تصنیف: محمد علم اللہ
تبصرہ: خان حسنین عاقب
عزیزم محمد علم اللہ کی تحریر کردہ کتاب کاغذ سے اسکرین تک موصول ہوئی۔ کتاب کی پیکنگ نہایت خوشنما اور مضبوط تھی جسے کھولنے میں کافی محنت لگی۔ اپنے سرکشا کوچ سے باہر نکلتے ہی کتاب کے سرورق نے اپنی طرف متوجہ کرلیا۔ انتہائی دیدہ زیب اور جاذب نظر سرورق منشورات کی معیاری پیشکش کا منہ بولتا ثبوت معلوم ہوا۔
کتاب کے مصنف محمد علم اللہ کا تعلق جھارکھنڈ سے ہے لیکن ان کی علمی اور فکری تشکیل دہلی کے تعلیمی و صحافتی ماحول میں ہوئی۔ مدرسے کی ابتدائی تربیت، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ماس کمیونیکیشن اور اردو میں اعلیٰ تعلیم اور پھر برطانیہ کا علمی سفر، یہ تمام مراحل ان کی تحریر میں ایک نادر امتزاج پیدا کرتے ہیں جہاں دینی شعور، عصری آگہی اور صحافتی مہارت باہم پیوست دکھائی دیتی ہے۔
عصرِ حاضر میں فیس بک محض ایک سماجی رابطے کا وسیلہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک ایسا ہمہ جہت ادبی و فکری پلیٹ فارم بن چکا ہے جہاں قلم، فکر اور نظریہ براہِ راست قاری سے ہم کلام ہوتا ہے۔ اگرچہ اس کے منفی اور مفسدانہ پہلو اہلِ نظر سے پوشیدہ نہیں تاہم اس کی ایک نمایاں افادیت یہ بھی ہے کہ اس نے ادب و صحافت کے کئی معتبر ناموں کو نئی شناخت عطا کی ہے اور قاری کو ایسے اہلِ قلم سے جوڑا ہے جن تک رسائی ماضی میں سہل نہیں تھی۔
انھی اہلِ قلم میں ایک سنجیدہ، متوازن اور فکری اعتبار سے بیدار نام محمد علم اللہ کا ہے۔ یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ علم اللہ کے بیشتر مضامین مجھے فیس بک کے ذریعے پڑھنے کو ملے یعنی محمد علم اللہ سوشل میڈیا پر اسی اعتبار سے موجود رہتے ہیں جتنا انھیں وہاں ہر حال میں ہونا چاہیے۔ وہ محض کالم نگار نہیں بلکہ عصرِ جدید کے میڈیائی رویّوں پر گہری نظر رکھنے والے محقق اور سماج کے نبض شناس قلم کار ہیں۔ ان کی تازہ تصنیف "کاغذ سے اسکرین تک" دراصل اسی فکری مشاہدے اور صحافتی تجربے کا ثمر ہے، اور وہ بھی ایسے زمانے میں جب بہ قول شاعر:
سرخیاں خون میں ڈوبی ہیں سب اخباروں کی
آج کے دن کوئی اخبار نہ دیکھا جائے
(مخمور سعیدی)
صحافت اپنے آپ میں قارئین یا ناظرین تک صرف خبریں پہنچانے کا عمل نہیں ہے بلکہ انسانی المیات اور طربیات دونوں اقسام کے وقوعات میں وہ سماج کے احساسات کی ترجمان ہوتی ہے۔ صحافت اقتدار کی غلامی کا پٹہ گلے میں ڈالے آوارہ گردی نہیں کرتی بلکہ اقتدار سے سوال کرنے کا فریضہ انجام دیتی ہے۔
صحافت مظلوم کی ابتلا اور ظالم کی بازپرس کے درمیان ایک پُل ہے۔ مگر جدید عہد میں، خاص طور پر ڈیجیٹل میڈیا کے فروغ کے بعد صحافت کی یہ اخلاقی حیثیت شدید بحران سے دوچار ہوئی ہے۔ اسی بحران کی گود سے ایک اصطلاح نے جنم لیا جسے گودی میڈیا کہا جاتا ہے۔ یہ اصطلاح سب سے پہلے رویش کمار نے استعمال کی تھی۔ ان حالات میں سچائی اب خبر کا معیار نہیں رہی بلکہ ایسی شے بن چکی ہے جو منڈی میں زیادہ بکتی ہے۔
محمد علم اللہ نے اس بحران کو نہ صرف محسوس کیا بلکہ وہ اس میدان کے مرکز میں موجود رہ کر اپنا کردار ادا کرتے رہے اور پوری فکری دیانت داری کے ساتھ وقوعات کا تجزیہ بھی پیش کرتے رہے۔ اس کتاب میں جگہ جگہ یہ احساس ابھرتا ہے کہ موجودہ میڈیا حقائق کی ترسیل سے زیادہ ان کی تشکیلِ نو (Manufacturing of Reality) میں مصروف ہے۔ حقائق پیش نہیں کیے جاتے بلکہ حقائق میڈیا فیکٹری میں تیار کیے جاتے ہیں۔ ایک زمانے میں ہٹلر کا پروپیگنڈا منسٹر گوئبل اس کام کے لیے بدنام زمانہ رہا لیکن اب میڈیا کے پچانوے فی صد لوگ کسی نہ کسی مقتدر کے پروپیگنڈا وزیر کا کردار نبھا رہے ہیں۔ ایسے میں علم اللہ کی یہ کتاب کاغذ پر لکھے جانے سے لے کر ٹکنالوجی کے ذریعے موبائل کے اسکرین تک پہنچنے کی ایک مستقل تاریخ بیان کرتی ہے۔ آج کل صحافت ایک ایسا طاقت ور ہتھیار بن چکی ہے جو رائے عامہ کو اپنی مرضی کے مطابق موڑنے کی صلاحیت سے مالامال ہوچکا ہے۔ بلکہ اس کی دھار اتنی تیز ہوچکی ہے کہ اس کی دونوں طرف بے قصور لوگ اس کی زد میں آرہے ہیں بلکہ دانستہ لائے جارہے ہیں.
"کاغذ سے اسکرین تک" ویسے تو مضامین کا مجموعہ ہے لیکن دراصل ایک ایسی فکری دستاویز ہے جو میڈیا کے بدلتے منظرنامے، اس کے سماجی اثرات اور بالخصوص مسلمانوں کی بے بسی کی گواہی دیتی ہے۔
کتاب کو چار عنوانات میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر عنوان کئی ذیلی عنوانات پر تفصیلی مباحثہ قائم کرتا ہے، مثلاً میڈیا اور مسلمان، نیا میڈیا اور بدلتا منظرنامہ، اردو صحافت: زوال، اسباب اور امکانات اور میڈیا اور سماج، یہ چار عنوانات ہیں جن کے تحت مختلف ذیلی عنوانات قائم کیے گئے ہیں۔ علم اللہ کی خاص بات یہ ہے کہ وہ اپنے موقف میں سنجیدہ بھی نظر آتے ہیں اور رنجیدہ بھی۔ رنجیدہ اس لیے کہ وہ بہ حیثیت ملت اجتماعیت کی سوچ رکھتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ابھی پچھلے دنوں کی بات ہے جب بہار میں اطہر نامی شخص کی کھلے بندوں ماب لنچنگ کردی گئی۔ آپ واقعے کی رپورٹنگ کا انداز دیکھ لیجیے، ٹی وی اور موبائل اسکرینوں سے لے کر کاغذ پر چھپنے والے اخبارات تک۔ سماج کو انتشار اور تباہی کی طرف مسلسل رواں دواں رکھنے والا، اپنی خرمستی میں گم میڈیا کس درجہ فعال اور سرگرم ہے۔ علم اللہ اسی اندیشے میں گرفتار نوجوان ہے جس کی فکری بے چینی کو قلم کی گود میں سکون ملتا ہے اور وہ لکھتا چلا جاتا ہے۔ ایسے میں علم اللہ نے اردو صحافت کو بھی آڑے ہاتھوں لیا ہے اور اردو صحافت کے ساتھ ایک سنجیدہ مکالمہ قائم کیا ہے۔ یہ مکالمہ کم اور مکاشفہ زیادہ ہے۔ یہ مکاشفہ آپ کتاب کے تیسرے باب میں ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ آپ خود غور کریں کہ اردو صحافت آج کہاں ہے۔ قاری اور اخبار کے خریداروں کا رونا رونے سے ہی اسے فرصت نہیں ملتی۔ علم اللہ کا یہ مکالمہ اردو صحافت اور اردو صحافیوں کے لیے ایک آئینہ ہے۔ ایسا آئینہ جس میں دکھائی دینے والے عکس کے حوالے سے شاعر کہتا ہے:
آئینے صاف کررہے ہیں وہ
جن کے چہروں پہ دھول بیٹھی ہے
میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ عام طور پر اردو صحافت کے زوال کا الزام قاری کے ناتواں شانوں پر دھر دیا جاتا ہے مگر علم اللہ اس آسان narrative پر شدومد سے بحث کرتے ہوئے اس کے دوسرے پہلو کی وضاحت کرتے ہوئے سچائی کو طشت از بام کرتے ہیں۔ ان کی نظر میں اس زوال کی بیشتر ذمہ داری مدیران کی غفلت، تساہل، لسانی تسامحات، فکری جمود اور پیشہ ورانہ غیر سنجیدگی کے سر جاتی ہے۔ لیکن صرف نوحہ گر نہیں ہے بلکہ وہ امکانات کے جگنو تلاش کرنے بھی صحرا میں نکل جاتا ہے۔ اس باب میں آپ کو یہ عنصر بھی نظر آئے گا جہاں آپ ناامیدی سے امید کی طرف سفر کریں گے۔
حالیہ دنوں میں جب مدرسہ دیوبند میں افغانستان کے وزیر خارجہ کا دورہ ہوا تو میڈیا کو کس طرح بریف کیا گیا، یہ سب نے دیکھا۔ مدارس اور میڈیا کے تعلق سے علم اللہ نے نہایت مدلل انداز میں گفتگو کی ہے۔ دیکھا جائے تو کتاب کا سب سے امید افزا باب، میں اسی کو سمجھتا ہوں جس میں مصنف نے "فارغینِ مدارس کے لیے میڈیا میں امکانات" کے زیر عنوان ایک نہایت وقیع اور چشم کشا مضمون لکھا ہے۔ دینی مدارس عام طور پر عصری میڈیا کو فساد و انتشار کی جڑ سمجھ کر شدت کے ساتھ نظرانداز کرتے ہیں لیکن کیا کسی گندگی کو گندگی کے اندر داخل ہوئے بغیر صاف کیا جاسکتا ہے؟ نہیں نا؟ تو پھر دینی مدارس کے لیے یہ سب سے بہترین اور موزوں ترین وقت ہے کہ وہ اپنا کردار کماحقہ ادا کریں اور میڈیا میں حق گوئی کے لیے جو بڑا سا اسپیس خالی چھوٹا ہوا ہے اسے اپنی موجودگی سے پُر کریں۔ جو جگہ جھوٹ نے فارغ رکھی ہے اسے سچ ہی پُر کرسکتا ہے۔
یہ مضمون واضح طور پر دینی تعلیمات اور دین کی دعوت کو محض منبر و محراب تک محدود رکھنے کے تصور کو چیلنج کرتا ہے۔
اگرچہ یہ کتاب مختلف اوقات میں لکھے گئے مضامین پر مشتمل ہے لیکن موجودہ دور کے واقعات کا تسلسل اور عنوانات ان جستہ جستہ لکھے گئے مضامین کے مجموعی تاثر کو زائل نہیں ہونے دیتے۔ ہر عنوان اور ہر موضوع بروقت اور برجستہ معلوم ہوتا ہے کہ ہاں، اسی موضوع پر قلم اٹھانے کی ضرورت تھی۔
مجھے لگتا ہے اہل علم کو اس کتاب یعنی "کاغذ سے اسکرین تک" کو ایک دستاویز کے طور پر دیکھنا چاہئے۔ صحافت کے شعبے میں سنجیدہ موضوعات پر اس نوعیت کی معیاری تحریریں کم کم ہی شائع ہوتی ہیں۔ منشورات والوں کو ایک عمدہ کتاب شائع کرنے کے لیے مبارکباد اور محمد علم اللہ کو اپنا حوصلہ ہر حال میں قائم رکھنے کے مشورے اور ان کی زندگی میں مسلسل ترقی کی سمت رواں دواں رہنے کی دعا کے ساتھ اس تبصرے یا تبصرہ نما چند سطروں پر مشتمل تحریر کا اختتام۔
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
________________
خان حسنین عاقب کی گذشتہ نگارش: وقت کے روزن سے جھانکتا خادمِ اردو: جاوید عزیزی
کتاب: کاغذ سے اسکرین تک
شیئر کیجیے