انجینئر محمد عادل فراز
رابطہ: 8273672110
ڈاکٹر محمد مظاہر الحق عصر حاضر کے ایک ممتاز قلم کار ہیں۔ وہ دبستان عظیم آبا کی اردو تنقید کے ان چند سنجیدہ اور مستقل مزاج نقادوں میں سے ہیں جو چار دہائیوں سے مسلسل لکھ رہے ہیں، مگر شور و غل سے دور رہتے ہیں۔ ”ہمارے تبصرے“ ان کی عمر بھر کی تبصرہ نگاری کا پہلا باضابطہ مجموعہ ہے۔ یہ کتاب محض تبصروں کا مجموعہ نہیں، بلکہ عظیم آباد کی اردو ادب کی تیس چالیس سالہ تاریخ کا ایک زندہ دستاویزی آئینہ ہے اور موصوف کے ادبی تجزیات اور کتابی جائزوں کا ایک دل چسپ مجموعہ بھی ہے، جو ان کی تنقیدی بصیرت اور وسیع مطالعہ کی عکاسی کرتاہے۔
یہ کتاب 224 صفحات پر مشتمل ہے اور اس کتاب میں موصوف نے اپنے مختلف ادبی رسالوں اور اخبارات میں شائع ہونے والے تبصروں کو یکجا کر دیا ہے۔ کتاب کی اشاعت جنوری 2025ء میں ہوئی ہے، ناشر ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی ہے، اس کی طباعت، کاغذ اور سرورق دیدہ زیب ہیں۔
کتاب کی ابتدا میں مصنف کے حاصل کردہ ایوارڈز کی تفصیل دی گئی ہے، جو ان کی ادبی خدمات کی گواہی دیتے ہیں۔ ان میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈز جیسے اکبر رضا جمشید اردو ادب ایوارڈ (بہار جھارکھنڈ، 2023ء)، کلیم اللہ کلیم دوست پوری اردو ادب ایوارڈ (پٹنہ، 2024ء)، علمی مجلس بہار ایوارڈ، اردو انمول رتن ایوارڈ، آل انڈیا اردو ماس سوسائٹی فار پیس حیدرآباد (2024ء) اور دیگر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بہار اردو اکادمی سے ملنے والے انعامات جیسے اردو شاعری کے احتجاجی شعور پر تیسرا انعام (2004ء) اور مطالعات پر پہلا انعام (2013ء) بھی نمایاں ہیں۔
کتاب کو اکبر رضا جمشید، کلیم اللہ کلیم دوست پوری، ڈاکٹر اے کے علوی، اور حیدر علی کے نام منسوب کیا گیا ہے۔ فہرست میں ”اور میں مبصر بن گیا“ سے لے کر ”ادب کی تنقیدی تعبیر“ تک 57 تبصرے شامل ہیں۔ یہ تبصرے مختلف کتابوں پر مبنی ہیں، جن میں شعری مجموعے، افسانوی مجموعے، انشائیے، تذکرے، اور دیگر ادبی اصناف شامل ہیں۔
کتاب کا مرکزی حصہ مصنف کے تبصروں پر مشتمل ہے، جو 1987ء سے لے کر حالیہ دور تک کے ادبی کاموں کا احاطہ کرتے ہیں۔ ڈاکٹر محمد مظاہر الحق کا اسلوب سلیس، عام فہم اور شگفتہ ہے۔ وہ کتاب کے مواد، مصنف کی نفسیات، سماجی مسائل، اور ادبی قدر کا تجزیہ کرتے ہوئے قاری کو دل چسپ معلومات فراہم کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ”گل بوٹے“ کے تبصرے میں بچوں کی ادبی تربیت اور مذہبی اقدار پر زور دیا گیا ہے، جب کہ ”شناخت“ میں عورتوں کے سماجی مسائل کو اجاگر کیا گیا ہے۔ مصنف کی تنقید متوازن ہے؛ وہ کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہوئے بھی تعریف سے گریز نہیں کرتے۔ کتاب کی ابتدا میں ایک مقدمہ ہے جس میں مصنف اپنے تبصرہ نگاری کے آغاز اور روایت کا ذکر کرتے ہیں، جو پروفیسر عبد المغنی کی حوصلہ افزائی سے شروع ہوا۔
یہ کتاب اردو ادب کی تنقیدی روایت کو زندہ رکھنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس سے قارئین کو ہندستان کے دیگر علاقوں کے ادبی کاموں سے آگاہی ملتی ہے، جو ادبی تاریخ کی دستاویز کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر محمد مظاہر الحق کی عرق ریزی اور گہرے مشاہدے سے کتاب نہ صرف معلوماتی ہے بلکہ ادبی ذوق کو پروان چڑھاتی ہے۔ مجموعی طور پر، یہ کتاب طلبہ، محققین اور ادب دوستوں کے لیے ایک قیمتی اضافہ ہے، جو اردو تنقید کی مستحکم روایت کو آگے بڑھاتی ہے۔
کتاب کی ساخت بہت صاف ستھری ہے۔ کتاب میں شامل تبصرے تاریخی ترتیب سے نہیں بلکہ موضوعاتی اور اصنافی تنوع کے لحاظ سے رکھے گئے ہیں، جس سے قاری کو ایک ہی نشست میں شاعری، نثر، انشائیہ، تذکرہ نگاری، بچوں کا ادب اور علاقائی ادب کا سفر طے کرنے کا موقع ملتا ہے۔ یہ ترتیب کتاب کو ایک ”تنقیدی سفرنامہ“ کا رنگ دیتی ہے۔
ڈاکٹر محمد مظاہر الحق کا اسلوب تین بنیادی خصوصیات رکھتا ہے۔ وہ سلیس اور عام فہم زبان، متوازن اور شائستہ تنقید، سماجی شعور کے ساتھ ادبی حس بھی رکھتے ہیں۔ وہ کبھی تلخ نہیں ہوتے، حتیٰ کہ جب وہ کسی کتاب کی کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہیں تو بھی لہجہ نہایت مہذب رہتا ہے۔ مثال کے طور پر ”دعوت صادق“ کے تبصرے میں وہ پروف ریڈنگ کی غلطیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بھی رسالے کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ یہ توازن ان کی تنقید کو قابلِ اعتماد بناتا ہے۔
کتاب میں شامل تبصروں میں جو تنوع ہے، وہ حیرت انگیز ہے۔ بچوں کا ادب پر ”گل بوٹے، میری اماں“، عورتوں کے مسائل ”شناخت، ما شاء اللہ“،علاقائی ادب پر ”تذکرہ شعرائے پلاموں، تذکرہ شعرائے سارن، بہار، بنگال اور اڑیسہ کے قلم کار، غزال آنکھیں چراتے ہیں عظیم آباد والوں سے“، انشائیہ اور طنز و مزاح پر”شگوفہ خیال، ظرافت نامہ ،ٹیوشن کے جھمیلے، ذرا ہٹ کے“، تاریخی مضامین پر ”دلّی کے بتیس خواجہ کی چوکھٹ، ہندو مذہب کے فروغ کے لیے مغل حکمرانوں کے ذریعہ دی گئی جاگیریں اور اورنگ زیب کی مذہبی پالیسی پر ایک نظر“ وغیرہ اس کے علاوہ خاکوں، شاعری، افسانوں، اور دیگر موضوعات پر مبنی کتابوں پر تبصرے دیکھنے کو ملتے ہیں۔
یہ تنوع یہ بتاتا ہے کہ ڈاکٹر محمد مظاہر الحق کی نگاہ صرف مرکزی دھارے تک محدود نہیں بلکہ وہ ہندستان کے کونے کونے میں پھیلے ہوئے چھوٹے بڑے قلم کاروں کو بھی اہمیت دیتے ہیں۔ یہ کتاب عصر حاضر میں بہار کی اردو تنقید کی سب سے بڑی خدمت یہ کرتی ہے کہ اس نے بہار کے ان گمنام یا کم گمنام ادیبوں کو قومی سطح پر متعارف کرایا جن کا ذکر دہلی کے رسالوں میں شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔
یہ کتاب 1987ء سے 2024ء تک کے بہار کے ادبی منظر نامے کی شاہد ہے۔ ڈاکٹر محمد مظاہر الحق نے اپنی تحریروں کے ذریعے وہ دور جب ”مریخ“، ”دعوت صادق“، جیسے رسالے ادبی دنیا میں بہت مقبول تھے، اور پٹنہ اردو ادب کا ایک بڑا مرکز بنا ہوا تھا، تبصرہ نگاری کو واقعی ذمے داری سمجھا جاتا تھا؛ اس سنہرے دور کو محفوظ کر لیا ہے۔
الغرض”ہمارے تبصرے“ ڈاکٹر محمد مظاہر الحق کی عمر بھر کی ریاضت کا نچوڑ ہے۔ یہ کتاب ثابت کرتی ہے کہ سنجیدہ تبصرہ نگاری اب بھی زندہ ہے۔ طلبہ، محققین اور اردو ادب سے محبت کرنے والوں کو اس کتاب کا لازمی مطالعہ کرنا چاہیے۔ کیونکہ یہ کتاب واضح کرتی ہے کہ : تنقید کا اصل کام فنکار کی ہمت بڑھانا اور قاری کو راہ دکھانا ہے، نہ کہ واہ واہی لوٹنا یا تلخی دکھانا۔ ڈاکٹر محمد مظاہر الحق نے یہ کام چار دہائیوں تک خاموشی سے کیا اور ”ہمارے تبصرے“ اس خاموش جدوجہد کا یادگارِ جاوید ہے۔
انجینئر محمد عادل فرازؔ
ہلال ہاؤس4/114
نگلہ ملّاح سول لائن علی گڑھ
E.R MOHD ADIL FARAZ
HILAL HOUSE
HNO.4/114 JAGJEEVAN COLONY NAGLAH MALLAH CIVIL LINE ALIGARH 202001
Email:mohdadil75@yahoo.com
صاحب تبصرہ کی گذشتہ نگارش:اردو مرثیہ گو شعرا کا سائنسی شعور