا کرم اور نیک دلی قرار دیا۔ اس ملاقات میں رات کے کھانے کے بعد اقبال سے ”شکوہ“ اور ”جوابِ شکوہ“ کے اشعار بھی سنے گئے“۔
اب تحقیق سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ 1913ء میں اقبال نے دوبار اکبر سے ملاقات کی۔ پہلی ملاقات جنوری 1913ء کے پہلے ہفتے میں ہوئی تھی۔
دوسری ملاقات 7 ستمبر 1913ء کو ہوئی تھی۔
پہلی ملاقات کے متعلق اکبر نے اقبال ہی کو 9 جنوری 1913ء کو لکھا:
”بہت افسوس ہوا کہ آپ کی تواضع و تکریم کا موقع نہ ملا لیکن اس سے زیادہ اس بات کا کہ مبادلہ خیالات کا موقع بہت کم ملا“
اس پہلی ملاقات کے متعلق مرزا سلطان احمد کو اکبر نے ان الفاظ میں اطلاع دی بتاریخ 24 جنوری 1913ء ”ڈاکٹر اقبال صاحب نے بڑی زحمت اٹھائی، صرف چند گھنٹوں کے لیے مجھے ملنے کو الٰہ آباد تشریف لائے تھے“۔
اس سے ثابت ہوا کہ پہلی ملاقات ”چند گھنٹوں“ کی تھی اور اقبال نے اکبر کے ہاں قیام نہیں کیا۔ اس وجہ سے اکبر نے تواضع و تکریم اور مبادلہ خیالات کا موقع نہ ملنے پر افسوس ظاہر کیا۔
اب آپ کا پہلی ملاقات کے متعلق یہ لکھنا کہ:
”اس ملاقات میں رات کے کھانے کے بعد اقبال سے ”شکوہ“ اور ”جواب شکوہ“ کے اشعار بھی سنے گئے“
درست نہیں ٹھہرتا، آپ نے یقیناً نقی محمد خان خورجوی کی ”عمر رفتہ“ کے حوالے سے یہ لکھا ہے، نقی محمد خان خورجوی کے الفاظ یہ ہیں:
”سنہ 1913ء میں ڈاکٹر سر محمد اقبال، خان بہادر سیّد اکبر حسین سے ملنے کی غرض سے الٰہ آباد تشریف لائے تھے ان سے بھی ملاقات ہوئی۔ شب کے کھانے کے بعد ان سے شکوہ اور جواب شکوہ کے اشعار سنے۔ ترنم سے پڑھتے تھے اور خوش گلو تھے“
اس سے پہلی ملاقات مراد نہیں ہے کیونکہ پہلی ملاقات اکبر ہی کے بقول ”چند گھنٹوں“ کی تھی۔ خورجوی صاحب کا اشارہ دوسری ملاقات کی طرف ہے کیونکہ اب کی بار اقبال نے اکبر کے ہاں دو دن قیام کیا تھا سو ”شب کا کھانا اور پھر شکوہ اور جواب شکوہ کے اشعار“ سننے سنانے کا موقع اسی دوسری ملاقات میں ممکن تھا جو 7 ستمبر 1913ء کو ہوئی تھی اور اقبال نے دو روز اکبر کی خدمت میں گزارے تھے۔
2- دوسری ملاقات کے متعلق آپ نے لکھا ہے کہ (اسی صفحہ نمبر 24 پر) (دوسری ملاقات) ”دوسری بار اقبال 7 ستمبر 1913ء کو اکبر سے ملنے کے لیے بہ طور خاص الٰہ آباد گئے…………اس بار اقبال تین روز تک اکبر کے پاس مقیم رہے“
پہلی بات تو یہ ہے کہ اقبال نے اکبر سے ملنے کے لیے ”بہ طور خاص“ یہ سفر نہیں کیا تھا اور دوسری بات یہ کہ اقبال نے تین دن نہیں بلکہ دو دن اکبر کے ہاں گزارے تھے۔ اس کی تصدیق اگر آپ کرنا چاہیں تو اقبال کے اس خط سے ہو جائے گی جو انھوں نے یکم اکتوبر 1913ء کو مہاراجہ کشن پرشاد کو لکھا تھا، اقبال لکھتے ہیں:
”میں ستمبر کا قریباً کل مہینہ لاہور سے باہر رہا، پہلے کانپور مسجد کے مقدمے کے لیے گیا، وہاں سے دہلی آیا اور حاذق الملک صاحب کے ہاں بہ غرض علاج مقیم رہا۔ الٰہ آباد بھی گیا۔ وہاں دو روز مولانا اکبر کی خدمت میں رہا۔ آپ کا ذکر خیر آتا رہا“
3- تیسری ملاقات کے متعلق آپ نے لکھا ہے:
”تیسری اور آخری ملاقات 29 فروری 1920ء کو ہوئی، جب اقبال کسی مقدمے کے سلسلے میں ”گیا“ جاتے ہوئے بہ طور خاص الٰہ آباد رکے اور دو روز تک اکبر کا فیض صحبت اٹھایا“ اب حقیقت ملاحظہ فرمایئے:
اقبال مقدمے کے سلسلے میں ”ضلع گیا“ جاتے ہوئے اکبر کے ہاں نہیں ٹھہرے تھے بلکہ ”ضلع گیا“ سے واپسی پر اکبر سے ملاقات کے لیے الٰہ آباد آئے تھے اور دو روز نہیں بلکہ تین روز فیض صحبت اٹھایا۔
اکبر نے اپنے فرزند سیّد عشرت حسین کو اس ملاقات کی اطلاع دیتے ہوئے 2/ مارچ 1920ء کو لکھا تھا:
”ڈاکٹر اقبال صاحب کسی مقدمے میں ”ضلع گیا“ میں آئے تھے، واپسی پر مجھ سے ملنے چلے آئے۔ آج ایکسپریس میں وہ دہلی جانے والے ہیں۔ کوئی مقدمہ ہے، فرماتے ہیں کہ کیا عجب ہے کہ پھر آنا ہو اس وقت ان شاء اللہ ملاقات ہو گی۔“
اقبال نے دو روز نہیں بلکہ تین روز اکبر کی صحبت سے فیض اٹھایا۔ اکبر کے اس خط سے اس کی تائید ہوتی ہے جو انھوں نے 2 مارچ 1920ء کو عزیز لکھنوی کو لکھا تھا، اکبر لکھتے ہیں:
”3 دن سے ڈاکٹر اقبال صاحب میرے مہمان تھے۔ ملنے آئے تھے“
عبدالماجد دریابادی کو بھی یہی اطلاع 19 مارچ 1920ء کو دیتے ہیں۔
”ڈاکٹر اقبال ملنے آئے تھے، تین دن رہ کر گئے، کہتے ہیں، میں آپ کے ساتھ رہتا تو ایک مجموعہ مرتب کرتا۔“
اس سے قبل 5 مارچ 1920ء کو خواجہ حسن نظامی کو یہی لکھا ہے:
”29 فروری کو ڈاکٹر اقبال صاحب تشریف لائے، کسی مقدمے میں ”ضلع گیا“ کو گئے تھے۔ مجھ سے ملنے کو اس طرف گزرے، تین دن رہے، ان میں،میں نے بہت پولیٹیکل نشاط طبع پایا دنیابہ اُمید قائم“۔
4- صفحہ نمبر 32 پر آپ نے جوش ملیح آبادی کے متعلق اکبر کا یہ جملہ درج کیا ہے کہ:
”کاش کسی وقت آپ اور اقبال یکجا ہوتے“
اکبر کا اصل متن یہ ہے:
”کاش کسی وقت میں، آپ اور اقبال یکجا ہوتے“
آپ ذرا ”روح ادب“ میں درج اکبر کی جوش کے متعلق آرا کو مکرر غور سے پڑھیے تو واضح ہو جائے گا۔
یا کلیات جوش جلد اول مرتب ڈاکٹر ہلال نقوی صفحہ نمبر 142 دیکھیے (شائع کردہ ویلکم بک پورٹ کراچی، 2021ء)۔
5- صفحہ نمبر 79 پر آخری جملہ دیکھیے۔ آپ نے لکھا ہے کہ
”میں ہنوز محدود اور پابند بستر ہوں“
لیکن اگلے صفحے پر اسی خط کا عکس دیکھیے، اکبر کا متن یوں ہے کہ:
”میں ہنوز معذور اور پابند بستر ہوں“
صفحہ نمبر 80 پر اس خط کے عکس کی آخری سطر غور سے دیکھیے۔ درست تلفظ ”معذور“ ہے نہ کہ ’محدود“ اکبر نے تھوڑا جلدی میں گھسیٹ کر لکھا ہے پھر بھی لفظ ”ز“ کا نقطہ واضح نظر آرہا ہے۔
– ۶صفحہ نمبر 83 پر اکبر کا 27 اکتوبر 1911ء کا خط درج ہے۔ اس میں ایک جملہ ہے کہ ”سید عابد حسین صاحب بی اے ایک نہایت ذہین اور وسیع الخیال نوجوان بھی موجود تھے“
آپ نے حواشی میں صفحہ نمبر 446-447 پر حاشیہ نمبر 50 کے تحت لکھا ہے کہ ”اس نام سے ڈاکٹر سیّد عابد حسین صاحب کا گمان گزرتا ہے“ مگر آخر پر آپ نے خود ہی اس کی تردید کی ہے کہ ”اکبر کے ہاں مذکور عابد حسین، ڈاکٹر سیّد عابد حسین صاحب سے مختلف معلوم ہوتے ہیں۔“
جی ہاں یہ سیّد عابد حسین صاحب ڈاکٹر سیّد عابد حسین صاحب سے مختلف ہیں۔اکبر نے اول الذکر سیّد عابد حسین صاحب کے متعلق عزیز لکھنوی کو 17 اکتوبر 1914ء کو لکھا تھا:
”علی غضنفر صاحب سے فرما دیجیے کہ سیّد عابد حسین بی اے، ساکن کھجوہ ضلع سہارن پور، اگر کانفرنس میں شریک ہوں اور ملیں تو میرا سلام شوق کَہ دیں، وہ الٰہ آباد آئے تھے اور دو دفعہ مجھ سے ملنے آئے۔ جب میں پہنچا تو وہ جا چکے تھے غالباً کانفرنس میں گئے ہوں“
یاد رہے کہ سیّد علی غضنفر صاحب آل انڈیا شیعہ کانفرنس کے سیکرٹری تھے۔
7- صفحہ نمبر 86 پر اکبر کا 7 نومبر 1911ء کا خط دیکھیے جس میں اقبال سے ملنے کے لیے ہاشم کا اشتیاق ظاہر کیا گیا ہے۔ ہاشم کے متعلق اکبر نے لکھا ہے ”آج کہتا تھا کہ ان کو ملایئے“ لیکن اگلے صفحے پر اس خط کا عکس دیکھیے، اکبر کا متن یہ ہے:
”آج کہتا تھا کہ ان کو بلایئے“
عکس میں ”بلایئے“ واضح طور پر نظر آرہا ہے ”ب“ کے نیچے نقطہ ظاہر کر رہا ہے کہ یہ ”بلایئے“ ہے نہ کہ ”ملایئے“
اسی خط کے آخر پر اکبر نے ایک شعر درج کیا جس کا مصرع ثانی آپ نے یوں نقل کیا ہے:
”ایں کتا بے را کہ بکشادیم بسم اللہ نیست“
جب کہ درست یوں ہے کہ:
”ہر کتا بے را کہ بکشادیم بسم اللہ نیست“
عکس میں ”ایں کتابے“ نہیں ہے بلکہ ”ہر کتابے“ واضح طور پر نظر آرہا ہے۔ اقبال نے بھی اس کو ”ہر کتابے“ ہی لکھا اور پڑھا۔ اقبال نے نومبر 1911ء میں مولانا گرامی کو ایک خط میں اکبر کا یہ شعر لکھا تھا، اقبال لکھتے ہیں:
”مولانا اکبر الٰہ آبادی کا کیا خوب شعر ہے:
گفت ہاشم بے سبب ز انگلش مرا اکراہ نیست
ہر کتابے را کہ بکشادیم بسم اللہ نیست
ہاشم ان کے لڑکے کا نام ہے“
(نوٹ: گرامی کے نام اقبال کے اس خط پر تاریخ درج نہیں مگر صابر کلوروی نے قیاساً اس خط کو نومبر 1911 کا بتایا ہے۔ میری تحقیق بھی یہی ہے کہ یہ خط نومبر 1911 میں ہی لکھا گیا ہے کیونکہ شعر جو اقبال نے گرامی کو بھیجا ہے وہ اکبر نے 7 نومبر 1911 کو اقبال کو لکھا تھا جسے بعد ازاں اقبال نے گرامی کو لکھا)
8- صفحہ نمبر 88 پر اکبر کا خط مورخہ 17 نومبر 1911ء سطر نمبر 11 کو پڑھیے آپ نے لکھا ہے:
”احباب کے اصرار سے کچھ سوشل لطف اٹھانے کو قصد کے لیے تو ممکن ہے“
اگلے صفحے پر عکس کو ذرا غور سے پڑھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ درست متن یوں ہے:
”احباب کے اصرار سے کچھ سوشل لطف اٹھانے کو قصد کیجیے تو ممکن ہے“
9- صفحہ نمبر 90 پر اکبر کا خط بتاریخ 28 نومبر 1911ء سطر نمبر 8 دیکھیے گا، آپ نے لکھا ہے:
”سردی کی شدت ہو گئی“
اگلے صفحے پر اس خط کا عکس دیکھیے، اکبر کا متن یوں ہے:
”دہلی میں سردی کی شدت ہو گی“
اسی خط کی سطر نمبر 19 پر لکھا ہے کہ
”اثر بتدریج طبیعت پر پڑتا ہے“
صفحہ نمبر 93 پر اس خط کا عکس پہلی سطر دیکھیے، درست یوں ہے کہ:
”اثر بتدریج طبیعت پر پڑتا ہی ہے“
صفحہ نمبر 92 پر سطر نمبر 5 دیکھیے
آپ نے اکبر کے شعر کا مصرع اول نثر میں لکھا ہے اور مصرع ثانی کے متعلق آپ نے صفحہ 449 پر جو حاشیہ لکھا ہے، اکبر کے شعر سے اس کا کوئی تعلق نہیں، مولوی محمد اعظم عرف الف خان صاحب کے شعر سے اکبر کے شعر کا کوئی واسطہ نہیں ہے۔ شائع شدہ متن میں اکبر کے شعر کو شعر کی صورت میں چھپنا چاہیے۔ ایسے:
”آپ کی یاد کو اللہ سلامت رکھے
مجھ پر احسان ہے اس مونس تنہائی کا“
یہ اکبر کی اس غزل کا شعر ہے:
اے جنوں دور ہے فطرت کی خود آرائی کا
دیدنی ہے یہ سماں لالہ صحرائی کا
بڑھتا جاتا ہے اُدھر شوق خود آرائی کا
حوصلہ پست ہے یہاں ضبط و شکیبائی کا
آپ کی یاد کو اللہ سلامت رکھے
مجھ پر احسان ہے اس مونس تنہائی کا٭
سبز باغ آپ مرے اشک رواں کو نہ دکھائیں
موج پر رنگ جمے گا نہ کبھی کائی کا
(ملاحظہ کریں کلیاتِ اکبر حصہ دوئم صفحہ نمبر4، شائع کردہ اسرار کریمی پریس الٰہ آباد ایڈیشن ہشتم 1936ء)
٭اکبر کے اس شعر کے مصرع ثانی ”مجھ پر احسان ہے اس مونس تنہائی کا“ کے ساتھ حاشیے میں مولوی محمد اعظم عرف الف خان صاحب کا یہ مطلع درج کرنے کا کوئی موقع نہیں ہے، نہ اکبر نے مولوی موصوف کا مصرع مستعار لیا ہے۔ اگر اکبر مولوی موصوف کا مصرع مستعار لیتے تو پھر تو ان کے مطلع کا حوالہ مناسب تھا مگر مذکورہ بالا شعر اکبرکا اپنا ہے تو ایسے میں مولوی صاحب کے مطلع کا حوالہ کیونکر دیا جا سکتا ہے؟
مجھ پر احسان ہے میری شب تنہائی کا
لطف ہے ہجر میں وصل بت ہرجائی کا
10- صفحہ نمبر 94 پر اکبر کے خط مورخہ 6 دسمبر 1911ء کی سطر نمبر 6 دیکھیے آپ نے لکھا ہے کہ:
”اس تصنیف نے مشتاق ملاقات کر دیا ہے“
آپ اگلے صفحہ نمبر 95 پر اس خط کا عکس دیکھیے۔ درست متن یوں ہے کہ ”اس تصنیف نے مشتاق ملاقات کر دیا“ لفظ ”ہے“ محض آپ کا اضافہ ہے۔ عکس میں یہ لفظ موجود نہیں۔
11- صفحہ نمبر 98 سطر نمبر 7 دیکھیے آپ نے لکھا ہے کہ:
”ہم کو تو اپنے نفس کا ہلاکت سے بچانا اور …………الخ“
آپ صفحہ نمبر 99 پر اس خط کا عکس ملاحظہ کیجیے سطر نمبر 8 درست یوں ہے کہ:
”ہم کو تو اپنے نفس کو ہلاکت سے بچانا اور ………… الخ“
12- صفحہ نمبر 100 پر آخری دو سطریں ملاحظہ کریں۔ آپ نے لکھا ہے کہ:
”اگر یہ رسالہ مصنف نے بھیجا ہو تو مطلع فرمایئے میں ان کو پھر لکھوں“
صفحہ نمبر 103 پر اس خط کے عکس کی پہلی سطر غور سے دیکھیے درست یوں ہے کہ:
”اگر یہ رسالہ مصنف نے نہ بھیجا ہو تو مطلع فرمایئے میں ان کو پھر لکھوں“
13- صفحہ نمبر 104 پر سطر نمبر 6 دیکھیے، آپ نے لکھا ہے کہ
”مجھ کو نہایت صدمہ ہوتا ہے کہ ایسی طبیعتیں ایسے اظہار پر مجبور ہیں“
لیکن اگلے صفحہ نمبر 105 پر دیکھیے، عکس میں یوں ہے کہ:
”مجھ کو نہایت صدمہ ہوتا ہے کہ ایسی طبیعتیں ایسے احساس پر مجبور ہیں“
14-صفحہ نمبر 111 پر آخری پیراگراف دیکھیے آپ نے لکھا ہے کہ
”خوب یاد آیا ۷ مارچ کے پانیر میں“
آگے صفحہ نمبر 112 پر عکس دیکھیے اکبر کا متن یوں ہے کہ:
”خوب یاد آیا ۷ مارچ ١٩١٢ء کے پانیر میں“
آگے اسی صفحہ نمبر 111 پر اسی مذکورہ بالا جملے سے اگلا جملہ دیکھیے
آپ نے یوں نقل کیا ہے کہ:
”(سبحان) اللہ۔ اکبر کے آپ بڑے قدرشناس ہیں اسی سبب سے میں نے توجہ دلائی“
یہاں قوسین میں (سبحان) آپ کا اضافہ ہے، عکس میں دیکھیے۔ اکبر کامتن یہ ہے:
”اللہ اکبر کے آپ بڑے قدرشناس ہیں اسی سبب سے میں نے توجہ دلائی“ یہاں آپ سہو کا شکار ہوئے ہیں۔
”اللہ اکبر“ نام کے کوئی مجذوب تھے جن کا ذکر اقبال کے خطوط میں بھی ملتا ہے۔ اقبال نے ۲ اکتوبر ١٩١٤ء کو مہاراجہ کشن پرشاد کو لکھا تھا:
”اللہ اکبر کئی دن سے نظر نہیں آئے۔ مرزا صاحب بخیر ہیں“
(ملاحظہ کریں کلیات مکاتیب اقبال، جلد اول مرتب سیّد مظفر حسین برنی، صفحہ نمبر 306۔ شائع کردہ بک کارنر، جہلم، فروری 2016ء)
یوں اللہ اکبر کے نام کے ساتھ آپ کا قوسین میں (سبحان) درج کرنا درست نہیں۔ ایسے تو سبحان اللہ بن جاتا ہے جب کہ اکبر نے تو اقبال کو ”اللہ اکبر“ لکھا ہے نہ کہ سبحان اللہ۔
15- صفحہ نمبر 115 پر آخری پیراگراف کی سطر نمبر 2 اور 3 دیکھیے۔آپ نے لکھا ہے کہ ”لیکن وہی وقت ہے ہاشم امتحان کے لیے طیار ہو رہے ہیں“ آپ آگے صفحہ نمبر 116 پر اسی خط کا عکس دیکھیں۔ درست یوں ہے کہ:
”لیکن وہی دقت ہے ہاشم امتحان کے لیے طیار ہو رہے ہیں“
تحریر کے سیاق و سباق سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں ”دقت“ ہی آئے گا۔ اکبر دہلی جانا چاہتے ہیں مگر انھیں یہ دقت پیش آرہی ہے کہ ہاشم امتحان کی طیاری کر رہے ہیں ان کو ساتھ لے کر جا نہیں سکتے۔
آگے اسی خط کی سطر نمبر 5-6، صفحہ نمبر 117 دیکھیے۔
آپ نے لکھا ہے:
”خیر ابھی صرف 14 سال کی عمر ہے شاید آئندہ دقت پیدا ہو“
آپ اس خط کا عکس صفحہ نمبر 116 پر دیکھیں، نیچے سے اوپر سطر نمبر 2 پڑھیں۔ درست یوں ہے کہ:
”خیر ابھی صرف چودہ سال کی عمر ہے شاید آئندہ ”وسعت“ پیدا ہو“
اور وسعت ہی یہاں درست ہوگا کہ اکبر کہنا چاہتے ہیں کہ شعر کے معنی ہاشم کو سمجھ نہ آئے کیونکہ ابھی وہ چودہ سال کے ہیں، شاید آگے چل کر ان میں ذہنی وسعت پیدا ہو اور وہ بخوبی سمجھ لیں۔
صفحہ نمبر 119 پر اسی خط کی آخری دو سطریں دیکھیں، آپ نے یوں عبارت نقل کی ہے:
”شکر گزاری کے (لیے) میں خود مشتاق ہوں“
لیکن صفحہ نمبر 118 پر عکس میں آخری سطور دیکھیں ذرا غور کرنے پر آپ کو معلوم ہوگا کہ درست یوں ہے کہ:
”شکر گزاری کیجیے میں خود بہت مشتاق ہوں“
آگے اسی خط کی آخری سطر پڑھیے، آپ نے لکھا ہے کہ
”جب موقع ملا تو حاضر ہو جاؤں گا“
آپ عکس کو غور سے پڑھیے آخری سطر، اکبر کا متن یوں ہے:
”جب موقع ملا تو حاضر ہوں گا“
عکس میں واضح طور پر نظر آرہا ہے کہ ”حاضر ہونگا“ نہ کہ ”حاضر ہو جاؤنگا“
16- صفحہ نمبر 125 پر آخری دو سطریں ملاحظہ فرمایئے۔
آپ نے لکھا ہے:
”خواجہ حسن نظامی صاحب کو دہلی میں ایک مولوی صاحب سے تکلیف پہنچی اس سبب سے وہ بھی میوچل مولویوں کے خلاف ہنگامے میں شرکت ضروری سمجھے۔“
آپ صفحہ نمبر 123 پر عکس کو دیکھیے۔ یہ لفظ ”میوچل“ نہیں ہے بلکہ ”میونسپل“ ہے، عکس یہاں سے پھٹا ہوا ہے اور آپ نے قیاساً اس کو ”میوچل“ لکھا ہے لیکن اکبر کا لفظ ”میونسپل“ ہی ہے۔
اکبر نے مذکورہ بالا خط اقبال کو 24 مارچ 1912ء کو لکھا ہے، اس سے اگلے ہی دن یعنی 25 مارچ 1912 ء کو خواجہ حسن نظامی کے نام خط میں بھی یہ لفظ لکھا ہے۔ اکبر لکھتے ہیں:
”میونسپل مولوی اور قومی شحنہ دونوں کو مکرم اور محترم سمجھتا ہوں اور ادب سے سلام کرنے کو تیار ہوں۔“
ملاحظہ کریں:
(خطوط اکبر بنام خواجہ حسن نظامی، صفحہ نمبر 8، تیسرا ایڈیشن اپریل 1953ء،نئی دہلی)
17- صفحہ نمبر 127 پر جہاں قرآنی آیات درج ہیں اور آپ نے یہاں 137 نمبر حاشیہ لکھا ہے۔
اگلے صفحہ نمبر 128 پر دیکھیے اسی خط کے عکس میں آپ کو واضح طور پر نظر آئے گا کہ جہاں آیت ختم ہو رہی ہے، اکبر نے وہاں قوسین میں سورہ کا نام اور رکوع نمبر درج کیا ہے مگر مطبوعہ متن میں سورہ کا نام اور رکوع نمبر آپ نے درج نہیں کیا۔
(سورہ اعراف، رکوع نمبر 22)
18- صفحہ نمبر 143 پر سطر نمبر 4 دیکھیے۔ اکبر لکھتے ہیں۔
”لنگڑوں کے لاہور تک پہنچنے کا مضمون آپ نے خوب موزوں فرمایا“
اس کے حاشیہ 160 میں صفحہ نمبر 463 پر آپ نے اقبال کا یہ شعر لکھا:
کرشمہ ہے اعجاز مسیحائی کا اے اکبر
الہ آباد سے لنگڑا چلا لاہور آ پہنچا
حوالے میں آپ نے لکھا ہے روزگار فقیر جلد اول صفحہ نمبر 51
لیکن حقیقت میں اقبال کا یہ شعر ویسے نہیں ہے جیسے روزگار فقیر میں ہے۔ اقبال نے خود 27 جون 1917ء کو خان محمد نیاز الدین خان کو اس امر کی اطلاع دیتے ہوئے لکھا تھا:
”مولانا اکبر نے مجھے لنگڑا آم بھیجا تھا میں نے پارسل کی رسید اس طرح لکھی:
اثر یہ تیرے اعجاز مسیحائی کا ہے اکبر
الہ آباد سے لنگڑا چلا، لاہور تک پہنچا“
ملاحظہ کریں:
(کلیات مکاتیب اقبال، جلد اول، صفحہ نمبر 612، مرتب سیّد مظفر حسین برنی، شائع کردہ بک کارنر جہلم فروری 2016ء)
19- صفحہ نمبر 147 پر سطر نمبر 7 دیکھیے ”اکبر کہتے ہیں:
”آپ نے اور حضرات میں شوق خریداری کلیات پیدا کیا“
آپ نے حاشیہ نمبر 166 صفحہ نمبر 464 پر اس کے متعلق لکھا ہے:
”کلیاتِ اکبر کی جلد اول پہلی بار 1909ء میں شائع ہوئی“
آپ ذرا غور کیجیے کہ اکبر کا یہ خط 18 ستمبر 1912ء کا ہے جب کہ 1912ء میں کلیاتِ اکبر جلد دوم شائع ہوئی تھی سو اس خط میں کلیاتِ اکبر جلد دوم ہی کا ذکر ہے لہٰذا حاشیہ میں کلیاتِ اکبر جلد اول 1909ء کا تذکرہ کیونکر ہو سکتا ہے؟ خود اکبر کے اگلے خط 8 اکتوبر 1912ء سے بھی تائید ہوتی ہے کہ یہ جلد دوم کا ذکر ہے اکبر نے لکھا ہے کہ
”حصہ دوم کی ایک کاپی ارسال خدمت کرتا ہوں“
20- صفحہ نمبر 153 پر سطر نمبر 9 دیکھیے۔ آپ نے لکھا ہے کہ:
”پچھلے دنوں ووٹ طلبیوں نے بہت تنگ کیا“۔
پچھلے صفحے پر نیچے سے اوپر سطر نمبر 2 دیکھیے۔ درست متن یوں ہے کہ:
”پچھلے دنوں ووٹ طلبوں نے بہت تنگ کیا“
آگے چل کر سطر نمبر 14 دیکھیے، آپ نے لکھا ہے کہ:
”شاعرانہ خیالات یا خیالات یا جو کچھ ان کا نام رکھیے“
اگلے صفحہ نمبر 154 پر دیکھیے عکس کی سطر نمبر 4 درست یوں ہے کہ:
”شاعرانہ خیالات یا جو کچھ ان کا نام رکھیے“
21- صفحہ نمبر 156 پر اکبر کا خط نمبر 33 ہے جس پر آپ نے کوئی تاریخ نہیں لکھی، فہرست میں آپ نے قوسین میں (جون 1913ء) لکھا ہے۔ آپ سے قبل محمد راشد شیخ صاحب یہی غلطی کر گئے، انھوں نے بھی اس خط کو جون 1913ء کا قرار دیا مگر اکبر کے اپنے بیانات سے اس خط کی تاریخ ”28 اکتوبر 1913ء“ معلوم ہوتی ہے۔ دلائل ملاحظہ کریں۔
اکبر نے اشعار مشمولہ خط ہذا سیّد افتخار حسین کو 28 اکتوبر کو لکھے تھے ساتھ ہی لکھتے ہیں:
”دو تین دن ہوئے بے ساختہ یہ اشعار ذہن میں آئے“
یہاں اقبال کو بھی لکھ رہے ہیں کہ:
”تین دن ہوئے بے ساختہ یہ اشعار ذہن میں آئے“
اس سے پتا چلتا ہے کہ:
اکبر نے اقبال اور سیّد افتخار حسین کو ایک ہی دن خط لکھے، سیّد افتخار حسین کو لکھے گئے خط کی تاریخ 28 اکتوبر 1913ء ہے لہٰذا اقبال کے نام بھی یہ خط 28 اکتوبر 1913 کو ہی لکھا گیا ہے۔ اکبر نے 25 اکتوبر 1913ء کو عزیز لکھنوی کو بھی یہ اشعار لکھے تھے اور ساتھ ہی لکھا تھا کہ:
”رات بے ساختہ یہ اشعار ذہن میں آئے“
یوں اب اکبر کے اپنے بیانات سے واضح ہوا کہ:
25 اکتوبر 1913ء کو یہ اشعار لکھے گئے اور 25 اکتوبر 1913ء کو ہی عزیز لکھنوی کو خط میں لکھے گئے۔
تین دن بعد یہ اشعار اقبال اور سیّد افتخار حسین کو بھیجے گئے۔ افتخار حسین کے نام خط پر اکبر نے تاریخ 28 اکتوبر 1913ء لکھی مگر اقبال کے نام تاریخ لکھنا بھول گئے۔
سو اس خط کی تاریخ 28 اکتوبر 1913ء ہی ٹھہرتی ہے
22- صفحہ نمبر 164 پر نیچے سے اوپر سطر نمبر 2 دیکھیے:
”جونپور میں، مَیں نے آپ کا شعر عشرت سلمہٰ کے سامنے پڑھا“
آپ اگلے صفحے پر عکس کو دیکھیے درست یوں ہے کہ:
”آپ کا یہ شعر عشرت سلمہٰ کے سامنے پڑھا“
23- صفحہ نمبر 176 پر نیچے سے اوپر سطر نمبر 6 دیکھیے:
”یہی پیری مریدی والے کچھ لٹرپٹر کر رہے ہیں“
آپ عکس کو غور سے دیکھیے، صفحہ نمبر 177 پر درست یوں ہے کہ:
”یہی پیری مریدی والے کچھ سٹرپٹر کر رہے ہیں“
یہ لفظ ”سٹر پٹر“ ہے۔ اکبر نے عزیز لکھنوی کے نام بھی یہ لکھا ہے بتاریخ 6 اگست 1911ء
”میں اپنے آپ کو زمرہ شعرا میں نہیں سمجھتا۔ سٹرپٹر موزوں کر لینے کا نام شاعری نہیں ہے“
24- صفحہ نمبر 193 پر خط کے شروع میں لکھا ہے:
”پریادان“ یہ ”پریاواں“ ہے جہاں اکبر کے بیٹے سیّد عشرت کے سسر رہتے تھے۔
اس خط کا دوسرا پیراگراف اسی صفحہ نمبر 193 پر سطر نمبر 3-4 دیکھیے۔
آپ نے اکبر کا شعر نثر میں لکھا ہے اور مصرع اول میں غلطی بھی ہے۔ نقل نویس نے بھی یہی غلطی کی اور آپ نے درست کرنے کے بجائے اس کو برقرار رکھا ہے۔ آپ نے یوں لکھا ہے:
”دنیا کی طوالت بے حد ہے، خلقت کا تو بسنا قصہ ہے، ہر شخص فقط یہ غور کرے اس کل میں مرا کیا حصہ ہے“
نقل نویس نے اکبر کی املا یعنی (لمبا) کو لنبا لکھا ہے جس کو آپ نے ”بسنا“ کر دیا ہے درست یوں ہے کہ:
دنیا کی طوالت بے حد ہے، خلقت کا تو لمبا قصہ ہے
ہر شخص فقط یہ غور کرے، اس کل میں مرا کیا حصہ ہے
25- صفحہ نمبر 195 پر خط نمبر 47 دیکھیے۔
اس خط کی تاریخ ”10 اگست 1916ء“ ہرگز نہیں ہو سکتی آپ نے نقل نویس چودھری محمد حسین صاحب پر اعتماد کرتے ہوئے عکس کے مطابق 10 اگست 1916ء تاریخ لکھی ہے مگر افسوس کہ یہ غلط ہے، درست تاریخ 10 اگست 1918ء ہے۔
دلائل ملاحظہ کریں
اکبر اس خط میں اقبال کو لکھتے ہیں:
”میں یہ سن کر کہ آپ اپنے والد ماجد صاحب قبلہ کے حضور میں حاضر رہنے کو سیالکوٹ جاتے ہیں، خوش ہو جاتا ہوں۔ اس سے زیادہ کوئی نعمت آپ کے لیے نہیں ہے۔ اللہ قائم رکھے۔ ہزار کتب خانہ ایک طرف اور ان کی ایک بات اور نگاہ شفقت ایک طرف.“
یہ خط جو 10 اگست 1918ء کو حقیقت میں لکھا گیا۔ لاہور سے ہوتا ہوا سیالکوٹ پہنچا۔ اقبال اپنے والد صاحب سے ملنے سیالکوٹ گئے ہوئے تھے۔ اقبال نے سیالکوٹ سے 13 اگست 1918ء کو اس کا جواب لکھا۔ اقبال لکھتے ہیں:
”والانامہ لاہور سے ہوتا ہوا ملا الحمدللہ کہ جناب کا مزاج بخیر ہے واقعی آپ نے سچ فرمایا کہ ہزار کتب خانہ ایک طرف اور باپ کی نگاہ شفقت ایک طرف“
اب سوال یہ ہے کہ اگر آپ کے مطابق اکبر کے خط کی تاریخ 10 اگست 1916ء تسلیم کی جائے تو پھر اقبال 10 اگست 1916ء کے خط کا جواب 13 اگست 1918 کو کیوں لکھ رہے ہیں؟
دوسری بات یہ ہے کہ اس خط کی تاریخ 10 اگست 1916 کیسے ہو سکتی ہے؟ جب کہ:
اس خط میں اکبر کی نظموں پر ”تہذیب نسواں“ کے اعتراضات کا ذکر ہے۔ جب کہ یہ اعتراضات اگست 1918ء میں ہوئے تھے۔ اقبال نے اپنے اسی خط (بتاریخ 13 اگست 1918ء) میں اکبر کو لکھا ہے:
”تہذیب نسواں یا صحیح معنوں میں ”تخریب نسواں“ نے اگر کچھ لکھا ہے تو اس کا بہترین جواب خاموشی ہے، تردید کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ پرچہ قدیم اسلامی شعار کو بہ نگاہِ حقارت دیکھتا ہے گو ابھی صاف لکھنے کی جرات نہیں کر سکتا“
آپ اکبر کے اس خط کو (جس کی تاریخ آپ نے چودھری محمد حسین صاحب کے دست نوشتہ عکس کے مطابق 10 اگست 1916ء لکھی ہے) سامنے رکھیں اور پھر اقبال کے خط بنام اکبر بتاریخ 13 اگست 1918 کو بھی سامنے رکھیں۔ پہلے اکبر کا خط پڑھیں پھر اقبال کا خط پڑھیں۔ روز روشن کی طرح آپ پر واضح ہو جائے گا کہ اس خط کی تاریخ 10 اگست 1916ء ہرگز نہیں بلکہ 10 اگست 1918ء ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ اکبر کا دست نوشتہ خط پڑھنا ایک مشکل امر ہے سو چودھری محمد حسین نقل کرتے وقت سہو کا شکار ہوئے اور یوں تاریخ غلط لکھ دی ویسے بھی چودھری صاحب ابن آدم ہی تھے کوئی کراماً کاتبین تو تھے نہیں کہ غلطی نہ کی ہو آپ اکبر اور اقبال کے مذکورہ بالا دونوں خط سامنے رکھیں پہلے اکبر کا خط پڑھیے پھر اقبال کا تو ساری حقیقت آپ پر واضح ہو جائے گی کہ اکبر کے اس خط کی تاریخ 10 اگست 1918ء ہی درست ہے۔
اور ایک بات یہ بھی پیش نظر رکھیے کہ اکبر نے جب اقبال کو والد صاحب کی خدمت میں حاضر ہونے پر سراہا تھا، جواب میں اقبال نے (13 اگست 1918ء) کو اپنے والد صاحب کا ایک قول نقل کیا تھا کہ ”معلوم نہیں بندہ اپنے رب سے کب کا بچھڑا ہوا ہے“
اکبر نے اس کا جواب 19 اگست 1918ء کو دیا اور لکھتے ہیں:
”آپ کے جناب والد صاحب کی بات یاد آتی ہے بندہ معلوم نہیں کب سے اپنے خالق سے بچھڑا ہے۔“
اب اگر اکبر کے اس خط کی تاریخ (جس میں اقبال کو والد سے ملنے پر سراہا ہے) 10 اگست 1916ء آپ کے مطابق تسلیم کر لی جائے تو پھر اقبال اس خط کا جواب 13 اگست 1918ء کو یعنی دو سال بعد کیسے اور کیوں لکھ سکتے ہیں۔ مختصر یہ کہ آپ سب سے پہلے اکبر کا خط 10 اگست 1916ء (حقیقت میں 10 اگست 1918ء) پڑھیے پھر اقبال کا خط 13 اگست 1918ء پڑھیے پھر اکبر کا خط 19 اگست 1918ء پڑھیے۔ یہ تینوں خط ترتیب وار پڑھنے پر آپ اس نتیجے پر پہنچ جائیں گے کہ اس خط کی تاریخ 10اگست 1918ء ہی درست ٹھہرتی ہے۔
26- صفحہ نمبر 238 پر اکبر کا خط نمبر 65 دیکھیے۔ اس خط کی تاریخ 29 جولائی 1917ء لکھی اور اس میں اکبر نے اقبال کو راجہ غلام حسین صاحب کے انتقال کی خبر دی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ راجہ غلام حسین نے 25 اگست 1917ء کو وفات پائی تھی۔ پھر اس خط کی تاریخ 29 جولائی 1917ء کیسے ہو سکتی ہے؟ یہاں بھی چودھری محمد حسین صاحب نے نقل کرتے وقت غلطی کی اور آپ نے ان کے تیار کردہ متن (یعنی نقل کردہ متن) پر اعتبار کرتے ہوئے یہی تاریخ لکھی ہے۔ کاش آپ غور کرتے کہ راجہ غلام حسین کی تاریخ وفات کیا ہے؟ اکبر نے 28 اگست 1917ء کو عبدالماجد دریابادی کو راجہ غلام حسین کے انتقال کی اطلاع دیتے ہوئے لکھا تھا:
”راجہ غلام حسین صاحب کا انتقال عبرت انگیز ہے، وہ مجھ سے بھی ملے تھے لیکن بھول جانے میں دنیا کو دیر نہ لگے گی، کیا راز ہستی ہے خدا غور کرنے کی فرصت دے“
سو اس خط کی درست تاریخ 29 اگست 1917ء بنتی ہے نہ کہ 29 جولائی 1917ء
27- صفحہ نمبر 271 پر خط نمبر 77 دیکھیے:
اس میں معروف اخبار ”روزنامہ ہمدم“ کا ذکر ہے،
آپ نے آگے صفحہ نمبر 489 پر حاشیہ نمبر 375 کے تحت ”ہمدم“ کے حوالے سے لکھا ہے کہ ”ہمدم 1912ء میں جاری ہوا“
آپ نے ڈاکٹر عبدالسلام خورشید کی کتاب ”صحافت پاکستان و ہند میں“ کا حوالہ دیا ہے مگر اب آپ حقیقت جانیے۔ ہمدم 1912ء میں کیسے جاری ہو سکتا ہے؟
اکبر نے 15 ستمبر 1916ء کو خواجہ حسن نظامی کو لکھا تھا:
”لکھنو کے لیڈر ایک اخبار نکالنا چاہتے ہیں۔ اس کا نام ”ہمدم“ ہوگا اور جالب صاحب دہلوی ایڈیٹر ہوں گے۔ مسٹر شاہد حسین شریک غالب ہیں“
اب آپ ہی فرمایئے ہمدم کے اجرا کا منصوبہ ستمبر 1916ء میں بنا تھا تو پھر آپ کے بقول ہمدم 1912ء میں کیسے جاری ہو سکتا ہے؟درحقیقت ”ہمدم“یکم اکتوبر 1916ء کو لکھنو سے جاری ہوا۔
28- صفحہ نمبر 321 پر اکبر کی ایک نظم درج ہے جو کہ یوں ہے:
”جناب اقبال نے جو پوچھا یہ کیوں ہے تعلیم بے خودی کی
کہا کسی نے جناب والا سبب جو اس کا ہے مجھ سے سنیے
خودی کو اتنا بڑھا دیا تھا کہ بعض صاحب خدا بنے تھے“
آپ نے آگے صفحہ نمبر 500 پر حاشیہ نمبر 452-453 کے تحت لکھا ہے کہ یہ اشعار کلیات میں نہیں ملے۔ قبلہ یہ درست نہیں ہے، یہ اشعار کلیاتِ اکبر حصہ چہارم میں موجود ہیں، تھوڑی ترمیم کے ساتھ۔
”جناب اقبال نے یہ پوچھا کہ بے خودی کی یہ مشق کیسی
کہا کسی نے حضور والا سبب جو اس کا ہے مجھ سے سنیے
خودی کو اتنا بڑھا دیا تھا کہ بعض صاحب خدا بنے تھے“
(ملاحظہ کریں کلیاتِ اکبر حصہ چہارم، صفحہ نمبر 130، مرتب سیّد محمد مسلم رضوی، شائع کردہ اردو اکیڈمی سندھ کراچی 1987ء)
29- صفحہ نمبر 327 پر اکبر کے جو تین شعر درج ہیں، وہاں دوسرے شعر کا مصرع اول یوں لکھا ہے کہ:
”قیل و قال انجمن دہر کی چھوڑے اکبر“
لیکن درست یوں ہے، آپ اگلے صفحے پر عکس ملاحظہ کیجیے۔
قیل و قال انجمن دہر کی چھوڑ اے اکبر
(نوٹ: یہ مصرع آپ نے آگے صفحہ نمبر 534 پر بھی غلط ہی لکھا ہے)
30- صفحہ نمبر 333 پر خط نمبر 99 دوسری سطر دیکھیے:
”آپ بہت بے ربط Inconsistent ہیں“
لفظ ”بے ربط“ حاشیے میں درج ہے۔ اکبر کا متن یوں ہوگا ”آپ بہت Inconsistent ہیں“
عکس ملاحظہ کیجیے۔
31- صفحہ نمبر 347 خط نمبر 104 سطر نمبر 5 دیکھیے:
”زبان کے ساتھ تلفظ کی تلفظ کی زندہ موجیں ہوتی ہیں“
آگے عکس میں بھی نشان زدہ لفظ(تلفظ) دوبار لکھا گیا ہے۔ یہ نقل نویس کی غلطی ہے۔ آپ اس کو نہ دہراتے تو مناسب تھا اور درست یوں ہوتا کہ:
”زبان کے ساتھ تلفظ کی زندہ موجیں ہوتی ہیں“
32- صفحہ نمبر 391 پر سطر نمبر 2 دیکھیے۔ آپ نے لکھا ہے کہ:
”بڑی رحمتوں سے میں 11 نومبر کو دہلی پہنچا“
اگلے صفحہ نمبر 392 پر عکس دیکھیے، درست یوں ہے کہ:
”بڑی زحمتوں سے میں 11 نومبر کو دہلی پہنچا“
33- صفحہ نمبر 443 پر حاشیہ نمبر 36 دیکھیے
آپ نے ایڈیٹر مخزن سر شیخ عبدالقادر کے تعارف میں لکھا ہے:
”مخزن میں میر غلام بھیک نیرنگ نے اکبر کے لیے خطاب ”لسان العصر“ تجویز کیا جسے مخزن نے رواج دیا یہ 1920ء کا واقعہ ہے۔“
اب حقیقت جانیے:
خطاب میر نیرنگ ہی نے دیا تھا اور مخزن نے رواج دیا تھا مگر ”لسان العصر“ کا خطاب اکبر کو 1920ء سے بہت پہلے مل چکا تھا۔ آپ نے اکبر کے اس خط سے یہ نتیجہ اخذ کیا جو انھوں نے 25 نومبر 1920ء کو سر عبدالقادر کو لکھا تھا، اکبر کے الفاظ یہ ہیں:
”خطاب مل چکا تھا۔ خلعت بھی ملا“
اس خط کے پس منظر سے بھی آپ کو آگاہ ہونا چاہیے تھا اکبر نے سر عبدالقادر سے ایک گلو بند خرید کر بھیجنے کی فرمائش کی تھی۔ جب وہ گلوبند پہنچا تو اکبر نے اسے ”خلعت“ قرار دے کر شکرگزاری کا خط لکھا تھا۔
اس سے آپ یہ نتیجہ نہیں نکال سکتے کہ خطاب وغیرہ کا ملنا 1920ء کا واقعہ ہے۔
اب دیکھیے 1920ء سے پہلے ہی اکبر کو ”لسان العصر“ کہا جاتا تھا اکبر نے 3 فروری 1912ء کو مرزا سلطان احمد کو لکھا:
”آپ بہت قدر افزائی فرماتے ہیں ورنہ لسان العصر کے معنی کیا ہیں؟“
29 فروری 1912ء کو خواجہ حسن نظامی کو لکھا:
”میر نیرنگ صاحب کو بھی مبارک باد دوں گا، خطاب ”لسان العصر“ تو انھیں کا عطا کیا ہوا ہے۔ اللہ ان کو فرید عصر کرے۔“
16 اکتوبر 1912ء کو عزیز لکھنوی کو لکھا:
”زمیندار نے ایک پرچے میں اس عنوان سے ”لسان العصر کے 30 نشتر“
بہت سے شعر چھاپے“
اب آپ فرمایئے کہ خطاب ملنے کا واقعہ 1920ء میں کیسے ہو سکتا ہے؟
34- صفحہ نمبر 467 پر حاشیہ نمبر 187 کی سطر نمبر 2 پر آپ نے لکھا ہے کہ
”لیجسلیٹر کونسل یوپی کے رکن“
یہ ”لیجسلیٹر“ ہے یا میرے خیال میں ”لیجسلیٹو کونسل“ ہے
35- صفحہ نمبر 479 پر حاشیہ نمبر 285 دیکھیے۔ آ پ نے لکھا ہے کہ ”غالباً بھوپت کے پرنس حمید اللہ خان“ لیکن درست ”بھوپال“ ہے نہ کہ بھوپت
36- صفحہ نمبر 512 پر حاشیہ نمبر 538 کی آخری سطر دیکھیں:
”محمد رحیم دہلوی نے کرتب کر کے مکتبہ رضویہ کراچی سے شائع کیا“
یہاں آپ نے ”مرتب“ کو کرتب لکھ دیا ہے۔
37- صفحہ نمبر 514 پر حاشیہ نمبر 554 یہاں پر دوسرے شعر کا مصرع اول دیکھیے آپ نے یوں لکھا ہے کہ:
”عقل کو تنقیدے فرصت نہیں“
درست یوں ہوگا کہ
”عقل کو تنقید سے فرصت نہیں“
38- صفحہ نمبر 515 پر پہلی سطر دیکھیے:
”ایک ادبی رسالہ ”شہاب اردو“ جاری کیا“
درست نام ”شباب اردو“ ہے نہ کہ شہاب اردو۔
39- صفحہ نمبر 516 پر حاشیہ نمبر 564 کی آخری سطر دیکھیں:
”افضل حق قرشی کے حواشی ساتھ اسے شائع کر دیا ہے“
یہاں درست یوں ہے کہ حواشی (کے) ساتھ۔ لفظ’’کے“ آپ سے چھوٹ گیا ہے۔
40- صفحہ نمبر 548 پر سطر نمبر 2 پر
خان نیازالدین خان کا نام یوں لکھا ہے کہ
خان نیاز لدین خان
یہاں ”ا“ آپ سے چھوٹ گیا۔
جی تو قبلہ یہ تھی اُن اغلاط کی تفصیل جو میری ناقص سمجھ میں آئیں۔ کاش یہ کتاب شائع ہونے سے پہلے میری نظر سے گزرتی تو میں نظرثانی کر دیتا۔ اس تحریر سے یہ مطلب ہرگز اخذ نہ کیجیے کہ میں کچھ آپ کو سیکھا رہا ہوں یا آپ سے زیادہ اہل علم ہوں۔ میں تو کلام اکبر کا ایک ادنی قاری ہوں۔ ہاں اکبر کے دست نوشتہ متن گذشتہ 14-15 سال سے میرے زیر مطالعہ رہتے ہیں، سو میں ان کو پڑھ لیتا ہوں، اکبر سے محبت ہے لہٰذا کہیں بھی ان کے متعلق غلط لکھا ہوا نظر سے گزرتا ہے تو روحانی اور قلبی طور پر بہت تکلیف ہوتی ہے اس لیے فوراً قلم اٹھا لیتا ہوں۔
اگر میری تحریر آپ کو ناگوار گزرے تو درگزر کرنے کی درخواست ہے۔ امید کہ آپ آئندہ ایڈیشن کو پہلے سے بھی بہتر طور پر پیش کریں گے۔
سنا تھا کہ آپ ایران جا رہے ہیں۔ کب تک روانگی متوقع ہے؟ اللہ پاک خیریت سے لے جائے اور اپنے حفظ و امان میں رکھے، آمین۔ آپ اور آپ کے اہل خانہ کے لیے دعا گو ہوں۔
والسلام، مخلص
نزابت افشال
17 اگست 2024ء
***
آپ یہ بھی پڑھ سکتے ہیں : کتاب: مظفر کے نام (کچھ ادبی خطوط) جلد اول و دوم، نام کتاب : نامہ جو میرے نام آئے(خطوط کا مجموعہ)

شیئر کیجیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے