محمد علی صدیقی
پروفیسر غضنفر علی صاحب کا بیش بہا ادبی تحفہ "آبیاژہ" کچھ دنوں قبل موصول ہوا۔ یہ آپ کے نو ناولوں کا مجموعہ ہے جسے ڈاکٹر رمیشا قمر صاحبہ نے ترتیب دیا ہے۔
عصر حاضر میں پروفیسر غضنفر علی صاحب کو دنیاے ادب کا آفتاب کہا جا سکتا ہے۔ ایک ایسا آفتاب جس کی ضیا ادب کی ہر صنف کو منور کر رہی ہے۔ غزل ہو یا نظم، مضامین ہوں یا مقالے، خاکے ہوں یا خود نوشت، افسانہ ہو یا ناول، تنقید، ڈراما غرض یہ کہ ہر صنف میں آپ کا منفرد انداز نمایاں نظر آتا ہے۔
زیرِ نظر مجموعے کا یہ نام ” آبیاژہ" بھی آپ کی انفرادی شان کا غماز ہے۔ ایک ملاقات کے دوران آپ نے بتایا کہ یہ لفظ "آبیاژہ" آپ ہی کی اختراع ہے۔ بے معنی سے نظر آنے والے اس لفظ کا مطلب کیا ہے اس کے بارے میں کتاب کی مرتب ڈاکٹر رمیشا قمر صاحبہ فرماتی ہیں:
"آبیاژہ۔۔ پہلی بار غضنفر کے ناول "پانی" میں پڑھا تو میں چونک اٹھی۔ معنی نہ جاننے کے باوجود یہ لفظ مجھے بہت اچھا لگا اور اس لفظ کا مفہوم سمجھنے کے لیے میں ناول پانی میں کھو گئی۔کتاب کے آخری کنارے تک پہنچتے پہنچتے یہ بے معنی لگنے والا لفظ پوری طرح با معنی ہو گیا۔ اس میں بہت سے حقائق جھلملا اتھے اس لیے یہ استعارہ بھی بن گیا۔"
ناولوں کے اس مجموعے کا نام "آبیاژہ" کیوں رکھا گیا اس کے متعلق ڈاکٹر رمیشا قمر یوں رقم طراز ہیں:
"مجھے غضنفر کے ناولوں کو یکجا کرنے کا خیال آیا تو ایک عنوان کی بھی تلاش شروع ہوئی۔ کئی نام ذہن میں آئے مگر کسی نہ کسی وجہ سے رد ہوتے چلے گئے کہ اچانک آبیاژہ چمک گیا اور ایسا چمکا کہ اس کتاب یعنی غضنفر کے ناولوں کے کلیات کا سرنامہ بن گیا۔"
ناولوں کا یہ مجموعہ اسم با مسمیٰ ہے۔ آپ پڑھتے چلے جائیں گے اور آپ کے ذہن میں ایک جہان روشن ہوتا چلا جائے گا۔ اس مجموعے میں شامل پروفیسر غضنفر علی صاحب کے نو ناولوں کے نام کچھ اس طرح ہیں۔
1۔ پانی 2۔ کینچلی 3۔ کہانی انکل 4۔ ِدوّیہ بانی 5۔ فسوں 6۔ وِِش منتھن 7۔ مم 8۔ شوراب اور 9۔ مانجھی
پروفیسر غضنفر علی صاحب کے مطابق:
"ایک اچھا تخلیق کار وہ ہوتا ہے جو تفصیل اور اختصار دونوں کے فن سے اچھی طرح واقف ہو، دونوں پر پوری طرح قادر ہو۔ اس کے علاوہ اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ عام زبان اور تخلیقی زبان کا فرق سمجھتا ہو اور دونوں طرح کی زبان لکھنے کا اسے ہنر بھی آتا ہو۔"
یہ خوبی آپ کی ہر نثری تحریر میں نظر آتی ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ ان کا یہ قول ان کے کسی شائع شدہ مضمون میں یا ان کی کسی کتاب میں شامل ہے یا نہیں۔ میں نے تو اسے ایک واٹس ایپ گروپ میں پایا ہے۔ میری خوش قسمتی ہے کہ کچھ واٹس ایپ گروپ ایسے بھی ہیں جن میں، میں ان کے ساتھ ہوں۔ جب بھی پروفیسر غضنفر علی صاحب کسی تخلیق پر تبصرہ کرتے ہیں، وہ تبصرہ اپنے آپ میں ایک بہترین سبق ہوتا ہے۔ پروفیسر محترم کے ایسے کئی تبصرے میرے پاس محفوظ ہیں۔ درجِ بالا اقتباس میں نے ایسے ہی ایک تبصرے سے کوٹ کیا ہے۔
ان تبصروں کی بدولت تو میں آپ سے متاثر تھا ہی، ایک بار جب کلکتے میں مغربی بنگال اردو اکیڈمی کی جانب سے منعقد کردہ ایک ورک شاپ برائے تخلیقی ادب (مختصر افسانہ) کے دوران آپ سے ملاقات ہوئی تو آپ کی گفتگو سے اور زیادہ متاثر ہو گیا۔ پروفیسر موصوف جب بھی منہ کھولتے ایسا معلوم ہوتا جیسے علم کا دریا بہہ رہا ہو۔ کوئی شور نہیں۔ کوئی ہنگامہ نہیں۔ بس گہرے خاموش سمندر کی طرح رواں۔ بولنے کا انداز ایسا کہ سننے والا منہ سے نکلنے والے ایک ایک لفظ کا انتظار کرے۔ جیسی تحریر ویسی ہی تقریر۔ یہاں تقریر کا لفظ میں نے تحریر کی مناسبت سے لکھا ہے ورنہ آپ کی باتیں تقریر نہیں گفتگو ہوتی ہیں۔ ایسی گفتگو جسے کچھ کہے بغیر صرف سننے کا دل چاہے۔
پروفیسر غضنفر علی کے یہ نو ناول دنیاے ادب کے خزانے میں نو رتن سے کم نہیں۔ ان ناولوں کے موضوعات ایک دوسرے سے بالکل جدا ہیں لیکن ان میں ایک یکسانیت بھی پائی جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر ناول ایک احتجاج ہے۔
ان ناولوں میں پروفیسر غضنفر علی صاحب کا تجرباتی رجحان بھی نمایاں نظر آتا ہے۔ آپ بنی بنائی ڈگر پر چلنا پسند نہیں کرتے۔ کہیں کہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے نثر میں شاعری کر رہے ہوں۔ ایجاز و اختصار، فنکارانہ سیاسی شعور، اسلوب کی رنگا رنگی آپ کے ناولوں کے خاصے ہیں۔ کرداروں اور موقع محل کی مناسبت سے دیگر زبانوں کے الفاظ کے استعمال کو بھی آپ برا نہیں سمجھتے۔ انھیں پڑھ کر ایسا لگتا ہے جیسے دیگر زبانوں کے الفاظ کا استعمال صورت حال کا تقاضہ بھی ہے۔
یوں تو ہر ناول پروفیسر غضنفر علی کی رنگا رنگ تخلیقی خوبیوں سے بھرا پڑا ہے لیکن یہاں دل چسپی کے لیے کچھ اقباسات حاضر ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ چند اقتباس آپ کے اندر تمام ناولیں پڑھنے کی چاہت پیدا کر دیں گے۔
"شہد آمیز سخنِ شیریں بے نظیر کی سماعت میں گھلنے لگا۔ سامنے ایک پری پیکر، گلِ اندام، غزال چشم، رشک چمن، معنبرِ مشکِ ختن، لباسِ مرصع سے مزین، دوشیزۂ دل نواز، ناز و انداز کے ساتھ کھڑی درافشانی میں مشغول تھی۔ نظر سے نظر ملی، پیروں میں حرکت ہوئی، پائل جھنک اٹھی، وہ پیکرِ جمال، مجسمۂ بے مثال، خراماں خراماں چلتی، پازیب کی نقرئی جھنکار سناتی، شاخ گل کی طرح لچکتی، خوشبو بکھیرتی، فضا کو معطر کرتی اور ماحول کو مترنم بناتی ہوئی بے نظیر کے قریب آ گئی۔" (ناول: پانی)
"چھوٹے بچوں کی آنکھیں بھی کھل گئیں، ان کے دیدوں میں انگارے بھر گئے، نگاہیں شرر بار ہو گئیں، تیوریاں چڑھ گئیں، بھنویں تن گئیں، مٹھیاں بھنچ گئیں، خون کھول اٹھا، رگیں ہھولنے لگیں."(ناول: کہانی انکل)
"غارِ حرا کا دہانہ کھلا، ایک اُمّی کا سینہ علم و عرفان سے بھر گیا، سینے سے روشنی پھوٹی، جہالت کی دھند چھٹی، ظلمات منور ہو گئیں، صحرا سرسبز و شاداب ہو گئے، خارزاروں میں پھول کھل اٹھے، بادِ صرصر بادِ بہار بن گئی، بادِ سموم بادِ صبا میں تبدیل ہو گئی، ریگستان چمنستان کی طرح مہک اٹھا" (ناول: مم)
"ستّا کے نیچے کے ناخنوں کا گاڑھا رنگ ایسا جھمکا کہ مندر، مٹھ اور منبر و محراب بھی اس کی جانب جھک گئے۔ مٹھوں کے مہنت، آشرموں کے سوامی، مدرسوں کے ملّا اور درگاہوں کے پیر فقیر بھی اس کے حلقے میں آ کر چلّہ کھینچنے لگے، پاور کے کچھ اور ٹاور کھڑے ہو گئے."(ناول: مانجھی)
ایسی ہی تخلیقی زبان سے ہر ناول بھرا پڑا ہے جو پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس سے نہ صرف پروفیسر غضنفر علی صاحب کی تخلیقی صلاحیتوں کا پتا چلتا ہے بلکہ ان کی شاعرانہ نثر، نثری ایجاز و اختصار اور فن کارانہ سیاسی شعور کا بھی بہ خوبی اندازہ ہوتا ہے۔
ناولوں کا یہ مجموعہ خوب صورت سرورق اور عمدہ طباعت کے ساتھ 904 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس مجموعے کے ہر ناول پر الگ الگ تبصرہ کرنا ممکن نہیں۔ کتاب تخلیقی ادب کے شیدائیوں اور طلبہ دونوں کے لیے یکساں مفید ہے اور پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔
***
آپ یہ بھی پڑھ سکتے ہیں :غضنفرکی خودنوشت ’دیکھ لی دنیا ہم نے‘ : اجتماعی زندگی کاعجائب گھر
آبیاژہ: دنیاے ادب کے نو رتن
شیئر کیجیے